سائنسدانوں نے لاک ڈاؤن سے پہلے اور بعد کی جنگلی حیات پر کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے اثرات کا مطالعہ شروع کردیا ہے۔

اس جائزے کا مقصد لاک ڈاؤن سے پہلے اور بعد میں کرہ ارض کی جنگلی اور قدرتی حیات پر انسانی سرگرمیوں کے سست ہوجانے کے اثرات کا مطالعہ کرنا ہے۔

برطانیہ کے سائنس دانوں کی ٹیم کی اِس تحقیق کا مقصد، بقول ان کے عالمی سطح پر 'انسانی توقف' یعنی عارضی طور پر انسانی سرگرمیوں میں سست روی کے اثرات کا مطالعہ کرنا ہے جس کا دیگر مخلوقات کی زندگی پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

اس اثر کی پیمائش ان مختلف طریقوں کا انکشاف کرے گی جن سے ہم اپنے پر ہجوم کرہِ ارض پر سانجھی زندگی بسر کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنے مشن کے خد و خال ایک جریدے ’نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولیوشن‘ میں شائع کیے ہیں۔

وہ اس میں فوری طور پر لیے جانے والے اقدامات کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ سائنس دان انسانی سرگرمیوں کی اچانک غیر حاضری سے پیدا ہونے والے حالات کی مختلف جہتوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیے

جنگلی حیات کےدل موہ لینے والے انداز

جنگلی حیات اب شہروں میں کیسے رہتی ہے

دنیا کے سب سے گول مٹول جانور

اس میں یہ یقینی بنانا بھی شامل ہے کہ ان کی تحقیق ہر ایک کی رسائی میں ہو اور اس بات کی بھی اجازت ہو کہ اس پر مزید کام بھی ہو سکے، اور انسانی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات تک بھی رسائی حاصل کرسکیں اور جانوروں کی حرکات و سکنات کا ڈیٹا بھی اکٹھا کر سکیں۔

یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کے پروفیسر کرسچیئن رُٹز ایک غیر سرکاری تنظیم انٹرنیشنل بائیو-لاگنگ سوسائٹی کے صدر ہیں۔

بائیو-لاگ وہ چھوٹے چھوٹے ٹریکنگ آلے ہیں جو مختلف جانوروں میں پیوست کردیے گئے ہیں یا ان کے ساتھ لگا دیے گئے ہیں۔ یہ آلے ان کے بارے میں ڈیٹا کمپیوٹرز کو بھیجتے رہتے ہیں۔

وہ بائیو-لاگرز کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ان کے ذریعے موجودہ وبا کے دوران دنیا کی تمام مخلوقات کی ان کے اصلی ماحول کی زندگی کے بارے میں معلومات جمع ہوتی رہی ہیں۔

پروفیسر رُٹز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہاں یہ ایک تحقیق کرنے کا ایک زبردست موقع ہے جو کہ ایک بہت ہی افسوسناک اور المیاتی واقعے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، لیکن مطالعے کا ایک ایسا موقع جسے ضائع نہیں کیا جا سکتا۔'

عموماً ایسی تحقیقات جو انسانی زندگی کے جنگلی حیات پر اثرات کا مطالعہ کرتی ہیں وہ محفوظ جگہوں پر رہنے والی اور غیر محفوظ جگہوں پر رہنے والی جنگلی حیات کے موازنے تک محدود ہوتی ہیں، یا قدرتی حیات پر کسی تباہی کے نتیجے میں شروع کی جاتی ہیں۔

'لیکن لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے پوری دنیا پر اس کی ایک نقل بنا لی ہے۔ مختلف جگہوں میں اور اس اصلی اور قدرتی زندگی کے ماحول میں جن میں وہ جانور رہ رہے ہیں جن پر ٹریکنگ آلے پہلے سے لگے ہوئے ہیں۔'

اس وقت سوشل میڈیا پر ایسی معلومات کی بھرمار ہے کہ جنگلی حیات پر انسانوں کی غیر موجودگی کے کیا اثرات پڑ رہے ہیں۔

شہری زندگی میں بھی آزادانہ طریقے سے نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ کچھ جگہوں میں انسانی سرگرمیوں کی کمی کے تباہ کن اثرات بھی پیدا ہوئے ہیں، مثلاً ماحولیاتی سیاحت میں کمی کے باعث غربت کی وجہ سے غیر قانونی شکار وغیرہ۔

پروفیسر رُٹز کہتے ہیں کہ 'کوئی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ انسانوں کو مستقل طور پر لاک ڈاؤن میں بند کردیا جائے۔'

'لیکن مثال کے طور پر اگر ہم سڑکوں پر اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیں؟ ہم اس تحقیق کو اپنے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں کچھ تبدیلیاں متعارف کروا کے اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔'

یونیورسٹی آف پورٹسمِتھ کے پروفیسر جِم سمِتھ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ 'انسانی توقف' پر ہونے والی پہلی ریسرچ کا حصہ رہے ہیں۔ یہ تباہ ہوجانے والے چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کی ضائع ہوجانے والی زمین میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا ایک طویل تحقیقاتی مطالعہ تھا۔

پروفیسر سمِتھ کہتے ہیں کہ 'بیلاروس اور یوکرین کے ایکسکلوژن زونز (حیاتیات کے لیے غیر محفوظ خطے) قرار دیے جانے والے علاقوں میں سائنس دانوں نے دیکھا تھا کہ انسانی زندگی سے جڑے جانوروں کی زندگیاں، مثلاً کبوتر اور چوہے، غائب ہونا شروع ہو گئے، لیکن جنگلی حیوانات مثلاً جنگلی سؤر، ہرن اور لومڑ وغیرہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔'

'تیس برس گزرجانے کے باوجود بھی وہ علاقے غیر آباد پڑے ہوئے ہیں، تاہم یہ علاقے علامتی طور پر از سرِ نو جنگلی حیات کے ابھرنے کے ثبوت بن چکے ہیں۔'

'انسانی زندگی کی ایک بھاری قیمت پر کووِڈ اور چرنوبل نے ہمیں ماحولیاتی نقصان کی جانب سفر کے دوران ایک 'توقف' کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔'

پروفیسر جِم سمِتھ کہتے ہیں کہ 'ان میں کچھ اثرات کو مکمل طور پر روکنا بہت مشکل ہو گا، لیکن یہ انتہائی صورتوں والے واقعات ان کے اثرات کو سمجھنے میں مدد ضرور دیں گے۔'

پروفیسر رُٹز اور اُن کی ٹیم اپنے تحقیقی مقالے میں کہتی ہے کہ 'اس تباہ کن بحران کے دوران حاصل کی گئی سائنسی معلومات کی بدولت ہم انسانوں اور جنگلی حیات، دونوں کے لیے اس پرہجوم کرہ ارض پر ایک دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر رہنے کے نِت نئے سلیقے اور طریقے ایجاد و دریافت کرسکیں گے۔'