لندن کے مغرب میں واقع علاقے ریڈنگ میں گذشتہ ہفتے کے دن چاقو سے جان لیوا حملہ اس پریشان کن بات کی یاد دہانی کراتا ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

تو پھر اس دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا کیا ہوا جس کے بارے میں سنہ 2001 میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اعلان کیا تھا؟ کیا یہ جنگ ابھی بھی جاری ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا اس میں فتح حاصل ہوچکی ہے یا صرف پیسوں کا بے انتہا ضیاع رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

'ڈیجیٹل دور میں دہشت گردی‘

یہ ’دہشت گردی‘ ہے یا ’قتلِ عام‘؟

گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے واقعے کے بعد لگ بھگ 19 سال بعد تک ہزاروں امریکی فوجی افغانستان، عراق، خلیجی ممالک اور ہارن آف افریقہ یعنی قرن افریقہ میں تعینات رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے دور دراز علاقوں میں امریکہ نے ڈرون حملوں کی مدد سے مشتبہ دہشت گرد رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور دہشت گردی کے موجود خطرات کے پیش نظر ہر جگہ انسداد دہشت گردی کے بجٹ میں بے انتہا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی سی ای او ساشا ہیولیلک اس جنگ کے آغاز سے ہی اس پر نظر رکھ رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بیان بازی اور حقیقت کے درمیان بڑا فرق ہے۔

(صدر) باراک اوباما کے اقتدار 2009 میں آنے کے بعد ہی بیان بازی کا سلسلہ بند ہوگیا لیکن حقیقت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہتھکنڈوں میں کہیں زیادہ تسلسل تھا۔

یہ بات مشہور ہے کہ اوباما انتظامیہ نے ڈرون حملے میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا۔ مثال کے طور پر افغانستان اور پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اب جبکہ 'امریکہ سب سے پہلے' کی بات ہو رہی ہے اور میرے خیال سے وسیع پیمانے پر یہ احساس موجود ہے کہ یہ کام اب ختم ہورہا ہے

۔لیکن ہم نے حقیقت میں امریکہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مسلسل توسیع دیکھی ہے۔

دشمنوں کا ایک پرعزم گروپ

انسداد دہشت گردی کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے کوآرڈینیٹر نیتھن سیلز، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، بڑی حد تک اس نظریہ کی حمایت کرتے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ جنگ جیسا کہ اصل میں بش انتظامیہ نے سوچی تھی کے لڑی جائے گی اب ختم ہو چکی ہے؟

'نہیں ، لڑائی ابھی بھی جاری ہے، ہم جنگ جیت رہے ہیں لیکن ہم ایک پرعزم دشمن کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں یا مجھے دشمنوں کا ایک پرعزم گروپ کہنا چاہیے۔'

انھوں نے دولت اسلامیہ کی مثال دی جسےایک وسیع، کثیر الملکی اتحاد نے گذشتہ سال شام کے علاقے باغوز سے اس کے رہنما ابو بکر البغدادی سمیت جہادیوں کی قائم کردہ خلافت کی آخری باقیات کو کامیابی کے ساتھ صفہ ہستی سے مٹادیا۔

اس کے باوجود انھوں نے اعتراف کیا کہ دولت اسلامیہ سے وابستہ اور ایسے دوسرے نیٹ ورکس پوری دنیا میں اب بھی بہت متحرک ہیں۔

واشنگٹن میں کچھ لوگوں کے نزدیک ، امریکہ پر نائن الیون حملوں کے فوری بعد سب کچھ کافی واضح نظر آتا ہوگا۔

اُس وقت 'دہشت گردی کے خلاف جنگ ' کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے صدر بش نے کہا تھا کہ آپ'یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔'

مشرق وسطی میں قائم بدلتے اتحادوں اور وفاداروں کی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درمیانی راستہ کے لیے گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔

عراق، جس پر امریکہ اور برطانیہ نے2003 میں حملہ کیا تھا، وہاں سخت لائحہ عمل کی وجہ سے ممکنہ اتحادی بھی دشمن بن گئے، اور یہ آج کل عالمی سطح پر جاری جہادی تحریک کی بنیاد ڈالنے کی وجہ بنی۔

مینا الاورابی متحدہ عرب امارات کے اخبار دی نیشنل کی ایڈیٹر ہیں۔ اُن کا اپنا تعلق عراق کے دوسرے شہر موصل سے ہے، وہ شہر جو دولت اسلامیہ کو اس کی گلیوں سے نکالنے کی جنگ کے دوران تباہ ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ عراق میں ایسی واضح مثالیں موجود ہیں جہاں امریکہ نے عراقی ریاست کے پیٹ پیچھے کارروائیاں کیں۔ یہ یقینی بات ہے کہ 2003 میں فوج اور پولیس کے محکموں کو ختم کرنے کے فیصلے جس نے ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان افراد کو بے روزگار کردیا۔

اس خیال سے کہ انھیں ملک کے کاروبار سے مکمل طور پرعلیحدہ کردیا جائے گا مگر دراصل یہی عراق میں القاعدہ کے پنپنے اور پھر دولت اسلامیہ کا مرکز بننے کی وجہ بنی۔

اختتام سے کہیں دور

اس جنگ کے دوران ایسی پالیسیاں اختیار کی گئیں جو غلط ثابت ہوئیں اور گو کہ بعد میں صدر اوباما نے ان فیصلوں کو واپس لیا مگر ان کے نتائج سے آج بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔

گوانتانامو بے میں بغیر کسی مقدمے کے سینکڑوں مشتبہ افراد کی نظربندی غیر معمولی حراست ، دہشت گردی کے ملزمان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں دنیا بھر میں سی آئی اے کی ’بلیک سائٹس' بھیجا جانا جہاں ان کے ساتھ طویل اور اذیت ناک تفتیش کی جاتی تھی۔

ناقدین نے اسے مغرب کی اخلاقی بالادستی کو مجروح کرنے کے لیے استعمال کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نیتھن سیلز کا کہنا ہے کہ 'دنیا نے بہت سے سبق سیکھے ہیں کہ کونسی پالیسی کارگر ہے اور کونسی نہیں اور ہم نے جو سیکھا ہے اُسے اپنے موجودہ لائحہ عمل کا حصہ بنایا ہے۔

وہ خاص طور پر گوانتانامو بے کے ان ناقدین سے ناراض ہیں جن میں واشنگٹن کے مغربی اتحادی بھی شامل ہیں، جنہوں نے اب شام اور عراق میں ویران کیمپوں میں اپنے شہریوں کو ترک کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو انھیں واپس لے جانا چاہیے۔

یہ بتانا ناممکن ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ پر کتنی لاگت آئی ہے لیکن بیشتر تخمینوں کے مطابق اس پر ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد خرچ ہوئے ہیں۔

اس کا وسیع تر حصہ فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ انٹلیجنس جمع کرنے اور ڈرون حملوں پر خرچ کیا گیا۔ اس رقم کا بہت کم حصہ انتہا پسندی کی روک تھام اور اس سے لوگوں کو دور رکھنےکے لیے خرچ کیا گیا ۔

کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ برائے ریڈیکلائزیشن کے شیراز مہر کا خیال ہے کہ اس جنگ نے معاشرے میں بہت سارے دیگر مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شیراز مہر کے مطابق اگر آپ دولت اسلامیہ ، شام اور عراق یا اس صورتحال پر وسیع تر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس نے یورپ میں نسلی منافرت کو بڑھاوا دیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف عداوت میں اضافہ ہوا ہے۔

’نتیجتاً پناہ گزینوں کے خلاف نفرت اور مہاجرین کا بحران پیدا ہوا جو شام میں جاری صورتحال کی وجہ سے سامنے آیا۔ لہذا اب آپ کو ان کے نتائج کا سامنا ہے۔ اس لیے میں یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کا اختتام ابھی بہت دور ہے۔‘

تو کیا اس بے وضح مہم کا کبھی خاتمہ ہوگا؟ کیا کوئی فیصلہ کن لمحہ آئے گا کہ کہیں ہاں یہ مہم مکمل ہوئی جو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کو ختم کر دے؟

اس کا امکان نہیں ہے کیونکہ جرائم کی طرح دہشت گردی کو صرف اسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے جس سے صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔

اور اب ایک نیا خطرہ دائیں بازو کی انتہا پسندی کی شکل میں ابھر رہا ہے ، جو ممکنہ طور پر اس جنگ کو مزید تقویت دے گا اور اسے ایک ایسی جنگ میں بدل دے گا جس کا خاتمہ نظر نہ آتا ہو۔