برطانیہ میں چین کے سفیر نے چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے فائیو جی نیٹ ورک پر پابندی کے برطانوی فیصلے کو ’مایوس کن اور غلط‘ قرار دیا ہے۔

برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں موبائل کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں 31 دسمبر کے بعد چینی کمپنی ہواوے کے فائیو جی آلات نہیں خرید سکیں گی اور انھیں 2027 تک اپنے نیٹ ورک سے فائیو جی کی تمام کِٹس بھی مکمل طور پر ہٹانا ہوں گی۔

اس سے قبل امریکہ نے بھی ہواوے کی فائیو جی مصنوعات کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر پابندی لگائی تھی تاہم چینی کمپنی ہواوے اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

ہواوے نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’یہ برطانیہ میں موبائل فون کے صارفین کے لیے بری خبر ہے اور اس سے برطانیہ ڈیجیٹل دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا جبکہ لاگت ڈیجیٹل تفریق میں اضافہ ہوگا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہواوے کو لاہور سے وائی فائی کارڈ کیوں ہٹانے پڑے؟

ہواوے بحران: امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ؟

پاکستان میں مقبول، دنیا میں مشکوک

فائیو جی نیٹ ورک پر پابندی کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے چینی سفیر لیو زیانگ منگ نے سوال اٹھایا کہ کیا برطانیہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ’منصفانہ‘ کاروباری ماحول فراہم کر سکتا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا: ’ہواوے سے متعلق برطانیہ کا فیصلہ مایوس کن اور غلط ہے۔‘

امریکہ میں ہواوے کے چیف سکیورٹی افسر اینڈے پرڈے نے کہا ہے کہ یہ اقدام ہواوے کے لیے بہت بری خبر ہے لیکن اس کے برطانیہ پر زیادہ ’منفی اثرات پڑیں گے۔‘

اس فیصلے کا اعلان برطانوی وزیر برائے ڈیجیٹل امور اولیور ڈاؤڈن نے دارالعوام میں کیا۔ انھوں نے کہ کہ اس اقدامات سے ملک کے اندر فائیو جی کی تنصیب میں ایک سال کی تاخیر ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے اور اس سے قبل اس برس کے اوائل میں ہواوے پر عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے ڈھائی ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

انھوں نے کہا: ’یہ آسان نہیں تھا مگر برطانیہ میں ٹیلی کام نیٹ ورکس کے لیے درست فیصلہ تھا۔‘

چونکہ امریکی پابندیوں کا اثر مستقبل کے آلات پر پڑے گا اس لیے حکومت نہیں سمجھتی کہ ہواوے کے فراہم کردہ ٹو جی، تھری جی اور فور جی آلات کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔

ان پابندیوں کا اطلاق ہواوے کی براڈبینڈ کِٹس پر بھی ہو گا۔

چِپ کے بارے میں تشویش

برطانیہ نے آخری بار جنوری میں ٹیلی مواصلات کے ڈھانچے میں ہواوے کے کردار پر نظرثانی کی تھی اور اسے آلات فراہم کرنے کی اجازت تو برقرار رکھی تھی مگر مارکیٹ میں اس کے حصے کو محدود کر دیا تھا۔

مئی میں امریکہ نے ہواوے پر نئی پابندیاں لگا دی تھی اور کمپنی کے اپنی چِپ بنانے میں خلل پیدا کر دیا تھا۔

اس کے سبب سکیورٹی حکام اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اگر کمپنی اپنے آلات کے لیے کسی تیسرے فریق سے چِپ بنواتی ہے تو اس کی مصنوعات کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

اولیور ڈاؤڈن نے اس فیصلے کی بنیاد قومی سلامتی کے ادارے جی سی ایچ کیو کی ایک رپورٹ کو قرار دیا۔

مگر اس فیصلے کے کچھ سیاسی پہلو بھی ہیں۔ مثلاً برطانیہ کی امریکہ کے ساتھ تجارتی ڈیل کرنے کی خواہش، اور کورونا وائرس سے نمٹنے اور ہانگ کانگ کے معاملے میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی۔

ہواوے کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اس کے 1600 ملازمین ہیں اور وہ برطانیہ میں چینی سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ ہے۔

ہواوے نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ 2019 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں اس برس پہلی ششماہی میں اس کی فروخت میں 13 فیصد (تقریباً 65 ارب ڈالر) اضافہ ہوا ہے۔

اس میں برطانیہ کا حصہ بہت قلیل ہو گا۔ برطانیہ میں ہواوے کے سربراہ لارڈ براؤن نے حال ہی میں بتایا تھا کہ یہاں اس نے اب تک 20 ہزار سٹیشن نصب کیے ہیں جبکہ عالمی سطح پر انھیں پانچ لاکھ سٹیش نصب کرنے کی توقع ہے۔

کمپنی کو خدشہ ہے اور امریکا کو امید کہ دوسرے ممالک بھی برطانیہ کی تقلید کریں گے۔

اگرچہ برطانیہ کا اپنا فیصلہ بدلنے کا امکان کم ہے تاہم ہواوے کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی فیصلہ سازوں کو اس پر نظرثانی کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گی۔