کورونا وائرس، امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ، ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا نیا قانون اور بہت سے معاشی چیلنجز سمیت سال 2020 چین کے لیے کافیمشکل رہا ہے۔ اور اب حالیہ مہینوں میں بحیرۂ جنوبی چین کا معاملہ امریکہ کے ساتھ ایک اور بڑی کشیدگی کے طور پر دوبارہ ابھرا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پہلی مرتبہ بحیرۂ جنوبی چین پر چین کے دعویٰ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

دفاعی امور کے ماہر الیگزینڈر نیلنے چین کی جانب سے خطے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لیا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

امریکہ: بحیرہ جنوبی چین کے وسائل پر قبضے کی چینی کوششیں ’غیر قانونی‘ ہیں

متنازع مصنوعی جزیروں پر ’چینی دفاعی اسلحہ‘

چین کا امریکہ کو جواب:’کہیں بھی فوج تعینات کر سکتے ہیں‘

بحیرۂ جنوبی چین برسوں سے ایک ایسا علاقہ رہا ہے جہاں کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔ جس کے چھوٹے چھوٹے جزیروں اور خزانوں پر کئی ممالک اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ علاقہ ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔

حالیہ برسوں میں چین اپنے اس دعوی پر زور دیتا رہا ہے کہ اس علاقے پر اس کے دعوے صدیوں پرانے ہیں اور اپنے اس موقف کو مضبوط کرنے کے لیے وہ اس علاقے میں اپنی فوج کی تعداد تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

امریکہ کی بحرالکاہل کمانڈ کے سابق سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے ایک مرتبہ اسے 'ریت کی ایک عظیم دیوار' کہا تھا جس کی وجہ سے سمندر میں چینی علاقے کے گرد ایک حفاظتی حصار اور سازو سامان کی ترسیل کا کا نیٹ ورک بن رہا ہے، یہی کام زمین پر صدیوں پہلے دیوارِ چین نے کیا تھا۔

تاہم جہاں ایک طرف چین اور امریکہ نے بحرۂ جنوبی چین کے معاملے پر ایک دوسرے کے خلاف چبھتے ہوئے بیانات دیے ہیں وہیں مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو دونوں اپنے اختلافات کے باوجود ایک حد سے آگے نہیں بڑھے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مسائل کے باوجود امریکہ نے ان ممالک کا ساتھ نہیں دیا ہے جن کے چین کے سرحدی تنازعات ہیں۔

امریکہ نے چین سے صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس کے بحری جہازوں کو علاقے میں آزادانہ نقل و حمل کی اجازت ہونی چاہیے۔

کئی مغربی رہنما امریکہ وزیر خارجہ مائک پومپیو کے اس موقف سے بظاہر قائل نظر آئے کہ اپنے جابرانہ رویے کو مزید تقویت دینے کے لیے چین کورونا وائرس کی وبا کو استعمال کر رہا ہے۔

اور ان ہی معاملات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا کا اثر بحیرۂ جنوبی چین میں بھی نظر آ رہا ہے۔

ایک مشکل وقت میں فوجی کشیدگی

اس سال اپریل میں چینی کوسٹ گارڈ کے ایک جہاز نے ویتنام کے ماہی گیروں کی کشی کو تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ پیراسیل جزائر کے قریب ہوا جن کی ملکیت پر دونوں ممالک دعویدار ہیں۔

اس کے بعد بورنیو کے ساحل کے پاس ملائیشیا کے تیل کی تلاش کے ایک منصوبے میں چین کی جانب سے رخنہ ڈالا گیا۔ اس واقعے میں سمندری سروے کرنے والا ایک چینی بحری جہاز شامل تھا جسے چینی نیوی اور کوسٹ گارڈ کی مدد حاصل تھی۔

اس کے ردعمل میں امریکی نیوی کا ایک ایمفیبیئس اسالٹ جہاز اور ایک آسٹریلین جنگی جہاز قریبی علاقے میں تعینات کر دیا گیا۔

کشیدگی بڑھتی گئی اور امریکہ کے دو جدید جنگی جہازوں، یو ایس ایس بنکرہل اور یو ایس ایس بیری، کو پیراسل اور سپریٹلی جزائر کے پاس تعینات کیا گیا۔

حال ہی میں پیراسیل جزائر کے قریب سمندر میں چین نے اپنی جنگی مشقوں کے لیے ایک وسیع علاقے کو بند کر دیا تھا۔

امریکی جواب غصے سے بھرپور تھا جس میں کہا گیا کہ یہ تنازعات ہو مزید نہ بڑھانے کے چینی وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

اس دوران امریکہ نے مشترکہ آپریشن کے لیے ایک نہیں بلکہ دو بحری بیڑے علاقے میں تعینات کر دیے۔ اس کے علاوہ امریکی ایئر فورس نے ایک بی 52 بمبار طیارہ بھی بھیج دیا۔

چین کے سرکاری میڈیا کا ردعمل توقع کے مطابق ترش تھا۔

بحیرۂ جنوبی چین میں امریکی نیوی کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے دونوں متحارب طاقتوں کے درمیان کسی جھڑپ اور تیزی سے کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

چین اپنے بنیادی تحفظات سے متعلق دباؤ میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور اِسی تناظر میں صورتحال خاص طور پر خطرناک دکھائی دیتی ہے۔

حال ہی میں انڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع میں طاقت کا سخت استعمال اور ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ نے اکثر لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان چیلنجوں کے جواب میں چین کتنے ضبط کا مظاہرہ کرے گا۔

بحیرۂ جنوبی چین میں چین کا ہدف کیا ہے؟

چین اس علاقے کو اپنی سمندری حدود کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے جو نہ صرف ہائنان جزیرے میں قائم اس کے جوہری ہتھیاروں کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ نامی تجارتی منصوبے کے لیے ایک راہداری ہے۔

یہ سمندری علاقہ چین کے گریٹر بے ایریا تجارتی منصوبے کے مستقبل کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ چین نے ہانگ کانگ کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا ہے۔

بحیرۂ جنوبی چین کو بسانے کے چینی منصوبے کا آغاز سنہ 2012 میں ہوا تھا جب سانشا شہر کو ایک کاؤنٹی سے بڑھا کر پریفیکچر یا سب ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا تھا۔

حکومت نے وہاں کے رہائشی ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سے برادری کو جدید شہری سہولیات فراہم کیں، ایک پرائمری سکول، بینک اور ہسپتال قائم کیا اور موبائل فون کی سہولیات فراہم کیں۔ اب وہاں سیاح طے شدہ اوقات میں باقاعدگی سے آتے ہیں۔

اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ اس سال اپریل میں شروع کیا گیا جب چین نے وہاں کاؤنٹی کی سطح کے دو مزید ایڈمنسٹریٹو ڈسٹرکٹ قائم کیے جو سانشا شہر کے تحت کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہاں سانشا ڈسٹرکٹ پیپلز گورنمنٹ بھی بنا دی گئی ہے جو سپریٹلی جزائر پر چینی دعوؤں کے مطابق کام کر رہی ہے۔

چین کی جانب سے سپریٹلی جزائر میں بھرائی کا کام شروع ہونے کے چھ سال بعد سیٹیلائٹ اور فضا سے ہونے والے نگرانی سے دنیا میں میری ٹائم اینجینیئرنگ اور فوجی تعمیرات کے انتہائی زبردست کارناموں میں سے ایک کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے۔

مٹی کی بھرائی سے تخلیق کیے جانے والے ان جزائر میں فوجی سہولیات کے علاوہ، جن میں تین ہزار میٹر طویل رن ویز، نیول برتھس، ہینگرز، گولہ بارود کے بنکرز، میزائلوں کے گودام اور ریڈار سائٹس شامل ہیں۔

تصاویر میں صفائی سے بنائے گئے رہائشی بلاکس، ایڈمنسٹریٹو بلڈنگز جن کی چھتوں پر نیلے ٹائلز لگے ہوئے ہیں، ہسپتال اور یہاں تک کے سپورٹس کمپلیکس بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ جزیرے اب واضح طرو پر ہرے بھرے ہو چکے ہیں۔

مثال کے طور پر وہاں موجود صوبی ریف پر اب ایک فارم قائم ہو چکا ہے جس میں چھ ایکٹر زمین پر پھل اور سبزیاں لگائی گئی ہیں۔

پودوں کی پولینیشن کے لیے شہد کی مکھیاں چین سے درآمد کی گئی ہیں۔ وہاں سورؤں کا ریوڈ، مرغیاں اور مچھلیوں کا تالاب بھی موجود ہے۔

اس دوران سنہ 2019 میں مسچیف ریف پر چین کی اکیڈمی آف سائنسز نے سمندری علوم کا ایک تحقیقی سینٹر بھی قائم کیا ہے۔

چین کے بڑے ماہرینِ آبی علوم نے اعلان کیا ہے کہ فیری کراس پر زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور آئندہ 15 برسوں میں یہ جزیرہ پانی میں خود کفیل ہو جائے گا۔

اس جزیرے کے رہائشی پہلے ہی فائیو جی کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں تازہ پھل اور سبزیاں بھی میسر ہیں۔

فضا سے لی جانے والی تصاویر میں سوبی اور مسچیف ریف کی ساحلی جھیلوں میں بڑے پیمانے ماہی گیروں کی کشتیاں نظر آتی ہیں۔ شاید جلد ہی ماہی گیروں کے خاندان مستقل طور پر ان جزائر پر منتقل ہو جائیں گے۔

چین کی جانب سے بحیرۂ جنوبی چین میں اپنا تسلط قائم کرنے کا سب سے بڑا علامتی ثبوت ایک پتھر سے ظاہر ہوتا ہے جسے چین لایا گیا ہے۔

اپریل سنہ 2018 میں 200 ٹن انتہائی قدیم پتھر سپریٹلی جزائر میں قائم فوجی اڈوں پر نصب کیے گئے۔ انھیں چین کے علاقے تایشان کی کانوں سے نکال کر لایا گیا تھا۔

ان سے بنائی گئی یادگار چین کے صدر شی جن پنگ کے اس خواب کے مطابق تھی کہ قوم ایک نئے سرے سے تازہ دم ہو کر کھڑی ہو۔

تایشان نامی پہاڑ چین کے سب سے مقدس پہاڑوں میں سے ایک ہے، یہ چینی تہذیب کے ہزاروں برس کے تسلسل کی علامت ہے۔

یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ چین اس سمندری علاقے میں اپنا تسلط قائم کرنے کے دوسرے مرحلے میں پہنچ چکا ہے، یعنی اس انتہائی اہم دفاعی گزرگاہ کو اس حد تک چین کا حصہ بنا لینا کہ جس کی واپسی ممکن نہ رہے۔

بحیرۂ جنوبی چین میں امریکہ کی حالیہ مشقوں کا مقصد اپنا یہ عزم ظاہر کرنا تھا کہ وہ اپنی نیوی کے لیے آزاد سمندر اور بین الاقوامی پانیوں کا تحفظ کرے گا۔

امریکی بحریہ کی مشقوں کے ساتھ ساتھ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے اس بیان سے کہ خطے پر چینی دعوے مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کس حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

مائیک پومپیو کم از کم یہ تو چاہیں گے کہ چین کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے لیے اہم ممالک کا اتحاد بنایا جائے۔

امریکہ چین کے نئے ڈسٹرکٹ سانشا کو تیزی سے ملبے میں تبدیل کر سکتا ہے لیکن اس کا مطلب کھلی جنگ ہو گا جو دونوں ممالک فی الحال نہیں چاہتے۔