پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو نیو یارک میں مردہ پائے جانے والے معروف ٹیک کاروباری فہیم صالح کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

33 سالہ فہیم صالح کی لاش اس کے مین ہٹن اپارٹمنٹ میں ٹکڑے ٹکڑے حالت میں ملی تھی۔

ان کے 21 سالہ ایگزیکٹو اسسٹنٹ ٹائریس ہاسپل کو سیکنڈ ڈگری قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پر مسٹر فہیم صالح سے دسیوں ہزار ڈالر کا مبینہ قرض لینے کا الزام ہے۔

فہیم صالح نائجیریا اور بنگلہ دیش میں مقبول سواری شیئر کرنے والی کمپنیوں کے قیام میں اپنے کردار کے لیے شہرت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ:وفاقی سطح پر 17 برس میں پہلی سزائے موت

قتل بڑا مسئلہ یا اس کے خلاف احتجاج، امریکہ میں بحث

مسلمان خواتین کو دھمکانے سے روکنے پر دو افراد قتل

مسٹر ہاسپیل پر الزام ہے کہ انھوں نے صالح پر ٹیزر استعمال کیا تھا اور پھر انھیں کو چاقو مار مار کر ہلاک کر دیا۔

نیویارک پولیس محکمے کے سربراہ ڈیٹکٹو روڈنی ہیریسن نے جمعے کو ملزم کی گرفتاری کے بعد میڈیا کو بتایا کہ '(ملزم مسٹر صالح کے) مالی اور ذاتی معاملات کو دیکھتا تھا۔

'یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مرنے والے شخص کا بہت مقروض تھا۔'

پولیس سربراہ ہیریسن نے بتایا کہ صالح کی لاش ان کے چچا زاد بھائی کو ملی تھی جو منگل کی سہ پہر ان کو تلاش کرنے پہنچے تھے کیونکہ وہ کئی دنوں سے نظر نہیں آئے تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں مسٹر صالح رہتے تھے اس عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں انھیں پیر کے روز ایک ماسک پہنے شخص کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوتے دکھایا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ ان کی لاش کو قریب میں رکھی ہوئی ایک برقی آری کی وجہ سے دریافت کیا گیا۔

فہیم صالح کون تھے؟

33 سالہ فہیم صالح ایک بنگلہ دیشی تارکین وطن کے بیٹے تھے اور وہ ابھی جب ہائی اسکول میں ہی پڑھتے تھے جب انھوں نے اپنی پہلی کمپنی بنائی تھی۔

اس کے بعد انھوں نے سنہ 2015 میں بنگلہ دیش اور نیپال میں مقبول سواری شیئرنگ کمپنی پٹھاؤ کو مشترکہ طور پر قائم کیا۔

ابھی حال ہی میں انھوں نے نائجیریا میں موٹرسائیکل ٹیکسی ایپ گوکاڈا کے قیام میں تعاون کیا۔ لیکن لاگوس میں حکام نے جب رواں سال کے شروع میں موٹرسائیکل ٹیکسیوں پر پابندی عائد کردیا تو اس کے بعد کمپنی کو دھچکہ لگا۔

دونوں کمپنیوں نے اس کاروباری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

گوکاڈا نے اپنی ٹویٹ میں صالح کو اپنے لیے 'ایک عظیم رہنما، تحریک دینے والے اور مثبت روشنی والے' قرار دیا ہے۔

صالح کے ساتھ پٹھاؤ کی مشترکہ بنیاد رکھنے والے حسین ایم ایلیوس نے بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کو بتایا: 'فہیم بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک میں لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے ٹیکنالوجی کے امکانات پر یقین رکھتے تھے۔

انھوں نے ہم میں ایک عہد دیکھا جب ہمارے پاس محض مشترکہ مقصد اور مشترکہ نظریہ تھا۔ وہ پٹھاو اور ہمارے پورے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک ناقابل یقین ترغیب تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔'