ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایشیا کے سمندروں میں قزاقی کے واقعات دگنے ہو جانے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں قزاقی کے پچاس واقعات ہوئے جبکہ گزشتہ برس یعنی سنہ 2019 کے پہلے چھ مہینے صرف 25 واقعات ہوئے تھے۔

آبنائے سنگاپور میں جو دنیا کی مصروف ترین تجاری آبی گزر گاہ ہے اور جہاز رانی کا مقبول سمندر راستہ ہے وہاں اس سال جنوری سے جون کے درمیان قزاقی کی 16 وارداتیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے

قزاقی اور دنیا کے خطرناک ترین سمندر

ستر دن قزاقوں کی قید میں رہنے والا بحری عملہ کیسے آزاد ہوا؟

26 یرغمالی پانچ سال بعد صومالی قزاقوں کی قید سے رہا

ان وارداتوں میں اضافہ کی بڑی وجہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی صورت حال ہے۔

یہ تفصیلات سمندری قزاقی اور سمندری جہازوں کے خلاف مسلح ڈکیتیوں کے بارے میں عالی تنظم ریجنل کاپوریشن ایگریمنٹ کی ششماہی رپورٹ میں شائع کی گئیں ہیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش، انڈیا، انڈونیشیا، فلپائن، ویتنام اور بحیرہ جنوبی چین میں بھی ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

مسلح ڈکیتی اور جہازوں کو لوٹنے کے ایسے واقعات کو قزاقی قرار دیا جاتا ہے جو کسی بھی ریاست یا ملک کی حدود سے باہر پیش آئیں۔

قزاقی کا سدباب کرنے والے ادارے کے سربراہ کا مصافومی کروکی کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹی چھوٹی وارداتوں کا سدِباب نہ کیا جائے تو اس سے جرائم پیشہ عناصر کو بڑی وارداتیں کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹینسی کے سمندری قزاقی کے ماہر برینڈن پرن کا کہنا ہے مسلح چوری زیادہ تر موقع ملنے سے ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کبھی کبھی قزاقی کے ان واقعات میں مقامی ماہی گیر ملوث ہوتے ہیں تاکہ وہ اضافی آمدن حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا میں کئی خطوں میں بے روزگار نوجوان کام کی تلاش میں انڈونیشیا کے علاقہ بٹم پہنچ جاتے ہیں۔

موقع پرستی کی قزاقی خشکی پر ہونے والی چوریوں کی طرح ہوتی ہے کہ آپ کوئی موقع دیکھتے اور ایک کوشش کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ تین سے آٹھ افراد چاقوں اور دیگر اسلحہ لے کر کسی چھوٹی سے کشتی میں سوار ہو کر بڑے جہازوں کے قریب آ کر اس پر چھڑ جاتے ہیں تاکہ ان کے ہاتھ جو کچھ لگے وہ لے کر فرار ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ چیزیں جو چرائی جاتی ہیں ان میں لوہے یا سٹیل کی اشیا، انجن کے پرزے، مواصلات کے آلے اور دیگر اشیا جو جہازوں کو عشرے پر رکھی ہوتی ہے جن میں عملے کی ذاتی اشیا بھی شامل ہیں اور جنہیں بلیک مارکیٹ میں آسانی سے فروخت کیا جا سکتا ہے۔

مستقبل کے بارے میں خطرات

مسٹر پرنز کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے دوران صورت حال سے تنگ آ کر مزید لوگ سمندر میں جرائم کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خطرہ ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے عالمی تجاری میں کمی واقع ہو گی، غربت ور بے روزگاری بڑھے گی اور اس سے سمندری قزاقی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تشویش اپنی جگہ موجود ہے کہ تجارت میں کمی کی وجہ سے کم لوگ بحری جہازوں پر موجود ہوں گے اور عملے میں نگرانی کرنے والا عملہ بھی کم ہو گا جس سے مسلحہ وارداتوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ایشیا میں گو یہ اغوا کی وارداتیں خال خال ہی ہوتی ہیں لیکن ریکیپ کی رپورٹ میں اس سال جنوری میں ملایشیا میں پیش آنے والی واردات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

اس واردات میں عملے میں پانچ افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا جو ابھی تک بازیاب نہیں کرائے جا سکیں ہیں۔

عالمی سطح پر بھی پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی میری ٹائم بیورو کے مطابق اس جنوری سے اب تک بحری جہازوں پر کام کرنے والے 77 افراد کو تاوان کے لیے اغوا کیا جا چکا ہے۔

مغربی افریقہ کے خطے خلیج گنی اس حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک جگہ ہے جہاں اغوا بارئے تاوان کی نوے فیصد وارداتیں ہوتی ہیں۔.