برطانیہ کے شہر برسٹل میں غلامی کے دور سے منسلک تاجر ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ جس مقام سے مظاہرین نے ہٹایا تھا وہاں اب بلیک لائیوز میٹر مہم میں شامل ایک خاتون جین ریڈ کا مجسمہ لگا دیا گیا ہے۔

بدھ کے روز علی الصبح شہر کے وسط میں جین ریڈ کا مجسمہ کھڑا کیا گیا۔

مارچ کے دوران جب کولسٹن کا مجسمہ گرایا گیا تو اُس کے بعد اس خالی ستون پر مظاہرین میں شامل جین ریڈ کو کھڑا کر کے اُن کی تصاویر لی گئی تھی۔

ایڈورڈ کولسٹن کی جگہ جین ریڈ کا مجسمہ نصب کیے جانے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں کئی افراد کو ایڈورڈ کولسٹن کی جگہ جین ریڈ کا مجسمہ نصب کرنا پسند آیا ہے وہیں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے بھی نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں ’کیرن‘ کن خواتین کو کہا جانے لگا ہے؟

جب ہولڈنگ اور ناصر حسین نے کی نسلی تعصب پر بات

سیاہ فام امریکیوں سے اظہار یکجہتی، پاکستان اور انڈیا میں ’منافقانہ رویوں‘ پر بحث

شان ہاکی نامی صارف سمیت بہت سے افراد نے اُس لمحے کی تصویر شیئر کی جب جین ریڈ، کولسٹن کا مجسمہ گرائے جانے کے بعد ستون پر چڑھیں۔

اس کے ساتھ جین ریڈ کے مجسمے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے شان ہاکی نے لکھا ’آج صبح غلاموں کے تاجر ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی جگہ برسٹل میں بلیک لائیوز میٹر کے مظاہرین میں شامل جین ریڈ کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ زبردست ہے۔‘

برسٹل کے مئیر میرون ریز کا کہنا ہے کہ اس مجسمے کو اس ستون پر رکھنے کے لیے باضابطہ اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس بارے میں آرٹسٹ مارک کوئن کہتے ہیں کہ یہ صرف عارضی طور پر وہاں کھڑا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں سات جون کو بلیک لائیوز میٹر کے احتجاج کے دوران اس مجسمے کو بنانے کا خیال اُس وقت آیا جب اپنا ہاتھ بلند کیے جین ریڈ اُس مقام پر کھڑی ہوئیں اور اس لمحے نے اُنھیں متاثر کیا۔اس کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جین ریڈ سے رابطہ کیا اور انھوں نے مجسمے پر مل کر کام کیا۔

برطانیہ میں وومنز اکوایلٹی پارٹی نے ٹویٹ کی اور لکھا ’ہاں! بلیک لائیوز میٹر مہم کے مظاہرین میں شامل جین ریڈ کا مجسمہ ہماری تاریخ کی اُن چیزوں میں شامل ہے جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں۔‘

جسمین کاسایا نے کہا کہ ’یہ بلیک لائیوم میٹر مہم۔۔۔ جو امریکہ میں تین خواتین نے شروع کی اور آج بھی دنیا بھر میں خواتین اس کے لیے کوشاں ہیں، برطانیہ کے کسی بھی بڑے شہر میں یہ شاید ایک سیاہ فام خاتون کا واحد مجسمہ ہو۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نٹالیا کا کہنا تھا ’مجھے یہ بہت اچھا لگا کہ کسی نے مظاہرہ کرنے والی جین ریڈ کا مجسمہ بنایا ہے۔ یہ بہت اچھا لگتا ہے اور اسے یہی رہنا چاہیے۔‘مگر ہر کوئی اس مجسمے کو یہاں نصب کرنے سے خوش نہیں۔

کارا نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’کیا ایک مجرم کا مجسمہ ہٹا کر ایک اور مجرم کا مجسمہ لگانا درست ہے؟ اس کی جگہ ایسی کسی شخصیت کا مجسمہ کیوں نہیں لگایا گیا۔‘ کارا کا اشارہ اپنی ٹویٹ کے ساتھ شیئر کی گئی اس تصویر میں موجود پرنسس کیمبل نامی ایک نرس کی طرف تھا۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید یہ بھی لکھا تھا کہ ’یہ پہلی سیاہ فام نرس تھیں۔ انھوں نے سیاہ فام افراد کو برابر حقوق دلانے کے لیے مہم میں حصہ لیا اور تخریب کاری نہیں کی۔ میری نظر میں ایڈورڈ کولسٹن اور جین ریڈ دونوں جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘

جین ریڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ برسٹل کے لوگ واقعی اس کے یہاں نصب کیے جانے کی قدر کرتے ہیں۔‘

جین ریڈ نے مجسمے بنائے جانے کے بارے میں بتایا کہ ’میرے شوہر نے احتجاج کے دن تصویر کھینچ کر اپنے سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی۔ مارک کوئن نے ان کو پیغام بھیجا جس کے بعد مجھ سے اُن کا رابطہ ہوا۔‘

جین نے مزید یہ بھی بتایا کہ ’میں اس کے بعد اُن کے سٹوڈیو گئی جہاں 201 کیمروں نے ہر زاویے سے میری تصاویرکھینچیں۔ ان کے ذریعے تھری ڈی پرنٹ کیا گیا اور مجسمہ بنایا گیا۔‘

جین ریڈ کا کہنا تھا کہ یہ مجسمہ اہم تھا کیونکہ اس سے نسلی مساوات اور انصاف حاصل کرنے کی مہم کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب میں وہاں ستون پر کھڑی تھی اور بلیک پاورسیلوٹ کرنے کے لیے اپنا بازو اٹھایا تو یہ بالکل اچانک بلا ارادہ تھا۔ میں نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ اس طرح تھا جیسے مجھ میں سے بجلی گزر رہی ہو۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ مجسمہ میری والدہ، میری بیٹی اور مجھ جیسے سیاہ فام افراد کے ساتھ یک جہتی دکھانے کے بارے میں ہے۔‘

مارک کوئن کا کہنا تھا کہ اس مجسمے کو عارضی طور پر نصب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ نسل پرستی کے بارے میں جو گفتگو شروع ہوئی ہے اُسے جاری رکھا جائے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کتنی دیر تک برقرار رہے گا ’ایک مہینے تک رہ سکتا ہے، یا ایک سال تک رہ سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ وہاں ہمیشہ کے لیے رہے گا۔۔ میرا خیال تو یہ ہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں نے جین کو اس ستون پر دیکھا اور انھوں نے بے ساختہ وہ اشارہ کیا اور مجھے یہ متاثر کن لگا۔ انھوں نے صرف ایسا کر کے ایک غیر معمولی فن پارے کو حقیقت بنایا ہے اور اسے کسی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عوامی مقام پر ہونا چاہیے تھا اور میں چاہتا تھا کہ جہاں ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ پہلے تھا اسے اُس ہی مقام پر رکھوں۔‘

یاد رہے 7 جون کو مظاہرین نے کولسٹن کے مجسمے کو ہٹانے کے لیے رسیوں کا استعمال کیا جو سنہ 1895 سے برسٹل کے وسط میں اس ستون پر نصب تھا۔

اسے گرانے کے بعد مجسمے کو گھسیٹ کر بندرگاہ کی طرف لے جایا گیا، جہاں اسے پیرو کے پل سے پانی میں پھینک دیا گیا۔ پیرو نامی یہ پل کا نام ایک غلام پیرو جونز کے اعزاز میں رکھا گیا تھا جو اسی شہر میں رہتے تھے۔

برسٹل سٹی کونسل نے اس مجسمے کو کئی دن بعد پانی سے نکالا اور اب اسے بلیک لائیوز میٹر مہم میں استعمال ہونے والے پلے کارڈ سمیت ایک میوزیم میں رکھا جائے گا۔

مارک کوئین کے قابل ذکر فن پاروں میں ’سیلف پورٹریٹ سیلف‘ اور ’ایلیسن لاپر پریگننٹ‘ کے نام سے ایک مجسمہ شامل ہے جسے ٹریفالگر سکوائر میں چوتھے ستون پر رکھا گیا تھا۔

برسٹل سٹی کونسل سے اس نئے مجسمے کے بارے میں جواب کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔