پٹرول کے بجائے بجلی سے چلنے والی ماحول دوست گاڑیوں کی مقبولیت پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ٹیسلا اور ٹویوٹا جیسی معروف الیکٹرک کار ساز کمپنیوں کے علاوہ بعض چینی کمپنیاں بھی اس صنعت میں قدم رکھ چکی ہیں اور وہ جدید سہولیات والی سستی الیکٹرک گاڑیاں بنانے کی دعویدار ہیں۔

عام پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والوں کاروں کے مقابلے میں دنیا بھر میں الیکٹرک کاروں کی دستیابی تاحال اس قدر عام نہیں اور چونکہ انھیں جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیا جا رہا ہے اس لیے ان کی قیمتیں بھی کچھ زیادہ ہوسکتی ہے۔

اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو صارفین پاکستان میں ہیں، وہ الیکٹرک کار کیسے منگوا سکتے ہیں اور آیا ان گاڑیوں کی قیمتیں ملک میں دستیاب پٹرول والی گاڑیوں سے کم یا زیادہ ہوں گی۔

کیا پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں چل پائیں گی؟

ای بائیک:’نہ دھواں نہ شور اور خرچ بھی 500 روپے ماہانہ‘

نئی گاڑیوں کے مقابلے میں ’بگ تھری‘ ہی کیوں مقبول؟

ٹیسلا کی تمام نئی گاڑیوں میں’سیلف ڈرائیونگ‘ کی سہولت

سستی الیکٹرک کاریں کہاں دستیاب ہیں؟

انٹرنیٹ پر لوگ ایسی چینی الیکٹرک گاڑیوں کا ذکر کر رہے ہیں جن کی قیمت کم ہے لیکن غیر معمولی شکل و صورت کے باوجود یہ جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔

جون کے اوائل کے دوران امریکہ میں گاڑیوں کے بلاگر جیسن ٹارچنسکی نے یہ دعویٰ کر کے سب کو حیران کر دیا کہ آپ چینی ای کامرس ویب سائٹ علی بابا پر 'دنیا کی سب سے سستی الیکٹرک کار' آرڈر کر سکتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے بھی کیا۔

اس چار پہیوں والی گاڑی کا نام چینگ لی ہے۔

انھوں نے یہ الیکٹرک کار چین سے امریکہ اپنے گھر منگوائی اور اپنی ایک ویڈیو میں اس کی 'ان باکسنگ' یا رونمائی کی۔

جیسن نے کار کی پیکنگ کھول کر بتایا کہ 'مجھے لگا تھا یہ پلاسٹک کی بنی ہوگی لیکن یہ تو دھات کی بنی ہے۔'

انھوں نے دکھایا کہ کار کے ساتھ ایک سپیئر ٹائر، سائیڈ مرر اور چارجنگ کا پلگ بھی دیا گیا ہے۔

اس گاڑی میں آگے ایک شخص کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور پیچھے بمشکل دو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔

مگر اس میں ایل ای ڈی لائٹس، ایئر کنڈیشنر، ریڈیو، ایم پی تھری پلیئر اور پیچھے دیکھنے والے کیمرے کی موجودگی نے جیسن کو خوب متاثر کیا۔

تاہم دیکھنے میں اس دو دروازوں والی گاڑی کو گالف کارٹ سے جوڑا جا رہا ہے جسے عمر رسیدہ افراد کے استعمال لیے بنایا گیا ہے۔

الیکٹرک کار پٹرول والی گاڑی سے مختلف کیسے ہوتی ہے؟

انجن کے بغیر ان کاروں کا زیادہ انحصار الیکٹرک بیٹری پر ہوتا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں میں ایندھن کا استعمال نہ ہونے سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فضائی آلودگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں اور اسی وجہ سے اس کار کو ماحول دوست بتایا جا رہا ہے۔

1.1 ہارس پاور کی اس الیکٹرک کار میں 60 وولٹ/1200 واٹ کی موٹر نصب ہے۔ یہ 60 وولٹ 45 اے ایچ کی بیٹری سے چلتی ہے اور اس کی حد رفتار 35 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

کمپنی کے مطابق اسے مکمل چارجنگ کے لیے سات سے 10 گھنٹے درکار ہوتے ہیں اور ایک مرتبہ چارجنگ پر یہ 100 کلو میٹر تک چل سکتی ہے۔

اور اس کی ایک سال کی وارنٹی بھی ہے جس میں کچھ شرائط رکھی گئی ہیں۔

قیمت اور دستیابی

چینگ لی الیکٹرک کار علی بابا کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے اس کی قیمت فی الحال 153,275 سے 197,610 روپے بتائی جا رہی ہے۔

کمپنی کے نمائندے سے رابطہ کر کے اسے پاکستان میں آرڈر کرنے اور اس میں بہتری یا ترجیحات کے حوالے سے بات کی جاسکتی ہے۔

جیسن کے مطابق اس کار کے ساتھ آپ کو بیٹری الگ سے خریدنی ہوگی جو کہ قریب 1200 ڈالر کی ہے۔

چینی کمپنی سے 930 ڈالر کی قیمت پر فروخت ہونے والی اس کار کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی بھی ادا کرنا ہوں گی جو ہر ملک میں مختلف ہیں۔ اور یہ ٹیکس کار کی قیمت سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔

جیسن کے مطابق انھیں یہ کار 930 ڈالر سے ہوتے ہوتے چین سے امریکہ منگوانے کے لیے کل تین ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا پڑے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود اس کی قیمت کسی گاڑی تو کیا گالف کارٹ سے بھی کم ہے۔

علی بابا پر اس جیسی کئی اور چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں موجود ہیں۔ لیکن ان غیر مقبول گاڑیوں کو آزمائے بغیر ان کے بارے میں مکمل معلومات نہیں مل سکتیں۔

اسی طرح انٹرنیٹ پر ایسی کئی کاریں موجود ہیں جو دیکھنے میں روایتی کاروں کی طرح نہیں لیکن بجلی سے چلنے کی وجہ سے انھیں پذیرائی ملتی ہے۔

دوسری جانب چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ سی جی ٹی این کے مطابق چین کی سڑکوں پر ایسی گاڑیاں چلانا غیر قانونی ہے کیونکہ ان پر نمبر پلیٹ نہیں لگتی اور ان کی رجسٹریشن نہیں ہوتی۔

انھیں ایسے عمر رسیدہ افراد کے لیے بنایا جاتا ہے جو معذور ہوں۔ اور یہ کاریں 'چین کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔'

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماضی میں ان 'موبیلیٹی سکوٹرز' کی وجہ سے چین کی سڑکوں پر ہزاروں حادثات بھی پیش آچکے ہیں۔

پاکستان میں نئی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کیسے ممکن ہے؟

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق ملک میں نئی گاڑیاں باآسانی درآمد کی جاسکتی ہیں بشرط یہ کہ آپ اس کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کریں جو درآمد کے عمل اور تقاضوں کے لیے ضروری ہے۔

درآمد کا طریقہ کار سمجھنے کے لیے ہم اسی گاڑی کی مثال لے سکتے ہیں۔

چینی کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر آپ یہ گاڑی خریدتے ہیں تو تمام اخراجات کی ادائیگی کے بعد اسے ملک کی کسی بندرگاہ پر پہنچایا جائے گا، جیسے کہ کراچی کی بندرگاہ پر۔ مگر وہاں سے اسے اپنے گھر تک لانا آپ کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔

وفاقی حکومت نے الیکٹرک وہیکل پالیسی کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ لوگوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والی الیکٹرک کار کی درآمد پر امپورٹ ڈیوٹی (کسٹم ڈیوٹی) کو کم کیا گیا ہے۔

پاکستان کسٹمز کے ایک اہلکار، جو گاڑیوں کی درآمد کے شعبے سے منسلک ہیں، کے مطابق انٹرنیٹ سے نئی کار کی درآمد کے سلسلے میں ان کا ادارہ گاڑی کی انوائس اور اس کے متعلق ڈیٹا چیک کرتا ہے اور گاڑی کی قیمت کا تخمینہ لگانے کے لیے کمپنی کی ویب سائٹ پر بھی اس کی اصل قیمت دیکھی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صارف کو اپنی الیکٹرک کار کی درآمد کلیئر کرانے کے لیے اس پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی، سات فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس اور 12 فیصد ود ہولڈنگ ٹیسک ادا کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں کسی کلیئرنگ ایجنٹ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے اگلا مرحلہ گاڑی کی رجسٹریشن ہوگا جس کے لیے صارف کو اپنے علاقے کے محکمہ ایکسائز سے رجوع کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں گاڑی کی انوائس، ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگیوں جیسی دستاویزات درکار ہوں گی۔

کسٹمز اہلکار نے تسلیم کیا کہ اس وقت پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بڑی تعداد میں سڑکوں پر اس لیے نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کی رجسٹریشن کا طریقہ کار مشکل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ معروف کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیاں تو باآسانی رجسٹر ہوجاتی ہیں لیکن چھوٹی کمپنیوں کی کاریں رجسٹر کرانا قدرے پیچیدہ عمل ہے۔

پنجاب میں محکمہ ایکسائز کے اہلکار محمد جاوید کے مطابق کسی بھی گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے آپ کو اپنے متعلقہ محکمہ ایکسائز کے دفتر میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔

درآمد شدہ کار کی رجسٹریشن کے لیے آپ کو رجسٹریشن فارم، شناختی کارڈ، کسٹم اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ اجازت نامہ، ٹیکسز کی ادائیگیوں سے متعلق دستاویزات اور انوائس کی کاپی درکار ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ ضرورت کے تحت گاڑی کے فٹنس سرٹیفیکیٹ کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ان مراحل کے بعد درآمد شدہ گاڑیاں رجسٹر ہوسکتی ہیں اور سڑکوں پر چلائی جا سکتی ہیں۔