برٹش ایئر ویز نے فضائی سفر میں انتہائی کمی کی وجہ سے اپنے تمام بوئنگ 747 طیاروں کا استعمال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس برطانوی فضائی کمپنی کے پاس 31 بوئنگ 747 ہیں جو دنیا میں کسی بھی ایئر لائن کے پاس ان مسافر بردار طیاروں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

برٹش ایئر ویز کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم بوئنگ 747 کے اپنے پورے بیڑے کا استعمال ختم کر رہے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: عالمی معیشت کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟

’بوئنگ 737 میکس مسخروں نے ڈیزائن کیا‘

طیاروں میں دراڑیں پڑنے پر معائنے کا حکم

کورونا وائرس سے متعلق سفری پابندیوں کے باعث دنیا بھر میں فضائی کمپنیوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 'کووڈ 19 کی عالمی وباء کے باعث فضائی سفر میں جو کمی ہوئی ہے اس کی وجہ سے بہت مشکل ہے کہ ہمارے یہ شاندار اور 'آسمانوں کی ملکہ' کہے جانے والے طیارے دوبارہ کبھی برٹش ایئر ویز کی کمرشل سروس کا حصہ بنیں گے۔'

برٹش ایئر ویز انٹرنیشنل ایئر لائنز گروپ (آئی اے جی) کی ملکیت ہے۔ آئی اے جی نے کہا ہے کہ ان طیاروں کا استعمال فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ برٹش ایئر ویز کے مسافر بردار طیاروں کے بیڑے میں بوئنگ 747 کی تعداد 10 فیصد ہے۔

- بوئنگ 747 کی پہلی پرواز فروری سنہ 1969 میں ہوئی تھی۔

- یہ پہلا طیارہ تھا جسے جمبو جیٹ کا نام دیا گیا۔

- برٹش ایئر ویز کی پیشرو کمپنی برٹش اوورسیز ایئرویز کوآپریشن (بی او اے سی) نے 747 کی پہلی پرواز سنہ 1971 میں لندن سے نیویارک کے لیے چلائی تھی۔

- تجارتی بنیادوں پر استعمال ہونے والا یہ تیز ترین طیارہ تھا جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 650 میل فی گھنٹہ تھی۔

- گزشتہ 50 برسوں میں ساڑھے تین ارب مسافروں نے ان طیاروں میں سفر کیا۔

- سنہ 1989 میں یہ پہلا طیارہ تھا جس نے لندن سے سڈنی براہ راست پرواز کی۔

آئی اے جی نے ان طیاروں کا استعمال سنہ 2024 میں ختم کرنا تھا لیکن موجودہ صورتحال کی وجہ سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے۔

فضائی سفر سے متعلق اعدا و شمار جمع کرنے والی فرم سیریئم کے مطابق اس وقت 500 کے لگ بھگ بوئنگ 747 اب بھی زیرِ استعمال ہیں جن میں سے 30 طیارے باقاعدگی سے مسافر پروازوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 300 سے زیادہ مال برداری یا کارگو فلائٹس کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جبکہ باقی ممکنہ استعمال کے لیے گوداموں میں ہیں۔

ایک سہولت جو برٹش ایئر ویز کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے

بی بی سی کے کاروباری امور کے نامہ نگار تھیو لیگِٹ کا تجزیہ:

بوئنگ 747 خوبصورت اور باقی طیاروں سے مختلف ہے۔ اِس طیارے کے پاس آدھی صدی طویل باکمال سروس کی تاریخ ہے لیکن کم از کم ایک مسافر بردار طیارے کی حیثیت سے یہ پرانا ہو چکا ہے۔

اس چار انجنوں والا طیارے کی کارکردگی دو انجنوں والے جدید طیاروں ایئر بس اے 350 یا ڈریم لائینر 787 اور یہاں تک کے بوئنگ 777 جیسے قدرے پرانے ماڈل کے مقابلے میں بھی بہت کم ہے۔ ان سب طیاروں کی پروازیں سستی ہیں۔

کووڈ 19 کا بحران شروع ہونے سے پہلے ہی نوشتۂ دیوار نظر آ رہا تھا۔ ایئر فرانس، ڈیلٹا اور یونائیٹڈ جیسی فضائی کمپنیاں پہلے ہی ان طیاروں کا استعمال روک چکی تھیں۔

برٹش ایئر ویز نے مزید کچھ سال انھیں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن موجودہ بحران کا مطلب ہے کہ مستقبل میں مسافروں اور طیاروں کی تعداد کم ہو گی۔ اس لیے اخراجات کو کم کرنا بہت اہم ہو گا۔

لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آسمانوں کی ملکہ ایک ضرورت نہیں بلکہ عیاشی ہے جو مالی طور پر برداشت کے قابل نہیں رہی۔

برٹش ایئر ویز کے پیشرو کمپنی بی او اے سی نے سنہ 70 کی دہائی میں بوئنگ 747 کی پر وازیں شروع کی تھیں۔ اس وقت برٹش ایئر ویز اس طیارے کا 400-747 ماڈل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماڈل کے سب سے زیادہ طیارے یہی ایئر لائن استعمال کر رہی ہے۔ ایئر لائن نے ان طیاروں کی پہلی کھیپ سنہ 1989 میں حاصل کی تھی۔ اس کے اوپر کے حصے میں ایک لاؤنچ ہے جو 'آسمان میں کلب' کہلاتا ہے۔

برٹش ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وہ اب ایئر بس اے 350 اور بوئنگ 787 ڈرین لائنر جیسے جدید طیارے زیادہ استعمال کرے گی جن میں کم ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ ایئر لائن کو توقع ہے کہ اس طرح ہوا میں کاربن کے اخراج سے متعلق سنہ 2050 کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

بوئنگ 747 کی وجہ سے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر لوگوں کو فضائی سفر تک رسائی میں مدد ملی۔ اس طیارے کی پرواز کی 50 ویں سالگرہ فروری 2019 میں منائی گئی تھی۔

کورونا وائرس کی وباء سے پیدا ہونے والی صورتحال سے دنیا بھر میں ایئر لائنز اور طیارے بنانے اور سپلائی کرنے والی کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں اور اپنے اخراجات کم کرنے کے اقدامت کر رہی ہیں۔

برٹش ایئر ویز میں پائلٹس، کیبن کا عملہ، انجینیئرز اور گروانڈ پر کام کرنے والے عملے سمیت 12 ہزار ملازمین کی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں کیونکہ ایئر لائن کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں اپنے اخراجات کم کر رہی ہے۔

ریٹائر کیے جانے والے طیاروں کا کیا ہو گا؟

سپیشلسٹ کمپنیاں اس بات کا جائزہ لیں گی کہ ان ہوائی جہازوں کو بچا لیا جائے یا توڑ پھوڑ دیا جائے۔ ایسے ہوائی جہازوں کو توڑ کر ان کے پرزے ری سائکلنگ کے لیے بیچ دیے جاتے ہیں۔ ایسے جہازوں کی سب سے قیمتی چیز ان کے انجن ہوتے ہیں۔ ایسے کئی جہازوں کے قیمتی اندرونی حصے کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ بعض مرتبہ ان پرانے جہازوں کو ہوٹل، ریستوران اور سیاحوں کی دلچسپی والی چیزوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

جبکہ ایسے کچھ جہازوں سے تمام قیمتی اشیاء نکال کر انھیں صحرا میں جہازوں کے شہرِ خموشاں میں زنگ لگنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔