جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے تین مرتبہ منتخب ہونے والے میئر پارک وون سون جمعرات سے لاپتہ تھے جس کے بعد پولیس کو ان کی تلاش کے دوران ایک پہاڑی مقام سے ان کی لاش ملی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کی بیٹی نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے گھر سے نکلنے سے قبل ایک پیغام چھوڑا تھا جس کے بعد انھوں نے اپنے والد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔

پولیس کو ان کی لاش شمالی سیول میں ماؤنٹ بوگک سے ملی ہے۔ آخری مرتبہ ان کے فون کے سگنل یہیں سے موصول ہوئے تھے۔

تاحال ان کی موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بالی وڈ: وہ فلمی ستارے جنھوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں کیا

ایس ایس پی ابرار نیکوکارہ نے خودکشی کی: پولیس

انڈیا کے ’کافی کِنگ‘ کی پراسرار موت

جنوبی کوریا کے ایک خبر رساں ادارے کے مطابق سیول پولیس کا کہنا ہے کہ ’خودکشی‘ کے خدشات کے تحت بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بظاہر پارک وون سون کی جانب سے لکھا گیا ایک نوٹ بھی برآمد ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’میں سب سے معافی چاہتا ہوں۔ میں ان سب کا شکر گزار ہوں جو میری زندگی میں میرے ساتھ رہے۔‘

اطلاعات کے مطابق ایک خاتون ملازمہ نے پارک وون سون کے خلاف ان کی گمشدگی سے کچھ گھنٹے قبل جنسی ہراس کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ لیکن اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ان کے لاپتہ ہونے سے اس دعوے کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

جمعرات کو وہ کام پر نہیں گئے تھے۔ انھوں نے اپنے سیول سٹی ہال کے دفتر میں ایک صدراتی اہلکار سے ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ اس بات کی تصدیق کِم جی ہیونگ نے خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کو کی ہے۔ جی بیونگ سیول کی ضلعی حکومت کے ایک اہلکار ہیں۔

پولیس افسر لی بیونگ سیوک نے صحافیوں کو بتایا کہ سکیورٹی کیمرے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پارک وون سون 10 بج کر 53 منٹ پر جنگلی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ یہیں پر ان کے فون کے سگنل آخری مرتبہ موصول ہوئے تھے۔

جمعرات کو 600 کے قریب پولیس اہلکاروں نے ڈرونز اور کتوں کی مدد سے کئی گھنٹوں تک علاقے میں چھان بین کی۔ رات کو سیول نیشنل یونیورسٹی ہسپتال کے باہر بھیڑ اس وقت اکھٹی ہو گئی جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ پارک وون سون کی لاش مل گئی اور میت کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

پارک وون سون کو سنہ 2011 میں میئر منتخب کیا گیا تھا۔ انھیں گذشتہ سال جون میں تیسری اور آخری مرتبہ منتخب کیا گیا۔

انھوں نے جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گن ہے پر کھلے عام تنقید کی تھی اور ان لاکھوں لوگوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا جنھوں نے سنہ 2017 میں اُن کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ سابق صدر پر رشوت اور دیگر الزامات تھے جس کی بنیاد پر فردِ جرم عائد ہوئی تھی۔

وہ موجودہ صدر مون جے اِن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن تھے اور اطلاعات کے مطابق ممکنہ طور پر سنہ 2022 کے انتخابات میں اپنی جماعت کے صدراتی امیدوار بننے کے لیے ان کا نام زیر غور تھ۔

پُراسرار حالات میں موت

سیول میں بی بی سی نیوز کی نامہ نگار لورا بیکر کے مطابق میئر پارک وون سون مقبول تھے۔ ان کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ خواتین کے حقوق کی وکالت کرتے تھے۔ انھوں نے ملک میں پہلا جنسی ہراس کا مقدمہ جیتا تھا۔

انھوں نے ملک میں معاشی عدم مساوات پر روشنی ڈالی تھی اور ایک مرتبہ شہر کے ایک غریب علاقے میں چھوٹے سے گھر میں پورا مہینہ گزارا تھا۔

پارک وون سون نے جنوبی کوریا میں آمرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی تھی اور انھیں 1970 کی دہائی میں کالج کے دنوں میں قید ہوئی تھی۔ اس سب کے بعد وہ تین مرتبہ سیول کے میئر منتخب ہوئے تھے۔

لیکن ان کی موت متنازع ہو گئی ہے۔

ہمیں یہ معلوم ہے کہ ان کی موت سے کچھ گھنٹے قبل ان کے خلاف جنسی ہراس کا الزام لگایا گیا لیکن اس کی سچائی شاید کبھی پتا نہ لگ سکے۔

اس کی تحقیقات روک دی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک کے ایک اعلیٰ دفتر میں ممکنہ طور پر اس سنگین مسئلے کی اب کوئی تفتیش نہیں ہوگی۔

مبینہ طور پر متاثرہ خاتون اور نہ پارک وون سون کو انصاف مل سکے گا۔