امریکہ میں ڈینیئل لیوس نامی شہری 17 برسوں میں وفاقی سطح پر پہلے قیدی ہیں جنھیں سزائے موت دی گئی ہے۔

ابتدائی طور پر پیر کو ایک جج کے فیصلے کے بعد سزائے موت کے متعدد کیسوں پر عمل رک گیا کیونکہ جج نے کہا تھا کہ محکمہِ انصاف کے لیے ابھی حل طلب قانونی چیلنج موجود ہیں۔

سزا پانے والے قیدیوں کا کہنا تھا کہ مہلک انجیکشن سے سزائے موت ایک ’ظالمانہ اور غیر معمولی‘ عمل ہے۔

سپریم کورٹ نے چار کے مقابلے میں پانچ ووٹ سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ’پھانسیاں منصوبے کے مطابق دی جا سکتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکہ: قیدی کو تجرباتی ٹیکے سے سزائے موت

سعودی عرب سزائے موت کے معاملے میں سرفہرست

گذشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ وفاقی سطح پر سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گی۔

اس وقت ایک بیان میں اٹارنی جنرل ولیم بار نے کہا تھا ’محکمہ انصاف قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتا ہے اور ہم اس چیز کے ذمہ دار ہیں کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ ہمارے نظام انصاف کے ذریعے عائد سزا پر عمل درآمد ہوتا ہوا دیکھیں۔‘

لی نامی مجرم کا نشانہ بننے والے متاثرین کے کچھ رشتہ داروں نے انڈیانا میں ان کی پھانسی کی مخالفت کی تھی اور اس میں تاخیر کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اس میں شرکت کرنا انھیں کورونا وائرس کے خطرے سے دو چار کر سکتا ہے۔

81 سالہ ایرلین پیٹرسن نے، جن کی بیٹی، داماد اور نواسی لی کے ہاتھوں مارے گئے تھے، کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ 47 سالہ لی کو جیل میں عمر قید کی سزا دی جائے، وہی سزا جو ان کے ساتھیوں کو دی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو ایک سیاسی فیصلے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پھانسی کے خلاف مہم چلانے والوں نے اس کے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس کے بعد اس قسم کے مقدمات کی بھیڑ لگ جائے گی۔

اس سے قبل جس وفاقی قیدی کو پھانسی ہوئی تھی وہ خلیج جنگ کے سابق فوجی 53 سالہ لوئس جونس جونیئر تھے اور انھوں نے 19 سالہ فوجی ٹریسی جوئی میک برائیڈ کا قتل کیا تھا۔

سزائے موت کے قیدی کون ہیں؟

ڈینیئل لیوس لی پر سنہ 1996 میں آرکینساس میں ایک کنبہ پر تشدد اور قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، انھوں نے قتل کے بعد ان کی لاشیں ایک جھیل میں پھینک دی تھیں۔

ڈینیئل لیوس لی کی پھانسی کو دسمبر میں ملتوی کر دیا گیا تھا جسے 13 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے دیا جانا تھا لیکن ضلعی جج تانیا چٹکن نے اسے روک دیا تھا۔

جج نے کہا تھا کہ ’عدالت۔۔۔ کا خیال ہے کہ اگر مدعیوں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو عدالت ان کے ذمہ داروں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے زیادہ تکلیف نہیں دے سکتی۔‘

لیکن ان کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’اس معاملے میں مدعیوں نے وفاقی عدالت کے ذریعہ آخری لمحے میں مداخلت کا جواز پیش کرنے کی ضرورت کو پیش نہیں کیا ہے۔‘

مستقبل قریب میں مزید تین افراد کو وفاقی طور پر سزائے موت دی جانی ہے۔ اور یہ تینوں قیدی ڈینیئل لیوسلی کی طرح بچوں کے قاتل ہیں:

  • ویزلی ایرا پرکی کو سنہ 2003 میں میسوری میں ایک 16 سالہ بچی کو ریپ اور قتل کا مرتکب پایا گیا تھا۔ انھوں نے لڑکی کے جسم کے ٹکڑے کیے، اسے جلایا اور پھر ایک گندے تالاب میں پھینک دیا۔ انھیں بدھ کے روز پھانسی دی جانی ہے۔
  • ڈسٹن لی ہونکن کو سنہ 2004 میں آئیووا میں چھ اور دس سال کی دو لڑکیوں سمیت پانچ افراد کو گولی مارنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ انھیں جمعہ کو سزائے موت دی جانی ہے۔
  • کیتھ ڈوین نیلسن کو سنہ 2001 میں میسوری میں ایک چرچ کے پیچھے دس سالہ بچی کو ریپ اور قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ انھیں اگلے مہینے پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی اور ریاستی پھانسی میں کیا فرق ہے؟

امریکی نظام عدل کے تحت جرائم کی سماعت قومی سطح پر وفاقی عدالتوں میں ہو سکتی ہے یا پھر علاقائی سطح پر ریاستی عدالتوں میں کی جا سکتی ہے۔

جعلی کرنسی یا میل چوری جیسے کچھ جرائم کی سماعت خود بخود وفاقی سطح پر ہوتی ہے، جن میں ایسے معاملات بھی شامل ہیں جن میں امریکہ خود ایک پارٹی ہو یا ان میں آئین کی خلاف ورزیاں ہوں۔ اس کے علاوہ دوسرے مقدمات کی بھی وفاقی عدالتوں میں سماعت ہو سکتی ہے لیکن اس بات کا فیصلہ جرم کی سنگینی کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

سنہ 1972 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے ذریعہ سزائے موت کو ریاستی اور وفاقی سطح پر کالعدم قرار دیا گیا تھا اور اس کے تحت سزائے موت کے تمام موجودہ قوانین کو منسوخ قرار دیا گیا تھا۔

سنہ 1976 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ریاستوں کو سزائے موت کی بحالی کی اجازت دی گئی اور سنہ 1988 میں حکومت نے ایسی قانون سازی کی جس کے تحت اسے وفاقی سطح پر دوبارہ بحال کیا گیا۔

سزائے موت کے انفارمیشن سینٹر کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق سنہ 1988 سے 2018 کے درمیان وفاقی معاملات میں 78 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن صرف تین افراد کو پھانسی دی گئی۔ فی الحال ملک میں موت کی سزا کاٹنے والے 62 ایسے قیدی ہیں جنھیں وفاق کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔

امریکہ میں سزائے موت

سزائے موت پانے والے چاروں افراد سفید فام ہیں لیکن امریکہ میں سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والوں میں نسلی امتیاز تشویش کا باعث ہے۔

سزائے موت کے انفارمیشن سینٹر کی اطلاعات کے مطابق ملک میں سیاہ فام افراد کی آبادی صرف ساڑھے 13 فیصد ہے لیکن پھانسی پانے والوں میں ان کی شرح 34 فیصد ہے جبکہ ابھی جن کو پھانسی ہونی ہے ان میں ان کی تعداد 42 فیصد ہے۔

غیر منافع بخش تنظیم کے مطابق:

  • امریکہ کی 28 ریاستوں میں سزائے موت ایک قانونی سزا ہے
  • سنہ 1976 سے لے کر اب تک ایک ہزار 519 افراد کو پھانسی دی گئی ہے
  • سنہ 1976 کے بعد سے ٹیکساس میں سب سے زیادہ سزائے موت (570) دی گئی ہے، اس کے بعد ورجینیا (113) اور اوکلاہوما (112) ہے
  • یکم جنوری 2002 تک امریکہ میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد دو ہزار 620 تھی
  • کیلیفورنیا میں سزائے موت کے قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد 725 قیدی ہیں لیکن 1976 سے اب تک صرف 13 سزائے موت پر عمل در آمد ہو سکا ہے
  • زیادہ تر سزائے موت پر مہلک انجیکشن (1339) کے ذریعہ عمل در آمد کیا گیا ہے جبکہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعہ صرف تین سزاؤں پر عمل در آمد کیا گیا ہے
  • سنہ 2002 سے ’ذہنی امراض میں مبتلا‘ ک ملزمان کو پھانسی دینا غیر قانونی ہے