یورپ کے ایک ہزار سے زیادہ ارکان پارلیمان نے ایک خط میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقے مقبوضہ غرب اردن یا مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی مخالفت کی ہے۔

یورپی ارکان پارلیمان کی جانب سے لکھے گئے خط میں ان تجاویز پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا گیا ہے اور اسرائیل کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کے لیے ’ان کے ہم پلہ نتائج‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان ارکانِ پارلیمان میں سے 240 سے زائد اراکین کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ لندن میں اسرائیلی سفارتخانے نے اس خط کے بارے میں کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

متعدد اخبارات میں شائع ہونے والا یہ خط اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن کے انضمام کا عمل شروع ہونے سے ایک ہفتے قبل سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیتن یاہو: ’میں جھوٹ کو جیتنے نہیں دوں گا‘

یہودی بستی کی منظوری، نیتن یاہو کو امریکہ آنے کی دعوت

اسرائیل: نیتن یاہو 18 ماہ کے لیے وزیر اعظم، اتحادی حکومت نے حلف اٹھا لیا

اسرائیل میں حکومت کے قیام کے لیے گذشتہ ماہ ہونے والے شراکت اقتدار کے ایک معاہدے کے تحت مقبوضہ غرب اردن کے ان علاقوں کے انضمام سے متعلق ووٹنگ کا آغاز یکم جولائی سے ہو سکتا ہے۔

یہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا منصوبہ ہے جو اسرائیل کا دائرہ اختیار غرب اردن میں قائم کی گئی یہودی نوآبادیوں تک وسیع کرنا چاہتے ہیں۔

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو اس سے مقبوضہ غرب اردن کا وہ 30 فیصد علاقہ اسرائیل میں شامل کر لیا جائے گا جس پر فلسطینی مستقبل میں اپنی خود مختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ان نوآبادیوں کے اسرائیل میں شامل کیے جانے کی حمایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’ویژن فار پیس‘ نامی ’امن منصوبے‘ میں کی گئی تھی۔

اس منصوبے کا اعلان رواں برس جنوری میں کیا گیا تھا جس کا مقصد کئی دہائیوں پر محیط اسرائیل-فلسطین تنازع کو ختم کرنا ہے۔

'امن کے امکانات کے لیے مہلک'

خط میں یورپی وزرائے خارجہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ غرب اردن کے کچھ حصوں کا اسرائیل میں یکطرفہ انضمام ’اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیام امن کے امکانات کے لیے زہر قاتل ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات کے انتہائی بنیادی اصولوں پر سوال اٹھا سکتا ہے۔‘

بیت المقدس میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹمین کے مطابق یہ خطے سے متعلق صدر ٹرمپ کے منصوبے کی روشنی میں تیار کردہ تجاویز پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

25 ممالک سے تعلق رکھنے والے 1,080 ارکان پارلیمان کے دستخطوں سے جاری کیے گئے اس خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام خطے کے لیے ’عدم استحکام کا باعث‘ ہو سکتا ہے۔

برطانوی دستخط کنندگان میں حکمران کنزرویٹیو پارٹی اور حزب مخالف کی لیبر پارٹی کے ارکان پارلیمان شامل ہیں۔

'دائمی کنٹرول'

خط کا اہتمام اسرائیلی پارلیمنٹ کے سابق سپیکر ایوراہم برگ نے تین دیگر اہم عوامی شخصیات کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ یہ لوگ روایتی طور پر دو ریاستی حل یعنی اسرائیل کے ساتھ غرب اردن میں فلسطینی ریاست کے حامی ہیں۔

خط کے مطابق صدر ٹرمپ کا منصوبہ ’منتشر فلسطینی علاقے پر اسرائیل کا مستقل کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہو گا جس میں فلسطینیوں کو کسی طرح کی خود مختاری حاصل نہیں ہو گی۔ نیز اس منصوبے سے اسرائیل کو غرب اردن کے ایک بڑے حصے کو ضم کرنے کے لیے شہ ملے گی۔‘

خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے انضمام کو بلا روک ٹوک ہونے دیا گیا تو اس سے اپنی سرحد کے ساتھ علاقوں پر متنازعہ دعوے رکھنے والے ملکوں کو بھی شہ ملے گی کہ وہ ’بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیں۔‘

البتہ اسرائیل کے اپنی تجاویز پر عمل کرنے کی صورت میں اس کے خلاف کسی طرح کی پابندی لگانے کا مطالبہ خط میں شامل نہیں ہے۔

’حقیقت پسندانہ‘ حل

واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتکار رون ڈرمر نے جمعے کو لکھا کہ اسرائیل ’ان علاقوں تک اپنا اختیار بڑھانا چاہتا ہے جو کسی بھی حقیقت پسندانہ امن معاہدے میں اسرائیل کا حصہ بنیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ان علاقوں کو ضم نہیں کرے گا جو ٹرمپ منصوبے میں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے مختص کیے گئے ہیں اور نہ ہی آنے والے برسوں میں وہاں پر نوآبادیاں بنائے گا۔

اسرائیل اور امریکہ اس منصوبے کو ’حقیقت پسندانہ‘ دو ریاستی حل قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ اس سے فلسطینی اس بات پر قائل ہو جائیں گے کہ مسترد کرنے کی ایک اور صدی شکست کی حکمت عملی ہے اور یہ کہ اسرائیل قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔‘

فلسطینی ٹرمپ منصوبے کی یکسر مخالفت کرتے ہیں اور انھوں نے امریکہ سے سفارتی تعلقات معطل کر دیے ہیں۔

سنہ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران غرب اردن پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے تقریباً چار لاکھ 30 ہزار یہودی 130 نو آبادیوں میں رہے ہیں۔

ان نوآبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، تاہم اسرائیل اور امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ یہ بات تسلیم نہیں کرتی۔