امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے چوری اور جاسوسی کے اقدامات امریکہ کے مستقبل کے لیے 'سب سے بڑا طویل مدتی خطرہ' ہیں۔

واشنگٹن کے ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کرسٹوفر رے کہا کہ چین نے بیرونِ ملک رہنے والے چینی شہریوں کو ہدف بنانا اور انھیں واپس لوٹنے کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ وہ امریکہ کی کورونا وائرس پر تحقیق کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوششیں کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'چین کی پوری ریاست اس کوشش میں ہے کہ کسی بھی ذریعے سے دنیا کی واحد سپرپاور بنا جائے۔

منگل کو تقریباً ایک گھنٹے طویل تقریر میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے چین کی جانب سے امریکی پالیسی پر بذریعے رشوت، بلیک میل، غیر قانونی سیاسی سرگرمیوں، معاشی جاسوسی، ڈیٹا اور پیسے کی چوری سمیت ایک وسیع تر مہم کی تصویر کشی کی۔

یہ بھی پڑھیے

تجارتی جنگ: آخر امریکہ چین سے چاہتا کیا ہے؟

’چین امریکی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے‘

امریکہ، چین تجارتی جنگ ’انٹرنیٹ کو تقسیم کر رہی ہے‘

’روس نہیں اب چین امریکہ کا عسکری حریف‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایف بی آئی اب ہر 10 گھنٹے میں چین سے منسلک ایک نیا کاؤنٹر انٹیلیجنس کیس کھول رہا ہے۔ ملک بھر میں فی الوقت جاری 5000 ایسے کیسز میں سے تقریباً نصف کا تعلق چین سے ہے۔'

اپنے غیر معمولی خطاب میں رے نے چین میں پیدا ہونے والے امریکہ کے رہائشیوں سے کہا کہ اگر چینی حکام انھیں ہدف بنا کر انھیں چین واپس لوٹنے کے لیے کہیں تو وہ ایف بی آئی سے رابطہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ 'فاکس ہنٹ' نامی ایک پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں جو چین سے باہر رہنے والے ایسے چینی شہریوں کو ہدف بناتا ہے جنھیں چینی حکومت اپنے لیے خطرہ تصور کرتی ہے۔

انھوں نے کہا: 'ہم سیاسی مخالفین، باغیوں اور ناقدین کی بات کر رہے ہیں جو چین کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع تر پامالی سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ چینی حکومت انھیں چین واپس لوٹنے کے لیے مجبور کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے چین کے حربے حیران کن ہیں۔'

انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'ایک مرتبہ جب انھیں ایک فاکس ہنٹ ہدف نہیں ملا تو چینی حکومت نے ہدف کے خاندان سے ملاقات کے لیے چین سے امریکہ ایک نمائندہ بھیجا جس کے ذریعے خاندان کو پیغام دیا گیا کہ ہدف کے پاس دو آپشن ہیں۔ یا وہ فوراً چین واپس لوٹ آئیں، یا خودکشی کر لیں۔'

چینی حکومت نے ماضی میں اس پروگرام کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک جائز انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہے۔

رے نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے لاحق خطرے پر امریکی وزیرِ خارجہ اور امریکی اٹارنی جنرل آنے والے چند ہفتوں میں مزید روشنی ڈالیں گے۔

یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

امریکی صدر کورونا وائرس کی وبا کے دوران چین کے شدید ناقد رہے ہیں اور انھوں نے بار بار چین کو عالمی وبا کے لیے ذمہ دار قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ چینی موبائل فون ایپس پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے جس میں انتہائی مقبول ایپ ٹک ٹاک بھی شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایپس 'چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جاسوسی نظام کا حصہ ہیں۔'