تیس جون کی درمیانی شب مجھے ایک ای میل موصول ہوئی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ یہ ای میل 'ہوم لینڈ چیتا' نامی ایک گروہ کی جانب سے ہے۔

اس گروہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے تقریباً دو گھنٹے قبل نطنز میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا ہے، یعنی مقامی وقت کے مطابق صبح دو بجے۔ پیغام کی تفصیلات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نطنز کی عمارت کو تباہ کر دیا ہے اور ایرانی حکومت اس تباہی کو پوشیدہ نہیں رکھ سکے گی۔

اس گروپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایرانی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے منحرفین ہیں اور حال میں ہونے والے دھماکوں کے بھی وہی ذمہ دار ہیں جنھیں ایرانی حکومت تاحال پوشیدہ رکھ رہی ہے۔

میں نے فوراً ایرانی نیوز ایجینسیوں کی ویب سائٹیں اور سوشل میڈیا پر قابل بھروسہ ذرائع کو چیک کیا، لیکن مجھے وہاں اس حملے کے بارے میں کوئی خبر نظر نہیں آئی۔

کئی گھنٹوں کے بعد ایرانی جوہری توانائی کے قومی ادارے نے اعلان کیا کہ نطنز کے جوہری منصوبے میں ایک واقعہ رونما ہوا ہے، لیکن ادارے نے کسی تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا۔

Interactive Incident at Natanz nuclear site

3 July

Satellite image showing the nuclear facility in Natanz, Iran, 3 July 2020

1 July

Satellite image showing the nuclear facility in Natanz, Iran, 1 July 2020

اگلے دن ایران کے سب سے بڑے سلامتی کے ادارے شوریِ امنیتِ ملی (سپریم سیکیورٹی کونسل) نے اعلان کیا کہ اُسے معلوم ہے کہ یہ 'واقعہ' کس وجہ سے رونما ہوا تھا لیکن 'قومی سلامتی کے سبب' فی الحال یہ نہیں بتایا جائے گا کہ یہ واقعہ کیا تھا۔

امریکی خلائی ادارے 'ناسا' نے مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصویریں جاری کی ہیں جو یہ دکھاتی ہیں کہ نطنز میں دو بج کر چھ منٹ پر آگ لگی۔ یہ تقریباً وہ وقت ہے جس کا 'ہوم لینڈ چیتا' گروہ کی ایم میل میں دعویٰ کیا گیا تھا۔

اس گروہ کی جانب سے جو پیغام ای میل میں بھیجا گیا تھا وہ لگتا ہے کہ بہت احتیاط سے تیار کیا گیا تھا، اس میں ایران میں فوجی اہمیت کے اہداف پر حملوں کے بارے میں پراپیگینڈے کی ایک ویڈیو بھی شامل تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ایران نے ’کامیابی سے اپنی پہلی فوجی سیٹلائٹ مدار میں بھیج دی‘

جوہری معاہدہ: یورپی طاقتوں کی ایران کےخلاف شکایت

امریکہ اور ایران کشیدگی: لفظوں کی جنگ تصادم میں بدلنے کا خدشہ

اس قسم کی ویڈیو کی منصوبندی اور تیاری میں اگر کئی دن نہیں تو کئی گھنٹے ضرور لگتے ہیں۔ جس نے بھی اس ویڈیو کا سکرپٹ لکھا اُسے پہلے ہی سے نطنز کے دھماکے کے بارے میں علم تھا جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ نطنز میں ہونے والا دھماکہ ایک تخریب کاری تھی۔

لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ ای میل ہمیں گمراہ کرنے کا کوئی گہرا منصوبہ ہو کہ اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور شاید یہ بیرونی ایجنٹوں کا کام ہو جو ایرانی حکومت کے منحرفین بننے کا ڈھونگ کر رہے ہوں۔

حملے ’ناکام کر دیے گئے‘

اس مبینہ گروپ کا نام 'ہوم لینڈ چیتا' ایرانیوں کے ایک سائبر گروپ 'پرشین کیٹ' یا 'چارمنگ کٹّن' سے ملتا جلتا ہے۔ ہیکروں کے یہ گروہ پاسداران اسلامی انقلاب ایران کی سائبر فوج کا حصہ ہیں۔

اس برس مئی کے اواخر میں ایران کے سب سے بڑے دشمن، اسرائیل کی سائبر سکیورٹی کی قومی تنظیم نے کہا تھا کہ اس نے ملک میں پانی کی سپلائی کے نظام کو تباہ کرنے کے ایک حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ عندیہ یہ تھا کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہوگا۔

کچھ دنوں کے بعد ایران کے جنوب میں ایک بندرگاہ شہید رجائی پر ایک سائبر حملہ ہوا۔

ایران کی پچاس فیصد درآمد اور برآمد اسی بندرگاہ سے ہوتی ہیں۔ اس حملے سے بندرگاہ کے قریب بہنے والی نہریں بند ہوگئیں اور نہروں کا پانی سڑکوں پر بہنے لگا جو بندرگاہ کی طرف جاتی ہیں۔

ایرانی حکام نے اس واقعہ کی وجہ بجلی کی سپلائی میں تعطل کہا لیکن مغربی انٹیلیجینس ذرائع کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل کا ایران کے خلاف ایک جوابی حملہ تھا۔

آتش زنی اور دھماکے

پچھلے تین ماہ سے ایران میں ملک کے حساس مقامات پر دھماکوں اور آتش زنی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور انھیں اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے۔

آتش زنی کے ان واقعات میں سے کئی ایک جوہری تنصیبات، آئل ریفائنریاں، بجلی گھروں، اہم فیکٹریوں اور کاروباری اداروں میں ہوئے ہیں۔

26 جون سے ایران میں اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں:

  • 26 جون: تہران میں پارچین کے قریب خجیر میں بیلِسٹک میزائل کے بنانے کی فیکٹری میں لیکویڈ فیول تیار کرے کی تنصیبات پر دھماکہ، شیراز میں پورے شہر میں بڑے بجلی گھر میں دھماکہ جس سے پورے شہر میں بلیک آوٹ ہوگیا۔
  • 30 جون: تہران کے ایک ہسپتال میں دھماکہ جس میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔
  • 2 جولائی: نطنز میں جوہری تنصیبات پر دھماکہ اور آتش زنی۔
  • 3 جولائی: شیراز میں خوناک آگ لگنے کا واقعہ۔
  • 4 جولائی: اہواز کے بجلی گھر میں دھماکہ اور آتش زنی، مہ شہر میں کارون پیٹروکیمیکل میں کیمیائی مائع کا اخراج۔

فن لینڈ میں مقیم ایک ایرانی صحافی سعید اگانجی جو ان واقعات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ واقعات غیر معمولی قسم کے ہیں اور شاید یہ جان بوجھ کے کرائے جارہے ہوں۔

'ایران کی اقتصادی اور فوجی نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ایران کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی جائے اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ دیگر ملکوں میں مسلح گروہوں اور میلیشا کو مالی امداد دینا بند کردے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرے۔'

پارچین اور خجیر دو فوجی اڈے ہیں جو تہران کے مضافات میں واقع ہیں اور جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں جوہری اور میزائل تنصیبات موجود ہیں۔

جوہری امور کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی پارچین میں داخلے کی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں جس کے بارے شبہ ہے کہ ایران یہاں جوہری ہتھیاروں کے لیے مواد کے دھماکوں کے تجربے کرتا ہے۔

ایران کا انتباہ

ایران کے خبر رساں ادارے ارنا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ نطنز میں آتش زنی 'دشمن ممالک کی جانب سے اور خاص کر صہیونی حکومتوں اور امریکہ کی' تخریب کاری کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے شہری دفاع کے وزیر نے اپنے عزم کا اعلان کیا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ ایران سائبر حملوں کا نشانہ بنا تھا تو پھر جوابی کاروائی کی جائے گی۔

گذشتہ اتوار مشرقِ وسطیٰ کے ایک ملک کے انٹیلیجینس ذریعے، جس کا نام نہیں بتایا گیا، نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ نطنز میں یہ دھماکہ اسرائیل نے کرایا ہے۔ اس سے ایک دن پہلے، اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے موہوم سے انداز میں کہا کہ جب ہم پر ایران میں کسی کاروائی کرنے کا الزام لگتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ 'بہتر ہے کہ کچھ نہ بولا جائے۔'

اسرائیل عموماً ایسی کاروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے اور ایرانی حکام نے اسرائیل پر براہ راست الزام لگانے سے گریز کیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سائبر جنگ شروع ہو چکی ہے۔