برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینِک راب نے چین پر اویغور آبادی کے ’وسیع سطح پر مختلف اقسام‘ کے انسانی حقوق کی پامالی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پامالیوں کے ذمہ داران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلم آبادی کو زبردستی بانچھ کرنے کی اور وسیع سطح پر ظلم و ستم کی خبریں کافی عرصے سے نہیں سنی گئیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کوئی لائحہِ عمل طے کرے گا۔

برطانیہ میں چین کے سفیر نے کہا ہے کہ حراستی کیمپوں کی خبر ’جعلی‘ ہے۔ چینی سفیر لیو زیاؤمِنگ نے بی بی سی کے صحافی اینڈریو مار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اویغوروں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو قانون کے مطابق ملک کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

ڈرون کیمرا سے تیار کی گئی ایک فوٹیج میں بظاہر یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اویغوروں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر ٹرین پر لے جایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اویغور برادری کا ’استحصال‘: امریکہ نے اعلیٰ چینی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

چین: کیمپوں میں اویغوروں کو ’برین واش‘ کیسے کیا جاتا ہے؟

اویغور مسلمان خواتین کی جبری نسبندی کے الزامات، چین کی تردید

اس ریکارڈنگ کی آسٹریلیا کی سکیورٹی سروس نےتصدیق کی ہے جبکہ چینی سفیر نے کہا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ اس ویڈیو میں کیا دکھایا جا رہا ہے اور ’کچھ ایسا دکھتا ہے جب کسی ملک میں قیدیوں کو کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا رہا ہے۔‘

چینی سفیر نے کہا کہ ’سنکیانگ میں کوئی حراستی کیمپ نہیں ہے۔ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ چین میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران تقریباً دس لاکھ اویغوروں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے جن کو چینی حکام ’از سرِ نو تعلیم کے مراکز‘ کہتے ہیں۔

اس سے قبل چین ان کیمپوں کے وجود سے انکار کرتا رہا ہے تاہم بعد میں اس نے ان کیمپوں کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ سنکیانگ میں علحیدگی پسندوں کے تشدد کے واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف کچھ اقدامات لینا ضروری تھے۔

چینی حکام پر، حال ہی میں یہ الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں کہ وہ اویغور عورتوں کو بانجھ بنانے کے آپریشن کر رہے ہیں اور انھیں مانع حمل کے طریقے استعمال کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ اس گروہ کی آبادی کم ہو سکے۔

ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ نے ان کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

’شدید تکلیف دہ‘

جب یہ سوال کیا گیا کہ اویغور کمیونٹی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے کیا وہ قانونی طور نسل کُشی کہا جاسکتا ہے تو ڈومینِک راب نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسے نسل کشی قرار دینے سے پہلے بہت احتیاط کے ساتھ ان کا جائزہ لینا ہو گا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’اس کا کوئی بھی قانونی نام بنتا ہو، یہ بات واضح ہے کہ ’وسیع سطح پر مختلف اقسام‘ کے انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔

ریئلیٹی چیک تجزیہ

ایک تنظیم ’وکٹمز آف کیمیونزم میموریل فاؤنڈیشن‘ کے مطابق سنکیانگ میں اویغور آبادی والے خطے میں ان کی آبادی کی شرح نِمو سنہ 2013 سے لے کر سنہ 2018 کے عرصے میں 80 فیصد کم ہو گئی ہے۔

چین ان اعداد و شمار کو درست تسلیم نہیں کرتا ہے۔ چین کے سفیر نے کہا ہے کہ سنکیانگ صوبے میں اویغور آبادی چالیس برس پہلے چالیس سے پچاس لاکھ کے درمیان تھی جو کہ اب ایک کروڑ دس لاکھ ہو گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگ الزام لگاتے ہیں کہ ہم نسل کشی کر رہے ہیں جبکہ آبادی دوگنی ہو گئی ہے۔‘

آبادیات کی تحقیق کے ماہرین جو چین کے سرکاری اعداد و شمار اور چینی میڈیا کی رپورٹوں پر انحصار کرتے ہیں، چالیس برس پرانے اعداد و شمار پر بات نہیں کرتے ہیں۔

تاہم اُس کے مطابق سنہ 2005 سے لے کر 2015 کے درمیان سنکیانگ صوبے میں اویغور آبادی میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا تھا جو بعد کے برسوں میں بہت تیزی سے کم ہوا۔

’یہ بہت ہی زیادہ تکلیف دہ ہے، اور یہ خبریں جو کہ انسانی حقوق کے بارے میں ہیں، بانچھ پن سے لے کر حراستی کیمپوں کے بارے میں، یہ قصہ پارینہ ہیں اور کافی عرصے سے ایسی خبریں سننے میں نہیں آئیں تھیں۔‘

’ہم چین کے ساتھ مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ہم اس قسم کا سلوک نہیں دیکھ سکتے ہیں اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اس پر بات نہ کریں۔‘

اس وقت برطانیہ کے مختلف حلقوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے چین کے وہ سرکاری حکام جو اویغور کمیونٹی پر ظلم و ستم کے ذمہ دار ہیں ان پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ مثال کے طور پر ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں یا سفری پابندیاں عائد کردی جائیں۔

برطانیہ نے حال ہی میں میانمار کے ان سینیئر جرنیلوں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جنھوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف زیادتیاں کیں اور شمالی کوریا کے ان اداروں کے خلاف بھی جو جبری مشقت کے کیمپ قائم کرنے کے ذمہ دار تھے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ یکطرفہ بھی ایسی پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات لے سکتا ہے اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر بھی اقدامات لینے کو تیار ہے تاہم ایسا نہیں ہے کہ ’آپ یونہی اٹھیں اور فلاں فلاں پر پابندیاں عائد کر دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جیسا کہ ہم نے روہنگیا اور شمالی کوریا کے بارے میں کیا ہے، آپ کو شواہد جمع کرنے ہوں گے اور اس میں ایک وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ آپ کو احتیاط کے ساتھ اور درست طریقے سے ایسے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے۔‘

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز لینڈل کہتے ہیں کہ ’برطانیہ کے لیے خطرہ یہ ہے کہ یہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کی جنگ میں پھنس جاتا ہے۔‘

’انسانی حقوق کے دفاع کرنے کی قیمت برطانیہ کو تجارت کی کمی کی صورت میں ادا کرنا ہو گی اور کووِڈ-19 کے اگلے دور کی اقتصادی زبوں حالی میں یہ بہت بھاری قیمت ہو سکتی ہے۔‘

کنزیرویٹو پارٹی کے ارکانِ پارلیمان تو ہانگ کانگ میں سکیورٹی کے نئے قوانین کے اطلاق کے بعد سے ہانگ کانگ کی انتظامیہ کے اہلکاروں کے خلاف بھی پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان قوانین کو برطانیہ شہری آزادیوں کے حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

ان قیاس آرائیوں کے پس منظر میں کہ برطانیہ اپنی سابقہ کالونی سے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ختم کرنے جا رہا ہے، برطانوی وزیرِ خارجہ عنقریب پارلیمان کو چین کے بارے میں لیے گئے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

’ادلے کا بدلہ‘

بی بی سی کے اینڈریو مار کے پروگرام میں چینی سفیر نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ، جس نے ہانگ کانگ کے تیس لاکھ شہریوں کو اپنی شہریت دینے کی پیشکش کی ہے، نے چینی حکام کے خلاف کوئی پابندی عائد کی تو ان کا ملک بھی جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔

چینی سفیر نے کہا کہ ’اگر برطانیہ چین کے افراد پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو چین یقینی طور پر اس کا بھرپور جواب دے گا۔‘

انھوں نے چینی اویغور کی ’نسلی صفائی‘ کے الزامات کو بے بنیاد قرار کہہ کر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’دوسرے شہریوں اور نسلی گروہوں کے ساتھ مل جل کر ایک پر امن زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘

ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہ سنہ 2015 سے لے کر سنہ 2018 کے درمیان اویغور علاقوں میں آبادی میں کمی 84 فیصد ہوئی ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنکیانگ کے ان علاقوں میں اویغور آبادی پچھلی چار دہائیوں میں دگنی ہو گئی ہے۔

’ان علاقوں میں ایسی کسی قسم کی کوئی بھی نام نہاد مہم کا وجود نہیں، جس میں چین کی اویغور عورتوں کو بانچھ بنایا جا رہا ہے۔ چین کی حکومت اس قسم کے ہتھکنڈوں کے خلاف ہے۔‘

اگرچہ وہ بانچھ بنانے کے دوسرے واقعات کو ’خارج از امکان نہیں کہہ سکتے‘ تاہم انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ’ہم ہر نسل کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتے ہیں۔‘