چین نے امریکہ کی طرف سے ہانگ کانگ کو حاصل خصوصی تجارتی حیثیت ختم کرنے اور شہری حقوق کو سلب کرنے والے چینی حکام کے خلاف پابندیوں کے اعلان پر کہا ہے کہ وہ اس کا جواب ضرور دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چین کے خلاف یہ اقدام اس لیے اٹھا رہے ہیں کہ چین نے نئے سکیورٹی قوانین نافذ کر کے ہانگ کانگ کی آزادی سلب کر دی ہے۔

بیجنگ نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی متعلقہ شخصیات اور اداروں پر پابندیاں لگائے گا۔

امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہت سے مسائل کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

ہانگ کانگ میں جاری صورت حال کے علاوہ صدر ٹرمپ چین کو کورونا وائرس سے نمٹنے میں مبینہ کوتاہی، جنوبی بحیرہ چین میں فوجی توسیع پسندی، ایوغر مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے سلوک اور چین اور امریکہ کی باہمی تجارت میں عدم توازن کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ہانگ کانگ کو سنہ 1984 میں، جب یہ علاقہ ابھی برطانیہ کی کالونی تھا،امریکہ نے جو خصوصی تجارتی حیثیت یا رعایت دی تھی وہ ختم ہو جائے گی۔ ہانگ کانگ سے امریکہ بھیجی جانے والی مصنوعات پر بھی اب وہی محصولات لگائے جائیں گے جو چین سے امریکی برآمد کیے جانے والے تجارتی مال پر لگائے جاتے ہیں۔

ہانگ کانگ کو سنہ 1997 میں برطانیہ سے چین کے حوالے کیے جانے کے بعد سے حال ہی میں چین کی طرف سے اس خطے پر نافذ کیے جانے والے یہ سخت ترین قوانین ہیں جن سے چین کے خلاف کسی قسم کی بات کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین کا ہانگ کانگ کے لیے قومی سلامتی کا متنازع قانون کتنا پریشان کن ہے؟

ہانگ کانگ کا بحران اور نیا عالمی نظام

’آج سے چین کا مقصد ہانگ کانگ پر خوف کے ذریعے حکومت کرنا ہے‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ہانگ کانگ کی خودمختاری کا قانون جو اس ماہ کے اوائل میں کانگریس میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا تھا اس کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد ان بینکوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو ہانگ کانگ کے سکیورٹی قوانین پر عملدر آمد کرانے والے چینی حکام کے ساتھ لین دین کر رہے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک سخت بیان میں امریکہ کے فیصلے کو چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا اور کہا کہ چین اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی پابندیاں عائد کرے گا۔

چین امریکہ تعلقات کے متعلق پڑھیے

کیا کورونا وائرس چین اور امریکہ میں لڑائی کی وجہ بن سکتا ہے؟

ہواوے بحران: امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ؟

ایف بی آئی کے سربراہ: ’چین امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے‘

چینی وزارت خارجہ کے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ میں نیشنل سکیورٹی قوانین کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی امریکی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔

چین نے کہا کہ 'ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کرے، ہانگ کانگ کی خودمختاری کے قوانیں کو لاگو کرنے سے باز رہے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے۔ اگر امریکہ یہ سب کچھ کرنے سے باز نہ آیا تو چین سختی سے جواب دے گا۔'

صدر ٹرمپ نے کیا کہا ہے؟

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں منگل کو بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدارتی حکم نامے کا مقصد چین کو ہانگ کانگ کے لوگوں کے خلاف اٹھائے جانے والے جارحانہ اقدامات کی جواہدہی کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ جنہوں نے اس سال مئی میں پہلی مرتبہ یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا شروع کر دے گی منگل کو کہا کہ 'ہانگ کانگ کے لیے کوئی خصوصی استحقاق نہیں، کوئی تجارتی رعایت نہیں اور حساس ٹیکنالوجی کی کوئی برآمدات نہیں۔'

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والی ایک دستاویز میں کہا گیا کہ امریکہ میں جائیداد کی خرید و فروخت میں کسی بھی ایسے شخص کی شمولیات روک دی جائے گی جو کسی بھی طرح ہانگ کانگ میں شہری آزادیوں کو پابند کرنے والی پالیسوں یا اقدامات پر عملدرآمد کرانے کا ذمہ دار یا ان میں ملوث پایا گیا۔

اس دستاویز میں حکام کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ وہ ہانگ کانگ کی برآمدات کے خصوصی لائسنس منسوخ کر دیں اور ہانگ کانگ کے پاسپورٹ کے حامل افراد سے خصوصی برتاؤ بند کر دیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہانگ کانگ کی خودمختاری کے قانون کو منظور کیے جانے کے بعد امریکی انتظامیہ کو ایسے اختیارت حاصل ہو گئے ہیں کہ وہ ہانگ کانگ کی آزادیاں ختم کرنے والے ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

ایک اخبار نویس کی طرف سے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ سے بات کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کورونا وائرس کو چھپانے اور پھر اس کو پوری دنیا میں پھیلانے کا ذمہ دار چین کو قرار دیتی ہے۔

کورونا وائرس کے دوران صدر ٹرمپ کی اپنی کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ کیونکہ امریکہ میں 34 لاکھ افراد اس وائرس کی زد میں آ چکے ہیں اور ایک لاکھ 36 ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ دنیا بھر میں سب سے برے اعداد و شمار ہیں۔

صدر ٹرمپ کا پالیسی بیان ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے صدارتی مد مقابل جو بائڈن کے خلاف ایک طویل سیاسی تنقید کی صورت اختیار کر گیا جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں، تجارت، معیشت اور امیگریشن جیسے تمام مسائل کا ذکر کیا گیا۔

ایشیا میں تجارتی امور کی بی بی سی کی نامہ نگار کرشما واسوانی کا تجزیہ

حقیقت اور تصور

سوال یہ نہیں رہا کہ اگر یہ کیا جائے گا، سوال یہ ہے کہ یہ کب کیا جائے گا۔ ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد وہاں قائم کمپنیوں کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس اعلان کے ان پر کیا اثرات پڑیں گے۔

ہانگ کانگ درآمدات کا ایک ایسا مرکز ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں اور سے آنے والا تجارتی مال ہانگ کانگ کے ذریعے امریکہ بھیجا جا رہا ہے۔ جس طرح کہ چین سے تاکہ ان محصولات سے بچا جا سکے جو امریکہ چینی درآمدات سے وصول کرتا ہے۔

اب ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد چینی کمپنیاں کسی دوسری جگہ سے تجارتی مال امریکہ بھیجیں گی جس سے ہانگ کانگ میں ہونے والے کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔

اس کے علاوہ امریکی اور کثیرالملکی ان کمپنیوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا جو ہانگ کانگ کو کاروبار کے لیے علاقائی مرکز کے طور پر استعمال کر رہی ہیں؟

کاروباری مشورے دینے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمپنی کو ہانگ کانگ کو ایک ہب یا مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اب بھی کافی وجوہات موجود ہیں جن میں کم ٹیکس، جغرافیائی محل وقوع اور کرنسی تبدیل کرنے میں آسانی شامل ہیں۔

ہمشہ تصورات یا کسی بارے میں عام خیال حقیقت سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اگر عام خیال یہ ہی بن گیا کہ ہانگ کانگ سے کاروبار کرنا اب منافع بخش یا آسان نہیں رہا تو بہت سی کمپنیاں چین یا سنگاپور کیوں منتقل نہیں ہو جائیں گی۔

چین اور امریکہ کے تعلقات میں کیا چل رہا ہے؟

صدر ٹرمپ کو اس سال ایک انتہائی مشکل انتخابی مہم کا سامنا ہے لیکن وہ اور ان کے مدِ مقابل جو بائیڈن دونوں ہی ایک دوسرے پر چین کے بارے میں نرمی برتنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

گزشتہ پیر کو امریکی انتظامیہ نے بحیرہ جنوبی چین میں چین کی طرف سے فوجی توسیع پسندی کی مذمت کی اور چین پر چھوٹے ہمسایہ ملکوں پر دھونس جمانے کا الزام لگایا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو امریکی صدر کے خصوصی جہاز 'ایئرفورس ون' پر دوران پرواز اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ خطرے میں ہے اور اس کی وجہ کورونا وائرس ہے جسے انھوں نے طاعون قرار دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے امریکہ نے عالمی ادارۂ صحت سے بھی علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور صدر ٹرمپ نے اس ادارے پر چین کے بارے میں تفصیلات چھپانے کا الزام لگایا تھا۔ اسی ہفتے امریکہ نے ان چینی حکام پر پابندیاں لگانے کے اعلان بھی کیا تھا جو اس کے بقول چین میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں سے ناروا سلوک برتنے میں ملوث ہیں۔