’مئی میں اپنی 29ویں سالگرہ سے پہلے لولالیکان جیکب پولنے نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر یہ تصویر لگائی تھی جس میں وہ دبئی میں ایک شوخ پیلے رنگ کی لیبرگینی کار کے ساتھ کھڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان کا پیغام تھا ’دوسروں کو اپنی کمائی ہوئی دولت کی وجہ سے خود کو برا محسوس نہ کروانے دیں۔‘ وہ سر سے پاؤں تک گوچی کی مصنوعات میں ملبوس تھے اور انھوں نے ڈیزائنر چیولری بھی پہن رکھی تھی۔

لولالیکان جیکب پولنے انسٹاگرام پر 'mrwoodbery' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس تصویر کو شیئر کرنے کے ایک ماہ بعد انھیں دبئی کی پولیس نے منی لانڈرنگ اور سائبر فراڈ کے الزامات میں گرفتار کر لیا۔

دبئی پولیس کے اس ڈرامائی آپریشن میں درجن بھر افریقی نژاد افراد کو پکڑا گیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور 37 سالہ رامون اولورنوا عباس تھے جو کہ اپنے 24 لاکھ انسٹاگرام فالورز میں 'hushpuppi' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں دو سکھ بھائی ’فراڈ‘ کے الزام میں گرفتار

ملک ریاض سے وصول کیے گئے کروڑوں پاؤنڈ پاکستان منتقل

انڈیا: ’ایک ساتھ 25 سرکاری سکولوں سے تنخواہ لینے والی‘ استانی گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار کروڑ ڈالر نقدی، 13 لگژری کاریں جن کی قیمت تقریباً 68 لاکھ ڈالر ہے، 21 کمپیوٹر، 47 سمارٹ فونز، اور تقریباً 20 لاکھ متاثرین کے ایڈریس برآمد کیے ہیں۔

لولالیکان جیکب پولنے اور رامون اولورنوا عباس، دونوں کو امریکی حکام کے حوالے کیا گیا ہے اور انھیں شکاگو کی ایک عدالت میں وائر فراڈ کرنے کی منصوبہ بندی اور لاکھوں ڈالر لانڈرنگ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

ابھی تک دونوں نے اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے اور دونوں کو کسی بھی الزام ثابت ہونے سے قبل بےقصور تصور کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں یو ایس اٹارنی کے دفتر کے سینیئر وکیلِ استعاثہ گلین ڈوناتھ کا کہنا ہے ’میرے خیال میں جب انھیں اس بات کا یقین ہو کہ انھوں نے اپنی آن لائن شناخت کو چھپا لیا ہے مگر وہ ایک پرتعیش طرزِ زندگی اپناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بےاحتیاطی کر بیٹھتے ہیں۔‘

نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ان دونوں افراد کے لیے یہ ایک بہت بڑا کریش ہے جنھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش زندگی کے بارے میں کافی کچھ شیئر کیا اور ان کی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

انھوں نے غیر ارادی طور پر اپنے انسٹاگرام پوسٹوں اور سنیپ چیٹ پوسٹوں کے ذریعے امریکی حکام کو بہت سی اہم معلومات فراہم کر دیں۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بزنس ای میل کومپرومائز سکیمز کے تحت مختلف امریکی کمپنیوں کے ملازمین ہونے کا ڈھونگ رچایا اور اپنے اہداف کو لاکھوں ڈالرز اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کا چکر دے دیا۔

انسٹاگرام پر ’ہش پپی‘ کا کہنا تھا کہ وہ ایک ریئل سٹیٹ ڈویلپر ہیں اور ان کی ویڈیوز کی ایک کیٹیگری تھی جس وہ ’فلیکسنگ‘ کہتے تھے۔ عموماً سوشل میڈیا پر فلیکسنگ کی اصطلاح دکھاوا کرنے کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔ مگر اصل میں یہ زیرِ تعمیر ’مکانات‘ بینک اکاؤنٹس کے لیے کوڈ ورڈ تھے جن میں فراڈ کے پیسے جمع کیے جاتے تھے۔

ماہر معیشت ابوکا امبنا نے نیویارک سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں نائیجیریا میں اپنی اقدار کا جائزہ لینا ہو گا خاص کر جو اہمیت ہم دولت کو دیتے ہیں چاہے آپ نے وہ جیسے بھی حاصل کی ہو۔‘

’یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے نتائج آپ کے لیے بولتے ہیں۔ ہم وہاں پہنچنے کے عمل پر زور نہیں دیتے اور وقت کے ساتھ یہ بڑھتا گیا ہے۔‘

انگلش پریمیئر لیگ کو نشانہ بنایا گیا

اپریل میں ہش پپی نے دبئی میں لگژری عمارت پلازو ورساچی میں اپنے اپارٹمنٹ کی لیز ایک سال کے لیے دوبارہ اپنے اصلی نام اور نمبر پر لی۔

اپنی گرفتاری سے دو ہفتے قبل انھوں نے انسٹاگرام پر ایک تصویر لگائی جس میں رولز رائس کار کے سامنے کھڑے ہیں اور اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’خدا کا شکر ہے اس کی نعمتوں کے لیے۔ میں ان کو شرمندہ کر رہا ہوں جو میرے شرمندہ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ’عباس کا پرتعیش طرزِ زندگی جرائم کی مدد سے جاری تھا اور وہ ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے سربراہ تھے جو کہ فراڈ کی سکیموں جن میں کمپیوٹرز میں غیر قانونی طور پر گھسنا اور دنیا بھر میں لاکھوں ڈالر کے فراڈ کرنا اور منی لانڈرنگ کرنا شامل تھا۔‘

ایک معاملے میں ایک غیر ملکی مالی ادارے کو ایک سائبر ڈاکے میں مبینہ طور پر ایک کروڑ 47 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ ہش پپی کے مختلف ممالک میں بینک اکاؤنٹس میں پہنچ گیا۔

حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ انگلیش پریمیئر لیگ کی کسی ایک ٹیم سے تقریباً ساڑھے بارہ کروڑ ڈالر چوری کرنے کے منصوبے میں بھی ملوث تھے۔

ایف بی آئی نے ان کے گوگل اکاؤنٹ، ایپل آئی کلاؤڈ، انسٹاگرام، اور سنیپ چیٹ سے معلومات حاصل کیں جن میں ان کی بینکاری کی معلومات، پاسپورٹس، اور دیگر سہولت کاروں کے ساتھ بات چیت اور وائر ٹرانسفرز کا ریکارڈ تھا۔

امریکہ میں ای میل سکیورٹی کی کمپنی آگاری کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ بزنس ای میل کمپرومائز سکیموں میں سے 90 فیصد کا تعلق مغربی افریقہ سے ہوتا ہے۔

’یاہو بوائز‘

عباس اور پولنے کے خلاف جو شکایات درج کی گئی ہیں ان میں ان کے بیان کیے گئے حربے ویسے ہی لگتے ہیں جیسے کہ ’وینڈر ای میل کمپرومائز‘ میں ہوتے ہیں جہاں سکیم کرنے والے کسی ای میل میں گھس کر کسی صارف اور ان کے وینڈر کے درمیان ان کی گفتگو کا جائزہ لیتے ہیں۔

آگاری کے سینیئر ڈائریکٹر آف ریسرچ کرین ہیس ہولڈ ہتاتے ہیں کہ ’فراڈ کرنے والا شخص اس بات چیت کے سیاق و سباق کی تفصیلات جمع کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ نئی ای میلز تیار کرتا ہے جن سے ایسا لگے کہ وینڈر کی بینکاری کی معلومات میں تبدیلی ہوئی ہے اور صارف اپنی آئندہ رقم نئے اکاؤنٹ میں جمع کروائے۔ وہ نیا اکاؤنٹ فراڈ کرنے والے شحض کا ہوتا ہے اور اس طرح وہ پیسے لے کر فرار ہو جاتا ہے۔‘

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ مسٹر پونلے جنھیں انٹرنیٹ پر 'مسٹروڈ بیری' کے نام سے جانا جاتا ہے انھوں نے ای میل میں مارک کین کا استعمال کیا۔

ان پر شکاگو کی ایک کمپنی کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام ہے جس کے تحت تقریبا ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا آن لائن ٹرانسفر ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ آئیووا، کینساس، مشیگن، نیویارک، اور کیلیفورنیا میں بھی مختلف کمپنیاں اس کا شکار ہوئی ہیں۔

نقدی کے آن لائن لین دین کے نشانات مبینہ طور پر اس جرم میں ان کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ اس وقت غائب ہو گئے جب انھون نے اس رقم کو کرپٹوکرنسی بٹ کوائن میں تبدیل کر دیا۔ اس کام کو منی میول یا دوغلے پیسے کہتے ہیں۔

ای میل گھوٹالے عالمی سطح پر اس قدر عام ہو چکے ہیں اور نائیجیریا سے اس کا اس قدر گہرا تعلق ہے کہ ملک میں دھوکہ دہی کرنے والوں کا ایک نام ہے 'یاہو بوائز۔‘

وہ کسی پیسہ حاصل کرنے والے کو کہتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے کونے میں پیسے وائر کریں یا پھر وہ ’پھیشنگ‘ کرتے ہین یعنی صارف کی شناخت اور ذاتی معلومات دھوکے سے چوری کر لیتے ہیں۔

ایف بی آئی نے نائیجیریا کے خط یا ’419‘ فراڈ کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ای میلز بھیجے جاتے ہیں جس میں بہت زیادہ رقم دینے کا وعدہ ہوتا اور اسے ایڈوانس فی سکیم کہتے ہیں۔ ’نائجیرین پرنس‘ کی اصطلاح دھوکہ دہی کا مخفف بن گئی ہے۔

419 اور رومانس سکینڈل کس طرح کام کرتا ہے؟

  • کوئی فرد ای میل کے ذریعہ رقم کی منتقلی میں آپ کے تعاون کے لیے آپ سے ای میل سے رابطہ کر سکتا ہے۔
  • وہ آپ کو بتائے گا کہ سیاسی ہنگامہ آرائی یا قدرتی آفت کی وجہ سے اسے اتنی بڑی رقم کے تبادلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
  • وہ آپ سے آپ کی مالی تفصیلات بتانے کے لیے کہیں گے تاکہ وہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر سکے۔
  • اگر آپ اسے اپنی تفصیلات بھیجتے ہیں تو اس کے ذریعے وہ آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرتا ہے اور آپ کی رقم چوری کرنے کا اسے موقع مل جاتا ہے۔
  • سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ سائٹس پر آپ جو کچھ پوسٹ کرتے ہیں اس کے متعلق محتاط رہیں کیوںکہ آپ کو بہتر طور پر سمجھنے اور آپ کو نشانہ بنانے کیلیے سکیمرز ان کا استعمال کرتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک وکیل مو ایڈیل نائیجیریا سے تعلق رکھنے کی حیثیت سے اسے مایوس کُن سمجھتی ہیں کیونکہ اس سے ملک اور بیرون ملک ہونے والی ’نظام کی ناکامیاں‘ نظرانداز ہوتی ہیں ’جس کی وجہ سے نائجیریا کے باصلاحیت نوجوان اس فراڈ میں ملوث ہو جاتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ 'وہ ایک ایسے ملک میں جہاں محدود مواقع ہیں یا بعض اوقات کوئی مواقع نہیں ہیں اسے ایک آسان راستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

لیکن ایسے بھی بہت سے باصلاحیت نائجیریائی باشندے ہیں جو تعلیم سے لے کر پاپ کلچر تک میں نمائندگی کرتے ہیں۔

نائیجیریا کس طرح پریشان ہے

گذشتہ ماہ امریکی محکمہ خزانہ نے اپنی مطلوبہ سائبر جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں 79 افراد اور تنظیموں کو بلیک لسٹ کا جس میں چھ نائجیریا کے شہری بھی شامل ہیں۔ اس نے ان پر الزام لگایا کہ انھوں نے بی ای سی اور رومانس کے دھوکے جیسے گمراہ کن عالمی خطرات کے ذریعے امریکی شہریوں سے 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم چوری کی ہے۔

نائیجیریا میں قائم ایک کمپنی بوٹ کیمپ کے بانی ایو بنکولے صرف نائیجیریا پر بین الاقوامی توجہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بہت سے نائیجیریا کے شہری پوری دنیا میں حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہے ہیں، لیکن عالمی میڈیا انھیں اتنی توجہ نہیں دیتی جتنا برا کام کرنے والوں کو دیتی ہے۔ اس کا اثر تمام لڑکوں، خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں جائز کام کرنے والوں، پر پڑتا ہے۔‘

’بہت ساری غیر ملکی کمپنیاں نائجیریا میں سامان نہیں بھیجتیں اور بہت سے پیمنٹ کے پلیٹ فارم ہم سے رقم قبول نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس نے ہماری شبیہہ خراب کر دی ہے۔‘

سنہ 2019 کی اپنی انٹرنیٹ کرائم رپورٹ میں ایف بی آئی نے کہا کہ انھیں سائبر فراڈ کے مشتبہ معاملوں میں چار لاکھ 60 ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں جس میں ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد کے نقصان کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان معاملات میں 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی بازیافت ہوئی ہے۔

بہر حال بہت سے آن لائن دھوکہ دہی کے مجرمان پکڑے نہیں جاتے اور ان میں سے بہت ہی کم افراد کو جیل ہوتی ہے۔

مسٹر ڈوناتھ کا کہنا ہے کہ یہ معاملات بڑے چیلینج والے ہیں کیونکہ یہ بیرون ملک سے ہوتے ہیں اور یہ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔

قانون کی کمپنی کلففورڈ چانس کے پارٹنر نے کہا کہ ’وہ وقت طلب اور انتہائی دستاویزی ہیں اور بہت سارے وفاقی مجرمانہ مقدمات میں آپ کو جیوری کو حسب حال حقائق کے ساتھ قدم بہ قدم اس کی تاریخی سلسلے میں لے جانا دشوار ہوتا ہے۔‘

اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو مسٹر عباس اور مسٹر پونلے کو 20 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔