اس ہفتے سے کئی ملکوں میں دکانوں، شاپنگ مالز اور عوامی اجتماعات کے بند مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ بعض عالمی سیاسی راہنماؤں اور رائے سازوں کی مخالفت کے تناظر میں کیا ان احکامات پر عمل کروانا آسان ہوگا؟

برطانیہ میں سنڈے ٹائمز کی کالم نگار، کمیلا لانگ، نے اپنے ہفتہ کالم کی تشہیر کے لیے اتوار کو ٹویٹ کی: 'ماسک کے مؤثر ہونے کا ثبوت صفر ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ انھیں پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ پہننا لازمی ہوگا۔ دکانیں خاموش ہوگئیں، ہمارے بازار جان بلب ہیں۔ انسانی رشتوں کے لیے یہ تباہ کن ہے۔'

ان کا یہ کالم ایسے وقت میں شائع ہوا ہے جب عالمی ادارۂ صحت نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ کوروناوائرس کے عالمگیر وبائی شکل اختیار کرنے کے بعد چوبیس گھنٹوں کے دوران پہلی بار 260,000 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور اسی دوران کووِڈ۔19 سے 7,360 افراد ہلاک ہوئے۔ ایک روز میں متاثرین اور ہلاکتوں کی یہ ریکارڈ تعداد ہے۔

اگرچہ کئی ملکوں میں مختلف اقدامات کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پالیا گیا ہے مگر انڈیا، برازیل اور امریکا جیسے ممالک میں متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جبکہ کئی ملکوں کے کچھ علاقوں میں تو کمی دیکھنے میں آ رہی ہے مگر دوسرے علاقوں میں وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔

وائرس سے بچنے کے لیے ماہرین اور حکام کی جانب سے مختلف تجاویز اور ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں، جن میں سے ایک بند عوامی اجتماعات کے مقامات پر لازمی ماسک پہننا بھی ہے۔

فرانس میں حکومت نے پیر سے دکانوں، شاپنگ مالز، بینکوں اور عوامی رسائی کی حامل عمارتوں کے اندر ماسک پہننا لازی قرار دیا ہے۔

اسی طرح ک احکامات برطانوی اور آسٹریلوی حکام نے بھی جاری کیے ہیں۔

کمیلا نے اپنا کالم برطانوی حکومت کے اس حکم کے تناظر میں لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جمعہ، چوبیس جولائی، سے تمام شاپنگ سینٹرز میں جانے والے خریداروں پر ماسک پہننا لازمی ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ملک میں عوامی ذرائع آمد و رفت میں ماسک پہننے کی پابندی پہلے ہی نافد ہے۔

اسی طرح آسٹریلیا کے شہر میلبرن اور مچل شائر میں حکام نے بدھ سے گھر سے باہر نکلنے پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے کی دھمکی دی ہے۔

ماسک پہننے کے معاملے پر کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے آغاز سے ہی رائے منقسم چلی آ رہی ہے۔

امریکا میں تو اس نے اس وقت ایک سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لی تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ نہ وہ خود ماسک پہنیں گے اور نہ ہی امریکیوں کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیں گے۔

ان کا یہ بیان متعدی امراض کے چوٹی کے ماہر ڈاکٹر اینتھنی فاؤچی کی اس حالیہ تجویز کے بعد آیا تھا کہ ریاستوں اور حکام کو لوگوں کو ماسک پہننے پر ممکنہ حد تک مجبور کرنا چاہیے۔

ٹرمپ اس سے قبل خود بھی ماسک پہننے سے انکار کر چکے ہیں۔

مگر ماسک کی افادیت سے انکار ٹرمپ تک ہی محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں حال میں ڈھائی ہزار افراد پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق خواتین کے مقابلے میں مرد ماسک پہننا پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال میں 'یہ شرمناک ہے اور کمزوری کی علامت ہے۔' یہ اس حقیقت کے باوجود کہ کورونا وائرس عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے چہرے کو ڈھانپنے کا معاملہ شروع ہی سے گنجلک رہا ہے۔ ابتدا میں تو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اسے بے فائدہ قرار دیا تھا مگر اب اس کا کہنا ہے کہ بند مقامات پر جہاں سماجی فاصلہ قائم رکھنا ممکن نہ ہو وہاں وائرس سے بچنے کے لیے ماسک فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

تاہم ڈبلیو ایچ او کا اب بھی یہ ہی اصرار ہے کہ صرف ماسک ہی کورونا سے بچنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ سماجی فاصلہ اور حفظان صحت کے اصول یعنی صحیح طریقے سے ہاتھ دھونا وغیرہ بھی لازمی ہے۔

کمیلا لانگ نے اپنے کالم میں ماسک پہننے سے متعلق احکامات کو 'نازی ازم' یعنی ہٹلر کی مطلق العنانی سے تعبیر کیا ہے۔

تاہم زیادہ تر جوابی ٹویٹس میں ان پر تنقید کی گئی ہے۔

مارک اِروِن نے لکھا: 'دوسرے کئی ملکوں میں لوگ ماسک پہن کر خریداری اور دوسرے کاموں کے لیے جاتے ہیں۔ یہ بڑی بات نہیں ہے اور ہٹلر کی مطلق العنانی تو بالکل نہیں ہے۔'

اسی طرح جینی بونڈ نے ٹویٹ کی کہ 'اگر میرے ماسک پہننے سے کسی ایک شخص کی بھی جان بچ جائے تو بڑی بات ہے۔'

مسز ٹی نے کچھ میانہ روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اصل میں یہ کہنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر آپ کو گھنٹوں بازار میں گھومتے ہوئے ماسک پہننے یا آن لائن شاپنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو لوگ مؤخرالذکر (آن لائن شاپنگ) ہی کو ترجیح دیں گے۔'

کیرول ہیجز نے لکھا کہ ہٹلر کے ہاتھوں ان کے خاندان کے لوگ مارے گئے تھے اور ایک یہودی کی حیثیت سے وہ یہاں لفظ 'نازی ازم' کی سخت ترین انداز میں مذمت کریں گے۔

جن ملکوں میں لباس اور وضع قطع کا انتخاب شخصی آزادیوں میں شمار ہوتا ہے وہاں بہ یک جنبش قلم عوام کے لیے ماسک پہننے کو لازمی قرار دینا اور پھر اس پر عملدرآمد آسان نہیں ہوگا۔