دنیا بھر میں لاکھوں افراد شدید گرمی میں رہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ہیٹ سٹریس یا گرمی کے دباؤ کی اس خطرناک حالت میں انسانی عضو کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میں اکثر افراد ایسی نوکریاں کرتے ہیں جن کے دوران انھیں ایسے حالات میں کام کرنا پڑتا ہے جو ان کی جان بھی لے سکتے ہیں۔

اس میں کھیتوں میں یا کھلے آسمان تلے کام کرنا، دفاتر، فیکٹریوں اور ہسپتالوں کے اندر رہنا شامل ہیں۔

موسم گرما کے دوران گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ ’انسانوں کے لیے کام کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘ جب ہم نے ڈاکٹر جِمی لی سے بات کی تو ان کی عینک بھاپ سے دھندلی ہو چکی تھی اور ان کی گردن سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔

وہ ہنگامی صورتحال میں طبی عملے کا حصہ ہوتے ہیں اور اس وقت سنگاپور کی گرمی میں کووڈ 19 کے مریضوں کا دھیان رکھنے میں مصروف ہیں۔

ہسپتالوں میں ایئرکنڈیشنر نہیں ہیں اور اس کا فیصلہ خود کیا گیا ہے تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کا احساس کیا ہے کہ وہ آپس میں چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے پہلے کی نسبت زیادہ تلخ کلامی کرنے لگتے ہیں۔

انھوں نے حفاظتی لباس پہنا ہوتا ہے تاکہ انفیکشن کو روکا جائے لیکن یہ پلاسٹک کی کئی تہوں کی وجہ سے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواب شاہ میں گرمی کا عالمی ریکارڈ کیسے بنا؟

کراچی میں گرمی کا علاج صرف ’درخت لگاؤ‘ مہم؟

یورپ میں گرمی کی لہر، جون میں ریکارڈ درجہ حرارت

پاکستان میں حالیہ خشک و شدید گرمی ہیٹ ویو یا کچھ اور؟

ڈاکٹر لی کے مطابق ’جب آپ یہ پہن کر اندر جاتے ہیں تو آپ کو فوراً اس کا احساس ہوتا ہے۔ یہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ آپ کے حوصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایک خطرہ یہ ہے کہ زیادہ گرمی ہونے سے آپ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ طبی عملے کے لیے رفتار بہت اہم ہے اور جلد فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔

ایک دوسرا خطرہ یہ ہے کہ وہ جسم کی طرف سے ملنے والے ہیٹ سٹریس کے اشاروں کو نظر انداز کر دیں اور کام کرتے رہیں۔ اس میں چکر آنا اور طبیعت خراب ہونا شامل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ کام کرتے کرتے بے ہوش ہو سکتے ہیں۔

ہیٹ سٹریس یا گرمی کا دباؤ کیا ہے؟

یہ تب ہوتا ہے جب جسم خود بخود ٹھنڈا ہو کر موزوں درجہ حرارت پر واپس نہیں آ پاتا۔ اس کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور اہم عضو کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔

جسم پر موجود پسینے کا خشک ہونا اضافی گرمی سے نجات کا بنیادی طریقہ ہوتا ہے۔ لیکن جب ہوا میں ضرورت سے زیادہ نمی ہوتی ہے تو یہ نہیں ہو پاتا اور اس طرح ہیٹ سٹریس کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

لیکن ڈاکٹر لی اور ان کے ساتھیوں کو احساس ہوا ہے کہ حفاظتی لباس یا پی پی ای، جسے وائرس سے بچاؤ کے لیے بنایا گیا ہے، پسینے کو خشک ہونے سے روکتا ہے۔

یونیورسٹی آف برمنگھم میں فزیولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر ریبیکا لوکس کے مطابق اس کی علامات میں بے ہوشی، سمت کا اندازہ نہ ہو پانا، درد، آنتوں اور گردے کا کام کرنا چھوڑ دینا شامل ہیں۔

’اگر آپ کے جسم کا درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو یہ آپ کے جسم کے تمام حصوں کے لیے کافی سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔‘

ہم ہیٹ سٹریس کو کیسے بھانپ سکتے ہیں؟

ویٹ بلب گلوب ٹمپریچر (ڈبلیو بی جی ٹی) نامی ایک نظام نہ صرف درجہ حرارت بلکہ نمی اور دوسرے پہلوؤں کا جائزہ لے کر صورتحال کی ایک حقیقت پر مبنی تفصیل بیان کرتا ہے۔

1950 کی دہائی میں امریکی فوج نے سپاہیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ہدایات بنائی تھیں۔

مثال کے طور پر اگر ڈبلیو بی جی ٹی 29 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچ جائے تو ان لوگوں کو ورزش چھوڑنے کی تجویز دی جاتی ہے جن کا جسم ان حالات کے لیے تیار نہیں۔

اور یہی وہ حالات ہیں جن میں ڈاکٹر لی اور ان کے ساتھی روز سنگاپور کے جنرل ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔

اور اس نظام کی بلند ترین سطح پر جب ڈبلیو بی جی ٹی 32 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچ جائے تو کہا جاتا ہے کہ محنت طلب مشق روک دینی چاہیے کیونکہ خطرہ ’شدت‘ اختیار کر چکا ہے۔

لیکن اس طرح کے خطرناک درجہ حرارت انڈیا میں پروفیسر ودھیا وینو گوپال نے چنائی کے ہسپتالوں کے اندر ریکارڈ کیے ہیں۔

انھوں نے عملے کو ایسے مشکل حالات میں کام کرتے دیکھا ہے جب ڈبلیو بی جی ٹی دن کے دوران 33 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت انھیں ہر صورت کام روک کر کہیں پناہ لے لینی چاہیے۔

ایک سٹیل پلانٹ کے اندر 41.7 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہاں مزدور شدید متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ’یہ شدید گرمی ہے۔‘

پروفیسر وینو گوپال کہتی ہیں کہ ’اگر یہ ہر روز ہو تو لوگوں میں پانی کی کمی، دل کے عارضے، گردوں میں پتھری یا گرمی کی وجہ سے تھکان ہو سکتی ہے۔‘

موسمیاتی تبدیلی سے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

عالمی حدت میں اضافے کے ساتھ نمی میں بھی اضافہ متوقع ہے جس کا مطلب ہے کہ لوگ پہلے کے مقابلے میں گرمی اور نمی کے خطرناک ملاپ کی زد میں زیادہ آئیں گے۔

برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر رچرڈ بیٹس نے ایسے کمپیوٹر ماڈل تیار کیے ہیں جن کے مطابق 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ڈبلیو بی جی ٹی کے دنوں میں اضافہ ہو گا اور اس کا انحصار گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی پر ہے۔

اور وہ ان کروڑوں لوگوں کو لاحق خطرات کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جو تیز گرمی اور شدید نمی کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم انسانوں کی ارتقا درجہ حرارت کی ایک رینج میں رہنے کے لیے ہوئی ہے، چنانچہ یہ واضح ہے کہ اگر ہم عالمی حدت بڑھانے والے کام کرتے رہے تو جلد یا بدیر دنیا کے گرم ترین علاقوں میں صورتحال ہو جائے گی کہ وہ ہمارے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

رواں سال کے اوائل میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں خبردار کیا گیا تھا کہ ہیٹ سٹریس سنہ 2100 تک 1.2 ارب لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے جو کہ اب کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟

ڈاکٹر جمی لی کے مطابق ’یہ کوئی بہت پیچیدہ سائنس نہیں ہے۔‘

لوگوں کو کام شروع کرنے سے پہلے زیادہ مقدار میں پانی یا مشروبات پینے چاہییں، وقتاً فوقتاً بریک لینے چاہییں اور آرام کرنے پر دوبارہ مشروبات پینے چاہییں۔

ان کے ہسپتال نے پہلے ہی عملے کی خود کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد کے لیے نیم منجمد مشروبات رکھنے فراہم کرنے شروع کر دیے ہیں۔

مگر ان کا اعتراف ہے کہ ہیٹ سٹریس سے بچنے کے بارے میں کہنا آسان ہے لیکن یہ کرنا مشکل ہے۔

ان کے ساتھیوں اور ان کے لیے وقفے پر جانے کا مطلب ہے کہ وہ ذاتی حفاظتی سامان اتارنے کے مشکل مرحلے سے گزریں اور وقفے کے بعد نیا سامان پہنیں۔

اس کے علاوہ ایک اور عملی مسئلہ بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’کچھ لوگ اس لیے بھی مشروبات نہیں پینا چاہتے کیونکہ وہ بار بار ٹوائلٹ جانے سے بچنا چاہتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ تمام مشکلات کے باوجود کام جاری رکھنے کی ایک پیشہ ورانہ خواہش بھی ہوتی ہے تاکہ بحران کے دوران ساتھیوں اور مریضوں کو یہ احساس نہ ہو کہ انھیں تنہا بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جیسن لی کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو کام کا بے حد جذبہ رکھتے ہیں، وہ گرمی سے نقصان کی سب سے زیادہ زد میں ہوتے ہیں۔

وہ اضافی گرمی کے خطرات پر تحقیق کرنے والے ایک گروہ گلوبل ہیٹ ہیلتھ انفارمیشن نیٹ ورک کے سرکردہ رکن ہیں جس نے طبی عملے کو کووڈ-19 سے بچنے میں مدد دینے کے لیے رہنما اصول وضع کیے ہیں۔

اس کی قیادت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) اور امریکہ کا محکمہ موسمیات (این او اے اے) کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر لی کہتے ہیں کہ آرام اور مشروبات، اور باہر کام کرنے والے افراد کے لیے سائے جیسے اقدامات کے علاوہ ہیٹ سٹریس سے بچنے کی ایک اہم حکمتِ عملی جسمانی طور پر تندرست رہنا بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’خود کو آپ ایروبکس کے اعتبار سے فٹ رکھیں گے تو نہ صرف آپ گرمی کے لیے اپنی برداشت میں اضافہ کریں گے بلکہ اس کے اور بھی کئی فائدے ہیں۔‘

اس کے علاوہ وہ ذاتی حفاظتی سامان کے اندر پسینہ بہاتے طبی کارکنوں کی مشکلات کو بھی مستقبل میں گرمی میں اضافے کی ایک ریہرسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ موسمیاتی تبدیلی ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہو گی اور ہمیں تمام اقوام کی سطح پر ایک مربوط حکمتِ عملی چاہیے تاکہ آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ایسا کیا گیا تو اس کی قیمت چکانی ہو گی۔‘