’میں نہاتی تھی تو اپنی جلد کو رگڑتی تھی اور اپنی سیاہ رنگت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھی۔‘

کرشما لیکراز نے 13 برس کی عمر میں اس وقت گوری رنگت کی مصنوعات کا استعمال شروع کیا جب انھیں کہا گیا کہ اگر ان کی جلد کم سیاہ ہوتی تو وہ ’خوبصورت‘ ہوتیں۔

اب وہ 27 برس کی ہو گئی ہیں۔ بی بی سی کے ایک پروگرام میں گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے چہرے کے خدوخال خوبصورت ہیں تاہم یہ باعثِ شرمندگی ہے کہ میں اتنی سیاہ رنگت کی حامل ہوں۔‘

انھیں ان مصنوعات سے ان کے والدین نے ہی متعارف کروایا جو چاہتے تھے کہ ان کی رنگت کم سیاہ ہو جائے۔

کرشما کہتی ہیں کہ یہ ہماری ثقافت میں رچی بسی بات ہے کہ ’اگر آپ کا رنگ سفید ہے تو آپ بہت خوبصورت ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ جنوبی ایشیائی ثقافت میں سفید رنگت کو اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے

’چاہتی تھی رنگ گورا ہو مگر جلد ہی جل گئی‘

’سانولی رنگت والی لڑکیو، گہری رنگت میں خرابی کیا ہے؟'

کیا سانولی رنگت بدصورتی کی علامت ہے؟

لیکن حالیہ ہفتوں میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے ردِعمل میں ہونے والی بحث سے انڈیا میں گہری رنگت کی کریموں کے لیے صورتحال بدلی ہے۔

یونی لیور نے اپنی مصنوعات سے فیئر کا لفظ ہٹا کر انھیں گلو اینڈ لولی نام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح ایشیا میں شادی کی ویب سائٹ شادی ڈاٹ کام سے بھی جلد کی رنگت کے حوالے سے موجود سوال ہٹا دیا گیا ہے۔

’زیادہ دیر تک سورج کا سامنا نہ کریں‘

کرشما کی طرح سبرینا منکو کو بھی ان کے اہلِخانہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کی رنگت بہت سیاہ ہے۔

وہ کہتی ہیں ایک نوجوان لڑکی کی حیثیت سے مجھے یہ بتایا جاتا تھا کہ زیادہ دیر تک سورج کے نیچے نہ رہو۔ اس سے تمھاری رنگت سانولی ہو جائے گی۔‘

سبرینا کی عمر 10 برس تھی جب انھیں اپنا رنگ نکھارنے کے لیے کریم سے متعارف کروایا گیا اور انھوں نے اسے آٹھ سال تک استعمال کیا۔

اور یہ فقط خاندان کے افراد کے تبصرے نہیں ہوتے جو انسان میں اپنی جلد کی سیاہی کو کم کرنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں۔

انوشہ جو اپنا پورا نام نہیں بتانا چاہتیں، کہتی ہیں کہ لڑکپن میں وہ سکول کا دور تھا جب وہ اپنی جلد کی رنگت کے بارے میں واقعی بہت منفی سوچتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے خود کو، اس وقت میں غیر صحت مندانہ انداز میں سفید رنگت کے حامل لوگوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے پایا۔

وہ کہتی ہیں کہ بہت زیادہ معروف لڑکیوں سے مختلف رویہ برتا جاتا وجہ کوئی بھی نہیں ہوتی تھی سوائے اس کے کہ وہ سفید رنگت کی حامل تھیں۔

کرشما کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوا کہ انھوں نے لڑکپن میں اپنی دوستوں کے ساتھ تصاویر کھینچوانا ہی چھوڑ دیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں نہیں چاہتی تھی کہ جب تصاویر آئیں تو میں ان سے سیاہ لگوں۔‘

رنگت اور جنوبی ایشیا میں بسنے والی کمینونٹیز

رنگت کی بنا پر فرق گہری رنگت کے حامل افراد کے ساتھ تعصب یا امتیازی سلوک ہے، عام طور پر ایک ہی نسلی گروہ کے لوگوں کے درمیان۔

ڈاکٹر ریتومبرا مونووی انسانی حقوق کے قانون پڑھاتی ہیں اور انھوں نے جنوبی ایشیا میں امتیازی سلوک کے موضوع پر تحقیق بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’استعماریت کا اثر ہوا ہے، بہت سے حملے ایسے لوگوں نے کیے جو عام طور پر سفید رنگت کے حامل تھے جیسے برطانوی۔‘

’اس نے یہ سوچ پیدا کی کہ اگر آپ کی رنگت کم گہری ہے تو آپ کسی حد تک برتر ہوں گے۔‘

ذات پات کا نظام، جو پیچیدہ معاشرتی درجہ بندی کا نظام ہے، نے معاشرے میں اس خیال کو تقویت دی کہ اگر آپ کی جلد کم سیاہ ہے تو آپ بہتر ہیں۔

’وہ جو لوگ اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر اقتدار کے ڈھانچے میں ہیں، اکثریت کم گہری رنگت کے حامل ہیں۔ پھر شادی کے معاملے میں بھی سفید رنگت کی دلہن کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر ریتومبرا کہتی ہیں کہ جدید دور میں رنگت نکھارنے کی مصنوعات اور ان کی تشہیر نے سفید رنگت کے خیال کے معروف کلچر کو تقویت دی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ پہلے دور کے اداروں کو دیکھیں تو اس وقت جو آزادی کی تحریکوں کی سربراہی کرتے تھے اس وقت رنگت واقعی کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوتی تھی۔

’میں وہ کرتی ہوں جو معروف شخصیات کرتی ہیں

سبرینا نے بالی وڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ گوری رنگت کے لیے مصنوعات کے استعمال کے فیصلے میں ہندی فلم انڈسٹری سے متاثر ہوئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میں معروف فلمی ستاروں کو دیکھتی تھی اور ان کے رحجانات کو دیکھتے ہوئے ان کی تقلید کرتی تھی۔‘

بالی وڈ اداکار ان مصنوعات کی تشہیر کرنے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیںڑ جو جلد کی رنگت کو نکھارتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ’آپ کی رنگت سیاہ ہے اور ان مصنوعات کے استعمال سے بدلاؤ آئے گا کیونکہ یہ آپ کو معروف ستارے بتا رہے ہیں۔‘

کچھ اشتہارات میں تو یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ مرد سیاہ رنگت کی لڑکیوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور جب وہ گوری رنگت کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔

اور یہ صرف اشتہارات تک محدود نہیں ہے۔

سبرینا کہتی ہیں کہ میں نے فلموں میں دیکھا ہے کہ گوری رنگت کو زیادہ اچھا اور خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔ میں ان لوگوں کی مانند نظر آنا چاہتی تھی جنھیں میں ٹی وی پر دیکھتی۔‘

’میں اب بھی گوری رنگت کی مصنوعات استعمال کرتی ہوں‘

کرشما اور سبرینا اب اپنی جلد کو گورا کرنے کے لیے کوئی مصنوعات استعمال نہیں کرتیں جس کی ایک وجہ ان کی جلد پر اس مصنوعات کے اثرات ہیں مگر اس کی ایک وجہ اپنی رنگت کے حوالے سے ان میں پیدا ہونے والا اعتماد بھی ہے۔

لیکن انوشہ کی کہانی مختلف ہے۔

پہلے رنگت کے حوالے سے خاندان اور معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی گہری رنگت کو گورا کرنے کے لیے مصنوعات استعمال کر رہی تھیں لیکن اب بات کچھ اور ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ضروری نہیں کہ رنگ گورا رنگ کرنے والی مصنوعات خریدنے والا ہر شخص مستقل بنیادوں پر سفید رنگت ہی چاہتا ہے، اس کے استعمال سے میری جلد میں نکھار بھی آتا ہے۔‘

انوشہ اب ایک ایسے ماسک کا استعمال کرتی ہیں، جو ان کی جلد کو نکھارتا ہے۔

لیکن وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ اگر کم عمری میں انھوں نے گوری رنگت کی مصنوعات استعمال نہ کی ہوتیں تو وہ انھیں اب بھی استعمال نہ کرتیں۔

’اب بھی بہت سفر باقی ہے‘

کرشمہ کہتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں رنگت اور اس کے لیے موجود مصنوعات پر بحث میں بہتری آئی ہے۔

’اب میں اپنے خاندان کے ساتھ باضابطہ طور پر بات کر چکی ہوں۔‘

اگرچہ یونی لیور اور لوریل نے جلد کی حفاظت کے لیے اپنی موجود مصنوعات کے ناموں میں تبدیلی کی ہے، جو کہ اس معاملے پر شاید آگے کی جانب ایک اہم قدم ہے لیکن سبرینا کے لیے یہ کافی نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ نام کی تبدیلی سے مصنوعات تو ختم نہیں ہوتیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ موجود ہیں اور ابھی آگے بہت سفر باقی ہے۔‘

کرشمہ کہتی ہیں ’اگر میں واپس جا سکتی تو میں کم عمری میں ہی خود کو ان کریموں کے استعمال کے بارے میں نہ سوچنے کے بارے میں بتاتی۔

وہ کہتی ہیں ’میں خود کو بتاتی کہ اپنی خوبصورتی اپنی گہری رنگت میں دیکھوں اور جلد کا رنگ یہ طے نہیں کرتا کہ کوئی شخص کتنا خوبصورت بننے والا ہے۔‘