امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اُن غیر ملکی طلبا کو ملک بدر کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہوگئی ہے جن کی تعلیمی سرگرمیاں کورونا کے باعث مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں۔

امریکہ کی حکومت کی جانب سے یہ یو ٹرن نئی پالیسی کے اعلان کے ایک ہفتے کے بعد ہی لیا گیا ہے۔

اس سے قبل چھ جولائی کو امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) نے کہا تھا کہ امریکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم وہ غیر ملکی طلبا جن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں، ان کا ملک میں رہنا غیر قانونی قرار پائے گا۔

محکمے نے کہا تھا کہ طلبا کو یا تو امریکہ چھوڑنا ہوگا، اور اگر وہ فال 2020 یعنی خزاں کے سیمیسٹر کے دوران امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں ایسا کوئی کورس لینا ہوگا جہاں آف لائن کلاسیں جاری ہوں۔

امریکہ کی صفِ اول کی یونیورسٹیوں ہارورڈ اور میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے اس منصوبے پر حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

اب میساچوسیٹس کے ضلعی جج ایلیسن بروز کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان تصفیہ ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا امریکی ویزا پالیسی مسلمان مخالف ہے؟

امریکہ میں پھنسے انڈین اور پاکستانی طلبا کن حالات میں ہیں؟

آن لائن کلاسیں لینے والے بین الاقوامی طلبہ اب امریکہ میں نہیں رہ سکیں گے

امریکہ: ’پوری غیر ملکی طلبا برادری کو یہ محسوس کروایا گیا کہ وہ ایک بوجھ ہیں‘

اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس معاہدے کے تحت مارچ میں وبا پھوٹنے پر جو پالیسی نافذ کی گئی تھی، اسے بحال کیا جائے گا جس کے مطابق غیر ملکی طلبا ضرورت ہونے پر اپنی کلاسیں آن لائن بھی لے سکتے ہیں اور اسی دوران تعلیمی ویزا پر ملک میں قانونی طور پر مقیم رہ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہر سال دنیا بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رُخ کرتے ہیں جس سے وہاں کی یونیورسٹیوں کو خاصی آمدنی ہوتی ہے۔

ہارورڈ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر اگلے تعلیمی سال سے کورسز آن لائن پڑھائے جائیں گے جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ایم آئی ٹی نے بھی کہا تھا کہ وہ آن لائن تعلیم ہی جاری رکھے گی۔

گذشتہ ہفتے کی پالیسی میں کیا تھا؟

غیر ملکی طلبہ کو گذشتہ ہفتے مطلع کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے رواں سال فال سیمیسٹر میں کسی ایسے کورس میں اندراج نہیں کروایا جہاں ذاتی طور پر حاضری ضروری ہو، تو انھیں امریکہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جو طلبہ مارچ میں تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے اپنے ممالک کو لوٹ گئے تھے ان کے لیے اعلان میں کہا گیا تھا کہ اگر اُن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں تو انھیں واپس نہیں لوٹنے دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام نے ابتدائی طور پر غیر ملکی طلبہ کو سپرنگ اور سمر 2020 میں امریکہ میں رہتے ہوئے آن لائن کلاسیں لینے کی اجازت دی تھی۔

تاہم چھ جولائی کو ادارے نے کہا تھا کہ وہ طلبہ جو ایسے کسی کورس میں مندرج نہیں جس میں ذاتی طور پر حاضری ضروری ہو، انھیں ملک بدری تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کون سے ویزا متاثر ہوئے تھے؟

ان ضوابط کا اطلاق ایف ون اور ایم ون ویزا کے حامل افراد پر ہونا تھا جو طلبہ اور ہنری تربیت حاصل کر رہے افراد کو دیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق محکمے نے مالی سال 2019 میں تین لاکھ 88 ہزار 839 ایف ویزے اور نو ہزار 518 ایم ویزے جاری کیے تھے۔

امریکہ کے محکمہ تجارت کے مطابق غیر ملکی طلبا کی وجہ سے سنہ 2018 میں امریکی معیشت کو 45 ارب ڈالر (36 ارب پاؤنڈ) کا فائدہ ہوا۔

یونیورسٹیوں کا کیا ردِ عمل تھا؟

دو دن کے بعد ہارورڈ اور ایم آئی ٹی نے حکومت کی ان ہدایات کی منسوخی کے لیے مقدمہ دائر کر دیا۔ درجنوں دیگر یونیورسٹیوں نے بھی عدالتی دستاویزات پر اپنی حمایت کے دستخط کیے۔

ان 59 یونیورسٹیوں نے اپنی حمایتی دستاویز میں مؤقف اختیار کیا کہ 'اصل مقصد طلبہ کے مکمل کورسز میں اندراج کو یقینی بنانا یا سٹوڈنٹ ویزا پروگرام کی ساکھ برقرار رکھنا نہیں، بلکہ یونیورسٹیوں پر دوبارہ کھلنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔'

اس کے علاوہ ریاست میساچوسیٹس، کیلیفورنیا سمیت کم از کم 18 ریاستوں کے اٹارنی جنرل بھی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں گئے۔

صدر ٹرمپ یونیوسٹیوں اور سکولوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ نئے تعلیمی سال میں طلبہ کی کلاس رومز میں واپسی کو یقینی بنائیں۔

ان کے مطابق کئی ماہ کی افراتفری اور ہنگامی حالت کے بعد یہ حالات کی بہتری کا ایک اشارہ ہوگا جو نومبر میں ان کے دوبارہ انتخاب کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

مگر کئی تعلیم دانوں کو طلبہ کی صحت کے حوالے سے خدشات ہیں اور وہ وبا کے دوران سماجی دوری کے ضوابط کی پاسداری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔