پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پیر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ادارے کو ٹک ٹاک اور بیگو جیسی سوشل میڈیا ایپلیکیشنز پر موجود ’فحش اور غیراخلاقی مواد‘ اور اس کے پاکستانی معاشرے اور نوجوان نسل پر منفی اثرات کے حوالے سے شکایات ملی ہیں۔

ادارے کے مطابق ان شکایات کے بعد مذکورہ بالا سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے گئے لیکن تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اب فوری طور پر بیگو کو بند کرنے اور ٹک ٹاک کو ایک حتمی نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس اعلامیے میں جن دو ایپلیکیشنز کی بات کی گئی ہے ان میں سے جہاں ٹک ٹاک ایک مقبولِ عام ایپ ہے وہیں بیگو کے بارے میں لوگ زیادہ نہیں جانتے اور اسی لیے یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اس ایپ میں ایسا کیا ہے کہ اس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹک ٹاک پر پابندی سے انڈیا کو کیا حاصل ہوگا؟

’اگر سلمان خان سے ملنے کا موقع ملا تو یہ ٹک ٹاک کے باعث تھا‘

بڑا گھر نہ مہنگے کپڑے، مگر ٹک ٹاک پر وائرل

بیگو کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟

کورونا کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن اور بندشوں کی وجہ سے دنیا میں فنون لطیفہ کی مختلف شاخوں سے وابستہ افراد یا ایسے کام جن کے لیے براہ راست عوام سے رابطہ ضروری ہو شدید متاثر ہوئے۔ ایسے میں ان لوگوں نے بھی معاش کی خاطر انٹرنیٹ اور ایپس کا سہارا لیا جن میں بیگو بھی شامل ہے۔

بیگو ہانگ کانگ سے چلایا جانے والا ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر دنیا بھر سے لوگ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے پیسے کما رہے ہیں۔

ان افراد کو ٹیلی ویژن یا ریڈیو کے میزبان کی طرح ’ہوسٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ گانے گا کر، اداکاری یا رقص کر کے، معروف شخصیات کی نقل اتار کر یا محض گفتگو کے ذریعے اپنے فن کا مظاہرہ اپنے فون یا کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھنے والے مداحوں سے جہاں داد وصول کرتے ہیں وہیں ان کے مداح انھیں ایپ کے ذریعے خریدے گئے تحائف جیسے کہ ’ورچوئل ڈائمنڈز‘ بھی بھیجتے ہیں جن کے عوض ایپ کی مالک کمپنی ان فنکاروں کو رقم کی ادائیگی کرتی ہے۔

بیگو پر کوئی بھی شخص اس وقت تک مؤثر انداز میں کمائی نہیں کر سکتا جب تک وہ کسی ’ٹیم‘ کا حصہ نہ بنے۔ ان ٹیموں کے سربراہ ایسے مختلف ’ہوسٹ‘ ہوتے ہیں جو اس ایپ کی دنیا میں معروف اور مقبول ہیں اور پھر ٹیم لیڈرز اور نئے ہوسٹ باہمی رضامندی سے مہینے کا ٹارگٹ طے کیا جاتا ہے جو کہ تنخواہ کی صورت میں میزبان تک پہنچتا ہے۔

بےروزگاروں کے لیے ’کمائی کا ذریعہ‘

پاکستان میں بیگو کے 'ہوسٹس' میں زیادہ تر تعداد نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو ابھی اداکاری یا گلوکاری کے شعبے میں اپنا نام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے موجودہ حالات کی وجہ سے بیگو کا رخ کیا۔

پشاور کی رہائشی 'مہک' بھی بیگو کے ان میزبانوں میں شامل ہیں، جو کووڈ-19 کی وجہ سے بےروزگار ہو کر بیگو پر آئیں۔ اس سے پہلے وہ ادویات کی ایک کمپنی میں سپروائزر کی نوکری کر رہی تھیں۔ مہک کہتی ہیں کہ 'سب کے کاروبار بند تھے، مجھے بھی تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ ظاہر ہے پیسوں کی ضرورت سب کو ہے، تو میں بیگو پر آ گئی۔'

مہک کہتی ہیں کہ 'بیگو پر کمائی کرنے کے لیے آپ کو ایک دن میں کم از کم چار پانچ گھنٹے دینے ہوتے ہیں، لوگوں کی تفریح کا سامان کرنا پڑتا ہے جس میں آپ کیمرے کے سامنے آ کر گانے گا سکتے ہیں، ڈانس کر سکتے ہیں۔ مختلف گیمز میں حصہ لے سکتے ہیں، جس میں اگر آپ ہار جائیں تو جیتنے والے کی مرضی کے مطابق جو بھی وہ سزا دے اسے پورا کرنا ہوتا ہے'۔

بیگو کی ہی ایک اور ہوسٹ نے جو کہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، بی بی سی کو بتایا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے ایونٹ مینیجر ہیں تاہم کوورونا کی وجہ سے ان کا کام بالکل ختم ہو گیا تو ان کے ایک دوست نے بیگو کو ذریعہ آمدن کے طور اپنانے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگو پر ہوسٹ کے لیے 'انٹرٹینگ' ہونا سب سے ضروری ہے۔ اگر آپ ان لوگوں، جو آپ کی براڈ کاسٹ پر براہ راست آپ کو دیکھنے آتے ہیں، کی تفریح کا سبب بننے کی اہلیت رکھتے ہیں تو وہ صارفین گفٹس بھیجتے ہیں، جس سے ہمیں اپنا مہینہ وار 'ٹارگٹ' پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کچھ ایسے میزبان بھی ہیں جو کیمرے پر نہیں آتے اور آڈیو براڈکاسٹ کرتے ہیں اور کچھ صرف مذہبی مواد ہی نشر کرتے ہیں۔ اوکاڑہ کے 48 سالہ انجم سجاد کا تعلق بھی ایسی ہی شخصیات سے ہے جن سے لوگ شرعی اور سماجی مسائل کے بارے میں گفتگو کو ترجیح دیتے ہیں۔

انجم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی وجہ ان کی ظاہری وضع قطع ہے۔ 'لوگ شکل دیکھتے ہی ذہن بنا لیتے ہیں کہ ان مولوی صاحب سے تو مذہب کی بات ہی ہوسکتی ہے یا کوئی شرعی مسئلہ ہو تو وہ پوچھا جا سکتا ہے، اس پر میں اپنی سمجھ اور علم کے مطابق ان کے سوالات کا جواب بھی دیتا ہوں'۔

انجم نوجوانی میں پاکستان کی فلم انڈسٹری میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، تاہم وہ کام زیادہ عرصہ جاری نہیں رہا تو انھوں نے اوکاڑہ واپس آ کر کمپیوٹر اور پھر موبائل کے سامان کی دکان بنا لی۔ چار پانچ سال پہلے بارشوں میں ان کے مکان کو شدید نقصان پہنچا اور انھیں اس کی مرمت کے لیے کاروبار بیچنا پڑا اور وہ بےروزگار ہو گئے۔

بیگو پر آنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انجم نے بتایا کہ 'اس دوران میں گھر کی سیڑھیوں سے گرا اور میں محنت مشقت کرنے سے قاصر ہو گیا۔ مالی صورتحال بھی شدید خراب تھی۔ اسی دوران خاندان کے ایک فرد کی 'بیگو استعمال کرنے کی شکایت آئی' تو میں اس کا پیچھا کرتا بیگو پر پہنچا، وہاں جا کر مجھے محسوس ہوا کہ اس پلیٹ فارم کو اپنے گھر کے مالی معاملات میں مدد لینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔'

انجم کہتے ہیں کہ 'اگر ایک میزبان 20 ہزار ڈائمنڈز مہینے کے کمانے کا ہدف مقرر کرتا ہے تو وہ ڈائمنڈ صارفین کے لیے مجموعی طور پر 70 سے 80 ہزار روپے سے زیادہ کے ہیں، مگر ہمیں اس میں سے صرف 14 ہزار روپے بنیادی تنخواہ اور آٹھ ہزار روپے کمیشن ملتا ہے جبکہ باقی رقم بیگو اور کچھ ٹیم کے سربراہ کو ملتی ہے۔'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مہک نے بتایا کہ 'ٹیم بنانے والوں کو اپنے میزبانوں کی ماہانہ کمائی کا دس سے بیس فیصد تک ملتا ہے۔'

ہوسٹ یا میزبان کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟

مہک کہتی ہیں کہ 'مشکلات میں سب سے بڑی مشکل تو یہ ہے کہ آپ پورا دن لائیو بیٹھے رہیں لوگوں کی تفریح کے لیے کوشش کرتے رہیں اور آپ کو گفٹس نہ ملیں، اس دن کا اختتام شدید سر درد اور گھنٹوں بیٹھنے رہنے کی وجہ سے کمر درد پر ہوتا ہے۔'

مہک کہتی ہیں کہ 'کچھ ایسے صارفین بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ ایسا کچھ کرتی ہی نہیں کہ جو ہمیں اچھا لگے اور ہم آپ کو گفٹس بھیجیں۔'

ان کے مطابق اس ایپ پر مشہور و معروف شخصیات کی بطور ہوسٹ آمد نے بھی ان جیسے میزبانوں کی آمدن کو متاثر کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'ان کرکٹرز اور اداکاروں کو یہاں نہیں ہونا چاہیے، ان کے پاس شہرت اور پیسہ پہلے ہی کافی ہے۔ بیگو ہم جیسے یا بہت غریب لوگوں کے لیے کمائی کا ایک ذریعہ ہے، جس میں خواجہ سرا بھی ہیں، بیوائیں بھی ہیں، بزرگ خواتین و مرد بھی ہیں، ایسے لوگ جو پڑھے لکھے نہیں ہیں، انھیں باہر کہیں نوکری نہیں ملتی تو بیگو ان کا ذریعہ معاش ہے۔ مگر ان لوگوں کے یہاں آنے سے ہمارے سب سپورٹرز (تحفے بھیجنے والے) اب ہمیں تحفے نہیں بھیجتے اور ان کی براڈ کاسٹ پر جا کر ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔'

انجم سجاد کہتے ہیں کہ انھیں بیگو پر سب سے بڑی پریشانی آغاز میں صارفین کی جانب سے تنقید تھی۔۔۔'میری براڈ کاسٹ پر آنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو میرا حلیہ دیکھ کر میری حوصلہ شکنی کرتے، مجھے کہتے اپنی عمر دیکھو، داڑھی دیکھو، کیوں اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہو۔ شروع میں تو میں ان کی تنقید کو انتہائی تکلیف کے باوجود خاموشی سے سن لیتا، مگر یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔ پھر میں نے تنقید کرنے والوں کو جواب دینے کا سوچا۔۔۔ مگر اس سارے عمل نے مجھے بیگو پر خاصا مقبول کر دیا تھا۔'

انجم بتاتے ہیں کہ 'میں نے روزانہ اپنے پر تنقید کرنے والوں کو لائیو کال پر لینا شروع کیا، میں ان کے اپنے بیگو پر ہونے سے متعلق اعتراضات کو سنتا، پھر ان سے کہتا کہ آپ لوگوں نے میرے جیسے لوگوں کو ہی کیوں اسلام کا ٹھیکہ دے رکھا ہے؟ ایک مولوی بھی اپنے عمل کا اتنا ہی جوابدہ ہے جتنا اسلام مذہب کا ہر ماننے والا۔ میرے ایسے سوالوں پر وہ لاجواب ہو جاتے، جب مجھ پر تنقید ہو رہی ہوتی، یا میں اس تنقید کا جواب دے رہا ہوتا تو کچھ لوگ گفٹس بھی بھیجتے رہتے، جو میری مالی مدد کا ذریعہ تھے۔ کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو ڈانس کرنے والی لڑکیوں کو بیگو پر لاکھوں کے تحفے بھیجتے اور کچھ ہزار یا کچھ سو روپے کے تحفے مجھے بھی دے دیتے، شاید یہ ان کا اپنے کسی عمل کا مداوا تھا، بہرحال مجھے ضرورت میں مدد مل رہی تھی۔'

بیگو کی ’لت‘ اور صارفین

پی ٹی اے نے اپنے بیان میں بیگو پر پابندی کی وجہ فحش اور غیراخلاقی مواد کی موجودگی قرار دی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ استعمال کنندہ ایسے بھی ہیں جن کے لیے اس کی ’لت‘ معاشی بدحالی کا پیغام لائی۔

راولپنڈی کے رہائشی ذیشان عادل پیشے کے اعتبار سے ایک الیکٹرک ٹیکنیشن ہیں۔ انھوں نے 2016 کے اوائل میں بیگو پر جانا شروع کیا، وہ کہتے ہیں کہ 'شروع میں تو یہ محض وقت گزاری کے لیے تھا، پھر کچھ ایسے لوگوں کی براڈ کاسٹ دیکھی جو بہت متاثر کن تھی، کوئی مشہور شخصیات کی نقلیں اتارتا تھا تو کسی کی حس مزاح نے متاثر کیا۔ پھر جب ان لوگوں نے دوستانہ مقابلے شروع کیے اور میں ان کو صرف اس لیے ہارتا دیکھتا کہ انھیں لوگ تحفے زیادہ نہیں دے رہے تو میں نے اپنا کریڈٹ کارڈ بیگو اکاؤنٹس سے منسلک کیا اور انھیں جتوانے میں کردار ادا کرنے لگا۔'

ذیشان کا کہنا ہے کہ 'جب ایک شخص اپنے مخالف کو مقابلے کے دوران یہ بولے کہ میرا دوست ذیشان یہاں بیٹھا ہے وہ مجھے ہارنے نہیں دے گا۔ تو یہ ایک ایسا جذباتی وزن ہے جس کے بوجھ تلے دب کر شاید ہی کوئی ہو جو ہوش مندی سے اپنی مالی حیثیت اور ضرورتوں کے بارے میں سوچ لے اور اپنے پیسے یوں ضائع نہ کرے'۔

30 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے ذیشان کا کہنا ہے کہ انھوں نے چھ ماہ سے ایک برس کے عرصے میں کم از کم چھ لاکھ روپے بیگو پر خرچ کیے۔ 'میں نے اپنی ماہانہ تنخواہ جو کہ تیس سے پینتیس ہزار روپے تک بنتی ہے، کے ساتھ ساتھ اپنا تیس ہزار روپے کا کریڈٹ بھی بیگو پر خرچ کرنا شروع کیا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے پیسے ادھار لے کر اپنے کارڈ کی کریڈٹ کی مقررہ حد کو بڑھوایا اور خرچ کیا، پھر تنخواہ کا انتظار کیا اور کریڈٹ کارڈ کی قسطیں کرا کر ادائیگی کی۔'

ذیشان کے مطابق 'بیگو پیسے کمانے اور پیسے خرچ کرنے والے، دونوں کے لیے ایک لت ہے، یہ جوئے جیسا ہے۔ مجھے پیسوں کے ضیاع سے روکنے والا کوئی نہیں تھا‘۔

ان کے مطابق اس صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد انھوں نے ایسے لوگوں کو ضرور سمجھایا جو بیگو پر اپنا پیسہ بہا رہے تھے۔ ’میں نے ان کو بتایا کہ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد جب میں رات کو سونے لگتا ہوں تو کتنی تکلیف میں ہوتا ہوں اور بجلی، گیس، پانی کے بلوں کی ادائیگی اور گھر کے دیگر اخراجات کے بارے میں کتنا پریشان ہوتا ہوں۔'

دنیا میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے نقصان دہ استعمال کے بڑھتے مسئلے اور ان کی لت لگنے کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر نصرت حبیب رانا کہتی ہیں کہ 'ہمارے معاشرے میں ایک نوجوان یا اس سے بڑی عمر کے فرد کی زندگی اس قدر دباؤ میں ہے کہ یہاں کچھ سیدھے راستے سے نہیں ہو رہا۔ یہ معلوم کرنا کہ کوئی بیگو یا اس جیسے دیگر ذرائع پر کیوں گیا اور وہاں اپنا لاکھوں کا نقصان کیوں کر بیٹھا، اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر غور کیے بغیر ممکن نہیں۔

’پاکستان میں دماغی مسائل اور ذہنی صحت پر بات کرنے کی بجائے ہم تعویز دھاگے اور دم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس موضوع پر بات کرنا آج کے دور میں بھی مشکل ہے۔ حکومت کو پابندی کے ذریعے اس انسان کو مزید تنگ نہیں کرنا چاہیے جو پہلے ہی کسی ذہنی بوجھ تلے دبا ان پلیٹ فارمز تک پہنچا ہو۔ اس سے نقصان ہوگا اور نہ ہی یہ مستقل حل ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں توازن قائم کرنے اور ذہنی مشکلات یا دماغی بیماریوں کی صورت میں اس کے علاج کی طرف آنا ہو گا۔'

بیگو سے آمدن کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

بیگو کے میزبانوں تک ذیشان جیسے صارفین کی جانب سے بھیجے گئے تحائف رقم کی شکل میں ہی پہنچتے ہیں۔ بیگو کے صارفین ہوسٹ کو یہ تحائف ایپ بنانے والے کمپنی سے رقم کے بدلے حاصل کردہ ' ورچوئل ڈائمنڈز' کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ آج کے حساب سے بیگو کے ایک ڈائمنڈ کی قیمت چار روپے سے زیادہ ہے۔

بیگو پر دنیا بھر سے صارفین موجود ہیں جن کے بھیجے گئے تحائف کی مد میں رقوم پاکستان میں بیٹھے میزبان تک بیگو اکاؤنٹ سے انٹرنیٹ پر پائینیر سروس سمیت دیگر ذرائع سے بینک اکاؤنٹ تک منتقل ہوتی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف رینیو کے ترجمان حامد عتیق سرور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'انٹرنیٹ کے ذریعے وہ آمدنی جس پر ٹیکس ادا کیا جا رہا ہو، قانون کے مطابق ہوگی۔ اگر انٹرنیٹ کا ایسا کاروبار جو ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوگا اسے ٹیکس سے استثنٰی حاصل ہوگا۔'

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے شعبہ سائبر کرائم کے ترجمان رضا ہمدانی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 'پاکستان میں بہت سے لوگوں کی جانب سے اس طرح کی چیٹنگ ایپلیکشن کو ذرائع آمدن کے طور پر اختیار کرنے کے بارے میں ادارے کو مکمل علم ہے۔ تاہم ادارہ کسی بھی قسم کی کارروائی اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک باقاعدہ شکایت کا اندراج نہ ہو۔'

پابندی کے بعد ہوسٹ کیا کریں گے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مہک نے کہا کہ 'پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے بیگو پر پابندی کے بعد انھیں دوبارہ گھر سے باہر نکل کر نوکری ڈھونڈنی پڑے گی، جو کہ ان حالات میں ممکن نظر نہیں آتا‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی جن وجوہات کی بنا پر عائد کی گئی وہ حقیقت پر مبنی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بیگو پر ’پنشمنٹ پی کے‘ جیتنے پر لڑکے لڑکیوں سے انتہائی نامناسب سزائیں پوری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ میں نے خود آج تک کبھی ایسا نہیں کیا لیکن دیکھا ضرور ہے کہ کبھی ایک ہوسٹ لڑکی کو ہوسٹ لڑکا کیمرے کی طرف پیٹھ کر کے سٹ اپس (اٹھک بیٹھک) کرنے، یا کیمرے کے سامنے اپنے سر سے پورے جسم پر پانی ڈالنے یا کبھی متعدد بار کوئی واہیات جملہ، کہاوت دہرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسا صرف لڑکوں تک محدود نہیں، لڑکیاں لڑکوں کو یا لڑکیاں، لڑکیوں کو بھی ایسی ہی سزائیں سناتی ہیں۔'

بیگو پر پابندی لگنے کے سوال پر انجم سجاد کہتے ہیں کہ 'پس پردہ حکومت پاکستان اور بیگو انتظامیہ کے درمیان یقیناً کوئی معاملات چل رہے ہیں جو پورے نہ ہونے پر پابندی کی دھمکی دی جاری ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا ایسا حقیقت میں ہوگا کہ بیگو بند ہو جائے۔'

انجم کہتے ہیں کہ 'پابندی کی جو وجوہات پی ٹی اے نے بتائی ہیں ان میں کچھ ایسا نہیں جو ہمارے معاشرے میں پہلے سے موجود نہ ہو، ہر چیز تو کھلے عام دستیاب ہے۔ اگر حکومت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو بیگو جو ذریعہ آمدن بنا ہے اس پر پابندی لگانے کی سمجھ نہیں آتی۔ اس میں آئی ٹی سیکٹر، پیسوں کا لین دین کرنے والے قانونی ذرائع، بینک، پاکستانی انٹرنیٹ اور موبائیل کمپنیاں شامل ہیں، وہ یہ کیسے ہونے دیں گی۔ '

اس پابندی سے وہ کتنے متاثر ہونگے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انجم کا کہنا تھا کہ 'اس پابندی سے حقیقت میں تو ریکروٹرز (ٹیموں کے سربراہ) متاثر ہوں گے۔ بڑی ٹیموں کے سربراہ ایک مہینے میں لاکھوں کما رہے تھے۔ میرے جیسے ہوسٹ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، اس طرح کی اور ایپلیکیشنز موجود ہیں اور میں اپنی دکان وہاں لے جاؤں گا، اور جس طرح کا میں ہوسٹ ہوں، میرے فینز کو یہ معلوم کرنے میں وقت نہیں لگے کا کہ میں کہاں ہوں۔ تو مجھے اس پابندی سے اگر یہ لگی بھی تو صفر فیصد فرق پڑے گا۔'