نائجیریا کے 37 سالہ شہری رامون اولورنوا عباس کے وکیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف بی آئی نے انھیں غیر قانونی طور پر دبئی سے گرفتار کیا ہے۔

رامون اولورنوا عباس پر الزام ہے کہ انھوں نے لاکھوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

رامون اولورنوا عباس انسٹاگرام پر اپنے پچیس لاکھ فالورز میں ’رے ہشپپی‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے ہمراہ اوللکان جیکب پونلے المعروف ’مسٹر ووڈ بیری‘ کو بھی دبئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر ایک سائبر ڈاکے کا الزام ہے۔

ان دونوں افراد کو 3 جولائی کو شکاگو کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔

امریکہ اور یونائٹیڈ عرب امارت کے مابین ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے لیکن دبئی پولیس کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کو امریکہ کے 'حوالے' کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دبئی نے ہشپپی کو ملک سے 'بے دخل' کیا ہے 'حوالے' نہیں کیا۔ امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اگر دبئی نے انھیں ملک سے بے دخل کیا ہے تو وہ امریکہ کیسے پہنچ گئے۔

رامون اولورنوا عباس المعروف ہشپپی کے وکیل کا موقف

رامون عباس کے وکیل گال پزٹسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا مؤکل مجرم نہیں ہے اور اس نے دولت جائز طریقے سے حاصل کی ہے۔

وکیل نے کہا ’وہ ایک سوشل میڈیا انفلویئنسر ہیں جن کے لاکھوں فالورز ہیں۔ لاکھوں افراد ان سے محبت کرتے ہیں، اور وہ بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ یہ ہی وہ کرتے تھے۔ آج کل اسی کا زمانہ ہے، اب یہ کاروبار ہے۔‘

وکیل گال پزٹسکی نے تسلیم کیا کہ وہ سوشل میڈیا سے سو فیصد واقف نہیں ہیں اور ان کے بچے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بوڑھے ہیں۔ انھوں نے کہا لوگ اسی طریقے سے پیسے کما رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چار کروڑ ڈالرز کے ساتھ گرفتار ہونے والے انسٹاگرامرز کیا ’فراڈ‘ کرتے تھے؟

’ہیکرز نے کمپیوٹر وائرس سے میرا ہاتھ جلا دیا‘

کرپٹو کوئین: وہ خاتون جس نے اربوں لوٹے اور غائب ہو گئی

ہشپپی کے وکیل کا موقف ہے کہ بڑے برینڈز ان کے مؤکل کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے عوض معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نائجیرین انسٹاگرامر کا ٹرائل لمبے عرصے تک امریکی عدالتوں میں چلے گا۔

ایف بی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ رامون اولورنوا عباس المعروف ہشپپی نے کروڑوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی منصوبہ بندی کی جو انھوں نے بزنس ای میل کمپرومائز (بی ای سی) نامی فراڈ کے ذریعے کمائے۔

کیا امریکی اقدام قانونی ہے؟

رامون عباس المعروف ہشپپی کے وکیل کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس کسی ملزم کو یو اے ای سے امریکہ لانے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

وکیل پزٹسکی نے کہا ’میری رائے میں ایف بی آئی اور حکومت نے غیر قانونی طور پر اس شخص کو دبئی سے اغوا کیا ہے۔ یہ خلاف قانون قدم ہے۔‘

وکیل نے کہا کہ دونوں ملکوں، امریکہ اور یو اے ای کے مابین ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ ہی نہیں ہے، عدالت کے سامنے کوئی دستاویز نہیں رکھی گئی ہے۔ یہ صرف ایف بی آئی کو ایک فون کال کا معاملہ ہے۔ وہ امریکہ کے شہری نہیں ہیں، امریکہ کو انھیں گرفتار کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘

البتہ دبئی پولیس نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے دو افراد کو امریکہ کے حوالے کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ جب دونوں ملکوں کے مابین ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ ہی نہیں ہے تو انھیں امریکہ کے حوالے کیسے کیا گیا، تو ترجمان نے کہا کہ ’اس کا جواب دبئی سے حاصل کریں۔‘

عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں محکمہ انصاف نے کہا کہ ’ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹوں نے راموان عباس کو اپنی تحویل میں لیا اور انھیں امریکہ لے کر آئے۔ امریکی محکمہ انصاف نے اس معاملے میں مزید کچھ نہیں کیا۔‘ اس کے علاوہ مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

رامون عباس المعروف ہشپپی کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر دبئی حکام نے انھیں ملک سے بے دخل کرنا ہی تھا تو وہ انھیں نائجیریا بھیجتے۔ میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ یہی اصل کہانی ہے۔‘

رامون عباس المعروف ہشپپی پر الزام کیا ہے؟

مسٹر ہشپپی اپنے پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے انسٹاگرام پر بہت مقبول تھے جس میں ان کی گرفتاری کی خبروں کی وجہ سے مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کے فالورز میں مزید ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

ان کی گرفتاری کے وقت دبئی پولیس کا کہنا تھا کہ انھوں نے چار کروڑ ڈالر نقدی، 13 لگژری کاریں جن کی قیمت تقریباً 68 لاکھ ڈالر ہے، 21 کمپیوٹر، 47 سمارٹ فونز، اور تقریباً 20 لاکھ متاثرین کے ایڈریس برآمد کیے ہیں۔

عدالت میں پیش کی جانے والی شکایت میں کہا گیا کہ ’رامون عباس المعروف ہشپپی سائبر مجرموں کے ایک بین البرعظمی گروہ کے سربراہ ہیں جن کا اہداف میں ایک امریکی لا فرم، ایک غیر ملکی بینک اور انگلش پریمئیر لیگ کا ایک کلب شامل ہے۔

ایف بی آئی نے نائیجیریا کے خط یا '419' فراڈ کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ای میلز بھیجے جاتے ہیں جس میں بہت زیادہ رقم دینے کا وعدہ ہوتا اور اسے ایڈوانس فی سکیم کہتے ہیں۔ 'نائجیرین پرنس' کی اصطلاح دھوکہ دہی کا مخفف بن گئی ہے۔

419 اور رومانس سکینڈل کس طرح کام کرتا ہے؟

  • کوئی فرد ای میل کے ذریعہ رقم کی منتقلی میں آپ کے تعاون کے لیے آپ سے ای میل سے رابطہ کر سکتا ہے۔
  • وہ آپ کو بتائے گا کہ سیاسی ہنگامہ آرائی یا قدرتی آفت کی وجہ سے اسے اتنی بڑی رقم کے تبادلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
  • وہ آپ سے آپ کی مالی تفصیلات بتانے کے لیے کہیں گے تاکہ وہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر سکے۔
  • اگر آپ اسے اپنی تفصیلات بھیجتے ہیں تو اس کے ذریعے وہ آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرتا ہے اور آپ کی رقم چوری کرنے کا اسے موقع مل جاتا ہے۔
  • سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ سائٹس پر آپ جو کچھ پوسٹ کرتے ہیں اس کے متعلق محتاط رہیں کیوںکہ آپ کو بہتر طور پر سمجھنے اور آپ کو نشانہ بنانے کیلیے سکیمرز ان کا استعمال کرتے ہیں۔

عدالت میں دائر کیے جانے والی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ایک معاملے میں ایک غیر ملکی مالی ادارے کو ایک سائبر ڈاکے میں مبینہ طور پر ایک کروڑ 47 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا جو رامون عباس المعروف ہشپپی کے مختلف ممالک میں بینک اکاؤنٹس میں پہنچ گیا۔

امریکی عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویز میں غیر ملکی مالی ادارے کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ البتہ مالٹا میں ایک بینک نے ایک ماہ پہلے اتنی ہی رقم ہیک ہوجانے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔

اس بینک نے اس معاملے میں اپنا موقف بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔

ایف بی آئی نے کہا ہے کہ بزنس ایمیل کمپرومائز (بی ای سی) فراڈ کے ذریعے صرف 2019 میں مختلف کمپنیوں اور افراد سے ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر چوری کیے گئے ہیں۔

امریکی اٹارنی نک ہانا نے ایک بیان میں کہا کہ رامون عباس کا پرتعیش طرزِ زندگی جرائم کی مدد سے جاری تھا اور وہ ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے سربراہ تھے جو کہ فراڈ کی سکیموں جن میں کمپیوٹرز میں غیر قانونی طور پر گھسنا اور دنیا بھر میں لاکھوں ڈالر کے فراڈ کرنا اور منی لانڈرنگ کرنا شامل تھا۔

لیکن رامون عباس المعروف ہشپپی کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے سوشل میڈیا پر اپنی شہرت سے دولت کمائی ہے۔ وکیل نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ انھیں یہ مقدمہ لڑنے کے لیے لیگل فیس مسٹر ہشپپی کے کس ذریعہ آمدن سے ادا ہو رہی ہے۔

وکیل پزٹسکی نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

جیکب پولن المعروف ’مسٹر ووڈ بریکا معاملہ کہاں پہنچا؟

رامون عباس المعروف ہشپپی کے ہمراہ جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے وہ مسٹر پونلے ہیں جو اب امریکی تحویل میں ہیں۔ ان کے خلاف مقدمے کی تیاری ہو رہی ہے۔

مسٹر پونلے کے وکیل مائیکل بی ناش نے جمعرات کے روز عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اپنے موکل سے بات نہیں ہو سکی ہے۔ جب عدالت نے انھیں پندرہ منٹ کی ورچوئل ملاقات کی اجازت دی تو انھوں نے عدالت سے درخواست کہ ان کے موکل کے مقدمے کی سماعت کے لیے کوئی اور تاریخ مقرر کی جائے۔

وکیل مائیکل بی ناش نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ابھی اس مقدمے کے حقائق جاننے ہیں اور وہ ابھی اس پر کوئی مزید بات نہیں کریں گے۔

مسٹر پونلے جو مسٹر ووڈبیری کے نام کا انسٹاگرام اکاؤنٹ چلاتے تھے۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ای میل میں جعلی نام ’مارک کین‘ استعمال کرتے تھے۔

ان پر شکاگو کی ایک کمپنی کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام ہے جس کے تحت تقریبا ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا آن لائن ٹرانسفر ہوا۔

نقدی کے آن لائن لین دین کے نشانات مبینہ طور پر اس جرم میں ان کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ اس وقت غائب ہو گئے جب انھون نے اس رقم کو کرپٹوکرنسی بٹ کوائن میں تبدیل کر دیا۔

جمعرات کے روز جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو کورٹ کے ایک اہلکار نے فیڈرل جیل میں فون ڈائل کر کے کہا 'مسٹر پونلے کیا آپ موجود ہیں۔

اس پر ایک مدہم سی آواز میں جواب آیا: ’یس پلیز‘۔ اس کے بعد انھوں نے کوئی بات نہیں کی۔