امریکہ نے اُن چینی سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس کے مطابق چین کے سنکیانگ صوبے میں مسلم اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں۔

چین پر اویغور اور دیگر اقلیتوں کو بڑے پیمانے پر قید کرنے، مذہبی بنیادوں پر ستم ڈھانے اور جبری نس بندی کرنے کے الزامات ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی کے علاقائی سربراہ چین چوانگو اور تین دیگر حکام کے امریکہ میں موجود مالی مفادات ان پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔

چین نے اپنے انتہائی مغرب میں واقع اپنے اس صوبے میں مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی زیادتی سے انکار کیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں کے حکام نے حالیہ سالوں میں 'تربیتی مراکز' میں تقریباً 10 لاکھ لوگوں کو قید کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیاد پرستی اور علیحدگی پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے 'ہنری تربیت' کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’تکلیف دینے کی بجائے گولی مار دو‘

’اویغور داڑھی رکھنے اور انٹرنیٹ کے استعمال پر زیرِحراست‘

اویغور مسلمان خواتین کی جبری نسبندی کے الزامات، چین کی تردید

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور پولٹ بیورو میں اہم عہدہ رکھنے والے چین چوانگو امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے اب تک کے اعلیٰ ترین چینی عہدیدار ہیں۔

انھیں اقلیتوں کے خلاف بیجنگ کی پالیسیوں کا نقشہ ساز تصور کیا جاتا ہے۔

دیگر حکام میں سنکیانگ کے پبلک سیکیورٹی بیورو کے ڈائریکٹر وینگ منگشان، سنکیانگ میں پارٹی کے ایک سینیئر رکن ژو ہیلون، اور ایک سابق سیکیورٹی اہلکار ہیو لیوجون شامل ہیں۔

ان پابندیوں کے بعد امریکہ میں ان تمام شخصیات کے ساتھ مالی لین دین جرم بن چکا ہے اور امریکہ میں موجود ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

تاہم ہیو لیوجون کو اُن ویزا پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے باقی تین عہدیدار اور ان کے خاندان امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔

اس کے علاوہ سنکیانگ کے پبلک سیکیورٹی بیورو پر مجموعی طور پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ خطے میں 'خوفناک اور منظم استحصال' کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا: 'امریکہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے سنکیانگ میں اویغور، قزاق نسل کے افراد اور دیگر اقلیتی گروہوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور استحصال پر خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔'

پومپیو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکہ کمیونسٹ پارٹی کے دیگر حکام کے خلاف بھی ویزا پابندیاں عائد کر رہا ہے جنھیں سنکیانگ میں استحصال کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم ان عہدیداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، اور بتایا جا رہا ہے کہ ان کے خاندان کے ارکان بھی ممکنہ طور پر ان پابندیوں کے شکار ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور چین کے درمیان تنازعات پہلے ہی کورونا وائرس کی وبا اور چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں ایک قومی سلامتی کا قانون متعارف کروانے کی وجہ سے عروج پر ہیں۔

اس قانون پر مغربی ممالک کی جانب سے کافی تنقید ہوئی ہے۔

چین سنکیانگ میں کیا کر رہا ہے؟

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ صوبے میں سخت سیکیورٹی والے جیلوں میں تقریباً 10 لاکھ مسلمانوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

گذشتہ سال بی بی سی نے لیک ہونے والی ایسی دستاویزات دیکھی تھیں جن کے مطابق جنوبی سنکیانگ میں صرف ایک ہفتے کے اندر 15 ہزار لوگوں کو کیمپوں میں بھیجا گیا تھا۔

ان ہی دستاویزات میں تحریر تھا کہ قیدی صرف تب رہا ہوسکتے ہیں جب وہ 'اپنی ماضی کی سرگرمیوں کی غیر قانونی، مجرمانہ اور خطرناک نوعیت کو بغور سمجھیں۔'

چینی حکام کا کہنا ہے کہ اویغور افراد کو 'ہنری تربیت کے مراکز' میں تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ پرتشدد مذہبی انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

تاہم ثبوتوں سے واضح ہوتا ہے کہ کئی افراد کو صرف اپنے مذہب کے اظہار مثلاً نماز کی ادائیگی یا حجاب کرنے پر، یا پھر دیگر ممالک مثلاً ترکی کے ساتھ تعلقات ہونے پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

اویغور افراد اکثریتی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور یہ ترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ سنکیانگ کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔

گذشتہ ماہ چینی محقق ایڈریان زینز کی ایک رپورٹ میں پایا گیا تھا کہ چین سنکیانگ میں خواتین کو نس بندی یا مانع حمل آلات اپنے جسم میں نصب کروانے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔

اس رپورٹ کے بعد اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔