امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے بحیرہ جنوبی چین کے اندر چند علاقوں میں موجود قدرتی وسائل کو حاصل کرنے کی چینی جدوجہد 'مکمل طور پر غیر قانونی' ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیجنگ کی جانب سے متنازع پانیوں 'کو کنٹرول کرنے کے لیے ہراساں کرنے کی مہم' غلط ہے۔

جواباً چین نے کہا ہے کہ امریکہ 'جان بوجھ کر حقائق اور بین الاقوامی قوانین کو مسخ کرتا ہے۔'

چین اس علاقے میں مصنوعی جزیروں پر فوجی اڈے بنا رہا ہے تاہم اس علاقے پر برونائی، ملائیشیا، فلپائن، تائیوان اور ویتنام بھی دعوے دار ہیں۔

ان ممالک کے درمیان بحیرہ جنوبی چین پر علاقائی جنگ صدیوں سے جاری ہے مگر حالیہ سالوں میں یہاں تناؤ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

بیجنگ کا دعویٰ 'نائن ڈیش لائن' کہلانے والے علاقے پر ہے اور اس نے اپنے دعوے کو تقویت دینے کے لیے یہاں جزیرے بنائے ہیں اور اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

متنازع جزائر کے قریب امریکی جہازوں کی آمد، چین کی تنبیہ

متنازع جزیرے پر چینی بمبار طیاروں کی لینڈنگ

’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

ویسے تو یہ علاقے بالعموم غیر آباد ہیں مگر یہاں جزیروں کی دو ایسی لڑیاں موجود ہیں جن میں قدرتی وسائل کے ذخائر موجود ہوسکتے ہیں۔ یہ سمندر جہاز رانی کا ایک راستہ بھی ہے اور یہاں بڑے پیمانے پر ماہی گیری بھی کی جاتی ہے۔

اپنے سالانہ دفاعی جائزے میں جاپان نے کہا کہ اس علاقے میں چین کی بحری سرگرمیاں قابلِ تشویش ہیں۔ جاپان نے کہا کہ بیجنگ بحرِ مشرقی اور جنوبی چین میں سٹیٹس کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مائیک پومپیو نے کیا کہا؟

پیر کو ایک بیان میں پومپیو نے بحیرہ جنوبی چین میں جزائر سپریٹلی پر چین کے دعووں کی مذمت کی اور کہا کہ بیجنگ کے پاس 'اس خطے میں یکطرفہ طور پر اپنی مرضی نافذ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔'

انھوں نے کہا کہ امریکہ بیجنگ کی جانب سے ویتنام، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے پانیوں کے قریب چین کے دعووں کو مسترد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ پہلے کہہ چکا ہے کہ وہ سرحدی تنازعات میں کسی فریق کی حمایت نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ '[عوامی جمہوریہ چین] کی جانب سے ان پانیوں میں دوسری ریاستوں کی ماہی گیری یا تیل نکالنے کی سرگرمیوں کو ہراساں کرنا، یا یکطرفہ طور پر خود یہ سرگرمیاں کرنا غیر قانونی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'دنیا بیجنگ کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کو اپنی بحری سلطنت کے طور پر چلائے۔'

چین کا ردِ عمل کیا تھا؟

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں واشنگٹن ڈی سی میں چینی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ 'جان بوجھ کر حقائق اور بین الاقوامی قوانین بشمول اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قوانین کو مسخ کرتا ہے۔'

اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ 'خطے کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور چین اور بحری خطے کے دیگر ممالک کے درمیان مخاصمت کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔'

'یہ تمام الزامات مکمل طور پر بلاجواز ہیں۔ چین اس کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔'

امریکی وزیرِ خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ 'اپنے جنوب مشرقی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ کھڑا ہے اور سمندروں میں موجود وسائل پر ان کی خود مختاری کا تحفظ کرے گا۔'

انھوں نے کہا کہ یہ مؤقف 'بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہے۔'

بحرِ جنوبی چین کے تنازعے کی وجہ کیا ہے؟

اس سمندر میں نہایت اہم بحری راستے ہیں اور حالیہ سالوں میں یہ چین اور دیگر اقوام کے درمیان تنازعے کی وجہ بنا ہے۔ ان تمام ممالک کا اس سمندر میں جزیروں کی دو غیر آباد لڑیوں پیراسیلز اور سپریٹلی پر دعویٰ ہے۔

چین سب سے بڑے خطے پر ملکیت کا دعوے دار ہے اور اس کے مطابق اس کا حق صدیوں پرانا ہے۔

یہ پورا علاقہ ماہی گیری کے لیے زرخیز ہے اور مانا جاتا ہے کہ یہاں تیل اور گیس کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اس علاقے میں اپنی فوجی قوت بڑھا رہا ہے اور یہ چین پر تنقید کے ساتھ ساتھ بار بار اس علاقے میں اپنے جہاز بھیج کر چین کو غصہ دلاتا ہے۔

اگست 2018 میں بی بی سی کی ایک ٹیم امریکی فوج کے طیارے میں بحیرہ جنوبی چین کے جزائر کے اوپر سے گزری تھی۔ ریڈیو پیغام میں پائلٹس سے کہا گیا کہ وہ 'فوراً' اس علاقے سے نکل جائیں تاکہ 'کوئی غلط فہمی نہ پیدا ہو۔'

چند ماہ قبل چین نے اس متنازع خطے میں اپنے بمبار طیارے بھی اتارے تھے تاکہ جزیروں پر فوجی مشقیں کی جا سکیں۔

چین امریکی بحریہ پر علاقائی معاملات میں مداخلت اور اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔