ہانگ کانگ میں نئے سیکیورٹی قوانین کے نافذ ہونے کے بعد ایک جمہوریت پسند کارکن کی طرف سے بین الاقوامی حمایت کی اپیل کے بعد چین نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔

چین کے سفیر لوئی ژاؤمنگ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے ہانگ کانگ کے 30 لاکھ شہریوں کو برطانیہ کی شہریت دینے کی پیش کش ہانگ کانگ میں ’کھلی مداخلت‘ کے مترادف ہے۔

برطانیہ کی طرف سے یہ پیش کش ہانگ کانگ میں نئے سیکیورٹی قوانین نافذ کرنے کے بعد دی گئی تھی۔

ان قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے نافذ ہونے کے بعد اس نیم خود مختار علاقے کی آزادی سلب ہو گئی ہے۔

جمہوریت پسند سرگرم کارکن جوشوا وانگ نے بین الاقوامی سطح پر ہانگ کانگ کی وسیع حمایت کی اپیل کی تھی اور ہانگ کانگ کے رہنے والے اپنے ہم وطنوں سے بالخصوص اور بیرونی دنیا سے بالعموم یہ بات کہی تھی کہ وہ بیجنگ کی باتوں میں نہ آئیں۔

چینی سفیر لوئی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ برطاینہ اپنی پیش کش پر نظر ثانی کرے گا۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت ہانگ کانگ کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیتی رہتی ہے۔

چینی سفیر کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کے اس اقدام کے رد عمل میں بیجنگ نے کیا کرنا ہے اس بارے میں فیصلہ برطانوی پیش کش کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ چین نے سنہ 1997 کے اس معاہدے سے انحراف کیا ہے جس کے تحت ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا گیا تھا اور اس معاہدے کے تحت چین کو پچاس سال تک ہانگ کانگ کے شہریوں کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے سوموار کو چین پر زور دیا کہ چین ہانگ کانگ کے شہریوں، جن کے پاس سمند پار برطانوی شہری حقوق ہیں، ان کے برطانیہ آنے کے راستہ میں حائل نہ ہوں۔

برطانوی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ چین بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’قومی سلامی قوانین اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو ملک بدر کیے جانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

ہانگ کانگ کے نئے سیکیورٹی قانون

برطانیہ میں ملک بدری کے خلاف بہت سی احتیاطی قانونی شقیں موجود ہیں۔ برطانیہ میں عدالتیں کسی شخص کو ملک سے نکالنے پر پابندی عائد کر سکتی ہیں اگر اس شخص کو کسی ایسے ملک واپس جانے کو کہا جا رہا ہو جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہوں اور اگر اس کی ملک بدری کی درخواست سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہو۔

سوموار کو فیس بک اور اس کی پیغامات کے تبادلے کی سروس ’واٹس ایپ‘ نے قومی سلامتی قوانین اور اس کے اثرات کا جائزہ مکمل ہونے تک ہانگ کانگ کی حکومت اور اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے کی جانے والی درخواستوں کو موخر کر دیا ہے۔

اس جائزے میں انسانی حقوق کی صورت حال کو دیکھا جائے گا انسانی حقوق کے سرکردہ ماہرین سے بات کی جائے گی۔

ڈھکا چھپا انتباہ نہیں

چینی سفیر لوئی کبھی بھی اس سے کم بے باک نہیں تھے۔ برطانیہ کی طرف سے بیجنگ کے اندرونی معاملات میں جسے وہ مداخلت سمجھتے ہیں اس کی مذمت کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

برطانیہ اور چین اب کم از کم دو معاملات ہانگ کانگ اور ہواوے پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا احساس اس سے پہلے کبھی اتنا شدید نہیں تھا۔

چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ایک اعشاریہ چار ارب افراد کی امنگوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدم مداخلت کے اصولوں اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام نہیں کیا جاتا تو باہمی تعلقات خراب ہوتے ہیں اور ان کا دھچکا لگتا ہے۔

بات اگر ہواوے کی ہو تو بورس جانس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ چین کو اب ایک کاروباری حریف کے طور پر دیکھا جائے گا اور ان کے اس بیان نے یقیناً بدمزگی پیدا کی ہو گی۔

چینی سفیر نے کہا کہ چینی حکام نے برطانیہ کے بارے میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی ہو گی۔

چینی سفیر نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کہ برطانیہ کی طرف سے ہواوے کو ٹھیکہ نہ دیئے جانے اور ہانگ کانگ کے شہریوں کو برطانیہ میں خوش آمدید کہنے کے کیا نتائج نکلیں گے۔

ان کی طرف سے امریکہ کے سابق قومی سلامتی کونسل زبنیو برزنسکی کے اس بیان کو دہرانا کہ چین کو اگر آپ دشمن بنائیں گے تو چین دشمن بنے گا کوئی ڈھکی چھپی دھمکی نہیں ہے۔

کئی دوسرے ملکوں بشمول امریکہ، کینیڈا، جاپان اور آسٹریلیا نے بھی اس قانون کے لاگو کیے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہانگ کانگ میں جو نئے قوانین متعرف کرائے گئے ہیں ان سے علیحدگی پسندی، تخریب کاری اور دہشت گردی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں عمر قید تک کی سزا دی جا سکے گی۔

ان قوانین کے وانگ جیسے مخالفین کا کہنا ہے کہ دراصل یہ آزادی رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے گو کہ بیجنگ اس تاثر کو رد کرتا ہے۔

وانگ اور دو اور سرگرم کارکن سوموار کو غیر قانون اجتماع کرنے کے الزام میں عدلت کے سامنے پیش ہوئے۔

قومی سلامتی کے قوانین ہیں کہا؟

ان قوانین کا دائرۂ کار کافی وسیع ہے اور ان سے بیجنگ کو ایسے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں وہ اس سے پہلے اسے ہانگ کانگ میں حاصل نہیں تھے۔ ہانگ کانگ کی علاقائی حکومت اور چین کی حکومت کے خلاف نفرت کو پھیلانا ان قوانین کے تحت قابل تعزیر جرم بن گیا ہے۔

ان قوانین سے چین کو مشتبہ افراد کے فون ریکارڈ کرنے اور ملزماں پر چین کے اندر اور بند کمروں کے پیچھے مقدمات چلانے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کو ان قوانین میں دہشت گردی قرار دے دیا گیا ہے۔

آئن لائن کی آزادی بھی ان قوانین سے متاثر ہو گئی کیونکہ پولیس کی طرف سے درخواست کیے جانے کے بعد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے تمام ڈیٹا فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔