امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی ان کے منصوبے کے مطابق نہیں ہو سکی۔ ان نو عمر ایکٹیوسٹس کو مبینہ طور پر امریکی صدر کی انتخابی مہم کو برباد کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے پیش گوئی کی تھی کہ 20 جون کو امریکی ریاست اوکلاہوما کے شہر ٹلسا میں ریکارڈ تعداد میں صدر ٹرمپ کے حامی انتخابی ریلی میں شرکت کریں گے۔

لیکن یہ جلسہ اس وقت شہ سرخیوں میں آیا جب 19،000 نشستوں پر مشتمل سینٹر کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ خالی رہا۔

یہ بات کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے انتخابی جلسے میں حاضرین کی کم تعداد میں شرکت نوعمر ٹک ٹاکرز اور کورین پاپ میوزک یا کے پاپ کے شائقین کی وجہ سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دس لاکھ افراد کی شرکت کا دعوی مگر سیٹیں خالی

بڑا گھر نہ مہنگے کپڑے، مگر ٹک ٹاک پر وائرل

ٹک ٹاک میں موجود سکیورٹی نقائص دور کر لیے گئے

انھوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو ٹک ٹاک کے ذریعہ اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ریلی کے ٹکٹ لیں لیکن اس ارادے سے نہیں کہ وہ اس میں شامل ہوں گے بلکہ اس لیے تاکہ اس دن صدر ٹرمپ کو عدم شرکت سے بیوقوف بنائیں۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم نے کم حاضری کے لیے میڈیا اور مظاہرین کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ آن لائن ٹکٹ خریدنے والے نوجوان اس پر اثر انداز نہیں ہوئے۔

اگرچہ اس بات پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے کہ کے پاپ کے شائقین کس طرح صدر ٹرمپ کی ’ٹرولنگ‘ میں شامل تھے۔ اس واقعہ کو زومرز کی طاقت کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ آبادی کا ایک نیا گروپ ہے جو صدر ٹرمپ اور دوسرے سیاستدانوں کے لیے ایک نیا دردِ سر بن گیا ہے۔

زومرز کون ہیں؟

انھیں جنریشن زی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ نسل 1990 کی دہائی کے وسط سے سنہ 2010 کے اوائل والے عرصے کے دوران پیدا ہوئی ہے گو کہ ان کی پیدائش کے آغاز اور اختتام پر اب بھی ماہر تعلیم اور سماجی مبصرین کے درمیان بحث جاری ہے۔

زومرز کی اصطلاح بومرز کی اصطلاح پر بنی ہے، بومرز ان افراد کو کہا جاتا ہے جو 1944 سے 1964 کے درمیان پیدا ہوئے تھا اور بومرز کی یہ اصطلاح بیبی بوم جنریشن سے بنی یعنی اس دور میں جس میں بڑی تعداد میں ان لوگوں کے بچوں کی پیدائش ہوئی۔

یہ اہم کیوں ہیں؟

ان کے اہم ہونے کی اولین وجہ یہ ہے کہ تعداد کے لحاظ سے زومرز دنیا پر قبضہ کر رہے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق زومرز آبادی کاسب سے بڑا حصہ ہیں جو کُل تعداد کا 32 فیصد بنتا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق ایسے افراد جنھیں ملینیئل کہا جاتا ہے یعنی 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد جو اب بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ آبادی والا بالغوں کا گروہ ہے۔ دنیا میں آبادی کی اوسط عمر 30 سال کے لگ بھگ ہے اور عالمی بینک کے مطابق عالمی افرادی قوت میں 41 فیصد زومرز کی ہے۔

کیا وہ واقعی سب سے مختلف ہیں؟

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ زومرز متعدد وجوہات کی بنا پر سب سے منفرد ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ پہلی نسل ہیں جنھیں پیدائشی ڈیجیٹل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی دنیا میں آئے جسے ٹیکنالوجی نے بہت حد تک بدل دیا تھا اور انٹرنیٹ جیسی ایجادات عام تھیں۔

در حقیقت، زومرز آبادی کے لحاظ سے دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا میلینیئلز کی نسبت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور دن میں گزارے گئے گھنٹوں کا جائزہ لیں تو علاقائی سطح پر میلیئنیلز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

مختلف جائزوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 60 فیصد زومرز سوشل میڈیا کو خبروں کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ بعض ممالک میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ زومرز اپنے سے پچھلی نسل سے زیادہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔

میلئنیلز کی طرح زومر بھی ایکٹیوازم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں پیچھے نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ چھوٹی عمر سے ایسا کریں۔

برطانیہ میں 2018 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق زومرز چھوٹی عمر ہی سے میلینیئلز کے مقابلہ میں خرید و فروخت میں اخلاقیات کے نئے رویوں پر دو گنا زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران اس گروہ کی دو مشہور ترین سماجی کارکن 22 برس کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اور ٹائم میگزین کیسنہ 2019 کی اہم شخصیت 16 برس کی ماحولیاتی تبدیلی کے لیے آواز اٹھانے والی سویڈش سماجی کارجن گریٹا تھنبرگ ہیں۔‘

کیا ان میں زیادہ تنوع ہے؟

کچھ ممالک میں ایسا ہی ہے۔ امریکہ میں زومرز نسلی اعتبار سے تاریخ کی سب سے متنوع نسل ہیں۔ سنہ 2019 میں پیو ریسرچ سینٹر نے اندازہ لگایا کہ عام آبادی میں 60 فیصد سے زیادہ سفید فام افراد ہیں جبکہ اس کے برعکس ملک میں 52 فیصد زومرز سفید فام ہیں۔

دوسرے ممالک میں بھی زومرز میں زیادہ تنوع پایا جاتا ہے جہاں گذشتہ دو دہائیوں کے دوران تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد آئی ہے۔

کیا زومرز دوسری نسلوں کے مقابلے میں زیادہ روادار ہیں؟

زومرز کے بارے میں ایک مشہور سروے 2016 میں ورکی فاؤنڈیشن نے کیا تھا جس نے تمام براعظموں کے 20 ممالک میں 15 سے 21 سال کی عمر کے 20،000 افراد کا انٹرویو کیا تھا۔ اس میں مختلف امور پر ان کے مؤقف کا اظہار ہوا۔

اگرچہ نوجوانوں نے بڑی تعداد 89 فیصد میں جنسی برابری کی حمایت کی تھی جبکہ اسقاط حمل کے حق 63 فیصد افراد تھے اور ہم جنس پرستوں کی شادی کے حق میں63 فیصد افراد تھے۔

مگر اس کے باوجود صرف 31 فیصد لوگوں کے خیال میں ان کی حکومتوں کو تارکین وطن کے لیے ان کے ملک میں قانونی طور پر رہنا اور کام کرنا آسان بنانا چاہیے۔

زومرز اور سیاست کا کیا ہوگا؟

کیا ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والے اور متحرک زومرز میں سیاست میں شامل ہونے کا زیادہ رجحان ہے؟ اگر ہم امریکہ پر نظر ڈالیں تو قطعی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

دوسرے عمر کے افراد کی نسبت صدارتی انتخابات میں 18-29 سال کی عمر کے لوگ ووٹ ڈالنے کم تعداد میں نکلے تھے، اور حالیہ صدارتی انتخابات میں (2016 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تھے) صرف 50 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔

تاہم، وسط مدتی انتخابات میں 2014 کی نسبت ووٹرز کی تعداد 20 فیصد سے بڑھ کر 2018 میں 36 فیصد ہو گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی زومرز کی وجہ سے آئی جو ووٹ ڈالنے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ نوجوان ووٹرز حالیہ دنوں میں سیاست میں کچھ دوسری تبدیلیوں کے پیچھے بھی نظر آئے جیسا کہ میلینیئل الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا انتخاب، جو اب 30 برس کی ہیں اور اب تک امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی سب سے کم عمر خاتون ہیں۔

اب اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اپنے ٹوئٹر ہینڈل اے او سی کی وجہ سے اسی نام سے پہچانی جانے والی الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے زومرز کی تعریف کی جنھوں نے ٹلسا میں صدر ٹرمپ کو شرمندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

الیگزانڈرایا اوکاسیو کورٹیز نے ٹویٹ کی کہ ’دراصل صدر ٹرمپ کی مہم کو نوعمر ٹک ٹاک صارفین نے ہلا کر رکھ دیا جنھوں نے ٹکٹ کے لیے فرضی درخواستوں کی بھر مار کر دی اور آپ کو یہ گمان ہوا کہ دس لاکھ لوگ آپ کی سفید فام کی بالادستی والے اسے پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ بھی کورونا کی وبا کے دوران، زومرز کے لیے شاباشی۔ آپ سب پر مجھے فخر ہے۔‘

2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں صرف 37 فیصد نوجوان ووٹرز نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی جبکہ 55 فیصد نے ان کی حریف ڈیموکریٹ ہلیری کلنٹن کی حمایت کی۔

تاہم بہت سے لوگوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ سمجھنا غلطی ہو گی کہ زومرز فطری طور پر بائیں بازو کے خیالات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر برازیل میں 2018 کے صدارتی انتخابات میں جیر بولسنارو کی فتح، 18 سے 24 سال کی عمر کے لوگوں کے 60 فیصد ووٹ کی وجہ سے ہوئی تھی۔

حالانکہ سیاست اور کورین پاپ میوزک کے شائقین کا یہ جوڑ شاید مستقل نہ ہو لیکن یہ آن لائن کمیونٹی اپنی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ خیراتی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہے اور ایسا ایک عرصے سے ہو رہا ہے۔

ابھی حال ہی میں نسل پرستی اور پولیس کی بربریت کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران کے پاپ کے شائقین عالمی سطح پر بلیک لائیوز میٹر مہم کے ایک اہم اتحادی بن کر سامنے آئے تھے۔ انھوں نے دنیا بھر سے عطیات جمع کیے اور لوگوں کو متحرک کیا۔

عالمی سطح پر ان مداحوں کی بڑھتی تعداد اور ان کی سیاسی سرگرمیاں زیادہ اہمیت کی حامل ہو گی اور ٹرمپ اور دوسرے سیاستدانوں کے لیے درد سر کا باعث ہوں گے۔