دنیا بھر کے ممالک میں مالی امداد اور کاروباری مقاصد کے لیے دیے گئے قرض ہمیشہ سے خارجہ پالیسی کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن جب چین کی بات ہوتی ہے تو لفظ ’ڈیٹ ڈپلومیسی‘ یعنی قرض کی سفارتکاری کا ذکر ہوتا ہے۔

اس ’ڈیٹ ڈپلومیسی‘ کے بارے میں جرمنی کے کیئل انسٹیٹیوٹ برائے عالمی معیشت کے ماہر معاشیات کرسٹوف ٹریبیش کا کہنا ہے کہ ’چین ترقی پذیر ممالک کو جو قرضے دیتا ہے اس میں سے نصف حصہ مخفی یا پوشیدہ قرض ہوتا ہے۔‘

ٹریبیش، کارمین رین ہارٹ اور سیبسٹیئن ہورن کی تحقیقات میں سامنے آنے والے نتائج کا یہ ایک حصہ ہے۔ اس ٹیم نے سنہ 1949 سے 2017 کے درمیان چین کی طرف سے دیے جانے والے 5000 قرضوں کا تجزیہ کیا ہے۔

مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی جانچ جیسے صبر آزما کام کو انجام دے کر یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ دنیا کے مالیاتی نظام میں واقعتا چین کیا کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران اور چین کی گہری دوستی سے انڈیا کیوں پریشان ہے؟

کیا چینی قرض ہی پاکستان کے اقتصادی بحران کا ذمہ دار ہے؟

چین، ایپل، ٹرمپ عالمی معیشت کو بدل کر رکھ دیں گے

ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے؟ ان ترقی پذیر ممالک میں چین نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ہے اور یہ کام سرکاری اور نجی شعبے کو دیئے جانے والے لاکھوں کروڑوں ڈالر کے قرض کے ذریعے کیا گیا ہے۔

یہ پوشیدہ قرضے ایسے لون ہیں جو مختلف چینی یونٹوں نے دیا ہے اور ان کی تہہ تک جانا آسان کام نہیں ہے۔ انھیں پوشیدہ قرض یا ہیڈن کریڈٹ کے نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ انھیں کسی بھی بین الاقوامی ادارے میں درج نہیں کیا گیا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے

اس مطالعے میں یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ان پوشیدہ قرضوں کی مجموعی رقم میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 20 ہزار کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں بقایا قرض کی مشترکہ قیمت بھی شامل ہے۔

اگر چین سے سب سے زیادہ قرض لینے والے 50 ممالک کے بارے میں بات کریں تو تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں اوسط قرض وہاں کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 15 فیصد سے زیادہ ہوچکا ہے۔ اس معاملے میں صرف سنہ 2016 تک کے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔

براہ راست قرضوں کا زیادہ تر حصہ چینی حکومت کے زیر کنٹرول دو اداروں کے ذریعے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ ادارے چائنا ڈویلپمنٹ بینک اور ایکزم بینک آف چائنا ہیں۔ لیکن ایسے بھی بہت سارے بالواسطہ انتظامات بھی ہیں جن کے ذریعے چین دوسرے ممالک کو قرض کی رقم مہیا کرتا ہے۔

ایسے قرضوں کا پتا چلانا بہت ہی پیچیدہ کام ہے کیوں کہ 'حکومت سے حکومت' کے درمیان غیر معمولی صورت حال میں ایسے قرضے لیے جاتے ہیں۔

زیادہ تر قرض حکومت کے زیر کنٹرول یونٹوں کے لیے دیے جاتے ہیں اور ان سے متفید ہونے والی بھی عام طور پر ایسی کمپنیاں ہوتی ہیں جو ملک کی ملکیت ہوتی ہیں۔

ٹریبیش نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: 'ملک کے قرض کی سطح کا پتا لگانا اسے کس طرح چکانا ہے اس کا پتا لگانا خود حکومت، ٹیکس دہندگان اور ملک کے معاشی استحکام کو درپیش خطرات کے تجزیے کے لیے بھی ضروری ہے۔'

چین کا عالمی مالیاتی نظام میں پھیلاؤ

ایک عالمی طور پر قرض دینے والے ملک کی حیثیت سے چین کی حیثیت دو دہائی قبل مضبوط ہونا شروع ہوئی تھی۔ اس وقت چین نے باہر کی دنیا کے لیے زیادہ کھلے پن کی پالیسی اپنائی۔

اسی دوران چین میں معاشی ترقی تیزی سے ہو رہی تھی اور بین الاقوامی معاشی منظرنامے پر چین کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔

ٹریبیش کا کہنا ہے کہ 'چین دنیا کا سب سے بڑا سرکاری قرض دینے والا بن چکا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت اتنا قرض نہیں دیتی جس قدر چین دیتا ہے۔'

سنہ 2018 کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے اس تحقیق میں یہ پیش کیا گیا ہے کہ چین کا باقی دنیا (ترقی یافتہ ممالک سمیت) پر پانچ لاکھ کرور ڈالر سے زیادہ کا قرضہ ہے۔ یہ تعداد دنیا کی جی ڈی پی کا تقریبا چھ فیصد کے برابر ہے۔ 20 سال پہلے یہ قرض جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد ہوا کرتا تھا۔

اگرچہ چین ہر طرح کی معیشتوں کو قرض دیتا ہے (بشمول امریکہ جہاں چین اپنے بینکوں کے ذریعے خزانے کے بانڈز خریدتا ہے) لیکن کم آمدنی والی معیشتوں پر اس کا غلبہ زیادہ ہے۔

اس طرح غریب ممالک اور ترقی پذیر ممالک پر چین کا قرض عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئي ایم ایف) کسی بھی دوسری حکومت سے زیادہ ہے۔

چین کے 50 سب سے بڑے مقروض ممالک

چین کے دس سب سے بڑے مقروض ممالک میں جبوتی، ٹونگا، مالدیپ، کانگو ، کرغزستان، کمبوڈیا، نائجر، لاؤس، زیمبیا اور ساموا شامل ہیں۔

اگر ہم چین کے سب سے زیادہ 50 مقروض ممالک کے بارے میں بات کریں تو ان ممالک پر اوسط قرض جو سنہ 2005 میں عالمی جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم تھا وہ سنہ 2017 میں بڑھ کر جی ڈی پی کے 15 فیصد سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

دوسرے زاویہ سے دیکھیں تو اس گروپ کا 40 فیصد بیرونی قرض (ایکسٹرنل ڈیٹ) چین سے حاصل ہوتا ہے۔ اس گروپ میں چین سے سب سے زیادہ قرض لینے والوں میں لاطینی امریکہ کے تین ممالک، وینزویلا، ایکواڈور اور بولیویا شامل ہیں۔

تریبیش کا کہنا ہے کہ چین کے مالیاتی نظام پر بڑھتے ہوئے غلبے کو کوئی سمجھ نہیں رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'ہم شاید ہی اس طرح سوچتے ہیں کہ دنیا کے ایک بڑے حصے کے لیے چین ایک بڑا ملک بن چکا ہے۔'

ان کے مطابق: 'چین کے قرضوں کے ترقی پذیر دنیا پر خراب معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا اثر وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے اور ہمیں اس سمت میں مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔'