جوناتھن پینی کوٹ کو اپنے بہت سے ہم عمر نوجوانوں کی طرح فیفا فٹبال گیمز کھیلنا اچھا لگتا تھا جہاں وہ پلیئرز پیک خرید کر اپنی ٹیم بناتے۔ جب جوناتھن کی والدہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی تو پلیئرز پیک کی خریداری نے جوناتھن کو حالات سے ’فرار‘ کی ایک راہ دکھائی اور پھر وہ اس لت میں مبتلا ہو گئے کہ وہ پلیئرز پیک خریدے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

ہاؤس آف لارڈز گیمبلنگ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ کارڈز پیکس یا لوٹ باکسز کی فروخت کو، جسے ابھی جُوا تصور نہیں کیا جاتا ہے، کو ضابطے میں لایا جائے۔

جوناتھن کہتے ہیں ’مجھے پچپن سے ویڈیو گیمز کا شوق تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ویک اینڈ پر میں صبح سویرے اٹھ کر دبے پاؤں سیڑھیوں سے نیچے اترتا اور فیفا فائیو گیم کھیلتا کرتا تھا۔ میں گیم کی آواز بند کر دیتا تھا تاکہ والدین کو پتا نہ چلے۔‘

اب میں اکیس برس کا ہوں اور میرے بہت سے قریبی دوست وہ ہیں جو آن لائن میرے دوست بنے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ویڈیو گیم کسی بھی بچے کے لیے بہت اچھی ہے۔

میں آپ کو اپنی کہانی سنانا چاہتا ہوں کہ کیسے ’لوٹ باکس گیمبلنگ‘ کی وجہ سے مجھے اپنی زندگی کے بدترین تجربے کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

’میرا بیٹا آن لائن گیمز سے جوئے کی لت کا شکار بنا‘

گیم کھیلنے سے روکنے پر باپ کا سر کاٹ دیا

’پب جی‘ کی وجہ سے خودکشیاں، گیم پر عارضی پابندی کا اعلان

سنہ 2009 میں ای اے سپورٹس نے فیفا سیریز کی ’الٹیمیٹ ٹیم موڈ‘ ریلیز کی ۔ یہ آن لائن فٹبال کارڈ گیم ہے جس میں کھلاڑی خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔

اگر آپ کی ٹیم اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو گی تو آپ کو اس کا فائدہ ہو گا۔ یہاں ایک ورچوئل کرنسی اور مارکیٹ ہے جہاں آپ خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

لوٹ باکسز کی لت

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے پہلی بار والدین سے کہا کہ کیا میں اپنے جیب خرچ سے کارڈ پیک خرید سکتا ہوں۔ مجھے اس وقت بڑی مایوسی ہوئی جب میرے ابو نے کہا کہ نہیں یہ جوا ہے لیکن وہ میرے اصرار پر مان گئے۔

اس وقت مجھے اپنے والد کی یہ بات بہت عجیب لگی تھی کہ کارڈ پیک خریدنا جوا ہے۔ مجھے اندازہ تھا کہ میرے پسندیدہ کھلاڑیوں کے اس پیک میں ہونے کا امکان بہت محدود ہے۔

’میں کارڈ پیکس خریدتا۔ کئی بار میں خوش قسمت رہتا۔ میں ہمیشہ مثبت رہنے کی کوشش کرتا تھا لیکن پھر بھی یہ خیال آتا تھا کہ اگر پندرہ پاونڈ مزید خرچ کیے ہوتے تو۔۔۔‘

’اسی طرح چار برس کا عرصہ گزر گیا اور پلیئرز کی خریداری پر میرا خرچا بڑھتا گیا۔ جوں جوں میں بڑا ہو رہا تھا میں کارڈ پیکس کی خریداری کو چھپانے لگا۔ میں بازار سے واؤچر خریدتا اور انھیں اپنے کمرے میں چھپا دیتا تاکہ میرے والدین کو پتا نہ چل جائے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس ویڈیو گیمز پر رقم خرچ کرنے کے علاوہ اور کوئی خرچ نہیں ہوتا تھا۔

’میں ہر بار سوچتا اس بار تو میرے قسمت چمکے گی۔ جب میں سترہ برس کا ہوا تو میرا بینک اکاؤنٹ کھل گیا اور میرے پاس اپنا ڈیبٹ کارڈ آ گیا اور پھر گیم پر پیسے خرچ کرنا بہت آسان ہو گیا۔ اب وؤچر خریدنے کی ضرورت نہیں تھی صرف ایک بٹن دبا کر کھلاڑی خریدے جا سکتے تھے۔‘

2017 وہ سال تھا جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ ’میں اے لیوز میں تھا اور یونیورسٹی کے بارے میں میرے کچھ منصوبے تھے۔ لیکن ستمبر میں میری امی کو کینسر کی تشخیص ہوئی۔‘

’ہر چیزبدل گئی، ہر چیز کے بارے میں انتظار ہونے لگا۔ اس کا دن کا انتظار ہونے لگا جب امی ٹھیک ہو جائیں گیں، اس دن کا انتظار جب میرے امتحانات ختم ہو جائیں گے اور ایک بار پھر سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہو جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اس صورتحال کا سامنا کرنے کے بارے میں ریسرچ کی ۔ مجھے ایسے لگا کہ پلیئرز پیک نے مجھے فرار کا ایک راستہ فراہم کیا ہے۔‘

اور پھر ساری جمع پونجی ختم ہو گئی

میرے والدین اور میرے دادا دادی میرے مستقبل کے لیے رقم جمع کر رہے تھے۔ مجھے اس کی منطق سمجھ نہیں آتی تھی۔ میں کہتا تھا رقم کی ضرورت مجھے اب ہے، مستقبل میں خود بخود کچھ ہو جائے گا۔

میں کبھی 30 پاؤنڈ، کبھی 40 پاؤنڈ پلیئرز پیکس کی خریداری پر خرچ کر رہا تھا۔ جب میرے بینک نے میری ٹرانزیکشن کو روکنا شروع کیا اس وقت میں ایک رات میں تین چار بار 80، 80 پاؤنڈ خرچ کر چکا ہوتا تھا۔

امتحانات سے صرف چند ہفتے پہلے میرے والدین سمجھتے تھے کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا امتحانات کی تیاری کر رہا ہوں لیکن میں لوگوں کو یوٹیوب پر پلیئرز پیکس کو کھولتے ہوئے دیکھتا تھا۔ اور پھر وہ دن آ گیا جب میری تمام رقم ختم ہو گئی۔

میرے والدین اور دادا دادی نے مجھے تین ہزار پاؤنڈ دیے تھے، جو میں سارے اڑا چکا تھا۔

جو کچھ ہوا میں نے اس کی ذمہ داری قبول کی، رقم خرچ کرنے کا فیصلہ میرا تھا۔ میں نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا۔ میرے والدین نے جب بینک سٹیٹمینٹ دیکھی تو انھیں بہت صدمہ ہوا۔

خوشی کا نشہ

جب میں اپنے ماضی میں جھانکتا ہوں، تو سب سے پہلے جو چیز میرے ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ میں جب سب کچھ کر رہا تھا تو میرے خاندان کے کسی فرد کو اس کی کانوں کان خبر نہ تھی۔

ہمارے گھر میں گیم کھیلنے کے کچھ ضوابط تھے اور میرے والدین ان ضوابط پر عمل درآمد کرواتے تھے۔ میں نے کئی بار انھیں بتایا کہ میں گیم کی لت میں مبتلا نہیں ہوں۔

میں آج بھی اس پر قائم ہوں کہ مجھے گیم کھیلنے کی لت نہیں تھی بلکہ مجھے کارڈ پیکس کھولنے کی لت تھی۔ مجھے کارڈ پیکس کھول کر بہت مزا آتا تھا۔

میرے ابو نے جب سنہ 2012 میں کہا تھا کہ یہ جُوا ہے اور اس وقت مجھے بہت عجیب لگا تھا، اب میں ابو کی بات سے متفق ہوں۔ یہ گیم پیک یا لوٹ باکس بھی جوے کی ایک شکل ہے جس میں آپ کے پاس چانس ہے کہ کوئی مہنگا کھلاڑی آپ کے پیک میں ہو۔

جب ہاؤس آف لارڈز کی گیمبلنگ کمیٹی اس طرح کی انعامی چیزوں کی خریداری کو ایک ضابطے میں لانے کے لیے کوشاں ہے، تو میں بھی اپنے ذاتی تجرے کے ذریعے نوجوانوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں، جو میری جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔

ای اے کا ردعمل

فیفا گیمز بنانے والی کمپنی ای اے سپورٹس اس کی تردید کرتی ہے کہ پلیئرز پیکس کی خریداری میں جوئے کا کوئی عنصر شامل ہے۔ ای اے سپورٹس گیمبلنگ کمیشن کی اس رائے کو مانتے ہیں کہ لوٹ باکسز جوئے کی مد میں نہیں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ فیفا الٹیمیٹ ٹیم کو بغیر رقم خرچ کیے بھی کھیلا جا سکتا ہے اور کھلاڑیوں کی خریداری پر رقم خرچ کرنا ایک بالکل اختیاری عمل ہے۔

ای اے کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے کھلاڑیوں کی خیریت بہت عزیز ہے اور ان کی تمام گیمز میں والدین کی نگرانی کا طریقہ کار موجود ہے جہاں وہ اخراجات کو روک سکتے ہیں۔

فیفا کا ردعمل معلوم کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ کیا گیا لیکن ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا ہے۔