اس سال مارچ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی آخری پرائمری (پارٹی کے اندر صدارتی امیدوار کی نامزدگی کا عمل) میں جو بائیڈن نے وعدہ کیا تھا کہ اگر صدارتی انتخابات کے لیے وہ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو نائب صدر کی ساتھی امیدوار کے طور پر وہ کسی خاتون کا انتخاب کریں گے۔

بائیڈن اب اپنی پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ہیں۔ مگر اس سے قبل ہی ان کی ممکنہ ساتھی امیدواروں کے بارے میں قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی تھیں۔

تاہم عالمگیر وبا، معاشی ابتری، احتجاجی مظاہروں اور نسلی تناؤ کے دوران مختلف امیدواروں کے بارے میں کی جانے والی سرگوشیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔

اگر وہ اپنے وعدے پر قائم رہتے ہیں تو کسی بڑی جماعت کی طرف سے نائب صدارت کے لیے کسی خاتون سیاستدان کی یہ تیسری نامزدگی ہوگی۔ چار برس قبل ہیلری کلنٹن صدارتی امیدوار نامزد ہونے والی پہلی امریکی خاتون بنی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں ’کیرن‘ کن خواتین کو کہا جانے لگا ہے؟

برنی سینڈرز تو جیت رہے تھے، پھر مسئلہ کیا ہوا؟

اوباما اور بائیڈن کی تصاویر میں تیسرا کون؟

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس اقدام سے لگتا ہے کہ ڈیموکریٹس خواتین ووٹرز کی حمایت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی شاید بائیڈن کو ان الزامات سے خلاصی دلوانا چاہتے ہیں کہ وہ خواتین کو نامناسب طریقے سے چھونے میں ملوث رہے ہیں۔

بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اپنی پسند کا اعلان اگست میں کریں گے۔ مگر ہم اس سے پہلے اس فہرست میں شامل چند اہم خواتین امیدواروں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔

کمالہ ہیرس

سینیٹر، کیلیفورنیا

ان میں کمالہ ہیرس کا نام سر فہرست ہے۔ وہ سینیٹ کی رکن اور کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل رہی ہیں۔ وہ خاصے وسیع پس منظر کی حامل ہیں: ان کی والدہ انڈیا اور والد جمیکا سے ہیں۔ قومی میڈیا اچھی طرح سے ان کی چھان پھٹک کر چکا ہے کیونکہ گذشتہ برس انھوں نے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں حصہ لیا تھا اور ایک وقت میں تو وہ مضبوط امیدوار کے طور پر بھی ابھری تھیں۔

گذشتہ برس جون میں پہلی پرائمری میں ان کا ٹاکرا بائیڈن سے ہوا تھا، مگر امریکی سیاست میں یہ پرانی بات ہے۔

ہیرس نے حال ہی میں بائیڈن کے لیے 20 لاکھ ڈالر چندہ اکٹھا کیا۔ وہ خاصی فعال ہیں، اور ان کی نامزدگی ان لوگوں کے لیے اطمینان کا باعث ہو گی جو بائیڈن سے سیاہ فام خاتون کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ مظاہروں کے دوران پولیس اصلاحات کے لیے ان کے بے باک بیانات کو مختلف ڈیموکریٹس کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی۔ ایک برس قبل بائیڈن اور ہیرس ایک فطری انتخابی جوڑی نظر آتی تھی اور آج بھی ایسا ہی لگتا ہے۔

گریچن وِٹمر

گورنر، مشیگن

صرف چند ماہ قبل تک گریچن وِٹمر کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ریاست مشیگن کی گورنر ہیں۔ پھر کورونا وائرس کی عالمگیر وبا آئی جس کے دوران وہ اپنی ریاست کی پہچان بن گئیں۔ انھوں نے وبا سے نمٹنے کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کی۔ اس طرح وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بنیں جس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا۔

مشیگن میں وبا کی سنگینی کے پیش نظر انھوں نے سماجی فاصلے اور کاروبار بند کرنے سے متعلق کچھ سخت فیصلے کیے جس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے مگر ڈیموکریٹس میں ان کے قد میں اضافہ ہوا۔

سال 2016 میں ہلری کلنٹن کو کچھ ہی ووٹوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں شکست ہوئی تھی اور اس نے انتخابی نتیجے پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ اگر بائیڈن کسی ایسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں تو انھیں مشیگن سے کسی کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

ٹیمی ڈکورتھ

سینیٹر، الینوئے

ٹیمی ڈکورتھ ریاست الینوئے میں جونیئر سینیٹر ہیں مگر ان کے کوائف اپنی جانب فوری توجہ مبذول کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ جنگ عراق کے دوران اس وقت اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئی تھیں جب جنگجوؤں نے وہ فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا جسے وہ اڑا رہی تھیں۔ وہ فوج سے بطور لیفٹینیٹ کرنل ریٹائر ہوئیں اور صدر براک اوباما کے دور میں سابق فوجیوں کے معاملات سے متعلق ادارے کی اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ڈکورتھ نے ایوان نمائندگان میں بھی خدمات انجام دی ہیں اور 2016 میں انھوں نے سینیٹ کا انتخاب جیتا۔ وہ کانگریس میں پہنچنے والی پہلی تھائی نژاد امریکی ہیں، اور پہلی رکن کانگریس بھی جن کی دونوں ٹانگیں نہیں۔ انھیں سینیٹ کی رکنیت کے دوران پہلی ماں بننے کا اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب انھوں نے 2018 میں بچے کو جنم دیا۔

الینوئے ڈیموکریٹس کی سیٹ ہے مگر مِڈ ویسٹ کے معرکوں کے قریب ہونے کی وجہ سے اہم ہے۔ ایسے میں ان کی میانہ رو سیاست انھیں بائیڈن کے لیے پرکشش بنا سکتی ہے۔

الزبتھ وارن

سینیٹر، میساچوسیٹس

الزبتھ وارن 2019 کے وسط میں اپنی صدارتی نامزدگی کے مہم کے دوران رائے عامہ کے جائزوں میں نمایاں رہیں اور اپنے گرد مجمع اکٹھا کرنے میں انھیں مشکل پیش نہیں آئی۔ مگر پھر ان کی حمایت کم ہوتی چلی گئی۔ بہت سے ترقی پسند برنی سینڈرز کی طرف چلے گئے اور اعتدال پسندوں نے قدرے نوجوان امیدواروں کا ہاتھ تھام لیا۔

بہت سے ترقی پسندوں کو توقع تھی کہ مارچ میں وہ صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے نکلنے کے بعد سینڈرز کی حمایت کا اعلان کریں گی، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا اور یہ بات بائیڈن کو پسند آئی۔

اب ان کے لیے موقع ہے کہ وارن کا یہ احسان چکانے کے لیے وہ انھیں اپنا شریک امیدوار بنالیں۔ اس طرح وہ ترقی پسندوں کی حمایت بھی حاصل کر سکیں گے جنھیں انھوں نے مہم کے دوران نظر انداز کیا تھا۔

ٹیمی بالڈوِن

سینیٹر، وسکونسن

چار برس قبل ریاست وِسکونسن میں انتخابی مہم نہ چلانے پر ہلری کلنٹن کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ اس ریاست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کر لی تھی۔

اگر بائیڈن وِسکونسن کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتے تو اس سے بہتر اور کیا ہوگا کہ وہ اپنا شریک امیدوار وہاں سے چنیں۔ اور اس کے لیے ٹیمی بالڈوِن سے بہتر انتخاب کون ہوگا؟ وہ دوسری بار سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں اور اس سے قبل 14 برس تک ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔

ان کا انتخاب اس لحاظ سے بھی تاریخی ہوگا کہ وہ کسی بڑی جماعت کا ٹکٹ حاصل کرنے والی پہلی اعلانیہ ہم جنس پرست امیدوار بن جائیں گی، بالکل ویسے ہی جیسے وہ سینیٹ کی پہلی اعلانیہ ہم جنس پرست رکن بنیں۔

کرسٹِن سائنیما

سینیٹر، ایریزونا

ریاست ایریزونا سے کرسٹِن سائنیما نے 30 سال میں پہلی مرتبہ ڈیموکریٹس کے لیے نشست حاصل کی۔ وہ جوان ہیں، ٹی وی سکرین پر اچھی نظر آتی ہیں اور اعتدال پسند سیاسی میلان کی حامل ہیں۔

البتہ کبھی کبھار وہ روایت سے ہٹ کر کام کرتی ہیں۔ مثلاً ایک مرتبہ وہ سینیٹ کے اندر جامنی رنگ کی وِگ لگا کر آگئیں۔

اگر بائیڈن انھیں شریک امیدوار کے طور پر چن لیتے ہیں تو وہ پہلی اعلانیہ بائ سیکسوئل (دو جنسی) صدارتی امیدوار کے طور پر تاریخ مرتب کریں گے۔

وال ڈیمنگز

رکنِ کانگریس، فلوریڈا

وال ڈیمنگز گذشتہ سال کانگریس میں ایک غیر معروف ڈیموکریٹک رکن تھیں، مگر جب جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک کے دوران سپیکر نینسی پیلوسی نے انھیں مواخذے کا مینیجر مقرر کیا تو وہ منظر عام پر آ گئیں۔

ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو کی سیاہ فام سابق پولیس چیف نسلی مساوات کے لیے پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی موت سے پہلے ہی سرگرم ہونے کے سبب بائیڈن کے شریک امیدوار کا انتخاب کرنے والی ٹیم کی نظروں میں آ چکی تھیں۔

البتہ ان میں سیاسی تجربے کی کمی ضرور ہے جو ان کے حق میں نہیں جاتی۔ تاہم ان کا بطور شریک امیدوار انتخاب لوگوں کو یہ پیغام دے گا کہ سیاہ فام امریکیوں اور پولیس میں اصلاحات کے بارے میں بائیڈن بہت زیادہ سنجیدہ ہیں۔

مشیل لوہان گریشم

گورنر، نیو میکسیکو

نیو میکسیکو کی ریاست سے گورنر مشیل لوہان گریشم کا نام سامنے آ رہا ہے۔ یہ ڈیموکریٹس کی پکی سیٹ ہے۔ یہاں لویان سے پہلے مسلسل دو مرتبہ ریپبلیکن گورنر رہے تھے۔ ساٹھ سالہ لویان کانگریس میں رہ چکی ہیں اور بطور وزیر صحت بھی کام کیا ہے۔ ان کے یہ کوائف عالمگیر وبا کے دور میں انھیں شریک امیدواری کے لیے اہم امیدوار بناتے ہیں۔

سٹیسی ایبرامز

جارجیا کی سینیٹ کی امیدوار

سٹیسی ایبرامز کی سیاسی زندگی زیادہ متاثر کن نہیں ہے۔ وہ 10 برس تک جارجیا کے ایوانِ نمائندگان کی رکن رہی ہیں۔ سنہ 2018 میں انھوں نے گورنر کا انتخاب لڑا مگر معمولی فرق سے ہار گئیں۔

البتہ اپنے مد مقابل امیدواروں کے برعکس انھوں نے بائیڈن کا شریک امیدوار بننے کے لیے باضابطہ مہم چلائی۔ سنہ 2019 میں ٹرمپ کے سٹیٹ آف دا یونین خطاب کا جواب دینے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی نے انھیں چنا تھا۔ اس منصب کے لیے وہ پہلی سیاہ فام خاتون قرار پائیں۔

کیشا لانس بوٹمز

اٹلانٹا میئر

ایٹلانٹا کی میئر کیشا لانس بوٹمز نے مینیاپولِس میں پولیس کی تحویل میں سیاہ فام جارج فلوئڈ کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران اپنے سرکاری منصب اور بطور ایک سیاہ فام خاتون اپنے ذاتی جذبات کے اظہار میں بڑے توازن کا مظاہرہ کیا۔

اگر بائیڈن انھیں اپنا شریک امیدوار بناتے ہیں تو یہ خاصا غیر روایتی فیصلہ ہوگا۔ مگر جارجیا ایک قدامت پسند ریاست ہے اور لگتا ہے کہ ایک اہم صدارتی معرکے کا میدان بھی ہوگی۔ ریاست کے ریپبلیکن گورنر کے ساتھ لاک ڈاؤن میں نرمی پر سیاسی جنگ کی وجہ سے وہ بہت سے ڈیموکریٹس کی تائید حاصل کر چکی ہیں۔

سوزن رائس

سابق مشیر قومی سلامتی

اس فہرست میں سوزن رائس کا نام کچھ تعجب کا باعث ہے کیونکہ نہ تو وہ کسی عوامی عہدے پر رہی ہیں اور نہ ہی کوئی مہم چلائی ہے۔ بہت سے امریکیوں کے لیے وہ غیر معروف بھی ہیں۔

البتہ وہ اوبامہ کے عہد صدارت میں بائیڈن کے ساتھ بطور مشیر قومی سلامتی کام کر چکی ہیں۔ اس قبل وہ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب بھی رہی تھیں۔

اگر بائیڈن ان کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ انھیں اپنی خارجہ پالیسی کی ٹیم میں کوئی اہم کردار سونپنا چاہیں گے۔

رائس کو 2012 میں اس وقت ریپبلیکنز کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر اور تین دوسرے امریکی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ ان پر اس حملے سے متعلق حقائق چھپانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

مشیل اوبامہ

سابق خاتونِ اول

سابق خاتون اول مشیل اوباما امریکا میں اب بھی مقبول ہیں۔ مکمن ہے کہ وہ بائیڈن کی شہرت کو کسی قدر گہنا دیں مگر سابق صدر اوباما کے ورثے کو آگے چلانے اور ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کا اس سے اچھا موقع اور کیا ہوگا۔

بائیڈن اور اوباما کی شریک امیدواری ڈیموکریٹس کے اندر، خاص طور سے سیاہ فام ووٹروں میں ایک نیا ولولہ پیدا کر دے گی، بالکل ویسا ہی جوش و خروش جیسا 2008 اور 2012 میں اوباما اور بائیڈن نے پیدا کیا تھا۔

البتہ اس میں صرف ایک قباحت ہے اور وہ یہ ہے کہ مشیل اوباما نے اب تک سیاست میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ہے۔