امریکہ میں کسی ’الچاپو گوزمین‘ کی موجودگی بہت مشکل ہے۔

اس لیے نہیں کہ وہاں لاکھوں ڈالر ادھر سے ادھر نہیں ہوتے اور اس ملک میں جہاں دنیا میں سب سے زیادہ کوکین استعمال کی جاتی ہے، منشیات فروش نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ کا مربوط نظام ہے۔

ماہرین اور یہاں تک کہ منشیات پر کنٹرول کے ذمہ دار ادارے (ڈی ای اے) کا ماننا ہے کہ اس کے پیچھے مقامی مافیاز کا ہاتھ ہے۔

پچھلی صدی کے وسط کے بعد سے منشیات کے مالکوں کی پہچان امریکہ کی شہریت ہے، لیکن ان میں سے کسی کے بھی غیر قانونی مواد کی پیداوار، نقل و حرکت، تقسیم اور مارکیٹنگ میں ملوث ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

یہاں میکسیکنز جیسے مشہور کارٹیل یا مسلح گروہ نہیں ہیں جن کے درمیان کولمبیا کی طرح کوکا کی کاشت کے علاقوں کی وجہ سے لڑائیاں چلتی رہتی ہوں تاہم امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ کے لیے ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو اپنے پورے علاقوں میں منشیات کی نقل و حمل کرتی ہیں۔

عام طور پر ابھی بھی اس ملک میں مرکزی کرداروں اور منشیات کی نقل و حمل کے آپریشن کے بارے میں لاعلمی پائی جاتی ہے۔ آئیے ہم آپ کو امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ سے متعلق چار حقائق بتاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

منشیات کی دنیا کے 'گاڈ فادر' ایل چاپو گوزمین مجرم قرار

کویت میں منشیات سمگل کرنے والا کبوتر پکڑا گیا

انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت میں دُگنا اضافہ

1- تھوک کے بھاؤ سے مال خریدنے والے

منشیات کے سمگلر اور تنظیمیں جو امریکہ میں سب سے پہلے درجے کے رابطے کا حصہ ہیں، وہ وہی ہیں جو ایک خاص درجہ رکھتے ہیں اور ایسے سامان کی ادائیگی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ابھی ابھی میکسیکو سے آیا ہو۔

ان کے ذریعے کوکین اور مصنوعی منشیات امریکہ کے مختلف بازاروں میں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔

اس بارے میں کتاب ’لاس نارکوس گرینگوس (2016)‘ کے مصنف ہیزوس ایسکوئیول نے بی بی سی مُنڈو کو بتایا کہ ’یہ تنظیمیں میکسیکنز سے بڑے پیمانے پر منشیات خریدتی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میکسیکنز میں تقسیم کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ دراصل انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

مصنف کے مطابق ’لاطینی امریکہ کے کارٹیلوں کو معلوم ہے کہ مقامی خریداروں کے ذریعے کارگو کے پکڑے جانے یا ضبط ہونے کے خطرات کم ہیں۔ اپنی طرف توجہ مبذول کروائے بغیر وہ اپنا مال امریکی معاشرے میں آسانی سے پہنچا سکتے ہیں۔‘

ایسکوئیول نے بتایا کہ میکسیکو کی تنظیموں کے پاس ’میامی میں دفتر‘ نہیں ہے بلکہ نمائندے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں اگر ایسا ہے تو امریکی سکیورٹی ایجنسیاں اکثر میکسیکو اور دوسرے ممالک کے غیر قانونی مواد رکھنے والوں کی گرفتاریوں کا باقاعدہ اعلان کیوں کرتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں سے جڑے اور بھی بہت سے معاملات ہیں لیکن میڈیا کی جانب سے ان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے کیونکہ وہ پرتشدد کارروائیوں سے منسلک نہیں ہیں۔

2- نقالی

منشیات کی سمگلنگ کے محقق ہرنینڈو زولیٹا نے بتایا کہ امریکی تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے بارے میں کم معلومات کی ایک وجہ ان کا عمل کرنے کا طریقہ کار ہے۔

ایسکوئیول کہتے ہیں ’مائیکرو ٹریفک میں امریکہ اور وسطی امریکہ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے گروہوں کی موجودگی بہت زیادہ ہے لیکن وہ بڑا حصہ نہیں لیتے لہٰذا ہر کوئی پوچھتا ہے کہ گرنگو لیڈر کون ہیں، کیوںکہ ان کا وہاں ہونا ضروری ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’امریکہ کے اندرونی حصوں میں تقسیم کے سربراہان‘ کی پروفائل، لاطینی امریکہ میں منشیات کے سمگلروں کی پروفائل سے بہت مختلف ہے اور وہ اس ماڈل کے ذریعے برآمد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تحقیقات میں کولمبیا کے منشیات فروشوں کی ایک نئی لہر دکھائی دیتی ہے جو اپنے ملک کے ’اعلیٰ متوسط ​​طبقے میں گھل مل جاتے ہیں۔‘

’یہ رجحان میرے لیے قابل فہم ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سب کی نظروں سے بچ کر چلنا ایک حکمت عملی ہے اور امریکہ میں بھی ایسا ہی ہے۔‘

اس بارے میں جیسیس ایسویوئل کا کہنا ہے کہ ’مین ہیٹن میں منشیات فروش ہونا ہیوسٹن کے ایک غریب علاقے جیسا بالکل نہیں ہے اور اسی وجہ سے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھلنا پڑے گا۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ایسا نہیں ہے کہ وہ کسی دفتر میں بیٹھے ہیں یا منشیات کی نقل و حرکت کا ادارہ چلا رہے ہیں لیکن جہاں وہ رہ رہے ہیں ان کا ان جگہوں سے تعلق ہے۔‘

ایسکیوئل مزید کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ وہ اشتعال انگیزی نہیں دکھاتے اور لو پروفائل کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ اپنی طرف توجہ مبذول نہیں کروا سکتے کیونکہ وہاں بہت سخت قوانین ہیں اور اگر ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی پتہ چلا تو ان کا مال ضبط کر لیا جائے گا اور انھیں پیسوں کا بہت نقصان ہو گا۔

’وہ بہت احتیاط سے کام کرتے ہیں کیونکہ امریکہ میں وفاقی ایجنسیوں کے علاوہ پولیس کے بھی مختلف ادارے موجود ہیں۔‘

3- مکڑی کے جال جیسا دھوکہ

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ چین کا پہلا لنک تھوک فروش ہے جو کنٹرول شدہ مادہ خریدتا ہے جو لاطینی امریکہ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں سے آتا ہے۔

اس کے بعد گروپس اور خدمات فراہم کرنے والوں کا ایک نیٹ ورک ہے جو امریکہ میں نو ملین مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے تک پھیلا ہوا ہے۔

کم سے کم تخمینے کے مطابق اس ملک میں صرف کوکین ہی 100،000 ملین تک استعمال ہوتی ہے۔

ملک میں استعمال ہونے والے دوسری اشیا میں چرس (کچھ ریاستوں میں مختلف طریقوں کے تحت قانونی ہے)، میتھیمفیتامائنز، ہیروئن اور فینتانیل ہیں جن سے ہونے والی اموات کی سطح نے امریکی حکومت کو خوفزدہ کردیا ہے۔

جیسس ایسکیوئل نے بتایا کہ تھوک کے حساب سے خریدنے والوں کے بڑے شہروں میں موٹرسائیکل کلب موجود ہیں لہٰذا ان کا پتا لگانا مشکل ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ایک کارٹیل ٹن کوکین منتقل کرتا ہے لیکن امریکہ میں داخل ہونے کے بعد ہزاروں امریکی ہر ٹن کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے انچارج ہوتے ہیں۔ یہ مکڑی کے جال کی طرح ہے اسی وجہ سے یہ اتنا پیچیدہ ہے۔‘

اس کے لیے وہ چین سے امریکہ پہنچنے والی کیمیائی پیشرفتوں کی منتقلی کی مثال دیتے ہیں۔

’مطلوبہ مارکیٹ تک آنے سے پہلے منشیات مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ منشیات کی طلب کے لیے کوئی فاصلہ نہیں ہے۔‘

پروفیسر زولٹا بتاتے ہیں کہ اس مرحلے پر یہ گروہ حرکت میں آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’یہاں مخصوص درجہ بندی موجود ہے اور یہ یکساں نہیں ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ان میں معاشی صلاحیت، بدعنوانی اور رشوت ستانی کی گنجائش ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہیں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں کیریئر (جو امریکہ میں 40 لاکھ سے زیادہ ہیں) کے ذریعے صارفین تک پہنچنے کے لیے خوردہ تقسیم کنندگان سے معاہدہ کیا جاتا ہے۔

4- امریکہ میں میکسیکنز کا کردار

ڈی ای اے نے اپنی سنہ 2019 کی سالانہ رپورٹ ’منشیات کے خطرات کا قومی جائزہ‘ میں منشیات کے کاروبار سے منسلک مقامی ’مجرم اور گروہ‘ کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔

’وہ ریٹیل یا خوردہ سطح پر منشیات کی تقسیم اور نقل و حمل کے لیے امریکہ بھر میں مقامی جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ براہ راست تعاون کرتے ہیں۔‘

اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ اپنے ملک میں موجود بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کے میکسیکو سے تعلق رکھنے والے ممبران کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اپنے ملک میں موجود مقامی مافیا کو نظرانداز کرتا ہے۔

مثال کے طور پر ایجنسی نے رواں سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک ’سرنگ‘ کا پتا لگایا ہے جو میکسیکو کی سرحد سے شروع ہو کر جنوب مشرقی امریکہ کے سان ڈیاگو علاقے تک پہنچتی ہے۔

اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب پکڑے گئے سامان میں پانچ مختلف اقسام کی دوائیں شامل تھیں: کوکین، ہیروئن ، چرس، اور فینتینیل جس کی قیمت 29 ملین امریکی ڈالر ہے۔

حال ہی میں امریکی ایجنسی نے اعلان کیا کہ انھوں نے ’آٹھ بڑے میتھیمفیتیمین ٹرانسپورٹ مراکز کی نشاندہی کر لی ہےجن میں سے بیشتر جنوبی امریکہ میں ہیں۔‘

اہم بات یہ ہے کہ دونوں ہی معاملات میں ڈی ای اے نے عملی طور پر تمام ذمہ داری میکسیکو کے منشیات کے گروہوں پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مختلف گروپس کی صورت میں آپریٹ کرتے ہیں جن میں مخصوص افعال تفویض کیے جاتے ہیں، جیسے منشیات کی تقسیم یا نقل و حمل، استحکام، منشیات کی آمدنی یا منی لانڈرنگ وغیرہ۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ میں میکسیکن آپریشن عام طور پر سپلائی چین کی حیثیت سے کام کرتے ہیں: چین آپریٹرز اپنا مخصوص کردار جانتے ہیں لیکن آپریشن کے دوسرے پہلوؤں سے لاعلم ہیں۔‘

اس موضوع پر کئی ممالک میں تجزیہ کرنے والی تنظیم کرائسس گروپ، تنظیم کے چیف تفتیش کاروں میں سے ایک، فالکو ارنسٹ نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ حتمی خریدار تک پہنچنے کے سلسلے میں تمام روابط کو میکسیکن کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔

ماہرین نے زلیٹا اور ایسکیویل کی طرح تقسیم کے نظام کے اندر گروہوں، مقامی مافیاز اور موٹرسائیکل کلبوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔

ارنسٹ کے مطابق یہ ایک ’مخلوط ماڈل‘ ہے جس میں مختلف مراحل اور مقامات پر میکسیکن ہر سطح پر موجود ہیں۔

انھوں نے وضاحت کی کہ امریکہ میں میکسیکو کی مجرم تنظیموں کے نمائندوں کی موجودگی صرف سفیر بھیجنے تک ہی محدود نہیں ہے لیکن سرحد کے اس طرف سے کام کرنے والے کسی بھی اصلی مافیا کے سرغنہ کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔