نیوزی لینڈ سے اپنے راکٹ لانچ کرنے والی امریکی کمپنی راکٹ لیب کا تازہ ترین مشن ناکام ہو گیا ہے۔

راکٹ لیب نے کہا کہ اس کی الیکٹرون گاڑی شمالی جزیرے پر واقع مہیا جزیرہ نما سے اڑنے میں ناکام ہو گئی۔

یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ سیٹلائٹ پر لے جائے جانے والے تمام پے لوڈز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔

ان میں جاپان کے کینن الیکٹرانکس اور کیلیفورنیا کے پلینٹ لیبز انک کے امیجنگ سپیس کرافٹ کے ساتھ برطانیہ کی ایک سٹارٹ اپ کمپنی ان سپیس مشنز کے ٹیکنالوجی مظاہرے کا پلیٹ فارم شامل تھا۔

راکٹ لیب کے سی ای او پیٹر بیک نے اپنے صارفین سے معافی مانگی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کھیل کھیل میں بچوں کو سائنس سکھانے والا نوجوان

دنیا کی 9 ناکام ترین مصنوعات

انھوں نے ٹوئٹر پر کہا: ’مجھے اس بات کا انتہائی افسوس ہے کہ ہم آج اپنے صارفین کو سیٹلائٹ کی فراہمی میں ناکام رہے۔ یقین جانیے کہ ہم اس مسئلے کو تلاش کریں گے، اسے درست کریں گے اور جلد ہی پیڈ پر واپس آجائیں گے۔‘

راکٹ لیب نے سنہ 2017 میں الیکٹرون گاڑی کی شروعات کے بعد سے خلائی شعبے میں ہر کسی کو متاثر کیا تھا۔

یہ اس شعبے میں نئی لہر کا سرخیل تھا یعنی مصنوعی سیاروں کے لیے ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی خدمت کے لیے کمپیکٹ راکٹ چلانے کے خواہاں میں سے ایک۔

سنیچر کے روز نیوزی لینڈ سے الیکٹران 13ویں بار روانہ ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کے تمام لانچز مکمل طور پر کامیاب رہے تھے سوائے پہلے کے جو اپنے ہدف والے مدار میں نہیں جا سکا تھا۔

اس بار کیا غلطی ہوئی یہ واضح نہیں ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں راکٹ میں موجود انجن عمومی طور پر پانچ منٹ اور 40 سیکنڈ تک 192 کلومیٹر کی اونچائی پر 3.8 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتا ہے اور پھر ویڈیو فیڈ منجمد ہو جاتی ہے۔

راکٹ پر لے جانے کے لیے جو اہم سامان تھا وہ کینن الیکٹرانکس کا ایک مصنوعی سیارہ تھا جو کمپنی کے زمین پر ایک میٹر سے بھی کم فاصلے کی تصاویر فراہم کرانے کے منصوبے کا حصہ تھا۔

مدار میں گردش کرنے والے امیجنگ خلائی جہاز پلینٹ اپنے مصنوعی سیارے کے جدید ترین پانچ ورژنز کو مدار میں بھیجنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چونکہ سان فرانسسکو کی کمپنی بہت سارے خلائی جہاز تیار اور لانچ کرتی ہے اس لیے وہ اس ناکامی سے زیادہ آسانی سے نکل آئے گی۔

لیکن نئی کمپنی ’ان سپیس مشن‘ کے لیے الیکٹرون کی ناکامی بڑی مایوسی کا سبب ہے۔ اس کی فیراڈے-1 کمپنی کی نئی خدمات کی نمائش کے لیے تھا۔

فیراڈے 1 ایک طرح کا ’کار پول‘ مصنوعی سیارہ تھا جو تیسرے فریق کو اپنے ایک مکمل خلائی جہاز کو بنائے یا فنڈز فراہم کیے بغیر مدار میں پے لوڈز کو اڑانے کی اجازت دیتا ہے۔ انھیں صرف ان اسپیس والی خلائی گاڑی میں ’ایک سیٹ‘ کرایہ پر لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یورپی ایرو سپیس کی دیو ہیکل ایئربس نے نئی ریڈیو ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے فیراڈے 1 میں ایک سیٹ بک بھی کر لی تھی۔

پرومیتھیس نامی یہ آلہ ریڈیو فریکوینسی سروے کے علاوہ کرۂ ارض کی خطرات کے اشارے اور فوجی راڈاروں کی سرگرمیوں کے لیے جائزہ لیتا۔

ہیمپشائر کے شہر بورڈن میں قائم ان سپیس کمپنی نے ٹویٹ کیا: ’ان سپیس ٹیم کو اس خبر سے دکھ ہوا ہے۔ دوسال تک انجینئروں کے ناقابل یقین حد تک محنت یوں دھوئيں میں اڑ گئی۔ یہ بہت ہی زبردست چھوٹا سا خلائی جہاز تھا۔‘

مستقبل کے مشن پہلے سے ہی تیاری کے مرحلے میں ہیں۔