’پیوتن کے بغیر روس کا وجود ناممکن ہے۔' اس خیال کا اظہار روسی وزارت دفاع کے ڈپٹی چیف آف سٹاف نے کیا اور اسی کی گونج روس کے ان لاکھوں لوگوں کی آواز میں سنائی دے گی جو پیوتن کو صدر یا وزیرِ اعظم کے طور پر کئی دہائیوں سے دیکھتے آرہے ہیں۔

اور ان لوگوں کا روسی صدر پیوتن پر اعتماد یکم جولائی کے ریفرنڈم میں ایک مرتبہ پھر دہرایا جائے۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے روسی آئین میں ترمیم کے ذریعے پیوتن آئندہ چھ چھ برس کی دو مزید مدتوں کے لیے صدر کا اتنخاب لڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

روس کسی سے لڑائی نہیں چاہتا: پوتن

ولادیمیر پوتن: 20 سال 20 تصویریں

ٹرمپ، پوتن، خلیجی شہزادہ اور بلیک واٹر

اپنی 67 برس کی عمر میں سنہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کے امکان کو صدر پیوتن نے خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

سنہ 2024 میں ان کی صدارت کی موجودہ مدت ختم ہو جائے گی۔ اس طرح اگر وہ اگلے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو وہ سنہ 2036 تک روس کے صدر رہ سکتے ہیں۔

ماسکو کے ریڈ سکوائر میں روس کی وکٹری ڈے پریڈ کے اگلے روز ریفرنڈم ہوگا۔ 75 برس پہلے روس نے ہٹلر کی جرمن نازی طاقت کو دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپ میں شکست دی تھی۔

ماسکو کے ریڈ سکوائر میں کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے فوراً بعد فوجی پریڈ یقیناً روسی عوام میں جذبہِ حب الوطنی کو بہت زیادہ بیدار کرے گی۔

اس پریڈ کی وجہ سے ماسکو کے میئر نے ایک ہفتہ قبل لاک ڈاؤن ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ایک ہفتے قبل ہٹانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ صدر پیوتن کو فائدہ پہنچایا جائے۔

ریفرنڈم کی ضرورت کیوں پڑی؟

اس برس جنوری میں روسی صدر نے ملک کے آئین میں عوامی حمایت کے ساتھ ترمیم کی ایک تجویز دی تھی۔

ترمیم کے لیے ریفرنڈم میں ایک اہم نکتہ صدر پیوتن کے آئندہ دو مرتبہ چھ چھ برس کی دو مدتوں کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دینا ہے۔

دراصل یہ ریفرنڈم 22 اپریل کو ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے یکم جولائی تک موخر کردیا گیا تھا۔

سماجی فاصلوں کی شرط کو متعارف کرانے کی وجہ سے روس بھر میں ریفرنڈم 25 جون سے شروع ہو کر پہلے جولائی کو کُل پانچ دنوں میں مکمل ہوگا اور ان میں وہ خطے بھی شامل ہیں جو کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ہر پولنگ سٹیشن پر ایک ہی وقت میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد کی ایک حد ہو گی اور ماسکو کی طرح کچھ علاقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

پیوتن کا منصوبہ کیا ہے؟

بیسویں صدی کے روس نے صرف پیوتن ہی کو ملک کا رہنما کے طور پر دیکھا ہے۔

روس نے اُسے وزیرِ اعظم (1999) کے عہدے پر نامزد ہوتے دیکھا ہے پھر اُسے صدر منتخب (2000 - 2008) ہوتے دیکھا ہے اور اس کے بعد پھر وزیر اعظم (2008 - 2012) کے طور پر دیکھا ہے اور ایک مرتبہ پھر صدر منتخب (2012) ہوتے دیکھا ہے۔

اگرچہ صدر پیوتن نے کہیں نہیں کہا ہے کہ وہ پھر سے انتخاب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، لیکن انھوں نے اس بات کی تردید بھی نہیں کی ہے، جس سے اب ان کے مخالفین میں بات ہو رہی ہے، اور سابق خلانورد رکنِ پارلیمان، ویلینٹینا تو باقاعدہ کہہ چکی ہیں کہ، کہ وہ اس ریفرنڈم کے ذریعے اپنے لیے تاحیات یا کم از کم سنہ 2036 تک صدر رہنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

ویلینٹینا ٹیریش کووا نے مزید کہا کہ صدر کے لیے انتخابات کی مدتوں کو از سرِ نو گننے کے لیے انھیں صفر سے گِنا جائے، تاکہ وہ تاحیات صدر کے عہدے پر منتخب ہو سکیں۔

اس مقصد کے لیے عوامی مقبولیت موجود ہے۔ پچھلی مرتبہ سنہ 2018 میں جب انھوں نے انتخاب لڑا تھا تو وہ 76 فیصد سے بھی زیادہ ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے تھے۔

ماسکو میں بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینزفرڈ کہتی ہیں کہ اس مرتبہ بھی انھوں نے 'پوری کوشش کی ہے کہ اس تجویز کو یہ کہتے ہوئے کہ نچلے طبقوں کی آواز ہے، قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔'

انھوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ روس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ وہاں صدر کو تبدیل کیا جائے۔

رینزفرڈ کہتی ہیں کہ '(روس میں) کئی لوگوں کےلیے یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔ اگر کچھ لوگوں کو صدر پیوتن پسند نہیں ہیں تو ان کے لیے وہ کوئی خاص ناپسندیدہ شخصیت بھی نہیں ہیں۔ بہت سارے لوگ انھیں ایک مضبوط رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو مغرب کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ بات کہ اس کا متبادل بھی نہیں ہے یہاں ایک عام موضوع ہے۔'

پیوتن کس طرح ناگزیر بنے؟

سرد جنگ کے خاتمے کا آخری دور پیوتن کی تشکیل کا زمانہ تھا۔

سنہ 1989 میں جب جرمنی میں دیوارِ برلن کے انہدام کا انقلاب برپا ہوا تو پیوتن وہاں کے شہر ڈریسڈن میں ایک نچلی سطح کے 'کے جی بی' کے ایک اہل کار کی حیثیت میں تعینات تھے۔

اس واقعے سے انھوں نے بے بسی محسوس کی لیکن اِس کے اُن کے ذہن پر دو انمٹ تاثرات بن گئے: ایک عوامی بغاوت کا خوف، یعنی عوامی سطح کے بہت بڑے مظاہرے جن کے نتیجے میں دیوارِ برلن منہدم ہوئی اور مشرق یورپ سے 'آئرن کرٹن' (آہنی پردہ) کا خاتمہ۔ اور دوسرا یہ کہ روس میں طاقت کے خلا کے لیے ایک نفرت جو سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد ماسکو میں پیدا ہوئی تھی۔

پیوتن نے خود اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اُنھوں نے کس طرح ' کے جی بی' کے ہیڈ کوارٹر سے مدد حاصل کی جب وہ دسمبر سنہ 1989 میں ڈریسڈن کے مقامی دفتر میں ایک ہجوم کے محاصرے میں تھے۔ اُس وقت میخائیل گورباچوف کا سویت یونین 'مکمل خاموش' تھا۔

انھوں نے کے جی بی کے مقامی دفتر سے 'متنازعہ رپورٹوں' جن کے افشا ہونے سے ان کے ملک کو نقصان پہنچ سکتا تھا، کو اپنے طور پر ہی نذرِ آتش کیا۔ پیوتن نے بعد میں اپنے انٹرویوز پر مشتمل کتاب 'فرسٹ پرسن' میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے اتنا زیادہ مواد جلایا کہ بھٹی پھٹ گئی۔'

پیوتن کی سوانح عمری لکھنے والا جرمن مصنف بورس رائیٹشوسٹر کے مطابق 'آج ہم ایک مختلف قسم کا روس دیکھتے اگر ان کے ساتھ مشرقی جرمنی کا تجربہ نہ ہوا ہوتا۔'

طاقت کی جانب چڑھائی کا سفر

اپنے جائے پیدائش والے شہر لینن گراڈ (جس کا جلد ہی پرانا نام سینٹ پیٹرز گراڈ بحال ہوگیا) وہاں واپسی کے بعد پیوتن شہر کے میئر اناتولی سوب چک کا اہم شخص بن گیا۔

ایک غیر فعال مشرقی جرمنی میں پیوتن سابق سویت یونین کے ایسے افراد کے ایک نیٹ ورک کا حصہ تھا جو اپنی تقرریوں سے تو ہاتھ دھو بیٹھے تھے لیکن یہ سب اچھی جگہوں پر بحال ہو گئے جہاں وہ ذاتی اور سیاسی فائدہ حاصل کرسکتے تھے۔

پیوتن کا کیریئر یہاں سے بننا شروع ہوا، وہ سوب چک کے شاندار سیاسی کیریئر کی خوفناک تباہی سے محفوظ رہا اور روس کی نئی اشرافیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا جال بُنتا رہا۔

وہ وہاں سے ماسکو چلے گئے اور کے جی بی کی جگہ بننے والی انٹیلی جنس تنظیم 'ایف ایس بی' میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر 'کریملِن' تک پہنچ گیا۔

اس وقت روسی وفاق (رشین فیڈریشن) کا نیا صدر بورس یالسن تھے۔ اُن کے روس کے نو دولتیوں کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے اُنہوں نے پرانی کیمیونسٹ پارٹی کے لوگوں سے فاصلہ رکھا۔ روس کا نو دولتیوں کا طبقہ تبدیل ہوتے ہوئے روس سے بہت زیادہ امیدیں لگائے بیٹھا تھا۔

ایک بزنس مین بورس بیرزیوسکی صدر یالسن کے ایک اہم حامی کے طور پر اُبھرا اور جب روس میں کثیرالجماعتی انتخابات کا دور آیا تو وہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی طاقتور شخصیت سمجھا جانے لگا۔

صدر یالسن نےسنہ 1999 میں پیوتن کو ملک کا وزیرِ اعظم نامزد کردیا تھا۔

حادثاتی صدر

اس زمانے میں یالسن کا رویہ بے ترتیب سا ہو گیا تھا۔ اور انہوں نے اچانک 31 دسمبر سنہ 1999 کو مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔

بورس بیرزیوسکی اور روس کے طبقہِ امراء کی توثیق سے، پیوتن نے قائم مقام صدر بننے کی پہلے ہی سے راہ ہموار کر لی تھی۔ اور پھر اسی عہدے پر وہ سنہ 2000 کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوگیا۔

روس کا نیا طبقہِ امراء اور اصلاح پسند جو کہ یالسن کا سیاسی خاندان بن چکے تھے، اپنے نئے صدر سے خوش نظر آئے: ایک ادھیڑ عمر کا شخص جو غیر معروف پس منظر سے لایا گیا ہو، انتہائی جھکنے والا ہو۔

لیکن اقتدار میں آنے کے پہلے تین مہینوں میں جب ابھی ان کی حکومت تشکیل پا رہی تھی، انہوں نے طبقہِ امراء اور کریملِن کا پرانے بابوں کو سنبھلنے کا موقعہ دینے سے پہلے ہی، پیوتن نے میڈیا کو اپنے قابو میں کر لیا۔

اُن کے اِس طریقہ نے اُس کی حکمرانی کے انداز بھی تعین کردیا۔

اختلافِ رائے کا خاتمہ

نئے صدر کو میڈیا پر کنٹرول کے دوہرے فائدے ہوئے: ایک تو یہ کہ تمام طاقتور ناقدوں کو ان کی مضبوط پوزیشنوں سے فارغ کروا دیا اور دوسرا یہ کہ روس کی سیاست کے قومی بیانیے کو، چیچنیا سے جنگ سے لے کر ماسکو میں دہشت گردی کے حملوں تک، مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کر لیا۔

اس کی وجہ سے صدر کی شہرت کی 'ریٹنگ' میں زبردست اضافہ ہو گیا، اُس کا سیاسی قد بڑھا اور نئے روس کا پُروقار رہنما جیسا تاثر بن گیا، اور ساتھ ساتھ یہ بھی از سرِ نو طے کیا گیا کہ اب روس کے نئے دشمن کون کون ہیں۔

بس اُس کے بعد سے تنگ نظر روسی صرف وہی دیکھتے ہیں جو انھیں پیوتن دکھانا چاہتے ہیں۔ روس کے تین ہزار ٹیلی ویژن چینلوں میں سے زیادہ تر خبریں نشر ہی نہیں کرتے ہیں، اور اگر کچھ سیاسی موضوعات پر کوئی کوریج ہوتی بھی ہے تو اُس کو بہت سختی کے ساتھ حکومت چیک کرتی ہے۔

تمام صوبوں کے لیے پیغام: 'مجھ سے مت الجھو'

پیوتن نے اپنے بااعتماد سیاستدانوں کو گورنر بنا کر روس کے 83 خطوں اور صوبوں پر آہستہ آہستہ اپنا قبضہ جما لیا۔ اُنہوں نے سنہ 2004 میں منتخب گورنر کی تقرری کے قانون کو ختم کردیا، اور اُس کی جگہ یہ اصول اپنایا کہ مقامی قانون ساز اسمبلی تین امیدواروں کا ایک پینل دے گی اور روسی صدر اُس میں سے کسی ایک کا انتخاب نئے گورنر کے طور پر کریں گے۔

اگرچہ اُن کے ناقدین اُن پر 'جمہوریت کی نفی' کرنے کا الزام لگاتے ہیں تاہم اُن کی اِس حکمتِ عملی کا فائدہ ہوا ہے خاص کر چیچن جیسے شورش زدہ خطوں میں۔

سنہ 2012 کے جمہوریت نواز مظاہروں کے بعد علاقائی خطوں میں انتخابات کا سلسلہ بحال ہوگیا تھا، لیکن سنہ 2013 میں پیوتن کا ان پر براہِ راست کنٹرول بحال ہوگیا اور ان خطوں اور صوبوں میں قانون سازی بھی محدود کردی گئی۔

لبرل اِزم کے ساتھ نام کی حد تک محبت

سنہ 2001 سے لے کر سنہ 2013 کے درمیان ماسکو اور چند دیگر شہروں میں میں مظاہروں کا ایک سلسلہ جاری رہا جسے 'بولوٹنیا مظاہرے' کہا جاتا ہے۔ ان کا مطالبہ صاف شفاف انتخابات اور سیاسی اصلاحات تھا۔

نوے کی دہائی کے بعد روس نے پہلی مرتبہ اتنے بڑے مظاہروں کا سلسلہ دیکھا تھا۔

ہمسایہ ملکوں اور دنیا کے چند دیگر خطوں میں 'عرب سپرنگ' کی بھی ایک لہر آئی ہوئی تھی جس سے 1989 کے جرمن مظاہروں کی یاد تازہ ہوگئی۔

پیوتن نے محسوس کیا کہ روس کے ہمسایہ ملکوں میں اس قسم کے مظاہروں کے ذریعے مغربی طاقتیں روس کے ساتھ والے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔

حکمرانی کے انداز میں ایک تبدیلی، چاہے وہ ظاہری ہی سہی، درکار تھی، اور پیوتن نے ایک مختصر سے عرصے کے لیے لبرل خیالات اور اصلاحات کے تجربے کیے: مرکز گریز حکمرانی کے نظام اور علاقائی اور صوبائی حکومتوں کو اقتصادی نوعیت کے زیادہ اختیارات تفویض کرنے کی باتیں کیں۔

اُس وقت کی تقریروں میں لفظ 'اصلاحات' بے انتہا استعمال کیا گیا، لیکن یہ بات کچھ عرصے ہی کے لیے ہوئی۔ جیسے ہی ان مظاہروں کا سلسلہ اور اس سے پیدا ہونے والا خطرہ ختم ہوا، یہ لبرل ازم سے چھیڑ چھاڑ کا انداز بھی ختم ہوگیا۔

کرائمیا اور اور قرب و جوار میں طاقت کا مظاہرہ

یوکرین میں ماضی قریب میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد جو طاقت کا خلا پیدا ہوا تھا اس نے پیوتن کو ایک شاطرانہ چال چلنے کا زبردست موقع فراہم کیا۔ سنہ 2014 میں نہایت سُرعت کے ساتھ کرائمیا پر قبضہ پیوتن کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی فتح تھی اور مغرب کے لیے ایک ذلت آمیز شکست۔

اپنے ہمسائے ملک کے ایک حصے پر قبضہ کرتے ہوئے جب دنیا دیکھتی رہ گئی اور اسے روکنے کے لیے کوئی بھی کچھ نہ کر پایا، روس نے اپنی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اس خطے کی سیاست کے ایک تجزیہ کار نے کہا کہ پیوتن یہ بات سمجھ گئے کہ روس کو اپنے آپ کو موثر بنانے کے لیے ایک عالمی طاقت ہونے کی ضرورت نہیں ہے (جو کہ وہ سرد جنگ زمانے میں تھا)۔

جیسا کہ وہ وقت تھا، پیوتن کے پاس اتنی طاقت تھی کہ وہ مغربی طاقتوں اور ان کے فوجی اتحاد نیٹو کو مفلوج کردے، اس لمحے اس نے حالات پر برتری دکھاتے ہوئے، روس کے مفادات اور اپنی حکمت عملی کے مطابق، مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا میعار قائم کردیا۔

کرائمیا کی فتح روس کی ایک زبردست چال تھی۔ لیکن صرف یہی ایک کامیابی نہیں تھی۔

کئی دہائیوں سے روس اپنے ہمسائے میں ان ریاستوں کے ساتھ توسیع پسندانہ تعلقات استوار کرنے کی مشق کر رہا تھا جو سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد وجود میں آئیں تھیں، اور جنھیں روس اپنے دائرہِ اثر کا قدرتی حصہ سمجھتا تھا۔ اور خاص طور پر جارجیا میں سنہ 2008 کے تصادم کے بعد یہ خیال گہرا ہوگیا تھا۔

مغرب کے کمزور مقام کا فائدہ: شام

پیوتن نے مغربی طاقتوں کی خارجہ امور میں باہمی ہم آہنگی میں فقدان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی معاملات میں زبردست کامیابیاں حاصل کیں۔

صدر بشارالاسد کی حمایت کرتے ہوئے روس کی شام میں فوجی مداخلت نے پیوتن کو کئی قسم کے فائدہ پہنچائے۔

ایک طرف تو اُس نے یہ یقینی بنایا کہ کوئی ایک طاقت مشرق وسطیٰ کے اہم حصے پر قبضہ کر کے خطے میں استحکام پیدا نہیں کرسکتی ہے، دوسری طرف اس مداخلت نے اُسے اپنے نئے اسلحے اور فوجی حکمتِ عملی کو آزمانے کو موقع فراہم کیا۔

اُس کے اِس اقدام نے اُس کے تاریخی اتحادیوں (جن میں ایک صدر اسد بھی ہیں) کو خاص کر جو اُس کے ہمسائے میں، ایک بہت مضبوط پیغام دیا کہ 'روس اپنے دوستوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا ہے۔'

روس کا نیا زار؟

اپنے دورِ اقتدار میں پیوتن نے روس کے جاگیردارانہ دور کے 'روسی زمینوں سے وصولی کرنے والے' تصور کو بیدار کیا اور اس طرح روس کے توسیع پسندانہ عزائم کے لیے ایک جواز پیدا کیا۔

اس تصور کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کرائمیا کا الحاق اور اس کے ہمسایہ ممالک اُس کے لیے کیوں اہم ہیں۔

آرکاڈی اوسٹرویسکی جیسے کئی تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اس طرح آج کے زمانے میں ایک جدید قسم کا ایک 'زار' جنم لے سکتا ہے۔ زار روس کی سیاست میں ایک منفرد کردار ہے جو جماعتی وابستگیوں سے بلند ہوتا ہے۔

بہت ہی موثر انداز میں پیوتن نے پچھلا صدارتی انتخاب ایک آزاد امیدوار کے طور پر لڑا تھا۔ لیکن سنہ 2024 میں ان کے چوتھے صدارتی دور کے خاتمے کے بعد کیا ہوگا؟

مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی شاید کوئی نہ کرے، لیکن پیوتن منصوبہ بندی تو کرسکتے ہیں۔