انڈونیشیا کے اعلیٰ حکام نے دور دراز جزیرے سمبا میں خواتین کو اغوا کر کے ان سے شادی کرنے کے متنازع رواج کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔

انھوں نے خواتین کے اغوا کی ویڈیوز سامنے آنے اور اس پر قومی سطح پر چھڑنے والی بحث کے بعد یہ عہد کیا ہے۔

سیترا (تبدیل شدہ نام) نے سوچا کہ یہ صرف کام سے متعلق کوئی ملاقات ہے۔ مقامی عہدیدار ہونے کا دعویٰ کرنے والے دو افراد نے سیترا سے کہا کہ وہ اس منصوبے کے بجٹ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جو وہ ایک مقامی امدادی ایجنسی کے تحت چلا رہی تھیں۔

اس وقت سیترا کی عمر 28 سال تھی اور وہ اس ملاقات کے لیے تنہا جانے پر قدرے گھبرائی ہوئی تھیں لیکن اپنے کام پر کچھ مختف کر دکھانے کی خواہش کے پیش نظر انھوں نے اس طرح کے خدشات کو ذہن کے کسی دوسرے گوشے میں پھینک دیا۔

یہ بھی پڑھیے

لڑکی نے شادی کے منڈپ سے دولھے کو اغوا کر لیا

’مر جاؤں گی لیکن اپنا مذہب نہیں بدلوں گی‘

نام بتانے پر عورت کی پٹائی کیوں؟

’میرے شوہر مجھے افورڈ ہی نہیں کر سکتے‘

میٹنگ کو شربع ہوئے ایک گھنٹہ ہوا تھا کہ ان دونوں نے کہا کہ اب میٹنگ کسی دوسرے مقام پر جاری رہے گی اور انھوں نے سیترا کو اپنی گاڑی میں سوار ہونے کی دعوت دی۔ سیترا نے اصرار کیا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پر جائیں گی اور وہ اپنی چابی اگنیشن میں ڈالنے ہی والی تھیں کہ اچانک مردوں کے ایک دوسرے گروپ نے انھیں دبوچ لیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ 'جب وہ مجھے کار میں ڈال رہے تھے تو میں ہاتھ پاؤں مار رہی تھی اور چیخ رہی تھی۔ میں بے بس تھی۔ اندر دو افراد نے مجھے دبوچ رکھا تھا۔ مجھے پتا چل گیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔'

انھیں شادی کے لیے اغوا کیا جا رہا تھا۔

سمبا میں شادی کے لیے خواتین کا اغوا یا 'کاون تنگ کاپ' ایک متنازع رواج ہے۔ اس کی ابتدا کے بارے میں بھی مختلف کہانیاں ہیں۔ اس کے تحت کسی خاتون کو اس سے شادی کے خواہاں مرد کے خاندان کے افراد یا ان کے دوست زبردستی اٹھا لیتے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی جانب سے اس پر پابندی عائد کرنے کے دیرینہ مطالبات کے باوجود یہ رواج بالی کے مشرق میں ایک دور دراز انڈونیشیائی جزیرے سمبا کے کچھ حصوں میں جاری ہے۔

لیکن دو خواتین کے اغوا کی ویڈیو سامنے آنے اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ان کو شیئر کیے جانے کے بعد مرکزی حکومت اب اس کے خاتمے کی بات کر رہی ہے۔

'ایسا لگا جیسے میں مر رہی ہوں'

ایک اونچی چھت اور مضبوط لکڑی کے ستون والے روایتی گھر میں پہنچنے سے پہلے کار کے اندر سے سیترا کسی طرح اپنے بوائے فرینڈ اور والدین کو میسج کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس کے بعد انھیں پتہ چل گیا کہ جس خاندان نے انھیں اغوا کیا تھا وہ ان کے والد کی طرف سے دور کے رشتے دار تھے۔

'وہاں بہت سارے لوگ انتظار کر رہے تھے۔ میرے پہنچتے ہی انھوں نے گونگے بجائے اور رسومات ادا کرنے لگے۔'

سامبا میں مسیحیت اور اسلام کے علاوہ روحوں میں یقین رکھنے والے ایک قدیم مذہب ماراپو کے پیروکار بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق دنیا کا توازن برقرار رکھنے کے لیے وہ تقاریب اور قربانیوں سے روحوں کو خوش کرتے ہیں۔

سیترا نے کہا کہ 'سمبا میں لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جب پانی آپ کی پیشانی کو چھوتا ہے تو آپ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ میں پوری طرح واقف تھی کہ وہاں کیا ہو رہا تھا۔ اس لیے جب انھوں نے وہ کام کرنا چاہا تو میں آخری لمحے میں گھوم گئی تاکہ پانی میرے پیشانی کو نہ چھو سکے۔'

ان کے اغوا کار انھیں بار بار یہ بتا رہے تھے کہ انھوں نے ان کی محبت میں ایسا کیا ہے تاکہ وہ انھیں اس شادی کو قبول کرنے کے لیے راضی کر سکیں۔

'میں اس وقت تک روتی چیختی رہی جب تک کہ میرا گلا خشک نہیں ہو گيا۔ میں موٹرسائیکل کی چابی کو اپنے پیٹ میں چبھاتی رہی جب تک کہ زخمی نہیں ہو گئی۔ میں نے لکڑی کے بڑے ستون سے اپنے سر کو ٹکرا دیا۔ میں انھیں یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ میں اس کے لیے رضامند نہیں ہوں۔ مجھے امید تھی کہ انھیں مجھ پر افسوس ہوگا۔'

اگلے چھ دنوں تک انھیں گھر میں ایک قیدی کی طرح رکھا گیا۔

'میں ساری رات روتی رہتی، اور میں بالکل نہیں سوئی۔ ایسا لگنے لگا جیسے میں مر رہی ہوں۔'

سیترا نے ان کی جانب سے دیے جانے والے کسی بھی کھانے سے یا پانی پینے سے انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس پر جادو کیا گیا ہوگا۔ وہ کہتی ہیں 'اگر ہم ان کا کھانا کھاتے تو ہم شادی کے لیے ہاں کر دیتے۔'

سیترا کی بہن ان کے لیے چوری چھپے کھانا پانی لاتی رہیں جبکہ ان کے گھر والوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کی مدد سے ان کی رہائی کے متعلق گاؤں کے بڑے بزرگ اور ہونے والے دلہے کے گھر والون سے مذاکرات کیے۔

مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ پیرویتی نے گذشتہ چار برسوں میں اس طرح کے اغوا کے واقعات کے سات معاملوں کے دستاویزات تیار کیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس جزیرے کے دور دراز علاقوں میں اور بھی بہت سے واقعات ہوئے ہیں۔

ان میں سے بشمول سیترا صرف تین خواتین ہی رہا ہو سکیں۔ جون میں ہونے والے دو تازہ ترین واقعات میں سے جن کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں، ایک خاتون نے شادی میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیروتی تنظیم کی مقامی سربراہ اپریسا ترانو کہتی ہیں کہ 'وہ اس وجہ سے رہ گئیں کہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ ’کاون تنگ کاپ‘ رسم بعض اوقات رضامندی کی شادی کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے اور خواتین بات چیت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ جو خواتین کسی طرح رہائی حاصل کر لیتی ہیں انھیں ان کی برادری میں ایک ’کلنک‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ان پر بدنامی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ اب شادی نہیں کرسکتی ہیں اور نہ ہی بچے پیدا کرسکتی ہیں۔ اس لیے خواتین اس خوف کی وجہ سے شادی کے بندھن میں رہ جاتی ہیں۔'

یہی بات سیترا کو بھی بتائی گئی تھی۔

اس واقعے کے تین سال بعد وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں 'خدا کا شکر ہے کہ اب میں نے اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کرلی ہے اور ہمارا ایک سال کا بچہ ہے۔'

اس عمل کو کالعدم قرار دینے کا وعدہ

مقامی مورخ اور بزرگ فرانز وورا ہیبی کا کہنا ہے کہ یہ متازع رواج سمبا کی ثقافتی روایات کا حصہ نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال لوگوں نے خواتین کو زبردستی ان سے شادی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ رہنماؤں اور حکام کی جانب سے ڈھیل کی وجہ سے یہ عمل اب تک جاری ہے۔

'اس کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے، صرف بعض اوقات اس پر عمل کرنے والوں کے خلاف معاشرتی سرزنش ہوتی ہے لیکن قانونی یا ثقافتی روک تھام نہیں ہے۔'

قومی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھنے کے بعد سمبا میں علاقائی رہنماؤں نے رواں ماہ کے شروع میں اس رواج کو مسترد کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کی ذمہ دار وزیر بنتانگ پسپا یوگا اس اجلاس میں شرکت کے لیے دارالحکومت جکارتہ سے جزیرے پر پہنچیں۔

اس اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'ہم نے مقامی اور مذہبی رہنماؤں کی باتیں سنیں اور یہ کہ اغوا اور شادی کرنے کے جو واقعات وائرل ہوئے ہیں وہ سمبا کی روایات کا حصہ نہیں ہیں۔'

انھوں نے وعدہ کیا کہ یہ مشترکہ اعلامیہ اس رواج کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی وسیع کوششوں کا آغاز ہے جس کو انھوں نے خواتین کے خلاف تشدد قرار دیا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے لیکن اسے 'طویل سفر کا پہلا قدم' قرار دیا ہے۔

سیترا کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کے لیے شکر گزار ہیں کہ حکومت اب اس رواج پر توجہ دے رہی ہے اور امید ہے کہ اس کے نتیجے میں کسی کو بھی اس تجربے سے گزرنا نہیں پڑے گا جس سے وہ گزری تھیں۔

'کچھ لوگوں کے لیے یہ ہمارے باپ دادا کی روایت ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ ایک فرسودہ رسم ہے جسے ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ یہ خواتین کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔'

یہ بھی دیکھیے