لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اپنے پرانے معاشقوں کے بارے میں سوچنے پر بھی مجبور کیا ہے جو اچانک ختم ہو گئے تھے۔

یہ ان چند کہانیوں کا انتخاب ہے جو ہمیں ان لوگوں نے بھیجی ہیں جنھوں نے ہماری ایک کہانی 'لاک ڈاؤن میں میرے سابق محبوب کی جانب سے موصول ہونے والا معذرت نامہ' پر اپنا ردعمل پیش کیا۔

’ہم ایک دوسرے کا ماضی بھول گئے، اب شاید ہمارا ایک مستقبل ہو‘

اس برس مئی کے وسط میں مجھ سے میری سابقہ گرل فرینڈ نے رابطہ کیا۔ اس نے واٹس ایپ پر صرف ایک سادہ سا 'ہائے' لکھا تھا۔

اُس نے ایک چھوٹا سے تُکا لگایا تھا کہ شاید گذشتہ آٹھ برسوں سے میرا پُرانا نمبر ہی چل رہا ہو اور اس کا اندازہ صحیح نکلا۔

میری سابقہ گرل فرینڈ اور میں سنہ 2009 میں ایک برس کے لیے دوست بنے پھر دو برس تک ہمارے درمیان تعلقات پیچیدہ صورت اختیار کر گئے تھے۔ ہم دونوں کے درمیان تعلقات کا اختتام خوشگوار حالات میں نہیں ہوا تھا۔

میرے اِس سے پہلے بھی دوسروں سے تعلقات بنے تھے اور بعد میں بھی بنے، لیکن وہ ایک ایسا تعلق تھا جو ختم ہوا تھا، جس سے میں مستقل زندگی بسر کرنا چاہتا تھا اور جس کے بارے میں وہ محسوس کیا جو کسی اور کے بارے میں محسوس نہیں کیا تھا۔

اُس سادہ سے واٹس ایپ کے پیغام نے ہم دونوں کے درمیان دوبارہ سے بات چیت کا سلسلہ جوڑ دیا جس نے گذشتہ چھ ہفتوں سے ہماری نیندوں کو اڑا دیا ہے۔

ہم نے کئی پیغامات کا تبادلہ کیا، ویڈیوز کالز کیں اور لاک ڈاؤن کی حد میں رہتے ہوئے ایک مرتبہ بالمشافہ ملاقات بھی کی ہے۔ کئی مرتبہ ہم صبح سورج طلوع ہونے تک چیٹ کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آن لائن ڈیٹنگ اور چھت پر ڈِنر، لاک ڈاؤن میں ڈیٹنگ کی کہانیاں

کیا خود ساختہ تنہائی سے رشتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

کیا کورونا وائرس کی وبا کے دوران سیکس کرنا محفوظ ہے؟

ایسا لگتا ہے کہ جو بھی اتنے برسوں پہلے ہمارے درمیان تعلق میں بگاڑ پیدا ہوا تھا وہ ہم دونوں بھول گئے ہیں۔ ہم دونوں اب پہلے کی نسبت زیادہ عمر کے ہو چکے ہیں، زیادہ سمجھدار ہو چکے ہیں اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرسکتے ہیں۔

گذشتہ دو ماہ میں کئی باتیں بہت تیزی سے آگے بڑھی ہیں۔ تاہم مستقبل کے بارے میں کوئی پیشن گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا، لیکن فی الحال ایسا لگتا ہے کہ ہمارا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ ہم دوبارہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ہوجائیں گے، لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم انتظار کریں کہ ہم اُس وقت کیا محسوس کریں گے جب ہم دوبارہ معمول کی زندگی میں واپس آئیں گے۔

وبا نے ناقابلِ بیان مسائل اور مصائب پیدا کیے ہیں، لیکن ایک لحاظ سے اس کی وجہ سے دو افراد دوبارہ سے اپنے تعلقات بحال کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں جنھیں اصولی طور پر ایک دوسرے سے جدا ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

مائیکل، برطانیہ

ایک خواب کے بعد مجھے اپنے سابق دوست سے رابطہ کرنا پڑا

سنہ 2009 میں میری ایک شخص سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات اچانک ہوئی تھی۔ میں جہاں رہتا ہوں اس کے سامنے سڑک کی دوسری جانب شاپنگ کر رہا تھا۔

اس نے مجھے 'ہائے' کہا اور میں نے بھی کہا۔ اور جب میں گھر پہنچا تو سامان رکھ کر میں دوبارہ واپس وہیں گیا کیونکہ میں نے محسوس کیا تھا کہ اس نے مجھے پسند کیا تھا۔ میں نے ایسا ظاہر کیا کہ میں اس سٹور میں کچھ لینا بھول گیا ہوں۔ ہم وہاں رُکے، اس نے میرا نمبر مانگا۔

ہم دونوں کو ایک دوسرے سے پیار ہوگیا۔ لیکن اس نے مجھے بتایا کہ وہ بائی سیکشؤل (مرد اور عورتوں دونوں سے جنسی تعلق رکھنے والا) ہے، اگرچہ بعد میں اس نے تسلیم کیا کہ وہ میری طرح ہم جنس پرست ہے اور اس بات کو کھل کر بیان نہیں کرسکا کہ اس کے خاندان والے اور دوست احباب کیا کہیں گے۔

اگرچہ میں جیمز سے اس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا، لیکن مجھے پتا چلا کہ میں اس کے باپ کو جانتا ہوں جو میری ہی بلڈنگ میں رہتا ہے۔

کئی برس تک خفیہ طور ملاقاتوں کے بعد ایک دن اچانک وہ غائب ہوگیا اور میری اس سے دو برس تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

پھر ایک دن وہ اچانک نمودار ہوا اور اس نے رابطہ کیا۔ ہماری ملاقات ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کی ایک عورت سے دوستی ہو گئی تھی جس سے وہ شادی کرنے والا تھا۔

بہرحال ایک بات سے دوسری بات نکلتی آئی، ہم نے ایک دوسرے کا بوسہ لیا، ایک دوسرے کے ساتھ مباشرت کی اور پھر دوبارہ سے ایک دوسرے سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ تاہم اس نے اصرار کیا کہ اس کی منگیتر کو ہماری ملاقاتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہونا چاہیے۔

ایک دن وہ مجھ سے ملنے آ رہا تھا تو وہ مجھ سے ٹیکسٹ میسیجنگ پر صاف الفاظ میں یہ طے کر رہا تھا کہ وہ جنسی مباشرت کے دوران کیا کرنا چاہے گا۔ میری طرف روانہ ہونے سے پہلے اپنی منگیتر کے گھر پر وہ فیس بک کو لاگ آن چھوڑ آیا۔ اس کی منگیتر نے ہمارے پیغامات کا تبادلہ پڑھ لیا۔

ان دونوں کے درمیان علحیدگی ہو گئی اور ہماری آپس میں ملاقاتیں جاری رہیں۔ لیکن مجھے اس کی جنسی ترجیحات کے بارے میں شک ہوگیا۔ میں نے اُس کے ساتھ اپنے تعلق کو ختم کردیا کیونکہ وہ اپنے پرانے تعلق سے مکمل طور پر باہر آنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس کے علحیدگی کے وقت سے اس سے دو بچے ہو چکے تھے۔

لاک ڈاؤن کے شروع ہونے کی تین ہفتوں کے بعد میں نے اس کو خواب میں دیکھا، حالانکہ میں نے اُسے آٹھ برسوں سے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ میرے پاس اس کے پیغامات کا تمام ریکارڈ محفوظ تھا، جن میں وہ بھی شامل تھے جن کو دیکھنے کے بعد اس کی گرل فرینڈ سے اس کی علحیدگی ہوئی تھی۔ میرے پاس اس کا پُرانا فون نمبر بھی محفوظ تھا۔

میں نے اسے ٹیکسٹ کیا اور اس کی خیریت دریافت کی۔ دو دنوں کے بعد مجھے ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا اور یہ اس کی کال تھی۔ ہم نے تیس منٹ تک گپ شپ لگائی اور میں نے کہا ’میں تمھیں فون کرنا چاہتا تھا۔‘

اس نے کہا کہ ہمیں آپس میں بات چیت نہیں کرنی چاہیے اور اگر اس کی مسز اُس کی فیس بک والے پیغامات کا تبادلہ نہ دیکھتی تو ہم آج بھی ایک دوسرے سے مل رہے ہوتے۔

اس نے کہا ہم دونوں نے جو بھی کیا اس کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ اُس نے کہا کہ وہ سمجھتا تھا کہ میں نے اسے فون کیوں کیا تھا اور شاید ہم آٹھ برس میں ایک دوسرے سے بات چیت کریں۔

مارک، رگبی، برطانیہ

ندامت سے نجات بچانے کے لیے دوست کو معاف کیا

میں نے اپنے ایک اہم سابق دوست سے اسے یہ بتانے کے لیے رابطہ کیا کہ میں نے اسے معاف کردیا ہے۔ اس نے ویسے کوئی خاص بات نہیں کی تھی جس کی وجہ سے میں بہت زیادہ ناراض ہوتی، لیکن ہم 15 برس قبل تقریباً پانچ سال تک ایک ساتھ رہے تھے۔ اور اس نے مجھے بہت زیادہ پریشان کیا تھا۔

اگرچہ اس وقت میرا دل بہت ٹوٹ چکا تھا جس نے مجھے بہت پریشان کردیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ہمیشہ اس حالت پر بہت بُرا محسوس کرتا تھا۔ پھر ہم اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے اور نئی زندگیاں شروع کردیں۔

مجھے شادی کیے دس برس ہو چکے ہیں اور میرے تین بچے ہیں۔ وہ اب شادی کرنے والا ہے اور میں شاید اس کے لیے دل سے یا شاید ہمیشہ کے لیے، پیار کرتی ہوں اور اس سے اُنسیت رکھتی ہوں، اور اس کی صحیح معنوں میں دیکھ بھال بھی کرنا چاہتی ہوں۔

کووِڈ 19 کی وبا کے آغاز کے وقت میں نے احساس کیا کہ ہر شخص اس وائرس سے محفوظ نہیں رہ سکے گا اور میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ میں اب اُس سے ایک محبت کی یاد کے دور میں فلسفیانہ اور مثبت دور میں پہنچ چکی ہوں، اور اب میں سب کچھ معاف کرچکی ہوں۔

میں نے اس طرح کے کوئی واضح الفاظ تو استعمال نہیں کیے لیکن میں نے اُسے بتا دیا کہ ہم نے جو اکھٹا وقت گزارا وہ حقیقت میں کتنا زبردست تھا اور اس سے بننے والی یادیں کتنی گہری تھیں، اور بنیادی طور پر میں نے اُسے اس ندامت سے آزاد کردیا جو اسے محسوس ہوتی ہوگی۔

اس کا جواب بہت ہی کھلے دل کے ساتھ تھا، قابلِ مجروح، محبت والا (رومانوی قسم کا نہیں) تشکر اور دل پر اثر کرنے والا تھا۔ جب میں اس کی دوست تھی وہ میرے جذبات کی تشفی کے لیے موجود نہیں ہوتا تھا۔ اور میرا خیال نہیں تھا کہ یہ اس کے لیے اتنا اہم ہو گا۔

پھر پتا چلا کہ زیادہ سے زیادہ تبادلہ خیالات ہی ایک ذریعہ تھا جہاں میں اس کے زیادہ کام آسکتی تھی۔

یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ کس طرح کووِڈ-19 کی تاریں ہماری زندگی کے پور پور میں داخل ہو چکی ہیں۔ میں انسانی رویوں میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو بہت پیار کرتی ہوں، کچھ ادھر سے ادھر کرنا یا بڑا کام کرنا، ہمارے اتنے بڑے وجود سے کہانیوں کا جنم لینا۔

یہ سوچنے کے لیے میں نے اپنے میں ہمت پیدا کی کہ اسے میری معافی کی ضرورت ہے۔ وہ شاید میری بات کو پسند کرتا اور اسے جھٹک دیتا، لیکن میں نے یہ خطرہ مول لینے میں کوئی آر محسوس نہیں کی۔

اگر آج ہم دونوں میں سے کوئی ایک غیر متوقع مر جائے تو یہ معاف کرنے کا تجربہ ایک مثبت تاثر چھوڑے گا اور ہمارے لیے محبت کی ایک کہانی کے طور زندہ رہے گا۔

کیٹی، نیو ساؤتھ ویلز، آسٹریلیا

معاف نہیں کیا، لیکن معافی مانگنے پر اس کی عزت کرتی ہوں

مجھے لاک ڈاؤن کے دوران واٹس ایپ پر اپنے سابقہ شوہر سے معذرت کا پیغام ملا۔ جسے میں نے دو برس پہلے طلاق دی تھی۔

اس کا پیغام اچانک ملا تھا۔۔۔ پچھلے اٹھارہ مہینوں میں ہماری جتنی بھی بات ہوئی تھی وہ بہت ہی مختصر اور اپنے بچے سے ملاقاتوں کے لیے معاملات طے کرنے تک محدود تھیں۔

اس کا نیوی کی ہی افسر کے ساتھ معاشقہ چل پڑا تھا۔ ان دونوں کے درمیان یہ معاشقہ مزید پانچ برس تک چلتا رہا اور پھر مجھے معلوم ہوگیا اور میں نے اس کی باز پُرس شروع کردی۔ میں اپنے دو برس کے بیٹے کے ساتھ گھر پر تھی، اس کا جہاز سے گھر آنے کا بے صبری کے ساتھ انتظار کرتی تھی۔

جب میں نے طلاق حاصل کرنے کے کاغذات جمع کرائے تھے تو اس وقت ہماری شادی کو دس برس ہو چکے تھے۔ وہ اپنی ساتھی افسر کے گھر منتقل ہو گیا تھا اور ہمیں عملاً بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔

یہ سب کچھ میرے لیے بہت زیادہ دل خراش تھا لیکن میں نے کبھی بھی اپنے جذبات کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا اور اس سارے عرصے میں اپنے ضبط اور شائستگی کو برقرار رکھا۔ اس نے اس سارے معاملے کی کبھی وضاحت نہیں دی اور یقیناً اس نے کبھی معذرت بھی نہیں کی۔ ان حالات کی وجہ سے میرے لیے اپنے آپ کو سنبھالنا بہت ہی طویل اور مشکل ہو گیا تھا، اور جب اُس نے اپنی نئی دوست کو بھی اٹھارہ ماہ بعد چھوڑ دیا تو میرا خیال تھا کہ وہ اب اپنی انا کے مسئلے سے بالا ہو کر اپنی غلطی کو تسلیم کرلے گا۔

پھر دو ہفتے قبل اس نے مجھے ایک پیغام بھیجا کہ اسے ہر بات کا بہت افسوس ہے۔ اس کا پیغام طویل تھا اور لگتا تھا کہ اس نے بہت سوچ سمجھ کے لکھا تھا۔ میں اسے پڑھ کے بہت روئی، میں نے محسوس کیا جیسے طلاق سے پیدا ہونے والی تلخی اب حتمی طور پر ختم ہو گئی ہے اور اب ہم ذہنی طور پر اس سارے دور سے آگے بڑھ گئے ہیں۔

یہ سب اچانک ہوا تھا۔ یقیناً اس نے لاک ڈاؤن کے دوران کی علحیدگی میں سوچا ہو گا کہ وہ اپنی زندگی میں اب کس مقام پر کھڑا ہے۔ میں نے اسے معاف نہیں کیا ہے لیکن اب اس نے میری نظر میں ایک عزت حاصل کر لی ہے۔

ڈیبرا، پلئمتھ، برطانیہ

بتیس برس بیت گئے ہی لیکن میں اُن میں سے ایک سے معذرت کرنا چاہوں گا جن کا دل دکھانے کا مجھے افسوس ہوا تھا

میں ملک کے ایک صنعتی علاقے میں پلا بڑھا تھا اور سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے ایک مقامی فیکٹری میں ایک بے لطف سی ملازمت مل گئی تھی۔

ہر سال کے گزرنے کے ساتھ مجھے وہ علاقہ عام زندگی سے الگ تھلا لگنے لگا اور میری عزلت ترسی بڑھتی گئی۔ میں اپنی معمول کی ہفتہ وار چھٹیوں سے زیادہ کچھ چاہتا تھا جس میں شراب پیوں اور خوش رہوں، بجائے اس کے کہ اس سیاہ مائل عمارت میں بیٹھا رہوں۔

میں نے کام کے سلسلے میں آسٹریلیا کا ایک دورہ کیا جو مجھے بہت پسند آیا، اور میں نے اس فیکٹری میں کام سے اس فرار کے موقعے کے دوران آزادی اور خوشی محسوس کی۔ یہ سنہ 1988 کا وقت تھا جب میں 21 برس کا تھا جب میں پرتھ پہنچا۔ میں نے اپنے آپ کو بہت خوش محسو س کیا۔ ہر شہ نئی، رنگین اور تازہ لگ رہی تھی۔

میں نے مختلف قوموں اور نسلی گروہوں کے لوگوں کو ایک ہوٹل میں دیکھ کر محسوس کیا کہ اس ملک میں قیام میرے لیا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ وہاں ہر شخص کے پاس کوئی مصروفیت تھی، کوئی منصوبہ تھا، کہیں جانے کی منزل تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہی تو وہ جگہ ہے جہاں میں جانا چاہتا تھا۔

سیاہ گھنے بالوں والی حسین دیبا جس نے زیتون کا تیل اپنے جسم پر ملا ہوا تھا اس کا تعلق یوگوسلاویہ سے تھا۔ ہم نے ایک دوسرے سے عہد و پیمان کے بغیر والا تعلق بنا لیا۔ کام کے دوران میں نئے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا، اور ہم ایک دوسرے سے میل ملاقات کرتے رہے۔ دیبا میرے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی اور میری ساتھی بن کے رہنا شروع کردیا۔ لیکن میں نے اس کے خلاف فیصلہ کیا اور ہم دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔

باقی پورا سال ایک مزیدار زندگی کی طرح گزرا

آسٹریلیا سے واپسی پر میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ ایک باقاعدہ پیشے کا آغاز ہوا، شہر کے مضافات میں اچھا سے مکان خریدا اور پھر گھر آباد کر لیا۔

میں عموماً گہری اور سکون کی نیند سوتا ہوں۔ لیکن ابھی لاک ڈاؤن کا آغاز ہی ہوا تھا کہ بتیس برس بعد ایک شب اچانک جاگا اور میں نے دیبا کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ جو جو باتیں ہم کرتے تھے وہ مجھے یاد آنے لگیں۔ یہ خوشگوار نہیں تھیں۔ میں ان سے پریشان ہوا اور شرمندگی محسوس کرنے لگا۔

جب ایک مرتبہ ہم ایک گروپ کے ساتھ باہر گئے ہوئے تھے تو وہ میرے قریب آئی اور اس نے پوچھا کہ کیا میں اس کے ساتھ واپس شام کو جانا چاہوں گا، تو میں نے اسے جواب دیا تھا کہ 'میں پہلے یہ دیکھوں گا کہ ٹیلی ویژن پر کیا آرہا ہے۔'

اُس نے مجھے گالیاں نہیں دیں اور نہ ہی مجھے غصے کی نگاہ سے دیکھا، وہ پُر وقار انداز میں واپس اپنے گروپ کے لوگوں میں چلی گئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں اس وقت اپنی اس بات پر خوش ہوا تھا کیونکہ اس بات سے ایک چھچورے قسم کا مزاح پیدا ہوا تھا۔

چند دنوں تک جان بوجھ کر دیبا سے ہوٹل میں ملنے گریز کرنے کے بعد اس نے ایک دن مجھے تلاش کیا اور کہا کہ اسے معلوم ہے کہ میں اس سے ملنا نہیں چاہتا ہوں اور وہ نہیں چاہتی ہے کہ ہمارے درمیان ایک دوسرے کے لیے برے جذبات ہوں۔ اُسی مہینے بعد میں اُسے خدا حافظ کہے بغیر میں اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم مزید اپنا تعلق جاری رکھتے تو ہم آئیندہ ایک تکلیف دہ موڑ سے بچ نہیں سکتے تھے۔ میں نے یہ مناسب سمجھا کہ میں عدم دلچسپی اظہار کروں اور اسے ایک عام سی بات بنانے کا تاثر پیش کروں، بجائے اس کے کہ مستقبل میں کسی گہرے زخم کا خطرہ پیدا کروں۔ میں نہیں جانتا ہوں کہ اس احساس کے بیدار ہونے میں بتیس برس کا عرصہ کیوں لگا ہے۔

کووِڈ-19 کے اوائل کے دورا میں اس احساس کی بیداری کے بعد سے یہ خیال مسلسل میرے ذہن میں رہا ہے کہ میں نے دیبا کے ساتھ ایسا ہولناک برتاؤ کیوں کیا تھا۔ یہ کوئی مطمئن کرنے والے احساس نہیں ہے کہ میں نے ایک ایسی دوست کا جان بوجھ کر دل توڑا جس سے مجھے انسیت پیدا ہو گئی تھی اور میں اس کا خیال رکھتا تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ میں اس قسم کا شخص ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ میں ہی تھا۔

میرے پاس دیبا کا پتہ نہیں ہے لیکن میری خواہش ہے کہ میں اس سے معذرت کروں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ بعد میں آسٹریلیا میں رکی ہو اور بلقان خطے میں اپنے ملک کی توڑ پھوڑ کے زمانے کی طوائف الملوکی سے بچ گئی ہو۔ وہ اس وقت جہاں بھی ہو گی مجھے یقین ہے کہ وہ ایک پروقار زندگی بسر کر رہی ہوگی۔

مائیکل، برطانیہ

سابقہ دوست تک دوبارہ جانا میری ذہنی صحت کے لیے نقصاندہ ہوگا

میں بس میں سفر کر رہا تھا اور میرے ہیڈ فون پر اڈیل کا گیت ’ہیلو‘ بجنے لگا تو اس دوران میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں اپنے سابقہ دوست مارک کو تلاش کروں جس نے مجھے اس وقت تباہ و برباد کردیا تھا جب میری عمر 20 سال سے زیادہ تھی۔

اس کے کہنے پر ہم نے منگنی کر لی تھی لیکن ہمارا سارا رشتہ خطرے کے سرخ اشاروں سے بھرا ہوا تھا جنھیں میں سرخ گلاب کے پھولوں کے گلاس سے دیکھ ہی نہ پائی۔

میں ویلز میں واپس اپنے گھر آگئی اور یونیورسٹی سے نکالے جانے کے بعد مزید پریشانی میں پڑ گئی۔ میں اب سمجھتی ہوں کہ یہ مجھ پر ڈپریشن کا پہلا دورہ پڑا تھا جس کا میں کئی برس سے شکار تھی۔ اب میری حالت بہتر ہے۔

مارک سفاکانہ برتاؤ کے بعد ارد گرد کی اشیا کو توڑ دیتا تھا۔ ہمارے تعلقات ختم ہونے تک وہ میرے ساتھ مزید کچھ عرصے کے لیے رہتا رہا۔ میں واقعی بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوگئی تھی۔

وہ میری زندگی کا پہلا سچا پیار تھا اور میں نے اس سے اپنی خواہش کے مطابق قطع تعلق کر لیا۔ میں نے اُسے فیس بک پر دیکھا لیکن اب اُس کی پر فائل میں کوئی اور عورت اس کی شریک تھی۔

سنہ 2015 میں میں نے اس کے ایک پرانے ایڈریس پر ایک ای میل بھیجی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر لاک ڈاؤن کے دوران میں نے ایک مرتبہ پھر اس سے رابطے کی کوشش کی، لیکن اس مرتبہ مجھے لگا کہ یہ میرے لیے بہت نقصان دہ ہوگا۔ میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ میں اپنے پرانے زخم کھرید رہی ہوں جو ابھی تک مندمل بھی نہیں ہوئے ہیں، ان زخموں کو دبارہ سے کھول رہی ہوں جنھیں کئی برس پہلے ختم ہوجانا چاہیے تھا۔

میں نے پھر اُسے فیس بک پر تلاش کیا لیکن اب شریک عورت کے ساتھ والا پروفائیل ختم ہو چکا تھا۔ اب مجھے اس کی اکیلے پروفائیل نظر آئی۔ میں نے اس کی تصویر دیکھی اور پھر سے میرے جسم میں مروڑ پڑنا شروع ہو گیا اور لگا کہ مجھے قہہ آجائے گی۔ میں نے اُسے ایک میسیج بھیجا، ایک سادہ سا پیغام ’یہ واقعی تم ہو؟'

میں نہیں جانتی ہوں کہ میں اس کی جانب اب بھی کیوں دیکھتی ہوں۔ اس نے مجھے بہت زیادہ اذیت پہنچائی اور مجھے اس تکلیف سے نکلنے میں ایک لمبا وقت لگا اور میں محسوس کرتی ہوں کہ میں اب کسی سے اپنا رشتہ بنانے کے قابل ہوں۔

اس کی پروفائل پھر غائب ہو گئی۔ ظاہر ہے جب اس نے میرا میسیج دیکھا تو اس نے مجھے بلاک کردیا، اس لیے میری کہانی کا ابھی تک انجام نہیں ہوا ہے اور شاید یہ کبھی بھی نہ ہو۔ شاید اسے اپنے کیے پر واقعی شرمندگی ہو اور وہ رابطہ بحال کرنے کیلیے تیار نہ ہو۔

یہ جو بھی ہے میں اب بھی اپنی زندگی بنانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میرے پاس اچھی ملازمت ہے، میری ذہنی صحت بہت بہتر ہے۔ زبردست دوستوں کا حلقہ ہے اور میں تنہا زندگی گزار رہی ہوں جس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں آج جو بھی ہوں اس پر مطمئن ہوں اور ہر روز حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ میرا درد ختم نہیں ہوا ہے۔ میں اس سے اب بہت آگے بڑھ گئی ہوں۔

ریان، برطانیہ

اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی جب میں نے معاف کرنے کا فیصلہ کیا

لاک ڈاؤن کے دورا بہت سارا وقت ہونے کی وجہ سے میں اپنی زندگی پر مڑ کر نظر ڈالتی رہی اور میں نے اپنے پہلے بوائے فرینڈ کے بارے میں سوچا جب میں سولہ سترہ برس کی تھی۔

تین برس کے انتہائی جذباتی تعلق کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام عمر میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد مجھے اس کے بارے میں کچھ نہ پتا چلا۔

مجھے حال ہی میں محسوس ہوا کہ میں اس سے رابطہ قائم کروں، کیا یہ اس کا صحیح فیصلہ تھا کہ ہم اپنے رستے جدا کرلیں؟

اور پھر میں نے ایک خوش و خرم زندگی بسر کی، اُمید ہے کہ اس کی بھی اچھی زندگی رہی ہو۔ لیکن پھر مجھے پتا چلا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔

میں سوچتی ہوں کہ اگر دوبارہ رابطہ کرنے سے کوئی بھی پریشان نہیں ہوتا ہے، تو کرلینا چاہیے، لیکن اتنی تاخیر نہ کریں جتنی میں نے کی۔ میں نے 62 برس انتظار کیا۔

میرین، نورِچ، برطانیہ