یہ چین کا وہ شہر ہے جہاں سب سے پہلے وائرس کا پتہ چلا تھا اور اسی شہر میں اس پر سب سے پہلے قابو پایا گیا تھا۔ اور اسی شہر سے ہی اس وائرس کے آغاز کی اصل جگہ ڈھونڈنی چاہیے۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی پروپیگنڈا جنگ میں اصل سوال یہ ہے کہ: کیا کورونا وائرس قدرتی ذریعے سے آیا ہے جیسا کہ کئی سائنسدان کہہ رہے ہیں، یا یہ کسی لیبارٹری میں تیار ہوا تھا جہاں سے اس کا اخراج ہوا؟

وُوہان شہر کے مضافات میں ایک گاؤں کے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں میز پر ایک بزرگ خاتون ہاتھوں سے کھٹ کھٹ آواز میں بجاتے ہوئے کچھ گا رہی ہیں۔ اُن کے سامنے ایک اور عورت ہلکی آواز میں سسکیاں لیتی ہوئی رو رہی ہے۔ اس برس فروری کے اوائل میں ان کے 44 برس کے بھائی کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے، اور وہ اس وجہ سے اپنے آپ کو معاف نہ کر پائیں۔

اس تقریب کے بعد مس وانگ، وہ اپنا پورا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں، کہتی ہیں کہ شامان (روحوں سے کلام کرنے والے فرد) کو لحد سے آگے کی دنیا سے پیغام موصول ہوا۔ ان کے بھائی وانگ فے نے انھیں (مِس وانگ کو) کسی بھی ذمہ داری سے بری کر دیا ہے۔

'فے مجھ پر کوئی الزام نہیں دھرتا ہے،' انھوں نے اپنے بھائی کا وہ نام لیا جس سے پورا خاندان اُنھیں بچپن سے پکارتا تھا۔ 'وہ مجھ سے دلجوئی کر رہا تھا اور مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی موت کو امر واقعی سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔'

اُن کے بھائی کووِڈ وارڈ میں ہلاک ہوئے تھے جہاں وہ اپنے رشتے داروں سے مل نہ سکے تھے۔ اُن کے آخری ایام انتہائی پریشان کن ٹیکسٹ میسیجز بھجنے کی کوششوں میں گزرے تھے۔'

اُن میں ایک ٹیکسٹ میں اُنھوں نے لکھا تھا کہ 'میں بہت زیادہ تھک گیا ہوں۔ اِس بیماری نے بہت زیادہ طول پکڑ لیا ہے۔'

مِس وانگ کا اپنے بھائی کی موت کے لیے خود کو ذمہ دار سمجھنا اِس عالمی وبا کے ظالمانہ مضمرات میں سے ایک ہے، یعنی اس وبا کے شکار بننے والے کو اُن کے خاندان سے زبردستی علحیدہ کر دینا۔

یہ بھی پڑھیے

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

’قرنطینہ مرکز جانے سے بہتر ہے کہ گھر پر ہی مر جائیں‘

وائرس کے خوف میں زندگی، ووہان کی لڑکی کی ڈائری

مِس وانگ کہتی ہیں 'میں ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ہسپتال نہ جا سکی۔ جب مجھے پتہ چلا کہ ان کی موت ہو چکی ہے تو میں یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ میرا سارا خاندان اس غم سے نڈھال ہوگیا۔'

اپنے بھائی کے علاج کو لے کر ان کے کئی سوالات ہیں جن کے وہ جوابات چاہتی تھیں۔۔ کیا انھیں بہترین علاج ملا تھا، اور کیا ہم انھیں بچانے کے لیے کچھ اور بہتر کر سکتے تھے؟

مقامی پولیس نے مس وانگ سے کہا تھا کہ وہ ان باتوں کے بارے میں غیر ملکی میڈیا سے بات نہ کریں، اور ان کا پولیس کی اس ہدایت پر عمل نہ کرنا ان کے لیے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک عورت جن سے بات کرنے کا ہم نے انتظام کیا تھا، ان کے پیچھے پیچھے سادہ کپڑوں میں پولیس بھی آئی تھی۔ جب انھوں نے ہماری گاڑی تک پہنچنے کی کوشش کی تو پولیس نے ہمیں روک دیا۔

ہم ووہان کے مشرق میں ایک جھیل کے کنارے تاریکی میں ایک اور شخص سے ملے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اپنے باپ کی موت کے بارے میں بات کرنے کی وجہ سے اُن کے پاس دو مرتبہ پولیس آچکی ہے۔

متاثرہ افراد اور صحافیوں دونوں کے لیے یہ معلوم کرنا کہ ووہان میں یہ وائرس کیسے پھیلا اور کیا اس کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا، کوئی آسان کام نہیں ہے۔

لیکن دنیا بھر میں پھیلنے والی وبا کے مرکز کے بارے میں سوال اٹھانا ایک لازمی امر ہے نہ کہ کوئی شوق کی بات۔

جنوری کے وسط میں وہ دن جب وانگ فے نے اپنے آپ کو بیمار محسوس کرنا شروع کیا تھا تو اس وقت چین میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل تین اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔ آج دنیا بھر میں ایک کروڑ 12 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور وائرس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

شہر کا زوال

مِس وانگ کہتی ہیں ان کے بھائی جو ڈرائیور تھے، وہ ووہان سے باہر کبھی نہیں گئے تھے۔ انھوں نے 40 برس کے عرصے میں چین کے مرکزی خطے میں واقع اس صنعتی شہر کو روبہ زوال ہونے سے لے کر بین الاقوامی سطح کی ترقی کرنے اور ٹرانسپورٹ کا مرکز بنتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن وانگ فے کی زندگی کے آخری ایام اس شہر کے زوال کو دیکھتے ہوئے گزرے۔

جنوری کے اوائل میں ڈاکٹروں کو احساس ہو گیا تھا کہ یہ مرض سنگین قسم کی متعدی بیماری ہے اور انھوں نے اپنی سطح پر ہسپتالوں میں قرنطینے کے قواعد و ضوابط کا نفاذ کردیا تھا۔ لیکن اس خطرناک صورت حال کے باوجود حکام ہیلتھ ورکروں کو خاموش کروا رہے تھے۔

لی وین لیانگ، ایک ڈاکٹر جنھوں نے اپنے ساتھیوں کو اس متعدی بیماری کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیے خبردار کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی سرزنش کی گئی تھی اور انھیں پولیس نے اقبال جرم کے ایک بیان پر دستخط کرنے پر مجبور کیا تھا۔

18 جنوری کے دن تک جب حکام کا اصرار تھا کہ یہ بیماری متعدی نہیں ہے، وانگ فے نے محسوس کرنا شروع کیا کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ ہسپتال گئے جہاں انھیں بخار کے لیے پیراسیٹامول دی گئی اور پھر انھیں گھر واپس بھیج دیا گیا۔ 'انھوں نے اپنی بہن کو بتایا تھا کہ 'وہ کہتے ہیں کہ انسانوں سے انسانوں کو یہ بیماری نہیں لگتی ہے لیکن تمام ڈاکٹروں نے ماسک پہنے ہوئے ہیں۔'

وہ آج بھی سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی تسلیوں کے الفاظ دہرا سکتی ہیں۔ 'اس وقت میں انھیں کہہ رہی تھی کہ اس پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اس کا علاج ممکن ہے۔ لیکن اب میں جب مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ حکومت نے ہمیں مناسب طریقے سے خبردار نہیں کیا تھا۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ انھیں اُس وقت ایک باقاعدہ میڈیکل دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔ اسی وجہ سے میں ندامت محسوس کرتی ہوں۔'

وانگ فے نے اپنے گھر کے ساتھ نئے سال کی تقریبات کے پروگرام منسوخ کردیے تھے جو کہ اگلے ہفتے ہونا تھے۔ انھوں نے وہ وقت ہسپتال جا کر ڈاکٹر کو دیکھنے کے لیے ایک لمبی قطار میں بیٹھ کر گزارے۔

لیکن اتنے سارے بیمار لوگوں اور بستروں کی کمی کی وجہ سے انھیں گھر لوٹنا پڑا۔

مس وانگ کہتی ہیں کہ 'انھیں دل سے یقین تھا کہ ان کا وطن اور ان کی حکومت ان سے پیار کرتی ہے، اور وہ انھیں بچانے کی سر توڑ کوشش کریں گے۔'

23 جنوری کو ووہان پر لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا۔ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے یہ دنیا بھر میں پہلا لاک ڈاؤن تھا اور یہ طویل ترین اور سخت ترین لاک ڈاؤن تھا۔ لیکن چھٹیوں کے آغاز کی وجہ سے 50 لاکھ افراد کو اس شہر سے باہر جانے اور اپنے آبائی گھروں تک جانے سے روکنے میں لاک ڈاؤن کو آتے آتے بہت دیر ہو گئی تھی۔

کچھ دنوں کے بعد وانگ فے کی حالت بگڑنا شروع ہو گئی اور ان کے اہلِ خانہ نے ایمبولینس بلوائی۔ انھیں بتایا گیا کہ ایمبولینس کے لیے ان سے پہلے 600 افراد کے نام کی ایک فہرست ہے۔ سات گھنٹوں کے بعد بالآخر انھیں ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔

وانگ فے اب ہسپتال کے ایسے نظام میں پھنسے ہوئے تھے جہاں مریضوں کی تعداد اس کی استطاعت سے زیادہ ہو چکی تھی۔ انھوں نے اپنی بہن کو فون کیا کہ انھیں پانی مانگنے جیسی بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لیے بھی بہت مشکلات ہیں۔ ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ 7 فروری کو ڈاکٹر لی وین لیانگ، وہ ڈاکٹر جن کی پولیس نے سرزنش کی تھی، اُسی ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔ وانگ فے کی ہمت جواب دینا شروع ہو گئی۔ انھوں نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ 'اگر ایک ڈاکٹر بھی نہیں بچ سکتا تو میرے بچنے کے کتنے امکانات ہیں۔'

ووہان میں اس وقت بھی ہسپتال کے سٹاف کو خاموش کیا جا رہا ہے۔ ایک ہسپتال کے باہر ہم نے ایک نرس سے بات کی جنھوں نے کووِڈ-19 کے مریضوں کی براہِ راست دیکھ بھال کرنے کا اپنا تجربہ بتایا۔ ہمارے ایک دوسرے کے تعارف کے بعد وہ اپنی سائیکل پر سوار ہو کر تیزی سے نکل گئیں۔ سادہ کپڑوں میں دو پولیس اہلکار جو ہمیں دور سے دیکھ رہے تھے، ایک دم سے ساتھ والی گلی سے سامنے آئے۔ وہ ان کے ساتھ ان کی سائیکل کے ہینڈل بار کو پکڑ کر دوڑے اور پھر انھیں سائیکل سمیت روک لیا۔

میں نے انھیں اس نرس کے ساتھ سختی سے بات کرتے ہوئے دیکھا۔ لیکن جب تک میں وہاں پہنچتا انھوں نے اُس عورت کو چھوڑ دیا تھا۔ پولیس نے کچھ دیر بعد مجھے فون کیا اور کہا کہ میں اُن کے انٹرویو کو ڈیلیٹ کردوں۔ اُن کی حفاظت کے پیشِ نظر میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا کہ میں اُن کی بات مان لوں۔

’اپنے مرے ہوئے بھائی کے بارے میں بات کرنے سے بھی آپ پولیس اہلکاروں کی نظروں میں آسکتے ہیں‘

چین میں اطلاعات پر کنٹرول حکومت کی پالیسی کا مرکزی حصہ ہے۔ اسی لیے آج کی اس رپورٹ کا بھی یہی موضوع مرکزی حصہ ہے۔

ووہان کا لاک ڈاؤن شہر میں وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا، لیکن چین کو الزامات کا سامنا ہے جن میں امریکی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بھی شامل ہیں ۔امریکہ کا الزام ہے کہ اس وبا کے اوائل میں تاخیر سے کیے گئے اقدامات اور حقائق کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے یہ ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر گئی۔

شروعاتی دور میں ایک ایک دن کی تاخیر سے اس کے پھیلنے کی رفتار پر بہت فرق پڑتا ہے۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اگر چینی حکومت ایک ہفتے پہلے اقدامات کر لیتی تو چین میں متاثرہ افراد کی تعداد 66 فیصد کم ہوتی۔

تاہم حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کے بارے میں پہلے سے کچھ معلوم نہیں تھا، ان کا ردعمل بہت تیز تھا اور انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ان کے اقدامات کی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی تعریف کی تھی۔

چینی حکومت اپنی کارکاردگی کی کامیابی بتانے کے لیے اپنے اقدامات کا مغربی ممالک کی حکومتوں کے اقدامات سے تقابلی جائزہ پیش کر رہی ہے اور ان تمام کو خاموش کر رہی ہے جو شاید اُس کے بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔

اب جبکہ جمہوری ممالک میں حکومت کی ناکامیاں وہاں کا آزاد پریس اچھال اچھال کر دکھا رہا ہے، چین میں اس طرح کی حکومت کی کڑی نگرانی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اپنے مرے ہوئے بھائی کے بارے میں بات کرنے سے بھی آپ پولیس اہلکاروں کی نظروں میں آسکتے ہیں۔

ہم وہاں 20 دن تک رہے اور مقامی ارکانِ پارلیمان، محکمہ صحت کے اعلیٰ اہلکاروں، پروفیسروں اور ڈاکٹروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہم سے ملنے کی کسی درخواست کو بھی پذیرائی نہ مل سکی۔ ہم نے وبا کے اوائل کے دنوں کے دوران لوگوں کو دی گئی معلومات کے بارے میں اپنے سوالات چین کے ہیلتھ کمیشن اور اس کی خارجہ اور صحت کی وزارتوں کو بھیجے۔ ان سوالات کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

وائرس کی جانور سے انسان میں منتقلی

وانگ فے اُس مارکیٹ کے قریب رہتے تھے جس پر شروع شروع کے زمانے میں سب کی توجہ مرکوز رہی۔ اپنے اس نام کے باوجود، ہونان سی فوڈ مارکیٹ میں سمندری خوراک کے علاوہ چند جنگلی جانوروں کو نفیس کھانوں کے طور پر بھی فروخت کیا جاتا تھا۔

اب یہ مارکیٹ بند کر دی گئی ہے۔

ابتدا میں اسے وبائی مرض کے آغاز کا مقام قرار دیا گیا تھا، یعنی وہ مقام جہاں وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا تھا۔

اب یہ وائرس سارس کوو-2 کے نام سے پہچانا جا رہا ہے اور یہ کورونا وائرس کہلانے والے گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ انھیں کورونا اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان وائرس کی جلد پر تاج نما نوکیلے کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر وائرسوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چمگادڑوں میں پائے جاتے ہیں۔

ان میں سے چند وائرسں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں یا تو براہ راست چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے یا کسی اور جانور میں وائرس لگنے کے بعد، یا کسی درمیانی ذریعے کی وجہ سے، جو بعد میں انسانوں کی صحبت میں یا ان کے استعمال میں آتا ہے، یہ وائرس انسانوں کو لگتا ہے۔

ایک نظریہ یہ ہے کہ چین میں سنہ 2002 کے نومبر میں شروع ہونے والا پہلا کورونا وائرس اسی طرح پھیلا تھا۔

سارس کورونا وائرس، جس کی سارس کوو-1 کے نام سے شناخت کی گئی تھی، اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ چمگادڑوں سے انسان میں بذریعہ مشک بلاؤ منتقل ہوا تھا۔ مشک بلاؤ جنوبی چین میں پائی جانے والی ایک پھولے پھولے بالوں والی ایک پیاری سے بلی ہے۔

کئی مہینوں تک چینی حکام اس وبا کے پھیلنے سے انکار کرتے رہے اور تب تک 800 سے زیادہ افراد دنیا بھر میں ہلاک ہو چکے تھے۔

تقریباً دو دہائیوں کے بعد اسی طرح سارس کوو-2 وائرس کے واقعات کا مجموعہ ووہان میں وانگ فے کے ہمسائے میں ظاہر ہوا۔ ایک تحقیق کے مطابق، ان میں سے نصف کا تعلق سی فوڈ مارکیٹ سے تھا۔ اس لیے اس میں اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ اکثر لوگوں کے اندازوں میں اس وائرس کا اصل ذریعہ ان جانوروں میں ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی جو اس مارکیٹ میں فروخت ہوتے تھے۔

لیکن اس مارکیٹ سے لیے گئے نمونوں کے ٹیسٹوں کے بعد اب چین نے اس نظریے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ ان ٹیسٹوں میں وائرس کے کچھ اثرات ملے ہیں لیکن وہاں کے جانوروں میں سے کسی میں اس وائرس کا وجود نہیں مل سکا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس وبا کا آغاز کسی اور جگہ سے ہوا تھا اور اس پرہجوم مارکیٹ کا اس میں اس کے ایک فرد سے دوسرے میں پھیلانے کا ایک معاون کردار تھا۔ زیادہ تر سائنسدان اس بات سے یا اس سے ملتی جلتی باتوں سے متفق ہیں، کہ آیا اس مارکیٹ سے یا کسی اور جگہ سے سارس کوو-2 قدرتی طور پر جانور سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔

یہ ایک بڑی تعداد میں جانوروں سے انسانوں میں اس وائرس کی متنقلی کے واقعات کا اشارہ دیتے ہیں جن کا سبب آبادی میں بہت زیادہ شرحِ نمو اور قدرتی اور جنگلی زندگی میں انسانوں کی تجاوزات ہیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے مائیکروبائیولوجسٹ ڈاکٹر یوئن کاؤک-یُنگ جو ووہان میں تحقیقات کرنے والے چین کے ہیلتھ کمیشن میں شامل تھے، کہتے ہیں اس وائرس کے اصل ذریعے کے بارے میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا نظریہ اب تک دیگر نظریات کی نسبت سب سے زیادہ درست سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف یہی کافی نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات Sars-CoV-1 سے لے کر برڈ فلو کی وباؤں تک پہلے بھی بہت ہوتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایچ فائیو این ون وائرس سب سے پہلا انتباہ دینے والا وائرس تھا، پھر اس کے بعد سارس، پھر یانگٹزے ڈیلٹا میں ایچ سیون این نائن اور اب سارس کوو-2'۔

'اس لیے اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ سب سے زیادہ کس بات کے امکانات ہیں۔۔ یعنی یہ وائرس مارکیٹ سے آیا ہے، تو ان مارکیٹوں سے جہاں جنگلی جانور فروخت کیے جاتے ہیں۔'

ان کا استدلال ہے کہ اس لیے اس وائرس کے روک تھام کے اقدامات کی بنیادی توجہ جنگلی جانوروں کی تجارت پر ہونی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'کسی معاشرے میں ثقافت کو بدلنا آسان کام نہیں ہے، لیکن ہمیں یہ ضرور کرنا ہوگا۔'

اس وائرس کے اُس اصلی ذریعے کی تلاش جہاں سے یہ شروع ہوا تھا صرف ایک تحقیقی دلچسپی کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر سارس کوو-2 جانوروں کی ایک مخصوص نوع سے پھیلا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے وائرسوں سے وبا کے پھوٹنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔

مئی کے وسط میں عالمی ادارہ صحت نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایسے جانور جو وائرس پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں ان کی نشاندہی کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک بہت بڑی کوشش کی جانی چاہیے۔

ادارے نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چین میں اس مقصد کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم سائنس دان جانتے ہیں کہ یہ شاید کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ ہم نے چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن، وزارت خارجہ اور وزارتِ صحت کو جو کام انھوں نے اب تک کیا ہے اس کے بارے میں کئی سارے سوالات بھیجے۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا مشتبہ جانوروں کے ٹیسٹوں کا آغاز ہوا ہے جن کے ذریعے وائرس پھیل سکتا ہے؟ ہمیں اپنے سوالات کا کوئی جواب نہیں ملا۔

مقفل شدہ ہونان سی فوڈ ماکیٹ کے باہر ہمیں فلم بندی سے روک دیا گیا۔ جب میں نے وہاں ایک پولیس اہلکار کو بتایا کہ میں ایک غیر ملکی صحافی ہوں تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو۔ چین نے اس وائرس پر قابو پانے کے لیے بہت سارے اقدامات کیے ہیں۔ تمہیں مثبت اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔‘

مزید پڑھیے

کورونا وائرس: باپ قرنطینہ میں، معذور بیٹا بھوک سے ہلاک

کورونا وائرس کی وبا سارس سے بڑی مگر کم مہلک

کورونا وائرس جنگلی حیات کے لیے کیسے فائدہ مند ہے؟

وائرس کے سفر کا نقشہ

جب وانگ فے ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں پڑے ہوئے تھے تو ووہان میں ایک اور مقام پر، ہوانان سی فوڈ مارکیٹ سے 40 منٹ کی کار سے مسافت کے فاصلے پر ایک عمارت ایک بالکل مختلف نظریے کا مرکز بن چکی تھی۔

ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) اب متعدد سازشی نظریات، شکوک و شبہات اور الزامات کے طوفانوں کا ہدف بن چکا تھا کہ شاید وائرس اس لیبارٹری سے لیک ہوا ہے۔ یہ نظریات آج بھی زیرِ بحث ہیں۔

ایک سرسبز میدان اور ایک جھیل کے پس منظر میں ڈبلیو آئی وی کی سیاہی مائل سیمنٹ اور شیشوں کی عمارت کا ڈھانچہ قریب سے گزرتی ہوئی سڑک سے واضح طور پر نظر آتا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں فوراً ہی وہاں موجود سیکیورٹی گارڈز نے اپنے نرغے میں لے لیا اور بتایا کہ یہ ایک حساس علاقہ ہے۔ انھوں نے فوراً ہی پولیس کو طلب کرلیا۔

یہ ادارہ کورونا وائرس کے سب سے زیادہ ذخائر، انواع اور چمگادڑوں سے وائرس کے پھیلنے کے بارے میں مطالعے کی سب سے بڑی لیبارٹری ہے۔ اس ادارے کے محققین کی قیادت معروف سائنس دان شی ژنگلی کرتی ہیں جو اس سائنس پر عبور اور مہارت رکھنے کی وجہ سے ’بیٹ وومن‘ کہلاتی ہیں۔ انھوں نے چین کے دور دراز علاقوں اور غاروں سے کئی برسوں کی محنت کے بعد بہت ساری انواع کے زندہ چمگادڑوں سے نمونے جمع کیے ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں، جس کی پروفیسر شی بھی ایک شریک مصنفہ ہیں، ایسے سینکڑوں چمگادڑوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جن میں کورونا وائرس موجود ہے، ان میں سے کئی ایک کے بارے میں معلومات اس سے پہلے کہیں اور شائع نہیں ہوئی تھیں۔

اس تحقیق میں جینیاتی اسباب کی وجہ سے ان وائرسوں میں ہونے تبدیلیوں کا ذکر بھی شامل کیا گیا ہے جن میں نئے وائرس کی افزائش کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جسے چمرِک (جو اصلی نہ ہو اور بعد میں بنای گیا ہو) یا ہائیبرِڈ (جو دو نسلا ہو)، جن پر تحقیق کا مطلب ہے کہ ان سے انسان کو انفیکشن لگنے کے خدشات کو سمجھا جا سکے اور وبا پیدا کرنے کی صلاحیت کو جانا جا سکے۔

یہ پروفیسر شی تھیں جنھوں نے چین میں یونان کے ایک غار سے ملنے والے چمگادڑ میں سارس کوو-1 کے قریب ترین وائرس کے جینیاتی کوڈ کی ترتیب دریافت کی تھیں۔

تب سے سارس کوو-1 کی وبا، یا اس سے بھی زیادہ خطرناک وبا کے پھوٹنے کا خوف، اور اس بھی زیادہ متعدی بیماری کے پھیلنے کے واقعے کا خدشہ دراصل ووہان کے کورونا وائرس ریسرچ سینٹر کو بنانے کی بنیادی وجہ ہے۔

اس برس 2 جنوری کو صرف دو دن بعد جب اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ ووہان میں ایک نیا وائرس آچکا ہے، وہ سارسکوو-2 کی بھی سیکوینسنگ کرنے والی پہلی سائنس دان بن گئی تھیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وائرس کی سیکوینسنگ کیونکہ ڈبلیو آئی وی میں کی گئی اسی وجہ سے اسے لیبارٹری سے وائرس کے اخراج کے سازشی نظریات کا ہدف بنانے میں مدد بھی ملی۔

بعد میں کی جانے والی تحقیقات جن میں خود پروفیسر شی کی تحقیق بھی شامل ہے، بتاتی ہیں کہ اس وائرس کے جینوم میں اس سے ملتے جلتے کورونا وائرسوں کے مقابلے میں ایک خاص قسم کا فرق ہے۔

اس کی پروٹین والی جلد کی نوکیں- وہ نوکیلے تاج جو جس انسانی جسم کو انفیکٹ کرتے ہیں اس میزبان جسم کے خلیوں سے چمٹ جاتے ہیں - یہ انسانی خلیوں سے گہرے انداز سے پیوست ہو جاتے ہیں۔

دیگر وائرسوں میں کسی جسم میں داخل ہونے کے بعد وہاں اپنا گھر بنانے میں ایک وقت لگتا ہے، سارس کوو-2 وبا کے آغاز سے ہی بہت زیادہ متعدی وائرس ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کی پروٹین والی جلد کی نوکوں کی ایک اور خصوصیت ہوتی ہے، جو کہ دیگر سارس جیسے کورونا وائرس میں نہیں ہوتی ہے، وہ 'فیورِن کلیویج سائیٹ' کہلاتی ہے۔ اس خصوصیت کے متعلق خیال ہے کہ یہ اس وائرس کو اور زیادہ مؤثر بنا دیتی ہے جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانی خلیے میں پیوست ہوجاتا ہے اور پھر ان کا کنٹرول سنبھال لیتا ہے اور پھر اندر ہی سے ان کے چربے یعنی نقلیں بنانا شروع کردیتا ہے۔

یہ مختلف قسم کے عوامل کا ایک مجموعہ ہے- ڈبلیو آئی وی کا وبا کے مرکز کے قریب واقع ہونا، جس قسم کی یہ ادارہ تحقیقات کر رہا تھا، اور بظاہر اس وائرس کی اس قسم کی صلاحیت- جن کی وجہ سے ایک بہت زیادہ متنازعہ اور قدرتی طور پھیلنے والے نظریے (جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے نظریے) کا متبادل لوگوں کے سازشی نظریے کا موضوع بنا۔

اس قسم کے دعوے کہ یہ وائرس چین کی لیبارٹری سے خارج ہوا ہے فروری کے اوائل میں چین کے انٹرنیٹ کے حلقوں میں پھیلنا شروع ہو گئے تھے۔

اس طرح کی افواہیں بھی گشت کرتی رہی ہیں کہ یہ وائرس لیبارٹری میں موجود اس وائرس سے متاثرہ جانوروں سے مقامی لوگوں میں پھیلا۔ یا یہ کہ شاید ووہان کے اس تحقیقی ادارے کا کوئی محقق اس وائرس سے، کسی قدرتی وائرس سے یا لیبارٹری کے اپنے تیار کردہ وائرس سے حادثاتی طور پر متاثر ہوا ہو۔

سازشی نظریات ان دعوؤں سمیت کہ شاید یہ وائرس حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر تیار کیا گیا تھا، غیر ملکی اخبارات اور ویب سائٹس پر فوراً ہی پھیل گئے۔

لیکن لیبارٹری سے وائرس کے لیک ہونے کے مفروضے کو ثابت کرنے والا ایک بھی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، بلکہ ان مفروضوں کا اندازوں، قیاس آرائیوں یا قرائنی شواہد پر انحصار تھا۔

چاہے اس وائرس کی کسی غیر معمولی قسم کی خصوصیات کیوں نہ ہوں، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ یہ وائرس قدرتی ذریعے سے جانوروں سے انسان میں منتقل نہیں ہوا تھا۔

فروری میں پروفیسر شی ژنگلی نے خود سوشل میڈیا پر ان مفروضوں کا جواب دیا۔

انھوں نے ایسی افواہوں کو پھیلانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'میں، شی ژنگلی، اپنی جان کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ ان (الزامات) کا لیبارٹری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور جو لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں انھیں اپنی فضول بکواس بند کر دینی چاہیے۔'

اس دوران وانگ فے بھی ایسے ہی مفروضوں والے وائرس کے اثرات کا شکار ہوتے جا رہے تھے۔

یہ ایک قسم کا صحت خراب ہونے کا درجہ بدرجہ سلسلہ تھا جو دنیا بھر کے ڈاکٹروں کو معلوم تھا کہ یہ اس بیماری کے عمومی اثرات ہیں۔

ان کے پھیپھڑوں کو جراثیم اندر ہی اندر کھا رہے تھے جو خون کے سفید خلیوں اور ایک مائع سے بھرتے جا رہے تھے۔ ان کے خون میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جا رہی تھی۔ وانگ فے نے اپنی بہن کو ہسپتال سے ٹیکسٹ کر کے بتایا تھا کہ 'میرے دل کی دھڑکن کی رفتار 160 فی منٹ ہے۔ میرے خون میں آکسیجن کی مقدار 70 ہے۔‘

اگلے دن، 8 فروری کو، انھوں نے آخری ٹیکسٹ بھیجا: ’براہ مہربانی مجھے بچانے کی کوشش کریں۔ میں ستارے دیکھ سکتا ہوں۔‘ وہ چند گھنٹوں کے بعد ہلاک ہوگئے۔

وائرس کے ساتھ جوڑ توڑ

اور پھر 30 اپریل کو امریکی صدر بھی اس تنازعے میں کود پڑے۔

ایک رپورٹر نے صدر ٹرمپ سے پوچھا: 'کیا آپ نے اب تک ایسی کوئی چیز دیکھی ہے جس سے آپ کو یہ مکمل یقین ہوجائے کہ وائرس ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی سے شروع ہوا تھا؟'

ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ ’جی ہاں، میرے پاس ہے۔‘

ان کی حکومت کے دیگر اہلکاروں نے بھی اپنے اپنے مزاج کی باتیں کہنا شروع کردیں، وزیرِ خارجہ پومپیو نے چین پر الزام لگا دیا کہ چین 'ناقص المیعار لیبارٹریاں چلانے کی ایک تاریخی شہرت رکھتا ہے۔'

لیکن ان دعوؤں کے باوجود کہ ان کے پاس لیبارٹری سے وائرس لیک ہونے کے بارے میں ’ڈھیروں ثبوت‘ ہیں، امریکہ تا حال ایک بھی ثبوت دے نہیں سکا ہے۔ اب جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی میں یہ نظریہ مرکزی موضوع بن چکا ہے، صدر ٹرمپ کے ناقدین اسے اندرونِ مُلک اس وبا سے نمٹنے کی ان کی حکمت عملی سے توجہ ہٹانے کا ایک سنسنی خیز حربہ قرار دیتے ہیں۔

اس بات کا احساس کرتے ہوئے کہ کہیں وہ سازشی مفروضوں کے الزامات کی دلدل میں نہ پھنس جائیں، چند ایک سائنس دانوں نے کہا کہ لیبارٹری سے لیک ہونے کے مفروضے کو مکمل طور پر مسترد نہ کیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس مفروضے کا تعلق سائنسی حلقوں میں آج کے دور کی ایک بڑی بحث سے جڑا ہے اور جس کے نہ صرف چین بلکہ امریکہ کے لیے بھی مضمرات ہیں۔

ڈبلیو آئی وی اتنی بڑی تعداد میں کورونا وائرس والے چمگادڑوں کے نمونوں کو اکھٹا کرنے والا دنیا کا واحد ادارہ نہیں ہے۔

یہ دنیا میں جانوروں سے انسانوں میں وائرس منتقل ہونے اور اس وبائی مرض کے خطرے کے بارے میں تحقیقاتی کوششوں کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔

ووہان میں ہونے والی کچھ تحقیقاتی کاموں میں امریکی سائنسدان بھی شامل ہیں اور اس میں خطیر امریکی مالی معاونت بھی شامل ہے۔

اور چمرک وائرس - مختلف وائرسوں کے جینوم کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوند کاری کر کے ایک نیا وائرس تیار کرنا - جس کے لیے ایک ایسی تکنیک استعمال ہوتی ہے جو کہ ساری دنیا کی لیباریٹریوں میں باآسانی دستیاب ہے۔

اس قسم کی ریسرچ سائنسدانوں کے درمیان اس کے فائدوں اور خطرات کے لحاظ سے ایک بہت بڑے تنازعے کا مرکزی موضوع رہی ہے۔

اس تکنیک کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ ایک وائرس جنگل میں کس طرح پیدا ہوسکتا ہے اور پھر اس کی روک تھام کے لیے اس سے دوائیاں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

جو اس تکنیک کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو اس کی اچھائی بیان کی جا رہی ہے یہ اس کے برعکس نتائج بھی پیدا کرسکتی ہے۔ وائرس کے جوڑ توڑ سے نیا وائرس تیار کرکے اسے زیادہ خطرناک اور مہلک بنانے سے انسان لیبارٹری کے وائرس سے ایک خود ساختہ وبا پھیلا سکتا ہے۔

ان خطرات میں لیبارٹری کے محققین کو وائرس لگ جانا بھی شامل ہے، شاید غیر ارادتاً، جب وہ فیلڈ میں ایک جانور سے وائرس کے نمونے جمع کر رہے ہوں، جب وہ وائرس والے جانوروں کی لیبارٹریوں میں دیکھ بھال کرتے ہوں، یا جب وہ زندہ وائرس کے ساتھ کوئی تجربہ کر رہے ہوں۔

مثال کے طور پر سارس کوو-1 کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد، لیبارٹریوں میں مطالعے اور تحقیقاتی کام کے دوران وائرس لیک ہونے کے چار واقعات پیش آئے۔

ان میں سے دو واقعات نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بیجنگ میں سنہ 2004 میں پیش آئے تھے۔ ان میں سے ایک کے دوران ایک محقق کو اس وقت وائرس لگ گیا جب انھوں نے ایک لیبارٹری میں دو ہفتے تک مسلسل کام کیا تھا۔ انھوں نے پھر اپنی ماں کو اس مرض سے متاثر کیا اور اُن کی موت واقع ہو گئی، ایک نرس بھی ہلاک ہوئیں جنھوں نے اپنے آگے کئی افراد کو متاثر کیا تھا۔

بحث کیا ہے؟

اب جبکہ لیبارٹری سے لیک ہونے کے مفروضے پر امریکی سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے، سائنس دانوں کی اکثریت نے اسے مسترد کردیا ہے۔

یہ سائنس دانوں کا ایک اتفاقِ رائے ہے جس نے مرکزی دھارے کے میڈیا کو آگاہ کیا، اور جس کے نتیجے میں اس نظریے کو مقبولیت حاصل ہوئی کہ سارس کوو-2 وائرس کا اصل ذریعہ جانور ہیں اور یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی وجہ سے پھیلا۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ایسے وائرس اس سے پہلے بھی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئے ہیں، بلکہ اس تھیوری کے حق میں پروفیسر شی ژنگلی نے ایک بہت اہم ثبوت بھی پیش کیا۔

اپنی لیبارٹری کو ان سازشی مفروضوں سے محفوظ کرنے کے لیے انھوں نے بڑی محنت کے ساتھ اپنی لیبارٹری میں پرانے تجربات اور نمونوں کے ریکارڈ جمع کرنے کام شروع کردیا جو کہ ان کے سٹور میں موجود تھے۔

ان کے فروری میں لکھے گئے تحقیقی مقالے میں انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک مخصوص وائرس کی معلومات جمع کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ایک وائرس جس کو انھوں نے RaTG13 کا نام دیا، سنہ 2013 میں ایک چمگادڑ سے حاصل کیا گیا تھا، وہ سارس کوو-2 سے 96.2 فیصد مماثلت رکھتا تھا۔

یہ مماثلت اگرچہ بہت ہی قریب لگتی ہے، لیکن اس کے جینیاتی فرق کے قدرتی ماحول میں ارتقائی عمل کے ذریعے ختم ہونے میں ماہرین کے مطابق دہائیاں لگ جاتی ہیں۔

اگر سارس کوو-2 لیبارٹری میں موجود کورونا وائرس کے ذخائر سے لیک ہوا ہوتا تو لیبارٹری میں یہ وائرس موجود ہوتا یا اس سے قریبی قسم کا کوئی وائرس ہوتا۔

پروفیسر شی نے امریکی جریدے 'سائنٹیفک امیریکن' کو بتایا کہ 'اس کام میں میرا بہت وقت لگا۔ میں کئی دنوں تک ایک پل کے لیے بھی نہ سو سکی۔'

لیکن وہ ثبوت جس نے لیبارٹری سے لیک ہونے کے مفروضے کی اس بحث پر سب سے زیادہ فیصلہ کن اثر ڈالا وہ ایک میڈیکل جریدے 'نیچر میڈیسن' میں مارچ کے شمارے میں شائع ہوا۔

اس جریدے میں شائع ہونے والا ثبوت اب دنیا بھر میں مقبولیت اختیار کر چکا ہے۔

سارس کوو-2 وائرس کی جلد پر غیر معمولی خصوصیت والے نوکیلے تاج - فیورین کلیویج سائیٹ جو کہ اس کا انسانی خلیوں کے ساتھ بہت زیادہ پیوستگی والا تعلق بناتے ہیں- وہ ماہرین کے مطابق، قدرتی عمل ہی سے بن سکتے ہیں۔

ان کا ثبوت ایک لحاظ سے ایک کمپیوٹر ماڈلنگ کے طریقے سے حاصل کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر کسی سائنس دان نے یہ طریقہ پہلے ہی سے استعمال کیا ہو کہ اس وائرس کے نوکیلے تاج انسانی جسم کے خلیوں میں کس طرح پیوست ہو جائیں گے تو اس کا نتیجہ حقیقی تعلق کی نسبت ایک بہت ہی کمزور تعلق ظاہر کرے گا۔

دوسرے لفظوں میں کمپیوٹر ایک وائرس کی انسانی خلیے میں پیوستہ ہونے کی صلاحیت کو جانچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہوگا۔ لہٰذا ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اس وائرس کو لیبارٹری میں تیار نہیں کرسکتا۔

وہ یہ نتیجہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ لیبارٹری میں سارس کوو-2 تیار کرنے کے لیے آپ کو ایک ایسے وائرس سے کام کا آغاز کرنا ہوگا جو RaTG13 کی نسبت جینیاتی لحاظ سے زیادہ قریبی وائرس ہو۔ RaTG13 ہی ووہان لیبارٹری میں ایک ایسا وائرس موجود تھا جواس خطرناک وائرس کے سب سے قریب تھا۔ ایک نیا وائرس ایسے وائرس سے بنایا نہیں جاسکتا جس کا وجود ہی نہ ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ اس وائرس نے انسانوں میں یا جانوروں میں اپنی مخصوص خصوصیات وبائی صورت اختیار کرنے کے بعد پیدا کی ہوں اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا ہو۔

اس تحقیقی مقالے مصنفین کی ٹیم کے سربراہ کریسٹیان اینڈرسن امیونولوجی اور مائیکروبائیولوجی کے پروفیسر ہیں جو کہ امریکی ادارے سکرِپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے بہت احتیاط کے ساتھ اس وائرس کے لیبارٹری سے تعلق کا مطالعہ کیا - ہم نے اس مفروضے کو (قطعی طور) پر مسترد نہیں کردیا تھا۔'

'اور اس بارے میں جتنا بھی ڈیٹا موجود ہے وہ سارس کوو-2 کی قدرتی تاریخ کو ایک تسلسل کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ایسے کسی ڈیٹا کا وجود ہی نہیں ہے جو اس کا لیبارٹری سے کوئی تعلق ثابت کرتا ہو۔'

وہ مزید کہتے ہیں کہ 'اکثر ایسے مفروضے جو اس وائرس کا تعلق لیبارٹری سے جوڑتے ہیں وہ سازشی مفروضے ہیں۔ یہ کووِڈ-19 پر قابو کرنے اور قیمتی انسانی جانیں بچانے والی کوششوں کی راہ میں بہت زیادہ رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔'

'نیچر میڈیسن' کے اس تحقیقی مقالے کی بہت زیادہ مقبولیت کے باوجود اب بھی کچھ ایسے سائنسدان موجود ہیں جو اس کو ایک حتمی ثبوت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وائرس میں کوئی نہ کوئی ’جوڑ توڑ‘ ہوئی ہے۔

نکولائی پیٹرویوسکی ایڈیلیڈ کی فلنڈر یونیورسٹی میں میڈیسن کے پروفیسر ہیں اور آسٹریلیا میں کووِڈ-19 کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنی ویگزین کے ریسرچ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لیبارٹری کے ذریعے جوڑ توڑ کا نظریہ زیرِ غور رہے گا کیونکہ یہ سارس کوو-2 کے انسانی خلیے میں پیوست ہو جانے کی صلاحیت کے پیچھے موجود ہے۔

وہ اس دلیل کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ اگر یہ کمپیوٹر ماڈل میں پہلے سے موجود نہیں تھا تو اس کا مطلب ہے کہ ایسا کبھی ہوا نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'سائنس میں بہت سارے ایسے تجربات ہوتے جن کی بنیاد صرف یہ مفروضہ ہوتا ہے کہ چلیں اس کا بھی تجربہ کر کے دیکھتے ہیں۔ اور اس طرح بہت ساری باتیں اتفاقاً یا حادثاتی طور پر بھی ہو جاتی ہیں۔'

دیگر ماہرین ووہان کے ماضی کے تجربات کا ذکر بھی کرتے ہیں جن میں مختلف وائرسوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ایک ایسا نیا وائرس تیار کیا گیا جس سے اس بات کی تحقیق کی جا سکے کہ کس طرح وائرس کے نوکیلے تاج انسانی سیل میں پیوست ہو جاتے ہیں۔

اور وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں کہ آیا دیگر کئی باتوں کے علاوہ ووہان کے پاس واقعی سینکڑوں کی تعداد میں کورونا وائرس کے نمونے موجود ہیں جن میں کسی کی جینیاتی تشکیل RaTG13 کی نسبت سارس کوو-2 کے زیادہ قریب ہو۔

ایک اور بات، RaTG13 پر بھی شک کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی نے چین کی تحقیقات پر گہری نظر رکھنے والے ایک قابل اعتبار ادارے سے اس بات کی تصدیق کروائی ہے کہ یہ وہی وائرس ہے جس کا ڈبلیو آئی وی نے اس سے قبل ذکر RaBatCov/4991 کے نام سے ایک اور تحقیقی مقالے میں کیا تھا۔

نام بدلنے کی کوئی وجہ نہیں دی گئی ہے لیکن سنہ 2016 میں ایک مقالہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ وائرس سارس جیسے کورونا وائرسوں کا ایک اور سلسلہ لگتا ہے۔

پروفیسر پیٹرویوسکی کہتے ہیں کہ یہ عجیب سی بات ہوگی اگر ڈبلیو آئی وی نے اس طرح کے وائرسوں میں اپنی دلچسپی رکھنے کی وجہ سے اس پر مزید کام روک دیا ہو گا۔ لیکن اس وائرس کا پھر دوبارہ ذکر نہیں کیا گیا یہاں تک کہ اب RaBatCov/4991 کا حال ہی میں ایک نئے نام RaTG13 کے ساتھ سارس کوو-2 کے قریب ترین وائرس کے طور پر ذکر سامنے آیا۔

امریکہ کی رٹگرز یونیورسٹی میں مائیکروبائیولوجی اور بائیو سیفٹی کے ماہر پروفیسر رچرڈ ایبرائیٹ کہتے ہیں کہ لیبارٹری سے وائرس کے لیک ہونے کے مفروضے کو حتمی طور پر مسترد کیے جانے کے ایک ہی طریقہ ہے۔ ’قابلِ اعتبار تحقیقات کے لیے تحقیقی ٹیم کو ان تنصیبات تک، ان کے نمونوں تک، ریکارڈ اور عملے تک بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل رسائی دی جائے۔ اور اس میں اس بات کی اجازت ہو کہ ان کی تنصیبات کے ماحولیاتی نمونے لیے جاسکیں اور اس میں موجود عملے کے سیرولوجیکل نمونے لینے کی بھی اجازت ہو۔‘

امریکی حکومت نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ اس کی انٹیلیجینس کمیونٹی کے خیال میں ایسا نہیں ہے کہ اس وائرس کو تبدیل کیا گیا یا اسے تخلیق کیا گیا، لیکن حکومت بہت ہی غور کے ساتھ نئے ابھرنے والی انٹیلیجینس رپورٹوں اور اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ وبا کسی متاثرہ جانور کو چھوئے جانے کی وجہ سے شروع ہوئی یا یہ ووہان کی لیبارٹری میں کسی حادثے کا نتیجہ ہے۔

ہم نے پروفیسر شی ژنگلی سے بات کرنے کی درخواست کی لیکن اسے رد کردیا گیا۔ ہم نے ڈبلیو آئی وی سے یہ جاننے کے لیے کہ آیا وہاں کوئی تحقیق کی گئی ہے، اور اگر نہیں تو کیا وہ اس قسم کی تحقیق کی اجازت دیں گے۔ ان سوالات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

مستقبل پر نظر

ووہان میں 76 دنوں تک لاک ڈاؤن رہا تھا۔ اس بات سے خوف زدہ کہ کہیں انھیں بھی انفیکشن نہ ہو جائے، مِس وانگ اپنی ماں کی طرف جانے سے گھبرا رہیں تھیں، اس لیے وہ پھر دفتر ہی میں پھنسی رہیں اور گزر اوقات کے کھانے پر زندہ رہیں۔ ان کے بھائی کی 13 برس کی بیٹی ان کے پاس رہنے کے لیے آگئی ہیں جبکہ اُن کی بیوہ جو کہ خود بھی وائرس سے متاثرہ تھیں، بعد میں ہسپتال سے صحت یاب ہو کر فارغ ہوگئی ہیں۔

مِس وانگ کہتی ہیں کہ 'میں اپنے بھائی کی یادوں کی ڈائری لکھ کر محفوظ کر رہی ہوں اور پھر میں اپنے خالی پن اور اپنی بے بسی کو تسلی دینے کے لیے انھیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتی ہوں۔

جب 8 اپریل کو لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو وہ شہر میں آئیں جہاں ایک اجتماعی کوشش کے ذریعے اور جبری لاک ڈاؤن کی وجہ سے وائرس کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

آج ووہان ایک معمول کی زندگی کی جانب لوٹ رہا ہے، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی اقتصادی حالت پر پڑنے والے برے اثرات اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

عموماً بہت ہی پررونق نظر آنے والی شبینا مارکیٹ میں لوگ اب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے نظر آئیں گے، لیکن بہت ساری میزیں اب خالی ہیں۔ ایک عورت جو وہاں ابلے ہوئے مینڈک فروخت کر رہی تھیں، انھوں نے مجھے بتایا کہ ’اس وقت گاہکوں کی دو تہائی تعداد کم ہو چکی ہے۔‘

یہاں کچھ اور سرگرمیوں کی بھی علامتیں نظر آتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے اوائل میں، اس وقت کی بے ہنگم کیفیت کے دوران سینسرشپ ایک مختصر عرصے کے لیے غیر مؤثر ہوگئی تھی۔

لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خیال میں حکومت کی ناکامی پر اپنے غم و غصے کا کھل کر اظہار کیا تھا۔ اور ڈاکٹر لی وین لیانگ کی موت پر بھی تعزیتی پیغامات پوسٹ کیے تھے۔

آج اگرچہ چین میں ایک مختلف بیانیے نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ایک چھابڑی پر ایک مقامی قسم کی مچھلی فروخت کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ 'وبا پر قابو پانے کے لیے چین متحد ہوا۔ لیکن تم غیر ملکیوں کو معلوم نہیں کہ کیسے محفوظ رہیں۔'

اور اب ان مارکیٹوں میں آنے والے گاہکوں نے ایک اور نظریہ قبول کر لیا ہے جسے چین کا سرکاری میڈیا اور سینئیر سرکاری اہلکار فروغ دے رہے ہیں۔

ایک عورت نے مجھے بتایا 'میرے خیال میں یہ وائرس امریکہ سے آیا ہے۔ اس وبا کے شروع کے دنوں میں امریکی فوجیوں نے ووہان کا دورہ کیا تھا۔ وہ ایک چارٹرڈ جہاز میں بہت پہلے واپس چلے گئے۔'

آزاد ثبوتوں کی غیر موجودگی میں امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ میں الزامات کو سیاست اور پروپیگنڈا کی بیساکھیوں کا سہارا دیا رہا ہے۔

اور بغیر ثبوت کے بڑے سوالات کے جوابات دینا نا ممکن ہے۔

جانور سے انسان میں منتقل ہونے والے وائرس کے اگلے واقعے کے اثرات پر کس طرح قابو پایا جائے گا؟ اور ہم بڑھتی ہوئی تعداد میں وائرولوجی لیبارٹریوں میں ہونے والی وبائی وائرس کی تحقیقات کے فائدے اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات کے درمیان ایک توازن کیسے قائم کرسکتے ہیں؟

وہ سائنس دان جو ایسی لیبارٹریوں کے حامی ہیں، کہتے ہیں کہ سارس کوو-2 نے ان کی کوششوں کو دگنا کردینے میں ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ایک بہت بڑی سطح پر چمگادڑوں کے نمونے جمع کرنے کے ایک منصوبے کی تشکیل دیتے ہوئے پروفیسر شی ژنگلی کہتی ہیں کہ ’مشن جاری رہنا چاہیے‘ جسے رٹگرز یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ ایبرائیٹ ’جنونیت کی نئی تعریف‘ کہتے ہیں۔

اس وقت چین کو سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، بین الاقوامی سطح پر ردعمل کی وجہ سے وہ وائرس پر آزاد تحقیقات کروانے پر راضی ہو گیا ہے، اگرچہ یہ غیر واضح ہے کہ اس کا دائرہ کیا ہو گا، اس میں کون شامل ہوگا اور اس کا کب آغاز ہو سکے گا۔ چینی صدر ژی جِن پنگ نے اصرار کیا ہے کہ ان تحقیقات کو وبا کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

تام اس دوران مِس وانگ کہتی ہیں کہ وہ اپنے بھائی کی موت کے بارے میں سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ان کا اصرار ہے کہ پولیس کے خاموش رہنے کے انتباہ انھیں روک نہیں سکیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں ایک قانون پسند شہری ہوں۔' انھوں نے ہمیں اپنا پورا نام شائع کرنے کی اجازت نہیں دی، اس لیے نہیں کہ انھیں حکام سے کوئی خطرہ ہوسکتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ آن لائن انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے والی گالم گلوچ سے محفوظ رہ سکیں۔

وانگ فے کی موت کے چار ماہ بعد مِس وانگ نے حال ہی میں اپنی ماں کو بتایا کہ یہ سانحہ کیسے پیش آیا تھا۔

ان کہ اہلِ خانہ کو یہ خوف تھا کہ ان کی ماں اس صدمے کو برداشت نہیں کر پائیں گی، انھوں نے ماں کو یہی سمجھنے دیا تھا کہ ان کا بیٹا قرنطینہ میں زیرِ علاج ہے۔ آخر میں وہ کچھ بھی نہ چھپا پائے۔

'مِس وانگ کہتی ہیں کہ 'کئی دنوں تک میری ماں سو نہیں سکیں۔ ایک عورت جو ہمارے ملک کے وجود میں آنے سے پہلے پیدا ہوئی ہو، وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتی ہے کہ آج کے جدید دور میں اس قسم کا سانحہ کیسے پیش آسکتا ہے۔'

۔