ترکی میں آج کاؤنسل آف سٹیٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ استنبول میں موجود آیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً ایک ہزار سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھی۔

سلطنتِ عثمانیہ نے جب 1453 میں اس شہر کو فتح کیا تو اسے ایک مسجد بنا دیا گیا تاہم بعد میں 1930 کی دہائی میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

تاہم اگر جمعرات کو عدالت نے اجازت دی تو اسے دوبارہ ایک مسجد بنا دیا جائے گا۔ یہ عمارت اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رام مندر کی تعمیر کے دوران ملنے والے باقیات کا بدھ مت سے کیا تعلق ہے؟

جگناتھ 'رتھ یاترا' کا مطالبہ کرنے والا مسلمان کون ہے؟

مندر کی تعمیر: اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار

تین براعظموں کے سلطان

گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر طیب اردوغان نے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔

ترکی میں قدامت پسند مسلمان کئی سالوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس عمارت کو ایک مسجد بنایا جائے۔ تاہم حزبِ مخالف میں موجود سیکیولر سیاسی قوتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ اس تجویز پر بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کی گئی ہے اور دنیا بھر کے مذہبی اور سیاسی رہنمائوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشرقی آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ نے اس کی مخالفت کی ہے۔ یونان نے بھی اس اقدام کے خلاف بات کی ہے جہاں لاکھوں آورتھوڈوکس مسیحی رہتے ہیں۔

یونان میں وزیر برائے ثقافت نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ قوم پرستی اور مذہبی جذبات کو جنونی حد تک بڑھاوا دے رہا ہے اور ان کا اصرار ہے کہ یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کو تنظیم کی اپنی کمیٹی سے منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر یونیسکو کے ڈپنی ڈائریکٹر ارنیسٹو رامیریز نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یونیسکو نے ترکی کو اس سلسلے میں خط لکھا ہے تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

تاریخ کیا ہے؟

یہ معروف عمارت استنبول کے فیتھ ڈسٹرکٹ میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔

بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے اس کی تعمیر کا حکم سنہ 532 میں دیا تھا جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ یہ بیزنٹائن سلطنت (جسے مشرقی رومی سلطنت بھی کہا جاتا ہے) کا دارالحکومت بھی تھا۔ ماہرین بحیرہ روم کے پار سے اس عمارت کی تعمیر کے لیے اشیا لائے تھے۔

سنہ 537 میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو یہ آورتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کا مقام بن گئی۔ اہم ترین بازنطینی تقریبات جیسے کہ تاج کشائی اس عمارت میں ہونے لگیں۔

تقریباً نو سو سال تک یہ عمارت آورتھوڈوکس چرچ کا گھر رہی۔ بیچ میں 13ویں صدی میں یہ کچھ عرصے کے لیے کیتھولک چرچ کے زیرِ انتظام بھی رہی جب یورپی حملہ آوروں نے قسطنطنیہ کا کنٹرول سنبھال کر چوتھی صلیبی جنگ میں شہر میں لوٹ مار کی۔

تاہم 1453 میں سلطنتِ عثمانیہ نے سلطان محمد دوئم کے دور میں قسطنطنیہ پر قبضہ کیا، شہر کا نام تبدیل کر کے استنبول رکھا اور بازنطینی سطلنت کا خاتمہ کر دیا۔

اس عمارت میں داخل ہوتے وقت سلطان محمد دوئم کا اصرار تھا کہ اس کی تعمیرِ نو کی جائے اور اسے ایک مسجد بنایا جائے۔ انھوں نے اس میں جمعے کی نماز بھی پڑھی۔

سلطنتِ عثمانیہ کے معماروں نے آورتھوڈوکس نشانیاں مٹا دیں اور عمارت کے ساتھ منار کھڑے کر دیے۔ 1616 میں استنبول کی معروف بلو موسق کی تعمیر تک آیا صوفیہ ہی شہر کی مرکزی مسجد تھی۔

918 میں سلطنتِ عثمانیہ کو پہلی جنگِ عظیم میں شکست ہو گئی۔ ترکی میں قوم پرست سیاسی قوتوں نے پروان چڑھی اور اس سلطنت راکھ میں سے جدید ترکی نے جنم لیا۔

مصطفیٰ کمال اتاترک نے عمارت کو ایک میوزیم بنانے کا حکم دیا اور 1935 میں اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ ترکی کی اہم ترین سیاحتی عمارتوں میں سے ایک ہے۔

اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟

اس عمارت کی 1500 سالہ تاریخ کی وجہ سے ترکی کے اندر اور باہر کئی لوگوں کے لیے مذہبی، روحانی اور سیاسی عقیدت رکھتی ہے۔

قدامت پسند مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ اسے واپس ایک مسجد بنایا جائے اور اس سلسلے میں انھوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں تاہم ترکی کا 1934 کا ایک قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

صدر اردوغان نے اس مطالبے کی تائید کی ہے۔ انھوں نے اسے ایک میوزیم بنائے جانے کو ایک غلطی قرار دیا ہے اور مشیران کو کہا ہے کہ وہ اسے واپس مسجد بنانے کے طریقے نکالیں۔

ادھر مشرقی آورتھوڈوکس چرچ کی بنیاد ابھی بھی استنبول میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے لاکھوں مسیحی مایوس ہوں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ عمارت کے درجے میں تبدیلی سے اس کی مختلف مذاہب کے لیے درمیان ایک بریج کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت میں کمی آئے گی۔