سنیچر کی شب کا پچھلا پہر تھا۔ گھپ اندھیرا تھا جب اس کا فون آیا۔

طوفانی ہوائیں باورچی خانے کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں جبکہ میز پر ٹیلیفون، لیپ ٹاپس، تاروں اور چائے کی پیالیوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔

کارلوس اور جاسنتا ساری رات آنے والی فون کالز کا جواب دیتے رہے تھے۔ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہوئی اور پھر فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ لائن کے دوسری جانب ایک شخص ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کر رہا تھا۔

جاسنتا کو اس شخص کی آواز آج بھی یاد ہے۔ ’عجیب بات ہے کہ وہ بہت پُرسکون تھا۔‘

کارلوس نے جب اُس شخص سے دریافت کیا کہ کیا وہ کشتی سے بات کر رہا ہے تو جواب ملا ’ویسے تو ہم ٹھیک ہیں لیکن خطرے میں بھی ہیں۔ ہم سمندر کے درمیان کہیں ہیں، بحیرۂ روم میں۔ برائے مہربانی ہماری مدد کرو۔‘

اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ لائن کٹ گئی لیکن فوراً ہی اس شخص کا دوبارہ فون آ گیا۔ اس رات پھر وہ شخص وقفے وقفے سے کارلوس اور جاسنتا سے گھنٹوں رابطے میں رہا۔

جاسنتا جاننا چاہتی تھیں کہ وہ کون ہیں۔ ’مجھے ان کی بہت فکر ہو رہی تھی اور نہیں چاہتی تھی کہ وہ گمنام رہیں۔ میں ان کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی۔‘

لیکن اس شخص نے انھیں اپنا نام نہیں بتایا۔

چھ فروری کو لیبیا میں بحیرۂ روم کے ساحلی قصبے گرابلی میں ماہر فون پر چیخ رہا تھا۔

’مجھے میرا بیٹا واپس کرو۔ مجھے مزمل لوٹا دو۔‘

مہر کو اپنے بھانجے کی تلاش تھی۔ لیبیا میں ساتھ گزارے گئے دو برسوں میں مہر مزمل کو بیٹے کی طرح چاہنے لگے تھے۔

انھیں خدشہ تھا کہ 18 سالہ مزمل یہ کر گزریں گے اور سمندر میں جانے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

سوٹ کیس میں چھپے تارکین وطن

تارکینِ وطن کے لیے ’بہترین‘ ملک میں زندگی کیسی ہے؟

برطانیہ داخلے کی کوشش میں کتنے تارکینِ وطن ہلاک ہوئے؟

مہر جس شخص پر چیخ رہے تھے وہ گرابلی کے نواح میں واقع جنگل میں اس جگہ موجود تھا جسے ’کیمپو‘ کہتے ہیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں غیرقانونی تارکینِ وطن کو بحیرۂ روم کے راستے یورپ لے جانے کا دھندا کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے ٹھکانے ہیں اور جہاں وہ اس کام کے لیے موزوں حالات کا انتظار کرتے ہیں۔

مہر کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بھانجا جائے مگر ابھی نہیں۔ وہ اس سمگلر کو جانتے تھے اور انھیں اس پر بھروسہ نہیں تھا۔

اس کی کشتیاں ٹوٹی پھوٹی اور ان کے انجن کم طاقت والے تھے۔ وہ 500 کلومیٹر کا سمندری سفر کر کے اٹلی تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھیں۔

مہر یہ سب اس لیے بھی جانتے تھے کہ وہ ایسی ایک کشتی کے سوار رہ چکے تھے جس کے غرقاب ہونے پر انھیں امدادی کارروائی میں بچا کر واپس لیبیا لایا گیا تھا۔

انھوں نے کیمپو میں موجود شخص کو قائل کر لیا کہ وہ مزمل سے ان کی بات کروا دے اور پھر انھوں نے مزمل کو سمجھانے سے لے کر اس کی منت سماجت تک کر ڈالی۔

’میں نے اسے کہا، مزمل خدا کے واسطے مت جاؤ۔‘

مگر مزمل کے لیے تو یورپ پہنچنا ایک جنون کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ مہر بتاتے ہیں ’وہ سو نہیں پاتا تھا۔ اس لیے کہ اس کے سارے دوست چلے گئے تھے اور وہ نہیں جا پا رہا تھا۔’وہ سارا دن صرف اسی بارے میں سوچتا رہتا تھا۔‘

مزمل نے دو مرتبہ جانے کی کوشش بھی کی تھی لیکن دونوں بار اس کی کشتی لیبیا کے ساحلی محافظوں نے روک لی تھی۔

یورپی یونین کی سرحدی فورس فرنٹیکس بحیرۂ روم کے اوپر فضائی نگرانی رکھتی ہے اور جب انھیں تارکینِ وطن کی کشتی نظر آتی ہے تو لیبیا کے ساحلی محافظوں کو مطلع کر دیا جاتا ہے۔

مزمل کو بھی اپنی کشتی کے قریب ایک طیارہ دکھائی دیا تھا اور پھر دو گھنٹے بعد انھیں روک لیا گیا تھا۔ پھر انھیں لیبیا واپس لایا گیا اور دارالحکومت طرابلس کے مشرق میں تاجورا کے مقام پر حراستی مرکز بھیج دیا گیا۔

تارکینِ وطن میں اس مقام کی شہرت اچھی نہیں۔ یہاں ان پر جنسی حملوں، بدسلوکی اور نظرانداز کیے جانے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مزمل کو یہاں دو ماہ تک رکھا گیا۔

دوسری مرتبہ جب مزمل کی کشتی روکی گئی تو ساحل پر پہنچتے ہی وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اب وہ تیسری مرتبہ یہ جوا کھیلنے کے لیے تیار تھے۔

مزمل ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔ ان کے ماموں کے مطابق وہ ہر وقت اس بارے میں بات کیا کرتے تھے جب وہ سپر مارکیٹ میں کام کرتے تھے۔

وہ دراصل سوڈان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اور ان کا خاندان زمزم میں رہتے تھے۔ یہ ایک پناہ گزینوں کا کیمپ تھا جو ان افراد کے لیے تھا جو دارفور کی جنگ کے دوران بے گھر ہوگئے تھے۔

وہ سکول میں اچھے طالب علم تھے لیکن 15 سال کی عمر میں انھوں نے سکول چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ زمزم میں ان کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے بڑے بھائی، خالہ اور چچا سب کو فارغ التحصیل ہوتے دیکھا اور پھر یہ لوگ کوئی نوکری نہ ڈھونڈ سکے۔

انھوں نے اپنے ماموں کو بتایا تھا کہ وہ ڈاکٹر بن کر سوڈان واپس جانا چاہتے ہیں اور وہاں ایک ہسپتال تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ایک لڑکی ڈھونڈ کر اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

وہ سوچتے تھے کہ اگر وہ 18 سال کی عمر سے قبل برطانیہ پہنچ جاتے ہیں تو سکول جاسکیں گے۔ جب ان کی عمر زیادہ ہوئی تو یہ موقع ہاتھ سے نکلتا رہا۔

مہر کہتے ہیں کہ ’وہ ہمیشہ خواب دیکھتے رہتے تھے۔ وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔‘

سوڈان سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں کی طرح وہ سوچتے تھے کہ یورپ جانا آسان ہے۔

لیکن لیبیا ان کی سوچ سے زیادہ مشکل تجربہ ہوتا ہے۔

سوڈان کے علی ابراہیم تین سال تک لیبیا میں بحیرۂ روم سے گزرنا چاہتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں قانون کی کافی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ملک خانہ جنگی کا شکار ہے اور اسے کئی ملیشیا گروہ چلا رہے ہیں جو پناہ گزینوں کو اپنا شکار سمجھتے ہیں۔ علی جیسے نوجوان ہمیشہ خوف میں رہتے ہیں کہ ان پر کبھی بھی حملہ ہوسکتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہر طرف بندوقیں ہیں۔ اگر آپ نائکی، ایڈیڈاس یا ایسے اچھے جوتے پہنتے ہیں تو انھیں کوئی بھی چھین سکتا ہے۔‘

علی مارکیٹ میں کام کرتے تھے اور گاہکوں کے لیے ان کا سامان اٹھاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ خواتین ہمیشہ پیسے دیتی تھیں لیکن مرد اکثر ایسا نہیں کرتے تھے۔

مزمل کے چچا کے مطابق اسے دھوکہ دیا گیا۔ ایک مرتبہ تین مسلح افراد اسے ایک گاڑی میں لے گئے اور ایک عمارت میں لے جا کر اسے کہا کہ یہ جگہ صاف کرو۔ لیکن انھوں نے کوئی پیسے نہ دیے۔

کبھی کبھار یہ کارآمد ثابت ہوجاتا تھا۔ علی اب فرانس میں موجود ہیں۔ انھوں نے دوسری باری میں مالٹا کامیابی سے عبور کر لیا تھا۔

’سمندر ایک نشہ ہے۔ اس کی لت لگ جاتی ہے۔‘

وقت: صبح 03.13

کشتی سے کال آتی رہی۔

کارلوس: ہیلو

کشتی پر موجود آدمی: جی

کارلوس: اب ہم کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ ہم کوسٹ گارڈ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے پیں۔

کشتی پر موجود آدمی: ہاں ابھی، پانی کی وجہ سے۔ کیونکہ ہماری کشتی پانی سے بھر چکی ہے۔

کارلوس: پانی سے بھر چکی ہے؟

کشتی پر موجود آدمی: جی جی، ایسا ہی ہے۔

کارلوس: ہم اپنے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس لائف جیکٹس ہیں؟

کشتی پر موجود آدمی: ٹھیک ہے۔

کارلوس اور جاسنتا الارم فون نامی ایک ہنگامی ہیلپ لائن کے رضاکار ہیں جو سمندر میں پھنسے ہوئے تارکینِ وطن کی مدد کرتی ہے۔

کارلوس کہتے ہیں کہ ’یہ مرحلہ نہایت سادہ ہے۔ ہمیں کال آتی ہے۔ ہم اُن کی لوکیشن پوچھتے ہیں اور کوسٹ گارڈز سے رابطہ کرتے ہیں۔ یہی ہمارا کام ہے۔ ہم اور کچھ نہیں کرتے۔‘

انھوں نے حساب لگایا تھا کہ کشتی پر 91 افراد تھے جن میں 79 مرد، پانچ خواتین اور سات بچے شامل تھے۔

عام طور پر جب وہ سنتے ہیں کہ کشتی فوری طور پر خطرے میں نہیں ہے تو ان کے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے گھنٹے اور کئی دن تک ہوسکتے ہیں، مگر یہاں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔

کشتی پر موجود آدمی نے کہا کہ ’ہماری کشتی اب تباہ ہو چکی ہے، ہم ہنگامی حالت میں ہیں۔ ہمیں جلد سے جلد مدد کی ضرورت ہے۔‘

جو جی پی ایس کوآرڈینیٹس اس شخص نے دیے تھے، اس سے وہ دیکھ سکتے تھے کہ کشتی بین الاقوامی پانیوں میں لیبیا کے سرچ اینڈ ریسکیو علاقے میں موجود تھی۔

چنانچہ انھوں نے لیبیا کے حکام سے سب سے پہلے ای میل اور پھر فون کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ لیبیا کے ریسکیو سینٹر کا ایک سرکاری نمبر موجود ہے مگر اپنے تجربے سے وہ جانتے تھے کہ وہاں کوئی فون نہیں اٹھائے گا، اس لیے انھوں نے اپنے پاس موجود دیگر چھ نمبر آزمائے۔

پھر انھوں نے لیبیا کے کوسٹ گارڈ کے سربراہ کرنل مسعود عبدالصمد کو کال کی، مگر ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

جاسنتا کہتی ہیں کہ ’ہم نے اپنی بھیجی گئی ای میلز کی نقول مالٹا اور اٹلی کے حکام کو بھی بھیجی تھیں مگر ہمیں کوئی جواب نہیں مل رہا تھا، کسی سے بھی نہیں۔‘

سنہ 2014 تک اٹلی اور مالٹا کے کوسٹ گارڈز یورپی یونین کی مدد سے بحیرہ روم میں وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیاں کرتے تھے۔ لیبیا کا سرچ اینڈ ریسکیو زون چھوٹا تھا اور اس کے کوسٹ گارڈز غیر مؤثر تھے۔

مگر یورپ میں سمندر کے ذریعے لاکھوں تارکینِ وطن کی آمد پر سیاسی مخالفت کے بعد یورپی یونین نے لیبیا کی اپنے پانیوں میں گشت کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نو کروڑ 10 لاکھ یورو (10 کروڑ ڈالر) کی سرمایہ کاری کی اور 2018 میں لیبیا کا سرچ اینڈ ریسکیو زون وسیع کر دیا گیا۔

وقت: صبح 04:07

جاسنتا اور کارلوس اب بے تاب ہو رہے تھے۔ انھوں نے اطالوی دارالحکومت روم میں میری ٹائم کوآرڈینیشن سینٹر کال کی تاکہ اٹلی لیبیا پر جواب دینے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔

انھیں جواب میں کہا گیا کہ انھیں ای میل مل چکی ہے لیکن وہ یہ نہیں ظاہر کر سکتے کہ امداد بھیجی جا رہی ہے یا نہیں۔

وقت: صبح 04:13

کشتی سے کال آتی رہی۔

انھوں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا انھیں اپنے گرد موجود اندھیرے میں اور کچھ نظر آ رہا ہے یا نہیں۔

کشتی پر موجود آدمی نے کہا کہ ’ہم یہاں اکیلے ہیں۔‘

جاسنتا: ’ٹھیک ہے۔ اور کیا آپ مجھے اپنی لوکیشن دوبارہ بتا سکتے ہیں؟‘

کشتی پر موجود آدمی: ’ہمیں فوراً مدد چاہیے، ہمیں فوراً مدد چاہیے۔‘

وقت: صبح 05:15

جاسنتا اور کارلوس نے ایک مرتبہ پھر کشتی سے بات کی۔ اس مرتبہ صورتحال مختلف تھی۔

وہ شخص چّلا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ لوگ پانی میں ہیں۔ کچھ لوگ مر چکے تھے جبکہ پس منظر میں وہ دوسرے لوگوں کو چلاتے ہوئے بھی سن سکتے تھے۔

پھر کال منقطع ہوگئی۔

انھوں نے کال واپس ملائی مگر لائن ڈیڈ تھی۔

لیبیا کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8:55 پر کرنل عبدالصمد نے فون اٹھایا۔ ہمیں اس گفتگو کے متعلق جو بھی معلوم ہے وہ صرف الارم فون کے ریکارڈز کی بدولت ہے۔

کرنل نے کہا کہ انھیں اپنے افسرانِ بالا سے یہ معلوم کرنے کے لیے بات کرنی ہوگی کہ کیا لیبیا کے کوسٹ گارڈ امداد بھیج سکتے ہیں یا نہیں۔

الارم فون کے مطابق انھوں نے کہا کہ انھیں یہ پتا کرنے کی اس لیے ضرورت تھی کیونکہ لیبیا کے حراستی مراکز میں جگہ نہیں تھی اور انھوں نے انھیں دو گھنٹے بعد دوبارہ کال کرنے کے لیے کہا۔

الارم فون کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان سے چھ گھنٹے تک دوبارہ رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔

جب ان سے رابطہ ہوا تو کرنل عبدالصمد نے بتایا کہ دو کشتیاں بھیجی گئی ہیں مگر انھیں اس علاقے میں کچھ نہیں ملا۔

بی بی سی نے کرنل عبدالصمد سے اس گفتگو کی تصدیق کے لیے کوشش کی مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

جس لمحے کشتی سے رابطہ منقطع ہوا، اس کے بعد سے یہ کشتی تقریباً لاپتا ہی ہوگئی۔

یہ یقینی طور پر معلوم کرنا مشکل ہے کہ جس کشتی سے کارلوس اور جاسنٹا بات کر رہے تھے، کیا مزمل اس کشتی پر موجود تھے بھی یا نہیں، مگر ان کے بارے میں معلومات اور الارم کال کا وقت ماہر کے ان اندازوں سے میل کھاتا ہے کہ ان کے بھانجے کس کے ساتھ اور کب گئے تھے۔

اس رات تین دیگر کشتیاں بھی بچائی گئی تھی۔ ایک کو مالٹا کے حکام نے بچایا، ایک کو غیر سرکاری تنظیم کی کشتی ایٹا میری نے، اور ایک کو لیبیا کے کوسٹ گارڈز نے۔

مگر کشتی پر موجود لوگوں کی تفصیلات اور ان کی جی پی ایس لوکیشن کارلوس اور جاسنتا کی اکٹھی کی گئی معلومات سے میل نہیں کھاتیں، اور بظاہر مزمل ان لوگوں میں شامل نہیں تھے۔

یورپی یونین کے سرحدی ادارے فرنٹیکس کے مطابق اس رات امدادی کارروائیوں میں رابطہ کاری اٹلی کر رہا تھا۔

جب بی بی سی نے روم میں واقع اٹلی کے ریسیکو کوآرڈینیشن سینٹر سے وضاحت کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے صرف اتنا کہا کہ انھوں نے ’موجودہ بین الاقوامی قوانین کے تحت دیگر ریسکیو اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر دیا تھا۔‘

پناہ گزینوں کے عالمی ادارے انٹرنیشنل آفس آف مائیگریشن (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ لیبیا سے لوگوں کی روانگی کی تعداد وہاں پر امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے سبب بڑھ رہی ہے، اور یہ گذشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

مگر اسی دوران اٹلی اور مالٹا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث بندرگاہیں بند ہیں، اور اس لیے غیر سرکاری تنظیموں کی امدادی کشتیوں کو سمندر میں نکلنے میں مشکل ہوتی ہے۔

آئی او ایم نے رواں سال کے آغاز سے اب تک بحیرہ روم میں 258 لوگ یا ہلاک ہوئے ہیں یا لاپتہ ہوئے ہیں۔

یہ گذشتہ سال میں اسی دورانیے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں کم ہے مگر آئی او ایم کے مسنگ مائیگریٹنس پراجیکٹ کی مارٹا سانچیز ڈائیونس کو خدشہ ہے کہ رواں سال کے اعداد و شمار مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ پتا لگانا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ سمندر میں کیا ہو رہا ہے۔ اس سے کشتیوں کا بغیر کسی نشانی کے گم ہوجانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق تمام تارکینِ وطن کی لیبیا واپسی پر پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے تارکینِ وطن خطرے میں پڑ رہے ہیں۔

مہر کا ماننا ہے کہ ان کے بھانجے کشتی پر موجود تھے مگر وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی بہن کو یہ بتانے میں شرم محسوس کر رہے ہیں کہ کیا ہوچکا ہے۔

سوڈان میں روایت ہے کہ گمشدہ فرد کو کم از کم ایک سال کے لیے مردہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔

’اگر ہمیں گمشدہ افراد کی ایک لاش بھی مل جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں مگر ہمیں کچھ بھی نہیں ملا۔‘

وہ اب بھی یورپ جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ لیبیا زیادہ سے زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ ہفتے قبل ہی ان کے گھر کے قریب ایک راکٹ گرا۔

مگر انھیں تشویش ہے، کیونکہ اب بحیرہ روم میں پہلے سے کم امدادی کشتیاں موجود ہیں۔

’وہ کہتے ہیں کہ جب آپ سمندر میں جاتے ہیں، تو آپ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہوتے ہیں۔‘