رواں برس کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سعودی عرب میں مسلمانوں کی مذہبی زیارت یعنی فریضہِ حج انتہائی محدود اور سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے۔

اس بار عازمین مکہ میں خانہ کعبہ کو چھو پائیں گے نہ حجرہ اسود (کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں نصب سیاہ پتھر) کو بوسہ دے پائیں گے۔ انھیں سماجی فاصلے اور یہاں تک کہ سخت گرمی میں پیاس بھجانے کے لیے بھی حکومتی احکامات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

اگرچہ مسجد الحرام میں فی الحال نماز کی ادائیگی جاری ہے تاہم 19 جولائی سے دو اگست (28 ذوالقعدہ سے 12 ذوالحج) تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں کوئی بھی شخص حج کا اجازت نامہ دکھائے بغیر داخل نہیں ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب کا محدود حج کا اعلان، تاریخ میں حج کب کب منسوخ ہوا؟

'حج کرنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے'

سعودی عرب میں شاہ خرچیوں کا دور ختم؟

سعودی عرب کو حج سے کتنی آمدن ہوتی ہے؟

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے باعث متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے اوپر ہو چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد 1900 سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں کے مقدس شہر اور حج کے مرکز مکہ میں 230 جبکہ مدینہ میں 159 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں سال کتنے افراد حج کریں گے

سعودی حکام نے سلطنت کے اندر مقیم مختلف ممالک کے افراد کو حج کی ادائیگی کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں برس کتنے افراد حج ادا کر سکتے ہیں اور اس کی حتمی تعداد کیا ہوگی، یہ تاحال واضح نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق گذشتہ منگل کو ایک ورچول کانفرنس کے دوران وزیر برائے ححج و عمرہ محمد بنتن نے کہا کہ حکومت ابھی جائزہ لے رہی ہے کہ کتنی تعداد میں عازمین کو حج کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد ’ایک ہزار کے قریب ہو سکتی ہے یا اس سے کچھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تعداد دسیوں ہزار نہیں ہو سکتی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں سعودی سفارت خانے کے ذرائع نے بتایا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کہ سعودی عرب میں مقیم کتنے پاکستانی شہری حج کریں گے۔

حج 2020 کے لیے حفاظتی قوائد و ضوابط

سعودی عرب میں بیماریوں کی روک تھام کے قومی ادارے نے حج کے حوالے سے قوائد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے اور مقامی میڈیا نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔ سعودی گیزٹ کی رپورٹ میں اس حوالے سے تفصیلی خبر شائع کی گئی ہے۔ ان کے مطابق:

اس بار حجاج کعبہ اور حجرہ اسود کو بوسہ نہیں دے سکیں گے۔ کعبہ اور حجرہ اسود کو چھونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

دو عازمین حج کے درمیان طواف کے دوران کم از کم ڈیرھ میٹر کا سماجی فاصلہ یقینی بنانے کے لیے خصوصی سکیورٹی اہلکار مقرر ہوں گے۔

کعبہ اور حجرہ اسود کو کوئی چھو نہ سکے اسے یقینی بنانے کے لیے ان کے گرد خصوصی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی اس کے علاوہ نگران اہلکار بھی موجود ہوں گے۔

متعاف کعبے کے گرد کے مقام کو کہتے ہیں جہاں کعبے کا طواف کیا جاتا ہے جبکہ سعی کچھ فاصلے پر موجود صفیٰ اور مرویٰ کے مقام پر چکر لگا کر کی جاتی ہے۔ ان دونوں مقامات کو بھی عازمین کے ہر گروہ کی آمد سے پہلے جراثیم کش سپرے کی مدد سے صاف کیا جائے گا۔

منیٰ میں رمی یعنی اسلامی عقیدے کے مطابق شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے بھی اب حاجیوں کو پیکٹ میں کنکریاں دی جائیں گی اور اس کے لیے ان پر پہلے جراثیم کش سپرے ہو گا۔ اس سے پہلے حجاج اسی مقام سے کنکریاں اکھٹی کر کے رمی کیا کرتے تھے۔

اگر دوران حج کسی میں کورونا وائرس کی علامات پائیں گئیں تو ڈاکٹر کی جانب سے ان کا معائنہ کیے جانے کے بعد ہی حج کے دیگر ارکان ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی اور انھیں اپنے ساتھی عازمین کے ساتھ ہی رہنا ہو گا۔

اسی طرح صورتحال کو دیکھتے ہوئے حجاج کے لیے انھیں الگ رہائشی عمارتوں یا گھروں میں رکھا جائے گا۔ ان کے لیے گاڑی اور مناسب راستے کا انتظام کیا جائے۔

کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص میں نزلے، تیز بخار، کھانسی، زکام، گلے میں خراش یا سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت کی محرومی پیدا ہونے کی صورت میں انھیں حج میں شرکت نہیں کرنے دی جائے گی۔ جب تک ان میں یہ علامات ختم نہ ہو جائیں اور ڈاکٹر ان کے صحت یاب ہونے کی رپورٹ نہ دے، یہ حکم نافذ رہے گا۔

عازمینِ حج کو جب ایک مقام پر اکٹھا ہونا ہوگا اور جب کسی ہوٹل میں اپنا سامان شناختی سٹکرز کے لیے لینا دینا ہو گا تو ہر دو افراد کے درمیان ڈیڑھ میٹر کے فاصلے کو یقینی بنانا ہو گا۔

عازمین اپنے ساتھ انفرادی طور پر پینے کا پانی اور زم زم (مقدس پانی) رکھ سکتے ہیں تاہم بشمول خانہ کعبہ تمام مقدس مقامات سے ٹھنڈے پانے کے کنٹینرز، کولر ہٹا دیے جائیں گے اور ان کا استعمال نہیں ہو گا۔

عرفات اور مزدلفہ میں ہر حاجی کو پیک شدہ کھانا مہیا کیا جائے گا۔ اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ ان مقامات پر حج انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔

مزدلفہ اور منیٰ میں عازمین کے قیام کے وقت ان کے لیے موجود ٹینٹ 50 سکوئیر میٹر کا ہونا ضروری ہے۔ اور ضروری ہوگا کہ وہاں ایک وقت میں 10 سے زیادہ عازمین حج موجود نہ ہوں۔

حجاج کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ مقرر وقتِ پر رمی کے لیے جمرات پر پہنچیں تاکہ ایک وقت میں ایک منزل پر فقط 50 افراد ہی رمی کر سکیں۔ اور ان کے درمیان بھی ڈیڑھ سے دو میٹر کا فاصلہ موجود رہے۔