امریکی خلائی ادارے ناسا نے دارالحکومت واشنگٹن میں قائم اپنے ہیڈ کوارٹرز کا نام اپنی پہلی سیاہ فام انجنیئر میری جیکسن کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جِم برائڈنسٹائن کا کہنا ہے کہ میری جیکسن نے انجنیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں افریقی امریکیوں اور خواتین کی راہ میں کھڑی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد دی تھی۔

ان کی زندگی پر 2016 میں 'ہِڈن فیگرز' کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔ ریاست ورجینیا کے علاقے ہیمپٹن میں پیدا ہونے والی میری جیکسن کا انتقال 2005 میں ہوا تھا۔

گزشتہ برس ناسا نے اپنے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے سڑک کا نام 'ہِڈن فیگرز وے' رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’ہر سیاہ فام انھیں وینس یا سیرینا ولیمز لگتی ہے‘

سیاہ فاموں کی تحریک کی حمایت: ’ناقدین ہماری چائے نہ خریدیں‘

جارج فلائیڈ کی آخری رسومات میں مطالبہ: ’نسلی امتیاز ختم کریں‘

سیاہ فام امریکیوں سے اظہار یکجہتی، پاکستان اور انڈیا میں ’منافقانہ رویوں‘ پر بحث

جِم برائڈنسٹائن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 'مزید اِخفا نہیں، ہم خواتین، افریقی امریکیوں اور دیگر (نسلی) پس منظر رکھنے والے ان افراد کے کردار کو سراہتے رہیں گے جنھوں نے ناسا کی تحقیق و جستجو میں کامیابی کو ممکن بنایا۔

'میری ڈبلیو جیکسن خواتین کے اس انتہائی اہم گروپ کا حصہ تھیں جس نے امریکی خلا نوردوں کو خلا میں بھیجنے میں ناسا کی مدد کی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میری نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا، انھوں نے رکاوٹوں کو گرانے میں مدد دی اور افریقی امریکیوں اور عورتوں کے لیے انجنیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کیے۔'

یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ بھر میں لوگ افریقی امریکیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی ناانصافیوں پر خود احتسابی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پولیس کی تحویل میں سیادہ فام امریکی جارج فلوئڈ کی ہلاکت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے اور نظام کے اندر موجود نسل پرستی کو ختم کرنے کے لیے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

ناسا نے 1940 کی دہائی میں کالج سے فارغ ہونے والے چند افریقی امریکیوں کو 'انسانی کمپیوٹرز' کے طور پر بھرتی کرنا شروع کیا، لیکن دفتر میں انھیں نسلی اور صنفی امتیاز کے تجربے سے گزرنا پڑا۔

میری جیکسن 1951 میں نیشنل ایڈوائزی کمیٹی فار ایروناٹکس میں بھرتی ہوئیں جسے 1958 میں ناسا میں ضم کر دیا گیا۔

ان کا انتقال 2005 میں ہوا اور 2019 میں انھیں بعد از مرگ کانگریشنل گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

ان کی بیٹی کیرولائن لوئس کا کہنا ہے کہ یہ ان کے خاندان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ناسا میری جیکسن کے ورثے کا مسلسل اعتراف کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'وہ ایک سائنسدان، انسان پرور، بیوی، ماں اور موجد تھیں، جنھوں نے ہزاروں دوسرے افراد کو نہ صرف ناسا میں بلکہ ملک بھر میں کامیابی کی راہ دکھائی۔'