امریکہ نے اقوامِ متحدہ اور کانگریس کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہاں کورونا وائرس سے 29 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی میں اس حوالے سے اپنے ارادوں کا واضح طور پر اظہار کر چکے تھے۔

انھوں نے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت ’چین کے زیرِ اثر‘ ہے۔

یورپی یونین اور دیگر رہنماؤں اور اداروں کی جانب سے اس فیصلے پر نظرِثانی کے مطالبوں کے باوجود انھوں نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اس ذیلی ادارے سے اپنے ملک کو نکال لیں گے اور اس کو دیے جانے والے فنڈز دوسری جگہوں پر خرچ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا چین کورونا ویکسین کی تیاری کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے؟

کووڈ-19: کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ وائرس لیبارٹری سے نکلا؟

کورونا وائرس: امریکہ اور چین کیوں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں؟

کورونا وائرس: صدر ٹرمپ کے عالمی ادارۂ صحت پر الزامات کتنے درست؟

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے خود کو عالمی ادارہ صحت سے دستبردار کرنے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے جو 6 جولائی 2021 سے کارآمد ہوگا۔

کانگریس کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹ رکن سینیٹر رابرٹ مینینڈز نے ٹوئٹر پر لکھا: ’کانگریس کو نوٹیفیکیشن موصول ہوا ہے کہ امریکہ کے صدر نے وبا کے دوران امریکہ کو عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر دستبردار کر لیا ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’اس سے امریکی بیمار اور امریکہ تنہا رہ جائے گا۔‘

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن نے عالمی ادارہ صحت کو ان اصلاحات کی تفصیل فراہم کی تھی جو امریکہ چاہتا تھا، مگر عالمی ادارہ صحت نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان عہدیدار نے کہا: ’چونکہ وہ ہماری درخواست پر یہ انتہائی ضروری اصلاحات لانے میں ناکام رہے، اس لیے ہم آج اس تعلق کا خاتمہ کریں گے۔‘

امریکہ عالمی ادارہ صحت کو سب سے زیادہ فنڈز فراہم کرتا ہے۔ اس نے 2019 میں ادارے کو 40 کروڑ ڈالر (32 کروڑ 40 لاکھ پاؤنڈ) دیے جو ادارے کے کُل بجٹ کا 15 فیصد ہے۔

سنہ 1948 میں منظور کی گئی کانگریس کی ایک قرارداد کے مطابق امریکہ دستبردار ہو سکتا ہے مگر اسے ایک سال کا نوٹس دینا ہوگا اور واجب الادا رقوم ادا کرنی ہوں گی، تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے کیا مؤقف ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک نے ان شرائط کی تکمیل پر زور دیا ہے۔

امریکہ کی دستبرداری سے عالمی ادارہ صحت کی مالی حالت، صحت کے فروغ اور بیماریوں سے نمٹنے کے اس کے کئی منصوبوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

دنیا میں کورونا کہاں کہاں: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کرونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

عالمی ادارہ صحت کیا ہے اور اس کی فنڈنگ کون کرتا ہے؟

  • یہ ادارہ 1948 میں قائم کیا گیا اور اس کا ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا یہ ادارہ عالمی عوامی صحت کے فروغ کے لیے ذمہ دار ہے۔
  • اس کے رکن ممالک کی تعداد 194 ہے اور اس کا مقصد 'صحت کو فروغ دینا، دنیا کو محفوظ رکھنا، اور کمزوروں کی خدمت کرنا' ہے۔
  • یہ ادارہ ویکسینیشن مہم، طبی ایمرجنسیوں اور بنیادی صحت یقینی بنانے میں ممالک کی مدد کرتا ہے۔
  • اس کی فنڈنگ رکن ممالک کی جانب سے ان کی دولت اور آبادی کے اعتبار سے طے کی گئی فیس اور رضاکارانہ طور پر دی گئی رقوم سے ہوتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے بارے میں کیا کہا تھا؟

صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے اپریل میں کہا تھا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے 30 دن کے اندر ’واضح بہتری‘ کے لیے کام نہیں کیا تو وہ امریکہ کی جانب سے فنڈنگ روک دیں گے۔

اس کے بعد انھوں نے مئی کے اواخر میں کہا: ’ہم عالمی ادارہ صحت کے ساتھ اپنا تعلق ختم کردیں گے‘ اور کہا کہ امریکہ اس ادارے کو دیے جانے والے فنڈز دیگر عالمی طبی فلاحی اداروں کو دینا شروع کر دے گا۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’دنیا اب چینی حکومت کے غلط اقدامات کی وجہ سے مشکلات کی شکار ہے۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ چین نے ’عالمی وبا کو فروغ دیا۔‘

امریکہ کے صدر نے چین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے عالمی ادارہ صحت پر وائرس کے حوالے سے ’دنیا کو گمراہ‘ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

تاہم انھوں نے اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’چین کا عالمی ادارہ صحت پر مکمل کنٹرول ہے۔‘

دیگر ممالک بشمول جرمنی اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بنانے کی عالمی مہم میں رابطہ کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔