سالانہ دو لاکھ ڈالر۔ یہ ہے وہ تنخواہ جو ایک بڑی لا فرم کی جانب سے ریض گارڈی کو پیش کی گئی اور انھوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ اس لیے کہ انھیں ایک ناانصافی کے لیے لڑنا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریض گارڈی کہتی ہیں کہ ’بہت سارے پیسوں اور بڑی بڑی نوکریوں کے سمندر میں مجھے اپنے آپ کو بار بار یہ احساس دلانا پڑتا تھا کہ میری زندگی کا مقصد ایک پرآسائش زندگی سے کچھ زیادہ ہے۔‘

’میں لا سکول کسی وجہ سے گئی تھی۔ میں قانون کی طاقت سمجھنا چاہتی تھی تاکہ میں ایک مثبت تبدیلی لا سکوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

مظاہروں کی نمائندگی کرتی خواتین اور ان کے فن پارے

یزیدی لڑکی کی اپنے اغوا کار سے جرمنی میں ملاقات

دولت اسلامیہ کی برطانوی رکن ’ڈرون حملے میں ہلاک‘

ریض نے ان خواتین کے حقوق کے لیے لڑنا شروع کیا ہے جو کہ نام نہاد دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ایک منظم انداز میں اغوا کی گئیں، ان کو فروخت کیا گیا اور انھیں ریپ کیا گیا۔ یہ سب ان کے لیے ذاتی اہمیت رکھتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے والدین وہاں سے بھاگے، مجھے دنیا کے دوسرے کونے میں لے گئے، اور پھر بھی میں وہاں پہنچ گئی ہوں جہاں سے سب شروع ہوا تھا۔‘

ناانصافی کے ساتھ بڑے ہونا

ریض 1991 میں پاکستان میں ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین عراقی کرد ہیں اور وہ اپنے رشتے داروں، دوستوں، اور ہمسایوں کی کہانیاں سن سن کر بڑی ہوئیں کہ کیسے انھیں صدام حسین کے دور میں مار ڈالا گیا تھا۔

جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کی فیملی نیوزی لینڈ منتقل ہوگئی تھی۔ انھوں نے تعلیم میں بہترین کارکردگی دیکھائی اور گذشتہ سال وہ ہارورڈ لا سکول سے فارغ التحصیل ہوئی ہیں۔

’جن حالات میں میں پیدا ہوئی انھوں نے میری مساوات، انصاف اور انسانی حقوق میں دلچسپی پیدا کی۔ میں نے ناانصافی ہوتے دیکھی ہے، میں اس سے گزری ہوں اور میں نے انسانی حقوق کی عدم دستیابی ان خیالات کو سمجھنے سے پہلے ہی دیکھی ہے۔‘

’یہ میں بھی ہو سکتی تھی‘

اس وقت ریض شمالی عراق سے شواہد اور لوگوں کے بیانات جمع کر رہی ہیں جہاں پر 2014 میں یہ مظالم ڈھائے گئے تھے۔

جب دولتِ اسلامیہ اس خطے پر قابض ہوئی انھوں نے ایک مذہبی نسلی گروپ یزیدیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ یزیدیوں کی کل تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہے اور انھیں دولتِ اسلامیہ والے کافر مانتے ہیں۔

انھوں نے یزیدیوں کے خلاف اتنی سح، کارروائیاں شروع کر دیں کہ دیہات کے دیہات خوف کے مارے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ کئی نے تو پہاڑوں میں پناہ لی اور کئی گرمی میں مارے گئے۔

اس برادری کے بیشتر نوجوان مردوں کو پکڑ کر ہلاک کر دیا گیا۔ لندن سکول آف اکانومکس کے اندازوں کے مطابق تقریباً دس ہزار یزیدیوں کو یا تو قتل کیا گیا یا پھر اغوا کیا گیا۔

جن لڑکیوں کو پکڑ لیا گیا، ان کے لیے آگے قیامت تھی۔

’جب میں کسی متاثرہ خاتون کے سامنے پیٹھی ان کی کہانی سن رہی ہوتی ہوں تو میرے اوپر شدید غم تاری ہو جاتا ہے کہ انھیں کس عزاب سے گزرنا پڑا اور پھر غصہ آتا ہے۔‘

دولتِ اسلامیہ کے وحشیانہ برتاؤ نے ریض کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ’مجھے یہی خیال آتا ہے کہ یہ میں بھی ہو سکتی تھی، میری ماں یا بہن ہو سکتی تھی۔ کسی کے ساتھ بھی ایسا کیوں ہو۔‘

جنگی جرائم

ان جرائم کو کسی فرد سے منسلک کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔

ریض کی خاص توجہ ان خواتین پر ہے جن تک ابھی میڈیا نہیں پہنچا یا کوئی انسانی حقوق کی تنظیم نہیں پہنچی ہے۔

ریض کہتی ہیں کہ ’یزیدی خواتین بتا سکتی ہیں کہ انھیں کتنی مرتبہ خریدا اور بیچا گیا، وہ ریپ کی گواہی دے سکتی ہیں، وہ دولتِ اسلامیہ کے مردوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ ایک منظم گروہ تھا اور ریض کے خیال میں دولتِ اسامیہ کے یزیدیوں کے خلاف مظالم میں ایک واضح ربط ہے۔

’وہ مردوں کو عورتوں سے علیحدہ کرتے تھے، اور پھر نوجوان خواتین کو بوڑھی خواتین سے علیحدہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کنواری خواتین بطور ایک جنسی غلام بیچنے میں زیادہ قیمت کی حامل تھیں۔ بہت سے مردوں اور بوڑھی خواتین کو موقعے پر ہی مار دیا جاتا تھا۔‘

ریض کو امید ہے کہ کچھ اور تفتیش کر کے وہ مخصوص افراد کے ئلاف مقدمے کر سکیں گیں۔

’ساری معلومات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ میں صرف ان خواتین سے بیانات لے رہی ہوں جو دے سکتی ہیں۔ کچھ تو اس بارے میں بات بھی نہیں کر سکتیں۔‘

ان کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ مجرمانہ اقدامات صرف دہشتگردوں نے نہیں کیے ہیں۔ موصل کے علاقے میں کچھ امیر مردوں نے بھی خواتین کو خریدا تھا۔

انصاف کی مہم

نادیہ مراد ان خواتین میں سے ایک ہیں جنھیں 2014 میں پکڑا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ریپ کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 21 سال تھی۔

نادیہ ہار نہ ماننے والی خواتین میں سے ایک ہیں اور ان کی کاوشوں کی وجہ سے انھیں 2018 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تاہم انھیں ابھی تک انصاف نہیں ملا ہے۔

ریض کہتی ہیں کہ کچھ ملزمان عراق میں گرفتار ہیں، کچھ شام میں اور کچھ یورپ کی جیلوں میں۔ ان کے مطابق کچھ کیسز میں شواہد اتنے ہیں کہ مقدمہ عدالت تک لے جایا جا سکے۔

تاہم شام ابھی بھی خانہ جنگی کا شکار ہے اور عراق کے عدالتی نظام میں کافی مسائل ہیں۔

امریکہ میں قائم غیر سرکاری تنظیم گلوبل جسٹس سنٹر کے مطابق یہ نظام اس طرف کے نصف امتیاز کی وجہ سے کیے جانے والے جرائم سے نمٹنے کے قابل ہی نہیں ہے۔

عدالتی مقدمات اور سزائیں

ان مسائل کے باوجود عراق کی ایک عدالت نے حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کے ایک دہشتگرد کو ایک چودہ سالہ یزیدی لڑکی اشواق حاجی کے ریپ کے الزام میں سزا سنائی ہے۔

اب جرمنی میں مقیم اشواق حاجی اس مقدمے میں گواہی دینے کے لیے واپس عراق آئی تھیں۔

اپریل 2020 میں ایک جرمن عدالت نے ایک شخص کے خلاف کیس سننا شروع کیا تھا جس پر المام تھا کہ ان نے ایک ماں اور بیٹی کو غلام بنایا اور بعد میں ایک پانچ سالہ بچا کو شدید گرمی میں ایک کھڑکی کے ساتھ ہتھکڑی لگا کر چھوڑا جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔

کسی یزیدی متاثرہ شخص کے حوالے سے یورپ میں یہ پہلا کیس تھا۔

ریض کہتی ہیں کہ ’انصاف میں کئی سال لگ جائیں گے۔ شواہد جمع کرنا ایک طویل عمل ہے۔ مگر کہیں کہیں کامیابی ہوئی ہے۔ مجھے اس سے امید ملتی ہے۔‘

خاندانی تاریخ سے ملنے والے سبق

ریض صدام حسین کے ہاتھوں اپنے خادان کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود پرامید ہیں۔

وہ بتاتی ہیں ’میری نانی اور میری ماں کی دو چھوٹی بہنیں ایک کیمیائی حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ میرے نانا معذور ہوگئے تھے۔ میری ماں دس سال کی عمر میں اپنے خاندان کی سربراہ بن گئی تھیں۔‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ 1988 میں تقریباً 50 ہزار سے ایک لاکھ تک یزیدی مارے گئے تھے۔ گردوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 180000 تھی۔

ریض کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی جلد بازی میں سزا کی وجہ سے کردوں کا موقعہ نہیں ملا کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ صدام حسین پر کبھی بھی وہ الزامات نہیں لگائے گئے جنھیں ریض نسل کشی قرار دیتی ہیں۔

’یہی وجہ ہے کہ میں یزیدیوں کے درد کو سمجھ سکتی ہوں۔ جب میں ان کے لیے لڑ رہی ہوتی ہوں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ان کردوں کے لیے لر رہی ہوں جنھیں صدام حسین نے قتل کیا تھا۔‘