’اگر میں دنیا کے کسی بھی اور ملک میں ہوتا تو شاید اب تک میں مر چکا ہوتا۔ شاید وہ 30 دن بعد وینٹیلیٹر کا سوئچ آف کر دیتے۔‘

یہ کہنا ہے سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ پائلٹ سٹیفن کیمرون کا جنھوں نے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد لگاتار 68 دن وینٹیلیٹر پر گزارے۔

یہ کسی بھی برطانوی مریض کا وینٹیلیٹر پر گزارے جانے کا طویل ترین عرصہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مشکل وقت انھوں نے اپنے ملک یعنی برطانیہ کے کسی ہسپتال میں نہیں گزارا۔

وہ ویتنام کے ایک شہر کے ہسپتال میں داخل تھے۔ ایک ایسے شہر میں جہاں ہزاروں کلومیٹر دور دور تک نہ تو ان کا کوئی رشتہ دار تھا اور نہ ہی کوئی دوست احباب۔

سٹیفن کیمرون ویتنام میں واقع ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے آخری ایسے مریض تھے جو کورونا سے متاثرہ تھے۔ وبا کے آغاز سے ہی اس ملک میں سامنے آنے والے کورونا مریضوں میں وہ سب سے زیادہ بیمار تھے۔

ویتنام کی آبادی لگ بھگ ساڑھے نو کروڑ ہے مگر یہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد صرف چند ہزار ہی ہے جبکہ اس وبا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد صفر ہے۔

کورونا کے باعث شدید بیمار ہونے والے مریض جنھیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کرنے کی ضرورت پیش آئی ان کی تعداد بھی 10سے کم ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

مدافعتی نظام بہتر بنا کر کیا آپ کووِڈ 19 سے بچ سکتے ہیں؟

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

ایسی صورتحال میں کیمرون کا کیس انتہائی اہمیت اختیار کر گیا اور ویتنام کے ذرائع ابلاغ نے ان کی بیماری اور صحت یابی کی پل پل کی خبر میڈیا پر نشر کی۔

کیمرون کو اب پورے ویتنام میں ’مریض نمبر 91‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ عرفیت انھیں اس وقت دی گئی تھی جب وہ مارچ کے مہینے میں کورونا کا شکار ہوئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیمرون کا کہنا تھا کہ ویتنام کے لوگوں نے جیسے انھیں اپنے دل میں جگہ دی اس پر وہ ان کے مشکور ہیں اور خاص طور پر ان ڈاکٹرز کے جنھوں نے انھیں مرنے نہیں دیا۔

’بچنے کا امکان صرف 10 فیصد‘

ویتنام میں انتہائی نگہداشت کے شعبے کے درجنوں ماہرین نے کیمرون کی بگڑتی سنبھلتی صحت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بہت سا وقت کانفرنس کالز کرتے ہوئے گزارا۔

ویتنام میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر کِدونگ پارک نے بتایا ’(ویتنام میں) تشویشناک صورتحال سے دوچار (کورونا) مریضوں کی بہت کم تعداد کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص بھی شدید بیمار ہوا اس نے ملک کے تمام اعلیٰ سطح کے معالجین کی توجہ حاصل کر لی۔‘

شدید بیماری کے دوران کیمرون کو ڈھائی مہینے سے زیادہ عرصے تک ’ایکومو‘ نامی مشین پر رکھا گیا۔ یہ مشین مریض کو زندہ رکھنے کے لیے اور صرف انتہائی خطرناک صورتوں میں استعمال ہوتی ہے۔ مشین مریض کے جسم سے خون نکالتی ہے اور اسے واپس مریض کے جسم میں پمپ کرنے سے قبل اس میں آکسیجن شامل کرتی ہے۔

کیمرون کا کہنا ہے کہ ’میں خوش قسمت ہوں کہ (طویل بیماری) کا واحد اثر یہ ہے کہ اب میری ٹانگیں میرا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہو پا رہی ہیں لیکن اس کے لیے میں دن میں دو بار فزیو تھراپی کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک موقع پر ان کے دوست کریگ کو دفتر خارجہ کی جانب سے بتایا گیا کہ میرے زندہ رہنے کا امکان 10 فیصد ہی ہے لہٰذا انھوں نے یہ سوچ کر منصوبہ بندی اور تیاری شروع کر دی کہ شاید اب میری واپسی تابوت میں ہی ہو گی۔

ہوش میں آنے کے بعد سے کیمرون نے اپنے متعدد دوستوں کو پُرنم آنکھوں کے ساتھ کالز کی ہیں۔ یہ وہ دوست تھے جو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب کیمرون اپنے ملک زندہ سلامت واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔

جب کیمرون کوما میں تھے تو ڈاکٹروں کو ان کے جسم میں پیدا ہونے والی متعدد پیچیدگیوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔ ان کا خون انتہائی چپچپا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لوتھڑوں کی شکل (بلڈ کلاٹنگ) اختیار کر رہا تھا۔

ان کے گردے ناکام ہوگئے، جس کا مطلب یہ تھا کہ انھیں ڈائیلاسز کی ضرورت تھی جبکہ ان کے پھیپھڑوں کے کام کرنے کی صلاحیت فقط 10 فیصد رہ گئی تھی۔

کیمرون نے مسکراتے ہوئے بتایا ’جب یہاں پریس میں یہ بات سامنے آئی کہ مجھے پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے تو ویتنام کے بہت سے شہریوں نے اپنے پھیپھڑے عطیہ کرنے کی پیشکش کی، جن میں ایک 70 سالہ سابقہ فوجی بھی شامل تھا۔‘

ویتنام کے لوگوں کی طرف سے مدد کی فراہمی اور سٹیفن کیمرون کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے ہزاروں ڈالر کے اخراجات کے باوجود، جب کیمرون کا پہلا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا تو صورتحال کچھ اتنی اچھی نہیں تھی۔

’بدھا بار کلسٹر‘

کیمرون رواں برس فروری کے آغاز میں اپنی ویتنام آمد کے چند روز بعد ہی بیمار پڑ گئے تھے۔ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے بہت سے دیگر پائلٹس کی طرح وہ ایشیا کی ترقی پذیر فضائی صنعت میں زیادہ تنخواہ حاصل کرنے کی غرض سے یہاں آئے تھے۔

ویتنام ایئرلائنز کے لیے اپنی پہلی پرواز پر جانے سے دو راتیں قبل وہ شہر کی ایک مہنگی بار میں اپنے ایک جاننے والے سے ملاقات کے لیے گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب شہر میں زیادہ تر بارز اور کلب کورونا کے پھیلاؤ سے بچاؤ کے پیش نظر بند کیے جا چکے تھے۔

اس وقت تک ویتنام میں کورونا کے صرف 50 مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے تھے۔

سینٹ پیٹرک ڈے سے پہلے والے ویک اینڈ پر ’بدھا بار اینڈ گرِل‘ نامی کلب لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ان میں سے بیشتر افراد نے آئرش فینسی ڈریس پہن رکھے تھے۔ کیمرون وہاں رات کے دس بجے پہنچے۔

انھوں نے بتایا ’میں شراب نوشی نہیں کرتا۔ (کلبز کے اندر) میں عموماً ایک کونے میں بیٹھا رہتا ہوں۔ کچھ دیر میں نے گیم کھیلی اور رات سوا تین بجے میں وہاں سے واپس آ گیا۔‘

اگلے ہی روز انھیں بخار ہو گیا اور آئندہ آنے والے دنوں میں بدھا بار جانے والے مزید 12 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

مقامی میڈیا میں اس واقعے کو ’بدھا بار کلسٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جنوبی ویتنام میں کورونا کے پھیلاؤ کے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آیا تھا۔ یہاں جانے والے 20 افراد کورونا کا شکار ہوئے تھے۔

ویتنام میں سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے پہلے تو کیمرون کو الزام دیا کیونکہ وہ شہر بھر میں مختلف جگہیں دیکھتے گھومتے رہے تھے۔

اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بدھا بار میں کورونا اُن کی وجہ سے پھیلا مگر ویتنام کے ایک مشہور کاروباری شخص لیوانگ ہوئی نے انھیں ’ٹائم بم‘ قرار دیا۔

لیوانگ کا کہنا تھا کہ بیرونی ممالک سے آنے والے قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھتے اور ایسے افراد کو ان کے ملکوں میں واپس بھیج دینا چاہیے۔

کیمرون کا ماننا ہے کہ بہت سے دیگر افراد کی طرح انھیں بھی یہ وائرس بدھا بار سے لگا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’کچھ لوگوں میں یہ خواہش نظر آئی کہ وہ اس معاملے میں مجھے ملوث کریں مگر چونکہ میں پہلا شخص تھا جس نے ہاتھ کھڑے کر کے کہا تھا کہ میں بیمار محسوس کر رہا ہوں اس لیے یہ ناگزیر ہو گیا کہ اس سب کا الزام بھی مجھ پر دھرا جائے۔‘

تیزی سے بگڑتی صحت

18 مارچ کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر کیمرون کو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا اور حکام نے بدھا بار بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس عمارت میں رہنے والے تمام افراد کو قرنطینہ کر دیا جہاں کیمرون کی رہائش تھی۔

بدھا بار سے تعلق کی بنا پر لگ بھگ چار ہزار افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔

ویتنام کی وزارت صحت سے منسلک پروفیسر لیونگ نیگوک بتاتے ہیں ’مریض نمبر 91 کی صحت بہت تیزی سے بگڑنا شروع ہوئی۔ نہ صرف ان کے پھیپھڑوں بلکہ گردوں اور جگر نے بھی اپنا کام کرنا کم کر دیا۔ ان کا فشار خون بھی بہت جلد متاثر ہوا۔‘

جیسے جیسے کیمرون کی صحت زیادہ بگڑی تو انھوں نے خود ڈاکٹرز سے وینٹیلیٹر پر جانے کا مطالبہ کر دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں مکمل طور پر تھک چکا تھا، میں سو نہیں سکتا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ مجھے وینٹیلیٹر پر منتقل کیا جائے اور اس معاملے کو ختم کیا جائے۔‘

اور اس کے بعد وہ ہفتوں اسی صورتحال میں رہے جبکہ ان کے ساتھ آئی سی یو میں داخل ہونے والے کورونا کے دیگر شدید بیمار مریض صحت یاب ہو کر اپنے اپنے گھروں کو واپس جاتے رہے۔

اسی دوران ان کو اہمیت ملنا اس وقت شروع ہوئی جب ہسپتال، جہاں وہ داخل تھے، نے ان کے علاج پر اٹھنے والے زیادہ اخراجات کی بابت بات کی جس پر ملک کے بڑے سیاستدانوں نے انھیں زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔

کیمرون کا ماننا ہے کہ ان کی صحت یابی ویتنام کے سیاستدانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ’میری صحت یابی نے انھیں یہ ریکارڈ قائم رکھنے میں مدد دی کہ ویتنام میں کورونا کا پھیلاؤ انتہائی کم رہا۔‘

’ہوش میں آنے پر سب دھندلا دھندلا تھا‘

جب اپریل کے آغاز میں کیمرون کو وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا تو اس وقت دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 10 لاکھ سے کچھ زائد تھی۔ جب 12 جون کو وہ کوما سے باہر آئے تو دنیا میں متاثرین کی تعداد 70 لاکھ سے بڑھ چکی تھی تاہم ویتنام میں یہ وبا اتنی زیادہ نہیں پھیل سکی۔

ویتنام میں 16 اپریل کے بعد سے اب تک کورونا کی مقامی منتقلی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

کیمرون کہتے ہیں ’مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ مجھے دوبارہ ہوش میں آنے میں 10 ہفتوں سے زیادہ کا وقت لگے گا۔ مجھے یاد ہے کہ میں افراتفری کا شکار رہا، مجھے مصنوعی تنفس کے لیے لگائی جانے والی نالی یاد ہے، مجھے یاد ہے کہ مجھے ہسپتال کی راہداریوں میں چکر لگوایا جاتا تھا۔ اور پھر اگلے کچھ دن کیا ہوا مجھے زیادہ یاد نہیں۔‘

وینٹیلٹر اترنے اور کورونا کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد کیمرون کو ہسپتال کے دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا گیا تاہم مہینوں بیمار رہنے اور بستر پر رہنے کی وجہ سے اب وہ بہت زیادہ نقاہت محسوس کر رہے ہیں۔

ان کا وزن 20 کلوگرام کم ہو چکا ہے اور ان کے جسمانی اعضا اتنے نحیف ہو چکے ہیں کہ انھیں اپنی ٹانگ کو چند انچ اٹھانے کے لیے بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔ ہوش میں آنے کے بعد سے وہ ذہنی دباؤ اور تھکاوٹ محسوس کرتے رہے ہیں۔

کیمرون کہتے ہیں ’میں بہت ذہنی اذیت کا شکار رہا ہوں۔ اب میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ کسی طرح میں گھر واپس پہنچ جاؤں۔ یہاں اب مون سون کا موسم ہے اور سکوٹر کے ہارن کی آوازیں بہت زیادہ ہیں۔ گھر واپس جانا بہتر ہو گا۔‘

’مجھے سکاٹ لینڈ واپس جانا ہے‘

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران وہ نہ صرف ڈاکٹروں اور نرسوں کے نرغے میں رہے ہیں بلکہ ان کی تیمارداری کے لیے اعلیٰ سفارتی عملہ، سرکاری عہدیدار اور سیاستدان بھی آئے ہیں۔

حال ہی میں برطانیہ کے قونصل جنرل بھی وہاں آئے تھے۔ شہر کے میئر بھی آئے اور انھوں نے کیمرون کو تسلی دی کہ انھیں جلد ہی انگلینڈ روانہ کر دیا جائے گا۔

کیمرون ازراہِ مذاق کہتے ہیں ’میں نے میئر کو بتایا کہ اگر مجھے انگلینڈ بھیجا جاتا ہے تو میں وہاں زیادہ خوش نہیں رہ سکوں گا۔ مجھے سکاٹ لینڈ بھیجا جائے، جو انگلینڈ سے چار سو میل دور ہے۔‘

کیمرون کی جلد سے جلد وطن واپس جانے کی خواہش کا ایک عملی پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ انھیں دن میں دو مرتبہ ’بحالی سیشن‘ دیا جاتا ہے مگر یہ سیشن دینے والا عملہ زیادہ اچھی انگریزی زبان نہیں جانتا۔

آئی سی یو میں رہنے والے انتہائی بیمار مریضوں کی بحالی ہمیشہ ایک نازک معاملہ رہا ہے اور اگر یہ معاملہ اچھی طرح نہ ہو تو بات آئندہ کئی برسوں تک چلی جاتی ہے۔

وہ ہسپتال جہاں کیمرون بطور مریض داخل ہیں وہ ملک کے بڑے ہسپتالوں میں سے ایک ہے اور اس کی تعمیر اس وقت ہوئی تھی جب ویتنام فرانس کی ایک کالونی تھا۔

مشکلات کو مار بھگانا

کیمرون کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات بالکل مفت نہیں تھے۔ کسی مریض کو ایک دن ایکومو مشین پر رکھنے کی قیمت پانچ سے 10 ہزار ڈالر تک ہے اور کیمرون لگ بھگ ساڑھے آٹھ ہفتے اس مشین کے سہارے زندہ رہے ہیں۔

اب وہ اس سوچ میں مبتلا بھی ہیں وہ یہ اخراجات کیسے ادا کریں گے اور یہ سوچ ان کے ذہن پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ ابتدا میں وہ جس ہسپتال میں زیر علاج رہے، اس کی انتظامیہ نے ان کے علاج پر ہونے والے اخراجات برداشت کیے۔ اس کے بعد کچھ مداخلت برطانیہ کے سفارتخانے نے کی۔ اس کے علاوہ ان کی انشورنس پالیسی سے بھی کچھ مدد ملی مگر ہسپتال میں ہونے والے اخراجات کون ادا کرے گا یہ ابھی نہیں پتا۔

کیمرون کہتے ہیں ’یہ واقعی مایوس کُن ہے۔ شروع میں، میں نے انشورنس کمپنی کو ایک ای میل بھیجی جس پر انھوں نے کہا کہ ہم کچھ کرتے ہیں، ہم اس سے نمٹ لیں گے۔ اگرچہ وہ اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم دیکھ لیں گے مگر کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

ویتنام سے واپس برطانیہ آنے کے لیے کیمرون کے لیے 12 جولائی کی پرواز میں سیٹ مختص کروائی گئی ہے۔ انھیں ڈاکٹروں نے فضائی سفر کر کے گھر واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اگرچہ ویتنام کے بہت سے شہری مختلف یورپی ممالک سے مختلف پروازوں کے ذریعے واپس آ رہے ہیں مگر کیمرون اس بارے میں الجھن کا شکار ہیں کہ انھیں ان کے گھر جلدی کیوں نہیں بھیجا جا رہا۔

وہ کہتے ہیں ’میں اب یہاں ویتنام میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہوں۔ میرے معاملات کا ہر پہلو اب یہاں کی حکومت کنٹرول کرتی ہے۔‘

ان کی واپسی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مریض نمبر 91 کی معجزانہ بحالی صرف سکاٹ لینڈ کے ایک پائلٹ کی کہانی نہیں ہے جو کووڈ 19 سے صحت یاب ہوا بلکہ کہانی یہ ہے کہ ہنگامہ خیز تاریخ کے حامل ترقی پذیر جنوب مشرقی ایشیائی ملک ویتنام نے مشکلات کو بھی کس طرح مات دی۔