یہ منگولیا کی ایک تاریک اور سرد صبح تھی۔ ایک نوجوان لڑکا اپنے خاندان کے خیمے نما گھر سے نکل کر سکول روانا ہو رہا تھا۔

صبح کے چھ بج رہے تھے اور درجہ حرارت مائنس 20 ڈگری تھا۔ دارالحکومت اولان باتو کے ایک کونے پر موجود سکول نمبر 107 اگلے دو گھنٹوں تک نہیں کھلنے والا۔ لیکن اوچیرو بتبولد نامی اس لڑکے کے پاس ایک چابی ہے۔

14 سالہ لڑکا جِم میں داخل ہوتا ہے، لائٹ جلاتا ہے اور تنہا کام پر لگ جاتا ہے۔

وہ ایک دیوار کے ساتھ بال کو کِک مارتا رہتا ہے اور اپنی پریکٹس جاری رکھتا ہے۔ وہ بھاگتا ہے، اچھلتا ہے، اسے پسینہ آتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ بہتر ہوتا رہتا ہے۔

جب آٹھ بجتے ہیں تو وہ کپڑے بدل لیتا ہے، جِم سے باہر نکلتا ہے اور معمول کے مطابق کلاس لینے لگتا ہے۔ لیکن کلاس روم میں وہ ہر لمحہ فٹبال کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔

وہ ایک کھلاڑی بننا چاہتا ہے۔ وہ بیرون ملک منتقل ہونا چاہتا ہے۔ وہ اپنا نام روشن ہوتے دیکھنا چاہتا ہے، یا کم از کم اپنا نام اپنی شرٹ کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہے۔

حیران کن طور پر اسے یہ پیشکش اس کی سوچ سے پہلے مل جاتی ہے۔ لیکن یہ آفر اور اس کے خواب کی تعبیر ویسی نہیں جیسی اسے امید تھی۔

یہ بھی پڑھیے

افغان بچے کو میسی کی اصل شرٹ مل گئی

لیاری گینگ وار: عالمی کھلاڑیوں کے علاقے میں موت کے کھلاڑی کیسے پیدا ہوئے؟

پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نئی جنرل سیکرٹری منیزے زین لی کون ہیں؟

محمد صلاح، رونالڈو، میسی اور لاک ڈاؤن

اوچیرو بتبولد کی عمر پانچ سال تھی جب اس کا خاندان صوبہ توو سے اولان باتو منتقل ہوگیا تھا۔ علاقائی رہائشیوں کے لیے یہ معمولی سفر ہے۔ دارالحکومت میں زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔

نئے آنے والے کئی افراد کی طرح یہ خاندان بھی خیموں والے علاقے میں منتقل ہوگیا۔ یہاں اینٹ اور پتھر کی عمارات کے بیچ گول ٹینٹ بھی موجود ہیں۔ موسم سرما میں جسم جما دینے والی سردی کے دوران گھروں سے آگ کا دھوا ہوا میں موجود رہتا ہے۔

منگلویا میں فٹبال مرکزی کھیل نہیں۔ اس موسم میں اِن ڈور کھیل بہتر رہتے ہیں۔ تو کئی نوجوان ریسلنگ یا باسکٹ بال کھیلتے ہیں۔

لیکن بچپن میں اوچیرو ایک پلے سٹیشن پر فیفا کھیلا کرتے تھے۔ ان کے پرانے دوستوں نے انھیں مانچسٹر یونائیٹڈ سے متعارف کرایا اور اس کے بعد سے انھیں گیم کی لت لگ گئی۔

وہ معروف برطانوی کھلاڑی وین رونی جیسا بننا چاہتے تھے تو انھوں نے بال کے ساتھ اپنی پریکٹس شروع کردی۔ اور پھر جب موسم سرما آیا، انھوں نے سکول کے نگراں سے بات کی اور چابی لے لی تاکہ ہر صبح جِم میں پریکٹس کر سکیں۔

دو سال کھیلنے کے بعد انھوں نے ایک ٹیم میں شمولیت اختیار کر لی۔ اسی دوران وہ ایک ریئلٹی ٹی وی شو پر بھی نظر آنے لگے۔

جب کاروباری شخصیت اینکی بتسمبر منگولیا میں تربیت حاصل کر رہے تھے تو باسکٹ بال زیادہ مقبول کھیل تھا۔ 37 سالہ شخص نے بتایا کہ ’ہمارے لیے مائیکل جورڈن، شیکاگو بُلز سب کچھ تھے۔‘

لیکن میں اپنے والد کی وجہ سے فٹبال کا مداح بھی بن گیا۔ وہ چیلسی کے بڑے مداح ہیں۔ ’ان کی نسل سوویت یونین سے کافی متاثر تھی۔‘

اینکی منگولیا میں فٹبال کے لیے پُرجوش تھے لیکن وہ اس حوالے سے پریشان تھے کہ کوئی نوجوان کھلاڑی موجود نہیں۔ اور مداحوں میں انگلش پریمیئر لیگ زیادہ مقبول تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی اس میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔

تو 2013 میں انھوں نے باینگول ایف سی نامی اپنی ہی ٹیم بنا لی۔ انھوں مدد درکار تھی تو انھوں نے پال واٹسن سے رابطہ کیا جنھوں نے مائیکرونیشیا میں کوچنگ پر پوری کتاب لکھی ہوئی تھی۔ یہ علاقہ بھی فٹبال پسند کرتا تھا۔

پال کہتے ہیں کہ انھیں معلوم تھا کہ میں اتنا پاگل تھا کہ کچھ ایس کرنے کے لیے تیار ہو جاؤں گا۔

اکتوبر 2013 میں پال منگولیا گئے اور کلب کے لیے نئے کھلاڑیوں کے آڈیشن کیے۔ یہ ٹرائل منگولیا میں ڈریم ٹیم نامی ریئلٹی شو کے لیے فلمائے گئے۔

ان میں سے ایک ٹرائل اوچیرو کا تھا۔ وہ سب سے زیادہ ہنرمند تو نہیں تھے لیکن اینکی اور پال کو ان کا رویہ پسند آیا۔ ایک صبح وہ سکول 107 گئے تاکہ جان سکیں کہ آیا وہ حقیقت میں 6 بجے ٹریننگ کرتے ہیں۔

اینکی بتاتے ہیں کہ ’ہم سردی میں ایک دھندلی صبح پہاڑوں پر سح سفر کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور دیکھا کہ وہ تنہا جِم میں موجود ہے اور دیوار کے ساتھ ٹریننگ کر رہا ہے۔ کرسیوں پر کود رہا ہے۔ میں یہ کبھی نہیں بھول سکوں گا۔‘

فیصلہ ہوگیا۔ 16 سالہ اوچیرو کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ اور شو میں بھی۔

باینگول کی ٹیم کامیاب رہی۔ وہ ایک بڑی لیگ میں دوسرے نمبر پر آئے اور پھر منگولیا کے فٹبال کے نظام کا حصہ بن گئے۔

چھوٹی ٹرافی چیتنے کے بعد وہ 2015 میں دوسرے درجے پر کھیلے اور انھیں منگولیا پریمیئر لیگ میں پہنچنے کا موقع ملا۔ لیکن خوشی کے اس موقع پر ڈنر کے دوران سب خوش نہیں تھے۔

پال بتاتے ہیں کہ ’اوچیرو غیر معمولی طور پر خاموش تھے۔ اور اس نے ہمیں ایک راز بتایا تھا۔‘

ایک امریکی ایجنٹ نے فیس بک کے ذریعے اوچیرو سے امریکہ کی بڑی لیگ ٹیم لاس اینجلس گیلیکسی کے ٹرائل کے لیے رابطہ کیا تھا۔

ایجنٹ نے کہا تھا کہ وہ چھ ہزار ڈالر کی فیس وصول کرے گا جو کہ اس نوجوان نے ادا کر دی تھی۔

پال کہتے ہیں کہ اس کے مطابق یہ ایجنٹ خاموش ہوچکا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ کیوں۔ ’لیکن ہم شروع سے اس کا مطلب جانتے تھے۔‘

جب اس ’ایجنٹ‘ نے اوچیرو سے رابطہ کیا تو نوجوان نے پال کا مشورہ مانگا چاہا۔

پال کہتے ہیں کہ ’یہ ایجنٹ مخصوص انداز سے پیش آتے ہیں اور کسی دوسرے کھلاڑی کو بتانے سے منع کرتے ہیں، خاص کر جو آپ کے کلب کا حصہ ہوں۔‘

’اگر آپ کلب کو بتاتے ہیں تو وہ آپ سے رابطہ ختم کر دیتے ہیں۔‘

اینکی کہتے ہیں کہ اوچیرو کے ساتھ دھوکہ ہوا تھا۔ سب سے بڑی چیز یہ ہوئی کہ اس نے یہ پیسے اپنے خاندان سے ادھار لیے تھے جو انھوں نے اپنا خیمہ استعمال کرتے ہوئے جمع کیے تھے۔ اب انھیں ڈر تھا کہ وہ اپنا گھر کھو دیں گے۔‘

’انھوں نے سب داؤ پر لگا دیا تھا۔‘

واقعے کے پانچ برس بعد اوچیرو کہتے ہیں کہ وہ اپنی ’بیتابی‘ کی وجہ سے اس جعل سازی کا شکار بنے۔

اینکی کے ذریعے وہ بتاتے ہیں کہ ’میں ہر اس شخض پر یقین کرنا چاہتا تھا جو میری مدد کرسکتا تھا۔ یہ جذبات پر مبنی فیصلہ تھا۔‘

پال کو ریستوران میں یہ بتاتے نے بعد وہ ان کے فلیٹ پر گئے۔ پال یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’وہ رو رہا تھا اور ہمیں تفصیلات بتا رہا تھا۔ یہ کافی مایوس کن لمحہ تھا۔‘

جعل ساز نے پیسے ہتھیانے کے بعد اوچیرو سے رابطہ منقطع کردیا۔ لیکن جب اس نے بتایا کہ ایک اور نوجوان کھلاڑی لاس اینجلس میں ٹرائل کے لیے جانا چاہتا ہے اور وہ پیسے ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے، تو جعل ساز نے رابطہ بحال کر لیا۔

پال نے اسے فون ملایا۔ جعل ساز نے جواب دیا مگر وہ محتاط تھا۔ پال نے لاس اینجلس میں اس کا پتہ معلوم کیا اور پولیس کو اطلاع دے دی۔ لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔

مختصر یہ کہ پیسے جاچکے تھے۔

اوچیرو پہلے کھلاڑی نہیں جسے ایک جعلی ایجنٹ نے دھوکہ دیا۔ ایسی کئی کہانیاں ہیں جن کے بارے میں کھلاڑیوں کی یونین نے متنبہ کر رکھا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن اوچیرو اور ان کے خاندان کے لیے کوئی سہارا نہیں۔ یہ بڑا نقصان تھا اور اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔‘

ٹرائل تو نہ ہوا لیکن پال اوچیرو کو اس کے پیسے واپس دلانے کے لیے کوششیں کرنے لگے۔

پال کہتے ہیں کہ وہ ان بچوں میں سے ہے جن سے آپ صرف پیار کر سکتے ہیں۔ ’لیکن جب آپ ایک کلب کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو آپ کھلاڑیوں کے لیے خود کو ذمہ دار محسوس کرتے ہیں۔‘

پال نے امداد کے ذریعے پیسے جمع کرنا شروع کیے اور فٹبال کی کمیونٹی سے کہا کہ اس نقصان کے بھرپائی کی جائے۔ آہستہ آہستہ لوگوں نے مدد کرنا شروع کی اور پیسے آنا شروع ہوگئے۔

لندن کے اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ نے یہ کہانی شائع کی اور پال ٹاک سپورٹس پر ایک شو میں بھی آئے۔ منگولیا میں مانچسٹر یونائیٹڈ کے مداحوں کی مدد سے اوچیرو کی رقم انھیں واپس مل گئی۔

اور اس طرح اوچیرو کا گھر بچ گیا۔ لیکن اس کے باوجود اس واقعے کے بعد اس نوجوان کھلاڑی نے فٹبال چھوڑنے پر بھی غور کیا۔ پھر آگے کیا ہوا؟

اوچیرو کہتے ہیں کہ جعل سازی کے بعد میرا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ ’لیکن امدادی مہم اور لوگوں کی حوصلہ افزانی سے مجھے ہمت ملی اور واپس آنے کا حوصلہ ملا۔‘

اوچیرو اسی حوصلے کے ساتھ باینگول کے لیے 2016 میں منگولین پریمیئر لیگ میں کھیلے لیکن ان کی ٹیم جیت نہ سکی۔

2017 میں یہ ٹیم دوسری درجے پر آئی اور بعد ازاں ان کی سینیئر ٹیم منتشر ہوگئی۔ ایسا لگا جیسے اوچیرو کا کیریئر رُک گیا ہے۔

وہ 2018 کا سیزن انجری کے باعث نہ کھیل سکے۔ اوچیرو کو یو بی سٹی نے اپنی ٹیم میں شامل کرلیا جو کہ ایک امیر ٹیم ہے اور اسے منگولیا کے چھ یا پانچ بڑے کلبز میں شمار کیا جاتا ہے جو کھلاڑیوں کو اچھا معاوضہ دیتے ہیں۔

2019 میں وہ منگولیا کے چیمپیئن بن گئے اور اوچیرو پانچ میچز میں کھیلے۔

کورونا وائرس کی صورتحال قابو میں آنے کے بعد یو بی سٹی پین ایشیا اے ایف سی کپ میں کھیلے گی۔

انگلش پریمیئر لیگ میں مانچسٹر یونائیٹڈ نہ سہی، لیکن اوچیرو کا نام اپنی فاتح ٹیم کے پیچھے ضرور موجود ہے۔

پال کہتے ہیں کہ یہ زبردست لگتا ہے جب آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔

’ملک کی بہترین ٹیم کے لیے کھیلنا معمولی بات نہیں۔ سردیوں میں جِم کے اندر بال کو کِک کرنے والے کے لیے آپ کچھ بُرا تصور نہیں کرسکتے۔‘

یہ پیغام کافی متاثر کن ہے، نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ ہر کسی کے لیے جس کے اردگرد کم مواقع موجود ہیں اور راستہ بھی صاف نہیں۔

’ملک کی بہترین ٹیم کے لیے کھیلنے ایک بہت خاص بات ہے۔‘

اوچیرو، جنھیں وین رونی سے مشابہت کی وجہ سے وازا کے نام سے بلایا جاتا ہے، اب بھی بیرون ملک اور اپنے ملک کے لیے کھیلنے کے خواہشمند ہیں۔

سکول میں اس انفرادی پریکٹس کے بعد کافی کچھ بدل گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ان سب کا شکر گزار ہوں جنھوں نے میری مدد کی۔ میں کوشش کروں گا کہ ان کی امیدوں پر پورا اتروں اور آخر تک کوشش کرتا رہوں گا۔‘

وہ یہ کہتے ہی ٹریننگ کرنے چلے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ایک فٹبال کا ایک ہنر مند کھلاڑی ایک چور کی وجہ سے ہار نہیں سکتا۔