اقوام متحدہ نے اپنے دو اہلکاروں کو ادارے کی سرکاری گاڑی میں جنسی عمل کرنے کے الزامات کے پیش نظر بغیر معاوضہ چھٹی پر بھیج دیا ہے۔

گذشتہ مہینے کے اختتام پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جو اسرائیل کے شہر تل ابیب کے ساحل کے قریب ایک مرکزی سڑک پر فلمائی گئی تھی۔

اس ویڈیو کلپ میں سرخ لباس پہنے ایک خاتون کو اقوامِ متحدہ کے نشانات والی سفید جیپ کی پچھلی سیٹ پر ایک مرد کے اوپر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس 18 سیکنڈ کی مختصر ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے اس معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل میں اپنے ادارے کی ایک گاڑی میں مبینہ طور پر سیکس کی ویڈیو پر ’صدمے اور شدید اضطراب‘ کا شکار ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد اب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں مردوں کی شناخت ہو گئی ہے اور وہ اقوام متحدہ کے ’نیشنز ٹروس سپرویژن آرگنائزیشن‘ کے اہلکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

'سیکس گرو اوشو میری محبت تھے‘

’دن میں پانچ مرتبہ سیکس بھی ناکافی تھا‘

سیکس کے نشے میں مبتلا افراد پر کیا گزرتی ہے؟

'سیکس سے بچنے کے لیے مجھے بہانے بنانے پڑتے'

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کا نتیجہ آنے تک عملے کے یہ دونوں اہلکار بغیر تنخواہ نوکری سے معطل رہیں گے۔

اس ویڈیو میں پچھلی سیٹ پر ہونے والے جنسی عمل کے علاوہ ایک اور شخص کو اگلی نشست پر نیم دراز دیکھا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بین الاقوامی سرکاری ملازمین سے متوقع طرز عمل کے معیار پر عملدرآمد نہ کرنے کے الزامات کی سنگینی کے پیش نظر ان اہلکاروں کی معطلی مناسب اقدام تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق پر اپنے اہلکاروں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کے لیے اقوام متحدہ شعور بیدار کرنے کی ایک مضبوط مہم میں دوبارہ مصروفِ عمل ہے۔‘

ترجمان نے اس ویڈیو میں نظر آنے والے رویے کو قابلِ نفرت قرار دیا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد گذشتہ جمعے کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا تھا کہ ایسا رویہ 'ہر اس چیز کے خلاف ہے جو ہم اقوامِ متحدہ کے عملے کے غلط رویوں کو روکنے کے لیے کر رہے ہیں۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ مبینہ سیکس کیا رضامندی سے کی گئی یا اس میں پیسوں کا لین دین شامل تھا، تو انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تفتیش جاری ہے اور یہ سوالات اس کا حصہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنسی مِس کنڈکٹ کے خلاف پالیسیاں سخت ہیں۔

اگر ادارے کے کسی اہلکار کو ان ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو انھیں انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ملک سے نکالا جا سکتا ہے اور اُن کی اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شمولیت پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ ان کے اپنے ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے خلاف مزید انضباطی یا قانونی کارروائی کریں۔

اقوامِ متحدہ ایک طویل عرصے سے اپنے امن مشنز اور دیگر سٹاف پر جنسی مس کنڈکٹ کے الزامات کے سبب تنقید کی شکار رہی ہے۔

سیکریٹری جنرل گتیریس نے اقوامِ متحدہ میں جنسی مِس کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر 'عدم برداشت' کی پالیسی کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس معاملے میں تفتیش ’تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

ویڈیو میں نظر آنے والی عمارات کو دیکھنے پر بظاہر لگتا ہے کہ ویڈیو ہایارکون سٹریٹ میں فلمائی گئی ہے جو ساحل کے قریب ایک عمومی طور پر مصروف رہنے والا علاقہ ہے۔

جنسی مس کنڈکٹ پر اقوامِ متحدہ کا ماضی کا ریکارڈ

ہیومن رائٹس واچ کی حقوقِ نسواں ڈویژن کی شریک ڈائریکٹر ہیدر بار نے کہا کہ وہ اسرائیل سے آنے والی اس ویڈیو پر ’حیرت زدہ نہیں‘ ہیں۔

ہیدر بُرونڈی اور افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے لیے کام کر چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ اچھا ہے کہ وہ اس کی تفتیش کر رہے ہیں مگر اقوامِ متحدہ میں مسئلہ اس ویڈیو سے زیادہ بڑا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'وہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کے عملے کے ارکان کی جانب سے جنسی استحصال اور تشدد کے الزامات ہیں۔'

ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2019 میں اقوامِ متحدہ کے عملے کے ارکان پر جنسی تشدد اور استحصال کے 175 الزامات لگائے گئے۔ ان میں سے 16 کے بارے میں شواہد ملے، 15 کے بارے میں نہیں ملے، اور دیگر تمام پر ابھی تک تحقیقات جاری ہیں۔