سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر پر سابق امریکی صدر براک اوباما، ایلون مسک اور بل گیٹس سمیت متعدد ارب پتی افراد اور کئی معروف کمپنیوں کے اکاؤنٹس کو ہیکرز نے نشانہ بنایا اور ان اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے پیغامات سے بٹ کوائن کے ذریعے رقم مانگی۔

ٹیسلا اور سپیس ایکس کمپنی کے مالک ایلون مسک کی ٹویٹ سے سب سے پہلے یہ پیغام آیا جس میں کہا گیا کہ 'میں بہت خوش ہوں اور جو بھی میرے بٹ کوائن ایڈریس پر رقم بھیجے گا تو میں اسے دگنی رقم واپس کروں گا۔ آپ مجھے ایک ہزار ڈالر بھیجیں، میں آپ کو دو ہزار ڈالر واپس بھیجوں گا۔ اور یہ میں صرف اگلے تیس منٹ کروں گا۔'

بٹ کوائن کے بارے میں مزید پڑھیے

بٹ کوائن کا سحر ٹوٹ رہا ہے؟

’بِٹ کوائن ایک جادوئی چھڑی‘

کون ہے جس نے بٹ کوائن فروخت نہیں کیے؟

کون ہے جس نے بٹ کوائن فروخت نہیں کیے؟

ایلون مسک کے بعد مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کے اکاؤنٹ سے بھی اس سے ملتا جلتا پیغام دیا گیا۔

حالانکہ دونوں اکاؤنٹس سے بٹ کوائن والی ٹویٹس فوراً حذف کر دی گئی تھیں لیکن مسلسل اسی نوعیت کی دوسری ٹویٹس بھی کی جا رہی تھیں۔

بل گیٹس کے ترجمان کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں بتایا گیا کہ بل گیٹس نے اس نوعیت کی کوئی ٹویٹ نہیں کی ہے اور یہ ٹوئٹر پر کسی قسم کی خرابی کا نتیجہ ہے۔

بٹ کوائن والی ان ٹویٹس کے سامنے آنے کے کچھ دیر بعد ٹوئٹر سے بھی پیغام آگیا جس میں کہا گیا کہ کمپنی کو اس واقعے کا علم ہے اور وہ ان تمام اکاؤنٹس کا جائزہ لے رہیں جو متاثر ہوئے ہیں اور اس کی تفتیش کر رہے اور تاکہ جلد از جلد اس معاملے کو ٹھیک کیا جائے۔

متاثر ہونے والے دیگر اکاؤنٹس میں ٹیکنالوجی کمپنی ایپل، اووبر، ایمازون کے بانی جیف بیزوس، ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائڈن، معروف موسیقار کانئیے ویسٹ اور دیگر کئی نام شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹوئٹر پر اس طرح حملہ ہوا ہو اور معروف شخصیات کے اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے ہوں۔

ماضی میں ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی کا اکاؤنٹ بھی ایسے ہی متاثر ہوا تھا اور اس کے علاوہ بڑی اور معروف کمپنیوں کے اکاؤنٹ پر بھی اسی طرح ہیکنگ کے حملے ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کے سائبر سکیورٹی کے رپورٹی جو ٹائڈی اس 'آپریشن' پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رقم دگنی کرنے کے ایسے فراڈ ٹوئٹر پر سالوں سے چل رہے ہیں لیکن موجودہ واقعہ اس لحاظ سے منفرد ہے اس میں بڑی تعداد میں معروف افراد اور کمپنیوں کے اکاؤنٹس کو ایک ساتھ ہیک کیا اور اتنے بڑے پیمانے پر ایسا کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید اس بارے میں لکھا کہ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ٹوئٹر کا پلیٹ فارم کمزور ہے اور کیسے ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

'حملہ آوروں کے پاس اتنے بڑے اور معروف اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کا مطلب تھا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ بڑا نقصان کر سکتے تھے۔ تاہم موجودہ واقعے سے ظاہر ہے کہ ان کا مقصد صرف جلد از جلد رقم بنانا تھا۔'

جتنی دیر یہ بٹ کوائن ایڈرس، جس پر رقم مانگی گئی تھی، آن لائن رہا اس پر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم منتقل کر دی گئی تھی۔

جن اکاؤنٹس کو اب تک نشانہ بنایا گیا ان تمام کے لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں فالوورز ہیں۔