ایکواڈور میں کورونا کی وبا کا آغاز مارچ کے آخر میں شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے مختلف شہروں کے تمام ہسپتال اور نجی کلینک متاثرین سے بھر گئے۔

ایکواڈور کے شہر گیاکیول میں حالات بہت بگڑ گئے اور شہر کے تمام ہسپتال، مردہ خانے اور قبرستان مریضوں اور لاشوں سے بھر گئے اور کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں سڑکوں پر رکھی جانے لگی تاکہ ان کے لواحقین انھیں اٹھا کر لے جائیں۔

اس پریشان کُن صورتحال میں ہپستالوں میں ایسی درجنوں لاشوں کے انبار کنٹینروں میں رکھے گئے جن کی بروقت شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ جبکہ لوگ اپنے پیاروں کی میتوں کی تلاش میں اِدھر سے اُدھر مارے مارے پھرتے رہے۔

ملک میں اس وبا کے باعث صحت کے بحران کو پیدا ہوئے تقریباً چار ماہ گزر چکے ہیں اور رواں ہفتے پولیس اور جرائم کی تفتیش کرنے والی لیبارٹریوں نے خراب ہو جانے والی میتیوں کی شناخت کا عمل مکمل کر کے پچاس میتیں لواحقین کے حوالے کی ہیں۔

جمعرات تک شہر کے مختلف سرد خانوں میں اب بھی ایک سو کے قریب ایسی لاشیں موجود تھی جو گل سڑ جانے کے باعث ناقابل شناخت تھیں اور ڈی این اے کی ذریعے ان کی شناخت کا عمل ابھی باقی تھا۔

تام اب تک کورونا کے باعث ہلاک ہونے کی بعد لاپتہ ہونے والی لاشوں کی صیحیح تعداد کا علم بھی اب تک نہیں ہو سکا ہے۔

ایسی ہی ایک میت فیلکس مرچن کی ہے۔ ان کی اہلیہ سلویا گزمن نے ان کی میت کے لیے بہت دیر تک تلاش کی جب تک کہ وہ انھیں مل نہیں گئی۔ سلویا اس تمام اذیت ناک وقت اور کرب کی داستان کچھ یوں سناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امیر لوگ گھروں میں ہی ’منی آئی سی یو‘ کا انتظام کروا رہے ہیں

کووڈ-19: وہ خاتون جو انڈیا میں ’کورونا کی آواز بنی‘

انڈیا: کورونا وائرس کے مریضوں کو زندہ رکھنے کی جدوجہد

وہ ٹھیک تھے اور پھر اچانک ان کی طبعیت خراب ہو گئی۔ اس رات تین بجے کا وقت تھا جب انھوں نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔

میں انھیں اہلخانہ کے دیگر افراد کے ساتھ شہر کے ایک ایک ہسپتال اور نجی کلینک لے کر پھرتی رہی لیکن کوئی بھی انھیں ہسپتال میں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کیونکہ وہاں پہلے ہی کورونا کے متاثرین کی اتنی زیادہ تعداد تھی کہ تمام ہسپتال اور نجی کلینک کورونا کے مریضوں سے بھر چکے تھے۔

ہسپتال والوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے پاس آکسیجن موجود نہیں ہے اور وہ کسی بھی طرح میرے شوہر کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

آخر کار ساری رات ایک ہپستال سے دوسرے ہسپتال مارے مارے پھرنے کے بعد ہم صبح کے نو بجے کے قریب گیوسموسر ہپستال پہنچے جنھوں نے میرے شوہر کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا لیکن انھیں وہاں ویل چئیر پر ہی بٹھایا گیا کیونکہ ہسپتال میں کوئی بستر خالی نہیں تھا۔

وہاں ہر طرف مریض ہی مریض تھے، ایسا لگتا تھا جیسے جنگ لگی ہو، لیکن ہتھیار کے بنا جنگ ایک بیالوجیکل یا حیاتیاتی جنگ۔

میرے شوہر کا سانس اکھڑ رہا تھا، آخری بات جو انھوں نے مجھ سے کہی وہ یہ تھی کہ ’میں اس سے باہر نہیں نکل پا رہا تھا، میں شاید زندہ نہ بچو میں چاہتا ہوں کہ تم اپنا خیال رکھنا اور یاد رکھنا میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں۔` اور پھر وہ بے ہوش ہو گئے۔ انھوں نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا۔

یہ یکم اپریل صبح دس بجے کا وقت تھا۔ یہ میرے لیے بہت مشکل وقت تھا میں انھیں اپنے سامنے مرتا دیکھ رہی تھی اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے آہستہ آہستہ ان کی زندگی کو ہاتھ سے چھوٹتے دیکھا تھا۔

ڈاکٹروں نے زبردستی مجھے ان کی لاش سے ہٹایا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ میرے شوہر کے جسم سے بہت زیادہ وائرس مجھ پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مجھے کہا کہ میں ہپستال کی کاغذی کارروائی مکمل کر کے اپنے شوہر کی لاش لینے واپس آجاؤں۔

جب اگلی صبح میں اپنے شوہر کی لاش لینے ہپستال پہنچی تو وہ اسے گما چکے تھے۔ ہپستال کے گارڈ نے مجھے بتایا کہ میں اپنے شوہر کی میت ہسپتال کے مردہ خانے میں جا کر تلاش کروں۔

وہاں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں، انھیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ انھوں نے میرے شوہر کی میت کہاں رکھی تھی۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے میں واکنگ ڈیڈ دیکھ رہی ہوں۔ وہاں لاشیں فرش پر پڑیں تھی، وہ بہت خوفزدہ کرنے والا منظر تھا۔ انھوں نے بعض لاشوں کو کنٹینرز میں بند کر کے رکھا تھا جن میں ریفریجریٹرز بھی نہیں لگے تھے۔

ان میں ان تمام افراد کی لاشیں تھی جو کورونا کے باعث گھروں میں مرے تھے یا جنھوں نے سڑکوں پر دم توڑا تھا۔

پھر وہ ان کنٹینروں سے 80 لاشیں نکال کر مردہ خانے میں رکھ دیتے تھے تاکہ ان کے لواحقین ان میتیوں کی شناخت کر کے اپنے ساتھ لے جا سکیں۔ اگر آپ کو ان کنٹینرز کے اندر جانا ہوتا تو آپ کو گارڈ کو ایک سو سے تین سو ڈالرز تک دینے پڑتے تھے تاکہ وہ آپ کو اندر جانے کی اجازت دے۔

وہ لوگ جو ان کنٹینرز میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے تھے انھیں وہاں بوریوں میں بند کی گئی لاشوں کو دیکھنے کے لیے ایک ایک بوری کو خود ہی کھولنا پڑتا تاکہ وہ اپنے پیاروں کی میتں کی شناخت کر سکیں۔

وہاں کوئی نظام نہیں تھا، انھوں نے کسی بھی لاش کو کسی ترتیب سے نہیں رکھا ہوا تھا، نہ ان کی شناخت کے لیے کوئی نام یا معلومات کسی میت کے ساتھ لگائی کوئی تھی۔ وہاں کسی پروٹوکول اور ضابطہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔

وہاں تو حتیٰ کہ ایک ایسا کیس بھی سامنے آیا کہ ایک مریضہ جو زندہ تھی اور اس کے لواحقین کو اس کے مردہ ہونے کا بتا کر کسی اور شخص کی لاش کی راکھ تھما دی گئی تھی۔

وہاں مکمل تباہی اور افراتفری تھی۔ لوگوں گلی سڑی بند لاشوں کے بیگز کھولتے تھے اور اپنے پیاروں کی شناخت کی کوشش کرتے تھے۔ اگر ہپستال انتظامیہ چاہتی تو وہ ان لاشوں کو نام کے ساتھ رکھ سکتے تھے تاکہ شناخت کا عمل آسان ہو سکے لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

میں ہر روز وہاں جاتی لیکن مجھے کبھی بھی اپنے شوہر کی میت نہیں ملی۔ میں مسلسل آٹھ دن تک ہسپتال کے مردہ خانے جاتی رہی حتیٰ کہ انھوں نے یہ کہہ دیا کہ اب وہ مزید میتیں ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔ کیونکہ حکومت نے ان تمام میتیں کو اجتماعی تدفین کے لیے پاسکیول کے مقدس مقام پر دفنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

میں بہت افسردہ تھی کیونکہ میں اپنے شوہر کو ایک آخری بار خدا حافظ کہنے کے لیے تلاش کرنا چاہتی تھی۔ انتظامیہ نے مجھے بتایا کہ مجھے ایک ویب سائٹ پر جا کر یہ معلومات حاصل کرنا ہوں گی کہ میرے شوہر کو کس قبرستان دفن کیا جا رہا ہے۔

میں تین ہفتوں تک اپنے شوہر کے نام کو اس ویب سائٹ پر تلاش کیا مگر وہ کبھی اس پر آیا ہی نہیں تھا۔ لہذا ہم نے ہسپتال انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک وکیل سے رابطہ کیا اور دیگر خاندانوں کے افراد کے ساتھ سڑکوں پر دھرنا دینا شروع کر دیا۔

میرے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ ہوتا تھا جس پر میرے شوہر کا نام، تصویر اور وہ کہاں لاپتہ ہوئے تھے درج تھا۔ ہم تقریباً دو سو افراد تھے، وہاں کچھ اور بھی گروہ تھے لیکن مجھے یہ علم نہیں کہ کتنے افراد کے عزیزوں کی لاشیں لاپتہ تھیں۔

ہم نے ہسپتال، مردہ خانے، قبرستان پر جگہ چھان ماری لیکن ہمیں کوئی جواب نہ ملا اور جب میرے شوہر کے متعلق کوئی معلومات سامنے نہ آئی تو مجھے خیال آیا کہ شاید وہ زندہ ہو سکتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ شاید وہ بے ہوشی سے جاگ گئے ہوں اور وہ ہسپتال میں ہی زیر علاج ہو اور انھیں میری یاد ہی نہ ہوں، حالانکہ میں نے خود اپنے سامنے انھیں دم توڑتے دیکھا تھا۔ پھر بھی کہیں مجھے یہ امید تھی کہ شاید میں انھیں زندہ تلاش کر لوں۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ کیا پتہ ان کی میت کسی اور کو دے دی گئی ہوں اور انھوں نے اسے دفن کر دیا ہو۔

میں سوچتی رہی کہ میں اپنے شوہر کے بچوں کو کیا جواب دوں گی کیونکہ وہ میرے ساتھ رہتے تھے اور مجھ پر ان کی ذمہ داری تھی۔ میں روزانہ خدا سے یہ دعا کرتی کہ مجھے میرے شوہر کی تلاش کے متعلق ایک اشارہ دے، 'میری مدد کرے کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ اب میں اور کیا کروں۔'

میں نے امید کبھی نہیں چھوڑی، میں نے خود سے کہا کہ 'میں ان کی تلاش کرنا کبھی ختم نہیں کروں گی۔' میں نے سوچا کہ انھیں مجھے میرے شوہر کی میت دینی ہی پڑے گی کیونکہ وہ کوئی بھی نہیں تھا، وہ میرا شوہر تھا۔

میں چاہتی تھی ایک دن ہسپتال کا اہلکار مجھے بتایاکہ 'یہ لیں آپ کے شوہر کی میت۔'

مئی میں ملک میں کسی دوسرے ملک سے فرانزک ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آئی تھی، مجھے یہ یاد نہیں کہ کس ملک سے آئی تھی مگر ان کا کام ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت کرنا تھا۔ میں نے انھیں اپنے شوہر کے جسمانی اور ظاہری خدوخال کہ ان کے بال کیسے تھے، ان کی ناک کیسے تھی، ان کے دانت کیسے تھے وغیرہ کی تمام تفصیلات فراہم کیں۔

میں ان کے پاس وہ تصویر بھی لے کر گئی جس میں میرے شوہر نے وہ ہی کپڑے پہنے تھے جو انھوں نے ہسپتال میں اپنی موت کے وقت پہن رکھے تھے۔ ایک شخص جو وہاں کام کرتا تھا اس نے مجھے بتایا کہ جون کے شروع میں انتظامیہ نے لاشوں سے بھرے کنٹینر ہسپتال سے جوڈیشل پولیس کے حوالے کیے ہیں تاکہ ان کی شناخت کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

دن گزرتے گئے، میں انھیں کال کرتی تو وہ کہتے کہ وہ میرے شوہر کی لاش کو تلاش کر رہے ہیں۔ایسی میتیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی تھی ان کی شناخت کے عمل کے لیے پہلے انگلیوں کے نشانات، پھر ظاہری خدوخال اور آخر میں ڈی این اے کا سہارا لیا گیا۔

آخر کار ایک دن ڈاکٹر نے مجھے کال کی اور کہا کہ' مسز سلویا ہم نے آپ کی شوہر کی میت تلاش کر لی ہے۔'

وہ 23 جون کا دن تھا، میں نے یہ سن کر زور زور سے رونا شروع کر دیا، اہلکار نے مجھے بتایا کہ میں اگلے دن دوپہر دو بجے اپنے شوہر کی میت شناخت کرنے آ جاؤں۔ اگلے دن میں اپنے دیور کے ساتھ شناخت کے لیے گئی تو اہلکار نے ہمیں میت کی چند تصاویر دکھائیں۔ یہ میرے شوہر کی میت تھی، یہ وہ ہی تھے۔

ان کے چہرے کے کچھ حصے قابل شناخت تھے، ان کے بائیں بازو پر ایک ٹیٹو بھی تھا، میں نے انھیں شناخت کر لیا تھا۔

حالانکہ ان کے جسم کے کچھ حصے گل سڑ چکے اور ٹوٹ چکے تھے۔ لیکن مجھے کوئی شک نہیں تھا کہ وہ میرے ہی شوہر ہیں۔ ان کے جسم کے کچھ حصے اب بھی موجود تھے حالانکہ ان کے لاش گل سڑ چکی تھی۔

یہ ان ہی کا ماتھا، ناک، ہاتھ پاؤں تھے۔ مجھے اس وقت بہت خوشی محسوس ہوئی اور میں نے کہا، 'آخر کار میں نے تمھیں ڈھونڈ ہی لیا۔' لیکن جب میں گھر واپس آئی تو میں بیمار ہو گئی، اس نے مجھے بہت دکھ دیا، میں نے سوچا زندگی بہت زیادتی کرتی ہیں، میں پانچ دن تک گھر سے باہر نہیں جانا چاہتی تھی۔

میں نے سوچا کہ میرے شوہر ہمیشہ سے ڈئل گیاسمو ہسپتال کے مردہ خانے کی کنٹینر میں تھے لیکن کسی نے بھی ہماری مدد نہیں کرنا چاہا۔ میں روئی اور خدا سے پوچھا کہ 'ایسا کیوں؟' میرا شوہر ایک اچھا انسان تھا، اس نے مجھے اور میں نے اسے ہمیشہ بہت پیار کیا۔‘

جس دن میں ان کی میت کی شناخت کرنے گئی وہ دن میرے لیے بہت مشکل تھا۔ ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ان کی میت کو ایک کالے رنگ کے بیگ میں رکھا گیا ہے جس پر ایک کاغذ لگا ہوا ہے اور اس پر کسی اور کا نام لکھا تھا۔

ایک ہفتہ قبل مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ میں وہاں جا کر خود ان کی میت تلاش کر سکتی ہوں۔ اب وہ مجھے میرے شوہر کی میت کو پیک کر کے دیں گے اور میں انھیں اینجل ماریہ کے مقامی قبرستان میں دفناؤں گی۔ وہ میری زندگی کا سب سے افسردہ دن ہو گا۔

سلویا گزمین کی جانب سے بی بی سی منڈو کو یہ کہانی بتائے جانے کے بعد 16 جولائی کو ان کے شوہر کی میت ان کے حوالے کر دی گئی اور انھوں نے اسے ایکواڈور کے شہر گیاکوئل کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا ہے۔