لاطینی امریکہ کے ملک بولیویا میں سیکس ورکرز نے کہا ہے کہ وہ اپنے کام کو دوبارہ شروع کر رہی ہیں اور اپنی حفاظت کے لیے بلیچ، دستانے اور نیم شفاف برساتی کا استعمال کریں گی۔

سیکس ورکرز نے کہا کہ بولیویا کی ’نائٹ ورکرز آرگنائزیشن‘ یعنی ان افراد کی تنظیم جو رات کے اوقات میں اپنے پیشے پر جاتے ہیں، نے ان حفاظتی اشیا کے استعمال کی تجویز دی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی مدد سے کام کے دوران کورونا سے محفوظ رہا جا سکے گا۔

بولیویا میں سیکس ورکرز کے پیشے کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس مقصد کے لیے قحبہ خانوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا کی وبا میں پاکستانی سیکس ورکرز کِس حال میں ہیں؟

کورونا:سیکس ورکر بازاروں سے غائب، آن لائن تک محدود

وبا اور لاک ڈاؤن سیکس ورکرز کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟

بولیویا میں کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ کے مہینے سے لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا تاہم اب پابندیوں میں قدرے نرمی کر دی گئی ہے۔

نرمیوں کے باوجود سیکس ورکرز کے شعبے سمیت کئی ایسے شعبے ہیں جن پر ابھی بھی پابندی ہے جبکہ ملک میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ ہوتا ہے۔

دو بچوں کی والدہ ونیسا سیکس ورکر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے نوکری کرنا ضروری ہے تاکہ وہ بچوں کی پڑھائی کا خرچہ پورا کر سکیں۔

’ہمارے گاہک ہمارے تحفظ کے معاملے کو سمجھتے ہیں اور ہم وہ تمام اقدام اٹھا رہے ہیں جس سے نہ صرف ہم محفوظ رہیں گے بلکہ ہمارے گاہک بھی۔‘

ایک اور سیکس ورکر انٹونئیٹا نے بتایا کہ وہ اپنے کام کے دوران فیس ماسک، پلاسٹک کا بنا ہوا چہرے کو چھپانے والا وائزر اور برساتی کا استعمال کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ کلب میں جس پول کی مدد سے رقص کرتی ہیں اسے بھی بلیچ لگا کر جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے۔

’ان تمام تدابیر سے ہم خود کام بھی کر سکیں گے اور خود کو محفوظ رکھ سکیں گے۔‘

بولیویا کی ’نائٹ ورکرز آرگنائزیشن‘ کے نمائندگان نے گذشتہ ماہ وزارت صحت سے ملاقات کی جس میں انھوں نے 30 صفحے پر مشتمل تجاویز دیں جس کی مدد سے سیکس ورکرز خود کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کر سکیں گے۔

بولیویا میں اب تک کورونا کے تقریباً 50 ہزار متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ ملک میں ہونے والی اموات کی تعداد 1898 ہے۔

گذشتہ ہفتے ملک کی عارضی صدر جینائن آنیز شاویز بھی کورونا سے متاثر ہو گئے تھے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ ملک میں مرض کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے مناسب تعداد میں ٹیسٹنگ نہیں ہو رہی ہے۔

بولیویا خطے کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے اور وہاں فی دس لاکھ آبادی ٹیسٹ کی تعداد بھی نہایت کم ہے۔

بولیویا میں سیکس ورکرز یونین کی نمائندہ للی کورٹیز کا کہنا ہے کہ یہ ہر کسی کے لیے مشکل وقت ہے لیکن ان پابندیوں سے خواتین کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

’ہم بھی بولیویا کے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم سیکس ورکرز ہیں، عورتیں ہیں، اور ہمیں بھی اپنے کام کرنے کے اوقات کار کے بارے میں فکر ہے۔‘