گہرے سمندروں کی پراسرار دنیا۔ ان گہرائیوں میں پائی جانے والی سیاہ مچھلی کس طرح اس قدر کالے رنگ کی ہے، گہرے سمندروں کا یہ راز ایک ایسی تصویر، جو پیشہ وارانہ فوٹو گرافی کے اعتبار سے کوئی معیاری تصویر نہیں تھی اس سے شروع ہونے والی تحقیق نے آشکار کر دیا ہے۔

امریکی ادارے سمتھ سونین انسٹی ٹیوشن کی ڈاکٹر کیرن اوسبرون کہتی ہیں ’میں اس سے بہتر تصویر نہیں لے سکتی تھی، مچھلی کا صرف ہیولہ نظر آ رہا تھا۔‘

اس مچھلی پر ان کی تفصیلی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سیاہ ترین مچھلی اس لیے اتنی کالی ہے کہ اس کی کھال روشنی کو جذب کر لیتی ہے۔

روشنی کو جذب کرنے کی اس صلاحیت کی وجہ سےاس مچھلی کی تصویر بنانا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور سمندری مخلوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے یہ اوجھل ہو جاتی ہے اور نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیے

مچھلیوں کی ’بے حرمتی‘ پر پارک بند

نئی مخلوط النسل مچھلی جاپانیوں کے لیے دردِ سر

وہ مچھلی جس نے پاکستانی ماہی گیروں کو لکھ پتی بنا دیا

ڈاکٹر اوسبرون کا کہنا ہے گہرے سمندروں میں شکاری مچھلیوں سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی لہذا اس کا گہرا سیاہ رنگ اس کو نظر نہ آنے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق گہرے سیاہ رنگ کی دیگر کئی مخلوقات نے بالکل اس مچھلی کی طرح کی صلاحیت پیدا کر لی ہے۔

واشنگٹن میں سمتھ سونین نیشنل میوزیم کے نیچرل ہسٹری کے شعبے کی ڈاکٹر اوسبورن کہتی ہیں کہ اس مچھلی کی کھال کے رنگ کے ذرات کا حجم، ہیت اور ترتیب روشنی کو اس طرح پھیلا دیتے ہیں کہ وہ منعکس نہیں ہوتی اور اس کو نظر نہ آنے میں مدد دیتی ہے۔

کالے رنگ کے ذرات اس کی پتلی سے کھال میں کافی گھنے ہونے کی وجہ سے روشنی کو منعکس کرنے کے بجائِے کھال کے اندر پھیلا دیتے ہیں اور روشنی ان میں پھنس کر گم ہو جاتی ہے اور باہر نہیں نکلتی۔

اس مچھلی کی گہرے سمندروں میں اچھی اور معیاری تصویر بنانے میں ناکامی نے ڈاکٹر اوسبرون کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ اس پر اپنے ساتھیوں سمیت مزید تحقیق کریں اور اس کو مائیکروسکوپ کے ذریعے دیکھا جائے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مچھلی کی جو بھی تصویر انھوں نے بنائی وہ اتنی بری تھی کہ انھیں مایوسی ہونے لگی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے اس مچھلی کی کھال میں ایک انوکھی چیز نوٹس کی۔ یہ اتنی سیاہ اس لیے ہے کہ یہ تمام روشنی جذب کر لیتی ہے۔‘

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس مچھلی کے روشنی جذب کرنے کی بہترین صلاحیت کا اظہار گہرائیوں میں نظر آتا ہے جہاں گھپ اندھیرا ہوتا ہے اور شکاری مچھلیوں سمیت دوسری مچھلیاں بھی ہوتی ہیں۔۔ سب مچھلیاں مل کر وہاں خود اپنی روشنی پیدا کرتی ہیں۔

ڈاکٹر اوسبورن کہتی ہیں ’آپ کو پتا نہیں چلتا کہ یہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے۔۔ گہرے سمندر میں رہنا فٹ بال کے میدانوں میں چھپنے اور ڈھونڈنے کے جیسا ہے۔۔۔ وہاں شکاریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ جتنا ہو سکے گہرائی میں خاموشی سے رہیں۔‘

لیکن انتہائی سیاہ ہونے کی وجہ سے یہ مچھلیاں شکار ہونے سے بچ جاتی ہیں۔

گہرے سمندروں میں دو سو زیادہ میٹر کی گہرائی میں پائی جانے والی اس مچھلی کی معیاری تصویر بنانے کی کوششیں آخر کار باور ثابت ہوئیں۔

ڈاکٹر اوسبروں نے بتایا کہ اس کے لیے خصوصی لائٹ اور فوٹو شاپ کی ضرورت پڑی۔