’وہ تمام لوگ جو جانا چاہتے ہیں، انھیں منتقل کیا جائے گا۔ نوجوان ہوں یا بوڑھے۔ خوفزدہ نہ ہوں۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘

11 جولائی سنہ 1995 کو بوسنیائی سرب فوجیوں نے بوسنیا ہرزیگووینا میں سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کر لیا۔

دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان کی فورسز نے منظم انداز میں 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔

یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر بدترین اجتماعی قتل و غارت تھی۔

بوسنیائی سرب یونٹس کے کمانڈر راتکو ملادچ کے فوجی قتلِ عام شروع کر رہے تھے جبکہ وہ خود خوفزدہ شہریوں کو بے خوف رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

یہ سلسلہ 10 دنوں تک جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیے

بوسنیا سربیا کے خلاف پھر عدالت میں جائے گا

راتکو ملادچ: ’بوسنیا کے قصائی‘ کو عمر قید کی سزا

ہلکے اسلحے سے لیس اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے ’پناہ گاہ‘ قرار دیے گئے اس علاقے میں اپنے اردگرد جاری تشدد کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بعد میں کہا: ’سربرینیکا کا سانحہ ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے لیے ایک بھیانک خواب بنا رہے گا۔‘

یہ قتلِ عام بوسنیائی جنگ کے دوران بوسنیائی سرب فورسز کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک حصہ تھا۔ بوسنیائی جنگ سنہ 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے بکھرنے کے دوران ہونے والے کئی مسلح تنازعات میں سے ایک تھی۔

اس وقت سوشلسٹ ریپبلک آف بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کہلانے والی یہ ریاست یوگوسلاویہ کا حصہ تھی اور یہاں کئی اقوام آباد تھیں جن میں بوسنیائی مسلمان، قدامت پسند سرب اور کیتھولک کروٹ افراد شامل تھے۔

بعد میں بوسنیا ہرزیگووینا نے سنہ 1992 میں ایک ریفرینڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا اور اسے کچھ ہی عرصے بعد امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا۔

مگر بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے نئے تخلیق شدہ اس ملک پر حملہ کر دیا۔

انھوں نے اس علاقے سے بوسنیائی لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا تاکہ ’گریٹر سربیا‘ بنایا جا سکے۔ یہ پالیسی نسلی کشی کے مترادف تھی۔

بوسنیائی لوگ اکثریتی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور یہ بوسنیائی سلاو نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے قرونِ وسطیٰ کے دور میں عثمانی ترک حکمرانی کے عرصے میں اسلام قبول کیا تھا۔

ریکٹو ملاڈٹ (مرکز میں) سنہ 1993 میں سراییوو پہنچے

بوسنیائی سرب فوجیوں نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کر لیا تھا مگر فوراً بعد ہی اسے بوسنیائی فوج نے دوبارہ حاصل کر لیا۔ فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ شہر محاصرے میں چلا گیا۔

اپریل 1993 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس علاقے کو ’کسی بھی مسلح حملے یا کسی دیگر دشمنانہ کارروائی سے محفوظ علاقہ‘ قرار دے دیا۔

مگر محاصرہ جاری رہا۔ شہریوں اور اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کے طور پر کام کر رہے ڈچ فوجیوں کی چھوٹی سی فورس کے لیے رسد ختم ہونی شروع ہوگئی۔ بوسنیائی رہائشی بھوک سے مرنے لگے۔

چھ جولائی سنہ 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سریبرینیکا پر شدومد کے ساتھ حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے یا پھر شہر میں پیچھے ہٹ گئی اور جب نیٹو کی افواج کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو اس نے سرب فورسز کی پیش رفت کو روکنے میں کوئی مدد نہیں کی۔

یہ انکلیو پانچ دنوں میں ہی ان کے قبضے میں آ گیا۔ جنرل ملادچ دوسرے جرنیلوں کے ساتھ شہر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور گشت کیا۔ تقریبا 20 ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے مرکزی ڈچ کیمپ کی جانب فرار ہوگئے۔

اس کے دوسرے دن ہی قتل و غارت گری کا آغاز ہو گیا۔ جب مسلمان پناہ گزینوں نے شہر چھوڑنے کے لیے بسوں پر سوار ہوئے تو بوسنیا کی سرب فورسز نے مردوں اور لڑکوں کو بھیڑ سے علیحدہ کیا اور انھیں وہاں سے دور لے گئے تاکہ انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیں۔

ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو تو زندہ ہی دفن کر دیا گیا تھا جبکہ کچھ بڑے بوڑھوں کو اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مارے جاتے ہوئے دیکھنا پڑا تھا۔

اس دوران خواتین اور لڑکیوں کو نقل مکانی کرنے والوں کی قطار سے نکال کر لے جایا گیا اور ان کا ریپ کیا گیا۔ شاہدین کا کہنا ہے کہ سڑکیں لاشوں سے پٹی پڑی تھیں۔

کم سازوسامان والے ڈچ فوجی سرب فوجیوں کی جارحیت دیکھتے رہے اور انھوں نے کچھ نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے کیمپ میں پناہ گزین پانچ ہزار مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔

دی ہیگ میں واقعات کی تفتیش کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک ٹریبونل نے بعد میں اس قتل و غارت گری میں ڈھیر ساری منصوبہ بندی کی بات کی۔

ایک بوسنیائی سرب کے ایک کمانڈر کے خلاف فیصلے میں کہا گیا کہ 'فوجی عمر کے تمام مسلمان مردوں کو گرفتار کرنے کے لیے متحدہ طور پر کوشش کی گئی تھی۔' خواتین اور بچوں کو لے جانے والی بسوں میں باقاعدگی سے مردوں کی تلاشی کی گئی اور تلاش کرنے والے فوجی اکثر ایسے جوان لڑکوں اور بوڑھے مرد کو بھی لے جاتے تھے جو فوج میں خدمات انجام دینے کے اہل نہیں ہوتے تھے۔

اس قتل عام کے اثرات آج بھی ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔

نسل کشی کے 25 سال بعد آج بھی متاثرین کی لاشیں اور اجتماعی قبریں ملتی ہیں۔

سنہ 2002 کی ایک رپورٹ میں نیدرلینڈز کی حکومت اور فوجی عہدیداروں پر ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے پیش نظر پوری حکومت نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سنہ 2019 میں ملک کی عدالت عظمی نے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں نیدرلینڈ کو سریبرینیکا میں 350 افراد کی اموات کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

سنہ 2017 میں ہیگ میں اقوام متحدہ کے ایک ٹربیونل نے ملادچ کو نسل کشی اور دیگر مظالم کا مرتکب قرار دیا۔ کمانڈر ملادچ سنہ 1995 میں جنگ کے خاتمے کے بعد روپوش ہوگئے تھے اور سنہ 2011 میں شمالی سربیا میں اپنے کزن کے گھر میں ملنے سے پہلے کہیں نظر نہیں آئے تھے۔

سربیا نے جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں رونما ہونے والے جرائم پر معذرت کر لی ہے لیکن پھر بھی اس نے اسے نسل کشی ماننے سے انکار کیا ہے۔